پی پی پی کے کل ادوار حکومت: 6

دورانیہ حکومت: 22 سال

سویلین آمر(غلام محمد اور اسکندر مرزا):7 سال

فوجی آمروں کے ادوار حکومت: 3

دورانیہ حکومت:31 سال

فوجی آمروں کے لاڈلے  کی بنائی حکومتوں کا دورانیہ:5 سال

یعنی سندھ پر 43 سال سویلین و فوجی آمر اور ان کے لاڈلوں کی حکومت رہی ہے-

سندھ میں کل یونیورسٹیز:55

پبلک یونیورسٹیز:24

پرائیویٹ : 31

پی پی پی کے دور میں بنی پبلک جامعات: 19

پی پی پی دور میں بنی پرائیویٹ جامعات:12

سویلین و فوجی آمر و لاڈلوں کے دور میں بنی پبلک جامعات:5

پرائیویٹ:19

کراچی میں پبلک سیکٹر کی یونیورسٹیز:9 عدد

پرائيویٹ:31

پی پی پی نے کراچی میں دی: 6 پبلک یونیورسٹیز

ایک ملٹری یونیورسٹی

12 پرائیویٹ یونیورسٹی

سویلین و فوجی آمروں اور لاڈلوں کی بنائی پبلک یونیورسٹیز کراچی میں:2عدد

کراچی میں بنوائيں نجی یو نیورسٹی:10

پی پی پی کے ادوار میں سرکاری اور پرائیویٹ یونیورسٹیز کا شرح تناسب

19:12

سویلین ملٹری اور لاڈلوں کا شرح تناسب

5:19

کس نے عوام کو زیادہ سرکاری جامعات میں پڑھنے کا موقعہ دیا؟

جواب پیپلز پارٹی

کس نے ہآئر ایچوکیشن میں  پرائیویٹ سیکٹر کو پبلک سیکٹر پر غالب کیا؟

جواب ہوگا سویلین و فوجی آمر اور اس کے لاڈلے

الف=1972 تا فروری1977

ب:30 مارچ 1977 تا 5 جولائی 1977

5 سال

5 جولائی 1977ء کو مارشل لاء لگ گیا جو 7 سال اعلانیہ اور 4 سال غیراعلانیہ چلا یعنی 11 سال اور 17 اگست 1988ء کو اس کا خاتمہ ہوا-

یاد رہے کہ 1988ء میں جب بے نظیر بھٹو وزیراعظم بنیں تو ان سے پہلے 1947ء سے تب تک 41 سالوں میں میں سے قریب قریب 25 سال فوجی آمروں کی حکومتیں رہی تھیں- اور 1990ء میں سندھ اسمبلی تحلیل، پی پی کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو سندھ میں مسلم لیگ نواز نے اتحادی جماعتوں کے ساتھ حکومت بنائی

ب:19نومبر1988 تا 6 اگست1990=2 سال

صدر اسحاق خان کے کہنے پر اس وقت کے گورنر سندھ نے اسمبلی تحلیل کردی اور قریب 3 سال تک سندھ میں جام صادق کا کالا دور حکومت رہا-

ج:9 اکتوبر 1993 تا 5 نومبر 1996=3 سال

اس کے بعد 97ء سے 99ء تک اسٹبلشمنٹ کا پیارا نواز شریف کا نامزد کردہ لیاقت جتوئی اور پھر آٹھ سال مشرف آمر کے نامزد چیف منسٹر سندھ پر حکومت کرتے رہے- یعنی پھر 10 سال سندھ میں پی پی پی کے دشمنوں کی حکومت رہی-

یعنی مشرف آمریت کے زمانے تک پی پی پی کو سندھ میں کل چار بار حکومت بنانے کا موقعہ ملا اورتین  ادوار میں مدت حکومت پوری نہ کرنے دی گئی- چار بار حکومت کا کل دورانیہ سندھ میں 10 سال بنتا ہے جبکہ 1972ء سے لیکر 1996ء تک 25 سال کا دورانیہ بنتا ہے- گویا 25 سال میں مشکل سے دس سال حکومت پی پی پی نے کی اور 15 سال حکومت یا تو فوج نے براہ راست کی (11 سال) یا پھر اپنا لاڈلا لاکر بٹھا دیا(4سال)-

پی پی پی نے اپنے چار ادوار میں دس سالوں میں

اسٹبلشمنٹ کی منظور نظر مسلم لیگ نواز ،ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ق نے 15 سال سندھ پر حکومت کی-

سندھ میں اس وقت کل 55 سرکاری و غیر سرکاری یونیورسٹیاں ہیں- جن میں سے 24 پبلک یونیورسٹیاں ہیں اور ان 24 میں سے 18 یونیورسٹیاں پی پی پی کی حکومتوں نے بنائی- جبکہ کراچی یونیورسٹی پی پی پی کے قیام سے بہت پہلے 1951ء میں بنائی گئی تھی-(یاد رہے کہ داؤد انجنئرنگ کالج پرائیویٹ تھا اسے بھی نیشنلائزڈ کرکے پبلک سرکاری ادارہ پی پی پی نے بنایا 2013ء میں اسے پی پی پی نے یونیورسٹی کا درجہ دیا-)

