پی ایس-11 لاڑکانہ کا ضمنی الیکشن جی ڈی اے+پی ٹی آئی+جے یو آئی(ایف) کے امیدوار کامیاب... سردار معظم علی خان عباسی31557 ووٹ لیکر پی پی پی کے جمیل سومرو کو شکست دے چکے ، جن کے ووٹ 26032 ہیں اور سارے کے سارے 138 پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری نتائج موصول ہوئے ہیں... شکست کا پس منظر : 2018ء میں نثار کھوڑو کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے تو انہوں نے اس نشست پر اپنی بیٹی ندا کھوڑو کو کھڑا کردیا.... معظم علی خان اس وقت 32178 ووٹ لیکر کامیاب ٹھہرے مدمقابل ندا کھوڑو 21811 ووٹ لیکر شکست کھاگیئں..... انہوں نے معظم علی خان کی کامیابی کو چیلنج کیا اور سپریم کورٹ نے معظم علی خان عباسی کی کامیابی کو کالعدم قرار دے ڈالا... لیکن ندا کھوڑو پھر نجانے کیوں ضمنی الیکشن میں نامزد نہ کی گئیں؟ ضمنی الیکشن میں جی ڈی اے، پی ٹی آئی اور جے یو آئی ایف کا اتحاد قائم رہا امیدوار پھر معظم علی خان عباسی تھے- پی پی پی نے اس مرتبہ عرصہ دراز سے کراچی بلاول ہاؤس میں مینجرل پوسٹ پر کام کرنے والے جمیل سومرو کو لاڑکانہ درآمد کرکے اپنا امیدوار بنایا- یہ فیصلہ اندرون خانہ خود نثار کھوڑو کو بھی قبول نہیں تھا اور نہ ہی پی پی پی ضلع لاڑکانہ کے سابق ضلعی عہدے داران سمیت بہت سارے عہداران اور کارکنان کو قبول تھا لیکن جب چئیرمین بلاول بھٹو جمیل سومرو کو یہ الیکشن لڑوانے پر بضد تھے تو کون کھل کر مخالفت کرسکتا تھا.... بلاول بھٹو سمیت پارٹی کے سب ہی لوگ اس ضمنی الیکشن میں سرگرم تھے اور جمیل سومرو کو کامیاب کروانے کے لیے وہ ایڑی چوٹی کا زور لگارہے تھے....... پی ایس-11 لاڑکانہ کا یہ حلقہ گزشتہ دس سالوں میں سیوریج، سینی ٹیشن اور ڈرینج کے شدید ترین مسئلے کا شکار رہا، دس سالوں میں اس حلقے میں ترقیاتی کام انتہائی ناقص ہوئے، اس حلقے میں پارٹی کے کارکنوں کا سب سے بڑا شکوہ یہ رہا کہ یہاں پر ان کی بات سُننے والا کوئی نہیں تھا، نوکریاں بیچنے بلکہ نوکریاں دلوانے کے جھانسے میں پیسے بٹورنے تک کی خبریں عام ہوئیں..... پھر اس حلقے سے سابق جنرل سیکرٹری پی پی پی تعلقہ لاڑکانہ خیر محمد شیخ کو ٹکٹ نہ ملنے پر شیخ برادری کی جو پی پی پی کی حامی تھی تقسیم ہوئی اور یہ تقسیم آج تک باقی ہے- اس میں کوئی شک نہیں کہ پی ایس-11 لاڑکانہ میں سردار معظم علی خان عباسی کو جی ڈی اے، جے یو آئی ایف، پی ٹی آئی کی حمایت حاصل تھی، اگرچہ یہاں سے بیگم عباسی کے بیٹے حاجی منور عباسی بطور آزاد امیدوار کھڑے تھے لیکن اُن کی، صفدر عباسی، ناھید خان سمیت پی پی پی ورکرز پارٹی سے وابستہ کئی ایک کارکنان بھی معظم علی عباسی کو ہی سپورٹ کرتے پائے گئے.... اس حلقے میں کئی ایک برادریوں کے عام لوگوں میں سندھ حکومت سے شکوے شکایات بھی زیادہ تھے.... جیسے کلہوڑو برادری اپنے سرپنچوں کے ساتھ 2018ء میں بھی معظم علی کی حمایت کررہی تھی اور اب ضمنی الیکشن میں بھی وہ اسی کی حمایت پر پکا رہی...... معظم علی خان 2013ء میں قومی اسمبلی کی نشست پر لاڑکانہ عوامی اتحاد کے طور پر پہلی بار الیکشن میدان میں اترے تھے اور 28000 سے زائد ووٹ لیے تھے مگر وہ ایاز سومرو سے ہار گئے تھے جن کے ووٹ 50 ہزار سے زائد تھے.... اس اتحاد نے لاڑکانہ کی 20 یونین کونسلوں میں سے چار پر بلدیاتی الیکشن میں جیت حاصل کی تھی....... یہ مان بھی لیا جائے کہ نیب اور مقامی الیکشن کمیشن نے یہ الیکشن پی پی پی سے چھین لیا تو سوچنے والی بات یہ ہے کہ لاڑکانہ کا حلقہ این اے-200 اور اس کے نیچے صوبائی حلقے پی ایس 10 اور پی ایس 11 میں مخالف امیدواروں کے ووٹوں کا تناسب بڑھتا ہی جاتا ہے، کیوں؟ جیت اور ہار کا مارجن کم ہورہا ہے...

