چیف منسٹر سندھ  سید مراد علی شاہ نے اسلام آباد میں قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے بعد کراچی میں ایک پریس کانفرنس کی

پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے یہ انکشاف کیا کہ وفاق میں بیٹھ کر سندھ کو کنٹرول کرنے کا سلسلہ نواز شریف نے کراچی انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی لمیڈ- کے آئی ڈی سی ایل بناکر کیا تھا- سندھ انفراسٹرکچر ڈویلمپمنٹ کمپنی لمیٹڈ اسی کی توسیع ہے-

سندھ میں وفاقی بجٹ سے ترقیاتی کام سندھ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی کے زریعے قابل قبول نہیں ہیں

وفاقی بجٹ سے سندھ میں ترقیاتی کام سندھ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی-ایس ڈی آئی ایل سی  کے زریعے سے قابل قبول نہیں ہیں

سندھ کو اسلام آباد کی نوآبادی سمجھتے ہوئے وفاق سندھ میں ترقیاتی کام ایس ڈی آئی ایل سے کرانے کا فیصلہ کیے بیٹھا ہے

ایس ڈی آئی ایل سی کے تحت سندھ میں 20 منصوبے مکمل کیے جائيں گے-  کیا سندھ اسلام آباد کی نوآبادیات ہے کہ وفاقی کنٹرول میں ایک کمپنی یہاں ترقیاتی کام کرائے گی- کیا ایسی کمپنیاں دیگر صوبوں میں بھی بنائی گئی ہیں؟

توانائی کے دو منصوبوں کے علاوہ سندھ کو مجوزہ پبلک سروس ترقیاتی پروگرام میں کوئی نیا منصوبہ نہیں دیا گیا-

پی ایس ڈی پی کے 20 منصوبے وفاق نے ایس آئی ڈی سی ایل کے حوالے کردیے- جبکہ باقی کے تین صوبوں کو پی ایس ڈی پی میں شامل ترقیاتی منصوبوں کے فنڈ منتقل کیے جائيں گے-

وفاقی کابینہ ترقیاتی کام کرانے والی ایجنسی نہیں ہے-

دو سالوں میں وزیراعظم پاکستان نے قومی اقتصادی کونسل کے محض دو اجلاسوں  کی صدارت کی-

مسلم لیگ نواز نے بھی اسی طرح سے کراچی انفراسٹرکچر ڈویلمپنٹ کمپنی- کے آئی ڈی سی ایل بنا کر سندھ سے سوتیلی ماں کا سلوک کیا-

 سابق وزیراعظم نوازشریف نے گرین لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ کے منصوبے کو خود تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا تھا-

کے ائی ڈی ایل سی کو کراچی گرین لائن بس منصوبے کے لیے 24 ارب سے زائد کا فنڈ مختص کیا-

ایک سال پہلے 2019ء میں بتایا گيا کہ 21 ارب 40 کروڑ روپے  خرچ ہوکئے لیکن بعد ازاں دستاویزات میں دکھایا گیا کہ خرخ تو 19 ارب 50 کروڑ ہوئے تھے-

تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ وفاقی حکومت کے کیبنٹ ڈویژن کو 22 ترقیاتی اسکیموں پر عمل درآمد کا کہا گیا جن میں سے بیس ترقیاتی منصوبے سندھ کے تھے-

قوم اقتصادی کونسل کے اجلاس میں جب میں نے مائیک لیکر بولنے کی کوشش کی تو میرا مائیک بند کردیا گیا-

وزیراعظم کے آقس کے ملازمین بنا ہدایات کے کسی کا مائیک بند نہیں کرسکتے

قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں ا کھرب 32 ارب روپے کا قومی ترقیاتی پروگرام منظور کیا گیا

صوبہ پنجاب کو رواں سال 350 ارب روپے ملے اور اگلے سال 337 ارب روپے ملیں گے

صوبہ سندھ کو رواں مالی سال 279 ارب اور اگلے سال 165 ارب روپے ملیں گے جن میں سے 20 ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص رقم وفاقی حکومت کے کنٹرول میں قائم ایجنسی ایس آئی ڈی سی ایل کے زریعے خرچ ہوں گے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here