اس وقت بھی یونیورسٹیوں کے مین کیمپس کے حوالے سے کراچی میں پبلک و پرائیویٹ سیکٹر میں 31 یونیورسٹیاں ہیں-جن میں سے 9 سرکاری یونیورسٹیاں ہیں- ان میں این ای ڈی سمیت 6 تعلیمی اداروں کو یونیورسٹی کا درجہ پاکستان پیپلزپارٹی نے دیا- جبکہ 25 پرائیویٹ سیکٹر کی یونیورسٹیاں ہیں جو صرف کراچی میں قائم ہیں جن میں سے 13 یونیورسٹیاں پی پی پی کے 1993ء اور پھر 2008ء سے 2020 تک کے دیگر ادوار میں بنی ہیں- باقی کی 6 پرائیویٹ یونیورسٹی سندھ کے دیگر شہروں میں بنی ہوئی ہیں- یعنی سندھ میں پرائیویٹ سیکٹر میں کل 31 یونیورسٹیوں میں سے 18 یونیورسٹیاں آمروں اور دیگر ان کے پیاروں نے قائم کرائيں- ان 18 پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں سے بھی 12 یونیورسٹیاں پی پی پی کے جملہ مخالفین نے کراچی میں ہی قائم کیں- سندھ میں کراچی اور حیدرآباد کو چھوڑ کر جتنی یونیورسٹیاں باقی کے اضلاع میں قائم ہیں سب کی سب پاکستان پیپلزپارٹی کے ادوار حکومت میں بنیں-

مسلم لیگ نواز،مسلم لیگ ق، جی ڈی اے اور ایم کیو ایم  اور ملٹری اسٹبلشمنٹ نے مل کر سندھ میں ایوب کے زمانے یعنی سن 1958ء سے لیکر 2007ء تک 49 سال میں سے 38 سال حکومت کے بنتے ہیں اور ان 38 سالوں میں یہ سندھ میں پبلک سیکٹر میں 24 میں سے محض 5 اور پرائیویٹ سیکٹر میں 31 یونیورسٹیوں میں کل 18 یونیورسٹیاں بنائیں- اس میں سے

اگر ہم 1972ء سے 2020 آج تک کا عرصہ شمار کریں تو 48 سالوں میں پی پی پی نے 22 سال کے دورانیہ میں سندھ میں پبلک سیکٹر میں قائم  کل 24 یونیورسٹیوں میں سے 19 یونیورسٹیاں بنائیں جبکہ چار فوجی آمروں کی براہ راست مارشل لاء حکومتوں اور پھر اسٹبلشمنٹ کی مدد اور سرپرستی سے بنائی جانے والی نام نہاد منتخب حکومتوں کے زمانے میں جو کہ قریب قریب 41 سال کا عرصہ بنتا ہے-(میں نے ایوب خان کے زمانے سے پہلے کا عرصہ چھوڑ دیا ہے) نے سندھ میں سرکاری شعبے میں صرف اور صرف کل چار یونیورسٹیاں پبلک سیکٹر میں قائم کیں-(24 پبلک سیکٹر کی یونیورسٹیوں میں کالج سے یونیورسٹی میں اپ گریڈ ہونے والے اداروں کی تعداد کم اور نئی یونیورسٹیوں کی تعداد زیادہ ہے جو پی پی پی کو ہی کریڈٹ جاتا ہے)

ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں پہلے دور حکومت میں 1974 سے 1977ء تک سندھ میں8 سرکاری یونیورسٹیاں قائم کی گئی تھیں جن میں 1972ء میں سندھ یونیورسٹی (حیدرآباد)، مہران یونیورسٹی آف انجنئرنگ جامشورو(حیدرآباد)، جناح سندھ یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز 1973ء میں کراچی میں، 1974ء  میں نواب شاہ قائد عوام انجنئرنگ اینڈ ٹیکنالوجیز یونیورسٹی  میں اور شاہ لطیف بھٹائی یونیورسٹی خیرپور میں، سندھ ایگری کلچر یونیورسٹی یکم مارچ 1977ء میں ٹنڈوجام حیدرآباد اور این ای ڈی کالج کو این ای ڈی یونیورسٹی 1977ء میں بنایا گیا تھا-

جبکہ ضیاء مارشل کے بعد مشرف سے پہلے کے دو ادوار حکومت میں پی پی پی نے سندھ میں 1994ء میں سرکاری شعبے میں آئی بی اے یونیورسٹی سکھر کی بنیاد رکھی- جب مشرف کی آمریت کے بعد 2008ء سے لیکر 2020ء تک پی پی پی کے تین ادوار حکومت میں (جبکہ تیسرا ابھی چل رہا ہے) پی پی پی کل 10 یونیورسٹیاں سرکاری شعبے میں قائم کی ہیں جن میں سے 6 دیہی کوٹہ والے سندھی اضلاع میں اور 3شہری کوٹہ میں آنے اضلاع میں قائم ہیں- یعنی سندھ میں پی پی پی کی تاوقت حکومت کے 22 سالوں میں 19 سرکاری/ پبلک یونیورسٹیاں قائم کی گئيں جن میں 3 کراچی اور16سندھ کے دیگر شہروں میں قائم کی گئیں-

اس تفصیل سے سندھ پر پی پی پی کے سب سے زیادہ حکومت کرنے کے دعوے کا جھوٹ ہونا ثابت ہوتا ہے اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جس نے کم حکومت کی اس نے زیادہ پبلک یونیورسٹیاں بنوائیں اور جس نے زیادہ حکومت کی انھوں نے نجی شعبے میں یونیورسٹیاں دو ڈیجٹ میں پبلک سیکٹر میں ون ڈیجٹ میں قائم کیں-

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here