Posted by Muhammad Aamir Hussaini on Thursday, October 17, 2019

 

 

مولانا فضل الرحمان فرماتے ہیں کہ وہ اور ان کی پارٹی ترقی پسند ہے کیونکہ اس نے صوبائی خودمختاری اور اٹھارویں ترمیم کی حمایت کی- وہ عورتوں کے ‘جائز’ حقوق کی حامی ہے۔ اسی تقریر میں انھوں نے فرمایا کہ جنرل مشرف نے امریکہ کی جنگ کو اپنی جنگ قرار دیتے ہوئے بھارت کو دشمن قرار دینے کی بجائے ملک کے اندر دشمن سے ملک کو خطرے میں بتلاکر ملکی سلامتی خطرے میں ڈال دی اور’اپنے’ لوگوں سے جنگ کرنا شروع کردی۔

کیا واقعی مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام ترقی پسند ہیں؟

اس سوال کا جواب تلاش کرنے سے پہلے،ہمیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ ترقی پسند ہونے کا مطلب کیا ہے؟

ترقی پسندی کی جتنی بھی تعریفات اس وقت انسائیکلوپیڈیاز اور لغات میں موجود ہیں، ان سب کو جمع کیا جائے تو ان میں سب سے زیادہ مشترک بات یہ نکلے گی کہ ترقی پسند شخص یا گروہ ایک تو تنوع پر یقین رکھتا ہے۔ اور دوسرا وہ رنگ،نسل،جنس،مذہب،ذات،پات کی بنیاد پر کسی بھی انسان کے ساتھ کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک پر یقین نہیں رکھتا۔

اس تعریف کی رو سے دیکھا جائے تو جمعیت علمائے اسلام پاکستان اور اس کے سربراہ کسی صورت ترقی پسند نہیں ٹھہرتے۔اور اس کی سب سے بنیادی وجہ تو یہ ہے کہ وہ عقیدے اور مذہب کی بنیاد پر انسانوں سے امتیازی سلوک کے قائل ہی نہیں بلکہ اس کے داعی بھی ہیں۔

مولانا فضل الرحمان ایک ایسی ریاست اور سماج کی تشکیل کے قائل اور داعی ہیں جس میں غیر مسلم اور ایسے فرقے جن کو ان کی جماعت مسلمان فرقے نہیں تسلیم کرتی دوسرے درجے کے شہری ہیں اور وہ سماج میں اور ریاست کے قانون میں کبھی برابر کے شہری نہیں ہوسکتے۔ وہ نہ تو صدر پاکستان اور نہ ہی وزیراعظم بنائے جاسکتے ہیں۔ اور جسے ریاست ‘غیرمسلم’ قرار دے ڈالے، اسے خود اپنی مذہبی شناخت کے تعین کا کوئی حق نہیں رہ جاتا۔

