اکنامک سروے آف پاکستان 2019-20 بارے پریس کانفرنس کے دوران اس وقت دلچسپ صورت حال پیدا ہوگئی جب صحافیوں نے مشیر خزانہ سے پوچھا کہ ایک ہی ڈیٹا پر عالمی ادارے اور حکومت پاکستان معاشی گروتھ ریٹ بارے متضاد دعوے کیوں کررہے ہیں؟

آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی معشیت منفی ایک اعشاریہ پانچ فیصد، ورلڈ بینک کے مطابق منفی دو اعشاریہ چھے فیصد اور پاکستانی حکام کے مطابق منفی صفر اعشاریہ چار فیصد کے حساب سے ترقی کرے گی-

عالمی خبر رساں ایجنسی رائٹر نے 14 مئی کو ایک خبر شایع کی تھی جس میں وزیر اعظم کے مشیر نے معاشی ترقی کی شرح خود منفی ایک اعشاریہ چار سے ایک اعشاریہ پانچ رہنے کا دعوی کیا تھا لیکن پاکستان اکنامک سروے میں پھر اسے منفی صفر اعشاریہ چار دکھایا گیا ہے-

اگرچہ حکومت کی اقتصادی ٹیم یہ مانتی ہے کہ معشیت کا گروتھ ریٹ منفی ہوگیا ہے لیکن وہ عالمی مالیاتی اداروں سے کہیں کم گروتھ ریٹ ظاہر کررہی ہے- اس کمی سے وہ پاکستان میں غریب کی شرح، بے روزگاری کی شرح کم دکھائے گی- کیونکہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اعداد و شمار پر اعتبار کیا جائے تو ورلڈ بینک کی رو سے شرح غربت پاکستان میں 33 فیصد اور تیس لاکھ لوگ بے روزگار ہوں گے جن میں 10 لاکھ لوگ صنعتی سیکٹر سے 20 لاکھ لوگ سروسز سیکٹر سے بے روزگار ہوں گے- لیکن حکومت پاکستان کی معاشی ٹیم پاکستان اکنامک سروے میں غربت کی شرح 20 فیصد کے قریب دکھانا چاہتی ہے جبکہ بے روزگاروں کی تعداد بھی 15 لاکھ کے قریب دکھائے گی-

بجٹ دستاویزات میں معشیت بارے غلط اعداد و شمار پیش کرنے کا ایک ریکارڈ فوجی آمر جنرل مشرف کا تھا اور اب دوسرا ریکارڈ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بنانے جارہی ہے-ماہرین

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here