پاکستان کی سپریم کورٹ نے ملک کے فوجی سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا سرکاری نوٹیفیکیشن کل تک معطل کر دیا ہے۔

عدالت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف دائر درخواست واپس لینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بظاہر آرمی چیف توسیع کی سمری اور منظوری درست نہیں۔ درخواست کو ازخود نوٹس میں بدلتے ہیں۔

چیف جسٹس آصف کھوسہ نے کہا ہے کہ صدر نے 19 اگست کو توسیع کی منظوری دی تو 21 اگست کو وزیر اعظم نے کیسے منظوری دے دی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سمجھ نہیں آرہا صدر کی منظوری کے بعد وزیر اعظم نے دوبارہ کیوں منظوری دی۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کابینہ کی منظوری کے بعد وزیر اعظم نے دستخط کیے۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کابینہ اور وزیر اعظم کی منظوری کے بعد کیا صدر نے دوبارہ منظوری دی؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر مملکت نے کوئی منظوری نہیں دی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ حتمی منظوری تو صدر نے دینا ہوتی ہے۔ صدر نے کابینہ سے پہلے جو مننطوری دی وہ شاید قانون کے مطابق صحیح نہ ہو۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ 21 اگست کو کابینہ کے سامنے آپ نے صدر صاحب کو رکھا دیا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم صدر مملکت سے دوبارہ منظوری لے سکتے ہیں۔

انیس تاریخ کو وزیراعظم کو بتایا جاتا ہے کہ آپکا اختیار نہیں۔ پھر معلوم ہوتا ہے کہ صدر اور وزیراعظم دونوں کا اختیار نہیں، فیصلہ کابینہ نے کرنا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اکیس اگست کو معاملہ کابینہ کو بھجوا دیا جاتا ہے۔

عدالت میں انکشاف ہوا کہ وفاقی کابینہ کے صرف گیارہ وزراء نے آرمی چیف کی توسیع کی منظوری دی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کابینہ اکثریت نے منظوری دی۔ پچیس میں سے گیارہ وزرا کے ناموں کے سامنے ‘یس’ لکھا گیا. چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں یہ فیصلے اکثریت رائے سے ہوتے ہیں۔ جن ارکان نے جواب نہیں دیا ان کا انتظار کرنا چاہئیے تھا۔ ان ارکان نے ‘ناں’ بھی تو نہیں کی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا حکومت کابینہ ارکان کی خاموشی کو “ہاں” سمجھتی ہے؟ کیا نوٹیفیکیشن کابینہ سے منظوری کے بعد وزیراعظم سے ہوتے ہوئے صدر تک نہیں جانا چاہئیے تھا.

چیف جسٹس نے پوچھا کہ آرٹیکل 255 کے تحت ازسر نو تقرری کا اختیار نہیں. توسیع کا ہے۔ چیف جسٹس

سمری میں توسیع کا لفظ استعمال کیا گیا جبکہ ازسر نو تقرری کی جا رہی ہے.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here