وہ اسلام کی ایک ایسی تعبیر کے قائل اور داعی ہیں، جس کی رو سے ریاست کا مذہب کو افراد کا ذاتی معاملہ سمجھنا جسے سیکولر ازم کہا جاتا ہے جرم ہے اور ایسی ریاست کے قیام کے لیے جدوجہد کرنا کفر ہے اور وہ اسے ہر طریقے سے روکنے کے قائل ہیں۔ ان کے تصور مذہب میں سیکولر ازم اور اسلام ایک دوسرے کی ضد ہیں جن میں کوئی مطابقت نہیں ہوسکتی۔

ان کی مذہبی تعبیر مرد اور عورتوں کے درمیان ان کی صنفی تفریق کے سبب امتیاز روا رکھنے کی اجازت دیتی ہے۔ صنف کے سبب سے عورت کی گواہی ان کے نزدیک نصف ہے اور قتل کی صورت میں عورت کا خون بہا مرد کے خون بہا سے آدھا ہے اور ایسے ہی وہ کئی ایک شعبوں میں عورتوں کے کام کرنے کو درست خیال نہیں کرتے۔ ان کی جماعت کے نزدیک جامعات اور کالجز میں ‘مخلوظ تعلیم’ کی اجازت نہیں ہونی چاہئیے۔ اور وہ کم عمری میں عورتوں کی شادی اور تبدیلی مذہب کو بھی جائز خیال کرتے ہیں۔
جمعیت علمائے اسلام کے نزدیک ان کا سب سے بڑا نصب العین پاکستان میں حکومت الالہیہ کا قیام ہے اور پھر اس حکومت الالہیہ کو اگر موقع ملے تو ساری دنیا تک پھیلانا ہے۔

مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت جمہوریت کا مطلب عوام کی حاکمیت کی بجائے اللہ کی حاکمیت لیتی ہے اور عوام کے نمائندوں کو بھی اپنی تعبیر مذہب کے ماتحت کرنے کی قائل ہے اور جو مسلمان ان کی تعبیر مذہب سے اتفاق نہ کرے اور اگر وہ طاقت کا سرچشمہ واقعی عوام کو خیال کرتا ہو تو یہ اسے مسلمان ہی خیال نہیں کرتیں۔

مولانا فضل الرحمان تحریک طالبان افغانستان کی آئیڈیالوجی سے مکمل اتفاق کرتے ہیں بلکہ وہ پاکستانی تحریک طالبان کی آئیڈیالوجی سے اتفاق کرتے ہیں بس ان کا اختلاف ہے تو طریقہ کار پر ہے۔

