اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما اور پی پی پی سوشل میڈیا اینڈ ریسرچ کوآرڈینیشن سیل کی مرکزی کوآرڈینیٹر سینیٹر سحر کامران نے وفاقی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ الفاظ کا گورکھ دھندہ ہے، عام آدمی کے لئے بجٹ میں کچھ نہیں رکھا گیا۔ اپنے ایک بیان میں سینیٹر سحر کامران نے کہا کہ پہلا بجٹ ہے جس میں معاشی شرح نمو منفی صفر اعشاریہ چار فیصد رہی ہے۔ انہوں نے کہا بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کے بجائے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ خسارہ قوم کو مزید قرضوں میں جکڑ کر پورا کیا جائے گا۔ سحر کامران نے کہا کہ ایک کروڑ نوکریوں اور 50 لاکھ گھروں کا وعدہ کر کے لاکھوں خاندانوں کو بے روزگار اور چھت سے محروم کرنے والی نیازی سرکار نے بجٹ میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا اور نا ہی ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کیا گیا۔ سحر کامران نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں میں ملازمین کی تنخواہوں میں سو فیصد سے زائد اضافہ کیا گیا مگر نیازی سرکار نے ملازمین کا خیال نہیں رکھا۔ انہوں نے کہا وفاقی حکومت کے عوام دشمن بجٹ کو دیکھ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نیازی سرکار کو نا عوام کی کوئی پرواہ ہے نا ملکی صورت حال کا ادراک۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں جس تیزی سے مہنگائی بڑھی ہے حکومت کو تنخواہوں اور پنشنز میں سو فیصد اضافہ کرنا چاہیے تھا مگر نا ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا اور نا پنشن میں اضافہ کیا گیا۔ ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کر کے ساڑھے نو ہزار اسٹیل ملز ملازمین کو بے روزگار کرکے ان کے خاندانوں کا معاشی مستقبل داؤ پر لگادیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت سمیت حکومت نے بجٹ میں کسی بھی طبقے کو کوئی ریلیف نہیں دیا۔ سحر کامران نے مزید کہا کہ ہم وفاقی حکومت کے ظالمانہ اور عوام دشمن بجٹ کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here