وہ اپنے آپ کو دارالعلوم دیوبند کی مذہبی روایت کا پیرو سمجھتے ہیں۔ اور وہ خود کو علمائے دیوبند کی برٹش دور اور اس سے پہلے کی مذہبی روایت جس میں سیاست بدرجہ اتم شامل ہے کا بھی خود کو پیرو خیال کرتے ہیں۔ ان کی نظر میں سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی کی تحریک جہاد اور اس کی آئیڈیالوجی دونوں درست ہیں۔
یہ اور بات ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے جس دھڑے کی وہ نمائندگی کرتے ہیں،وہ دارالعلوم دیوبند کی مرکزی دھارے کی ترجمان جمعیت العلمائے ہند کی سیاسی روایت کی کتنی پیرو ہے؟ اس سوال کے جواب میں خود جمعیت علمائے اسلام کے رہنماؤں کے مختلف بیانات سننے کو ملتے ہیں۔
مفتی محمود جو مولانا فضل الرحمان کے والد تھے،وہ پاکستان بننے سے پہلے جمعیت علمائے ہند کے ساتھ تھے اور جمعیت علمائے ہند کی مرکزی قیادت کی پیروی میں وہ کانگریس کے اتحادی اور ہندوستان میں وہ سیکولر نیشنل ازم کے حامی تھے۔ ان کے نزدیک قوم وطن سے بنتی تھی ناکہ مذہب سے۔ اور یہی وجہ ہے کہ ان کا شمال مغربی صوبے میں کانگریس اور خدائی خدمت گار تنظیم کے ساتھ اتحاد تھا اور یہ سب سیکولر نیشنل ازم کے حامی تھے۔ انھوں نے مذہبی نیشنلزم جیسے آل انڈیا مسلم لیگ کا مسلم نیشنلزم اور پاکستان کے قیام کا مطالبہ تھا اس کی مخالفت کی تھی۔ لیکن پاکستان بننے کے بعد مفتی محمود نے دارالعلوم دیوبند کے اقلیتی دھڑے جس کی قیادت مولانا شبیر احمد عثمانی اور مولانا اشرف علی تھانوی کررہے تھے کی قائم کردہ جماعت جمعیت علمائے اسلام کے ساتھ جمعیت علمائے ہند کی پاکستان میں باقیات کو ضم کردیا تھا۔ اور مفتی محمود پاکستان میں سیکولر ازم کی مخالفت میں پیش پیش تھے۔
مفتی محمود کی عملی سیاست کا جائزہ بتاتا ہے کہ انھوں نے 1929ء میں فرقہ وارانہ تحریک مدح صحابہ میں بھرپور حصّہ لیا اور ایسے ہی پاکستان بننے سے پہلے انھوں نے 1930ء کے قریب اینٹی قادیانی تحریک میں بھرپور حصّہ لیا اور پھر 1953ء کی اینٹی قادیانی تحریک میں انھوں نے نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ گرفتار بھی ہوئے اور ان کو سزائے موت بھی سنائی گئی لیکن بعد ازاں وہ سزا منسوخ کردی گئی۔
مفتی محمود 1970ء کے بعد جمعیت علمائے اسلام کے صدر بنائے گئے تھے اور وہ جب خیبرپختون خوا/شمال مغربی سرحدی صوبہ کے چیف منسٹر بنے تو انھوں نے کے پی کے میں شراب کی فروخت پر پابندی عائد کی۔ جمعہ کی چھٹی کا اعلان کیا۔ صوبہ سرحد میں اپنی وزرات اعلی کے دور میں انہوں نے اسلامی اصلاحات بھٹو کی اسلامی اصلاحات سے پہلے کیں۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت ان کی پارٹی کی اتحادی نیشنل عوامی پارٹی- نیپ تھی جس میں پشتون، بلوچ قوم پرست اور بائیں بازو کے کارکن بڑی تعداد میں شامل تھے۔ مفتی محمود کی قیادت میں جمعیت علمائے اسلام بھٹو دور میں 1974ء میں اینٹی قادیانی تحریک کا سرگرم حصّہ تھی اور اس نے ملک کی دیگر مذہبی جماعتوں کے ساتھ مل کر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی مہم چلائی اور قومی اسمبلی میں ان کی قیادت میں جے یو آئی پاکستان قادیانیوں کے خلاف قانون سازی میں اہم کردار ادا کرنے والوں میں شامل تھی۔
مفتی محمود 1977ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی کے خلاف تشکیل پانے والے 9 جماعتی اتحاد ‘پاکستان قومی اتحاد’ کے سربراہ بنے اور اس اتحاد نے ‘اسلام’ کے نفاذ کے نام پر 1977ء کے انتخابات میں حصّہ لیا اور انتخابات میں دھاندلی کےخلاف قومی اتحاد کی ایجی ٹیشن میں مذہبی کارڈ کو سرفہرست رکھنے میں مفتی محمود کا اہم کردار تھا۔ 1979ء میں ضیاء الحق کے مارشل لاء کی مفتی محمود نے حمایت کی اور ایک مختصر مدت کے لیے وہ ضیاء الحق کی کابینہ میں اپنی پارٹی کو شریک کرنے میں رضامند بھی ہوگئے۔
مفتی محمود 1980ء کو جب وفات پاگئے تو ان کے بیٹے مولانا فضل الرحمان جے یو آئی کے سربراہ مقرر ہوئے اور انھوں نے جب جنرل ضیاء الحق کی آمریت کے خلاف اور بحالی جمہوریت کے لیے بننے والے اتحاد ایم آر ڈی میں شرکت کا فیصلہ کیا تو ان سے مولانا عبداللہ درخواستی کی قیادت میں ایک دھڑا الگ ہوگیا۔
مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت ایم آر ڈی کا حصّہ تو تھی لیکن انھوں نے جنرل ضیاء الحق کی سعودی نوازی، افغان جہاد پروجیکٹ اور ایسے ہی اس کی مذہبی اقلیتوں کے خلاف قوانین کی کبھی مخالفت نہیں کی تھی۔ اور بعد ازاں جب کبھی ضیاء الحق کے بنائے متنازعہ اقلیت مخالف قوانین کے خاتمے یا ان میں اصلاحات کرنے کی بات ہوئی تو ان کی جماعت اس کے خلاف ہی کھڑی ہوئی۔ مفتی محمود اگر ایوب خان کے عائلی قوانین کے مخالف تھے تو مولانا فضل الرحمان نے ہمیشہ عورتوں اور اقلیتوں کے بنائے جانے والے ترقی پسند قوانین کی مخالفت کی۔
مولانا فضل الرحمان افغانستان میں طالبان تحریک کے ابھار اور ان کی آئیڈیالوجی کے حامی تھے اور حامی ہیں۔ حال ہی میں آزادی مارچ کے دوران جب کسی افغانی نے تحریک طالبان افغانستان کا جھنڈا لہرایا اور اس پر اعتراض ہوا تو مولانا فضل الرحمان نے ایک بار پھر تحریک طالبان افغانستان کے ساتھ اپنی نظریاتی ہم آہنگی کا اعادہ کیا۔
مولانا فضل الرحمان کی پارٹی جمعیت العلمائے اسلام پاکستان سعودی عرب کی بنائی تنظیم رابطہ عالم اسلامی کی حامی رہی۔ مولانا شبیر احمد عثمانی اور مفتی محمود اس تنظیم کے اجلاسوں میں بھی شریک رہے۔ ایسے ہی مولانا کی جماعت نے صدام حسین کی حمایت بھی کی۔
مولانا فضل الرحمان کی اسٹبلشمنٹ سے محبت اور نفرت دونوں طرح کے رشتے موجود ہیں۔ افغان جہاد اور افغان طالبان کے معاملے میں اسٹبلشمنٹ کی جانب سے دیوبندی مدارس سے ریکروٹمنٹ کے کبھی مخالف نہیں رہے اور مخالف ہوتے بھی تو کیسے کیونکہ ان کے نزدیک افغانستان میں دیوبندی طالبان کی جو آئیڈیالوجی ہے وہ ان کے خیالات سے ہٹ کر نہیں ہے۔ جنرل مشرف سے ان کا اختلاف جو نظر آتا ہے وہ پاکستان کے اندر جہادی اور فرقہ پرست قوتوں کے خلاف طاقت کے استعمال پر تھا۔ وہ اور اسٹبلشمنٹ اگر افغان طالبان، حقانی نیٹ ورک کی حمایت میں یک سو نظر آتے ہیں تو جب اسٹبلشمنٹ اور سیکورٹی ادارے لال مسجد اور فاٹا میں تحریک طالبان اور سوات میں مولوی فضل اللہ کے دھڑے اور تحریک شریعت محمدی ایک دوسرے کے ساتھ نبرد آزما نظر آئے تو مولانا اسٹبلشمنٹ اور جنرل مشرف، جنرل کیانی، جنرل راحیل شریف سے اختلاف کرتے نظر آئے۔ مولانا مدارس دینیہ میں کسی بھی قسم کی اصلاحات کے ایجنڈے کے خلاف بھی نظر آئے۔

مولانا فضل الرحمان پاکستان میں پین اسلام ازم کے حامی ہیں اور پین اسلام ازم کے ساتھ جب کبھی پاکستان کی اسٹبلشمنٹ ہو یا کوئی حکومت ٹکراؤ میں آتی ہے تو مولانا پین اسلام ازم کیمپ میں کھڑے ہوتے ہیں۔

ان کی جماعت سلمان تاثیر کے باب میں اینٹی سلمان تاثیر فورسز کے موافق موقف کی حمایت کرتی نظر آئی اگرچہ مسلم لیگ نواز کے ساتھ حکومت میں شرکت کے سبب وہ بیان بازی سے آگے نہیں گئے۔
پاکستان میں جو صحافتی اور سیاسی لبرل اسٹبلشمنٹ ہے، اس کا رویہ مولانا فضل الرحمان کے باب میں نرم نظر آتا ہے۔ یہ مولانا فضل الرحمان کی رجعت پرستانہ مذہبی خیالات اور سیاست کے باب میں اپنی سیاپا فروشی کی ثقافت کو حاشیہ میں رکھتے ہیں۔ اور اس کی بنیادی وجہ مولانا فضل الرحمان کا نواز شریف کیمپ میں ہونا ہے۔
مولانا فضل الرحمان کی اسٹبلشمنٹ کے بارے میں سیاست ہمیشہ سے ایک نہیں رہی ہے۔ وہ اگر جنرل ضیاء الحق کے خلاف ایم آر ڈی کا حصّہ تھے اور جنرل ضیاء الحق کی موت کے بعد آنے والی ضیاء الحقی باقیات کی اینٹی پی پی پی مہم نوے کی دہائی میں حصّہ نہیں بنے تو 2002ء میں ان کی کے پی کے اور بلوچستان میں ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے جیت میں اسٹبلشمنٹ کا حصّہ ضرور تھا۔ انھوں نے جنرل مشرف کے ایل ایف او کو پاس کروانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ ایسے ہی 2008ء میں اسٹبلشمنٹ نے بلوچستان میں قوم پرستوں کو کاؤنٹر کرنے کے لیے ان کی جیت میں کردار ادا کیا اور 2013ء میں وہ کیانی-افتخار- نواز ٹرائیکا کے آر او الیکشن سے فائدہ اٹھانے والوں میں سے تھے اور اس زمانے میں ان کی اسٹبلشمنٹ مخالف سیاست دبی ہی رہی۔
مولانا فضل الرحمان نواز شریف کے اتحادی بن کر وفاق میں چھے وزراتوں اور بلوچستان کے اندر سیئنر وزیر کے عہدے سمیت ڈاکٹر مالک کی حکومت میں اچھے سے شریک اقتدار رہے۔ لیکن اس دوران کے پی کے میں پاکستان تحریک انصاف کو اسٹبلشمنٹ نے جو راستا دیا اور جے یوآئی جس طرح سے کٹ ٹو سائز ہوئی اس نے مولانا فضل الرحمان کو خاصا ڈسٹرب کیا اور پھر نواز شریف سے فوجی اسٹبلشمنٹ کی قیادت جس جھگڑے میں آئی اور اس کے بعد اسٹبلشمنٹ نے جس طرح سے عمران خان کو سلکیٹ کیا اس سلیکشن میں 2018ء کے اندر کے پی کے اور بلوچستان میں مولانا فضل الرحمان کو جیسے غیر موثر بنایا گیا اس نے مولانا فضل الرحمان کے اینٹی اسٹبلشمنٹ نعروں کو اور زیادہ تیز کردیا۔
مولانا فضل الرحمان کی پاکستان کی فوجی اسٹبلشمنٹ سے جھگڑے کی نوعیت نظریاتی اور اصولی کم اور اقتدار میں حصّہ کی کمی کی وجہ سے زیادہ ہے۔ مولانا فضل الرحمان آج بھی طالبان کے باب میں اسٹبلشمنٹ کی پالیسی کے مخالف نہیں ہیں۔
مولانا فضل الرحمان کی جماعت کا جو سندھ چیپٹر ہے جس کی سربراہی مولانا راشد سومرو کے پاس ہے،وہ سندھ میں اسٹبلشمنٹ کی حامی قوتوں جی ڈی اے اور پاکستان تحریک انصاف کا اتحادی ہے۔ اسے سندھ میں اسٹبلشمنٹ کی انتخابی عمل میں مداخلت کا ساتھ دینے والی جماعتوں کے ساتھ چلنے میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ راشد سومرو سندھ کے اندر فرقہ پرستوں اور دیوبندی ریڈیکل عناصر کے ساتھ شیر وشکر ہیں۔ پاکستان میں نواز شریف کے حامی لبرل سیکشن کو اس دو رنگی پر کبھی اعتراض نہیں رہا ہے۔ اور نہ وہ اپنے تجزیے اور تبصروں میں اس پہلو کو سامنے لیکر آتا ہے۔

اس تفصیلی جائزے سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ جمعیت العلمائے اسلام ایک رجعت پرست سیاسی بیانیے کی حامل سیاسی جماعت ہے جس کا ترقی پسندی کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں بنتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here