موجودہ حکومت نے کرونا کی آڑ میں آئی ایم ایف کا عوام دشمن معاشی ایجنڈہ بجٹ کی کی شکل میں مسلط کر دیا ہے. یہ آئی ایم ایف کا بجٹ، آئی ایم ایف کے نمائندوں کی جانب سے، آئی ایم ایف کے لیے ہے. یہ معاشی جبر کا شکار عوام پر ناقابلِ برداشت بوجھ ڈالنے کو نسخہ ہے جسے پاکستان کے عوام خصوصاً محنت کش طبقہ مکمل طور پر مسترد کرتا ہے.

71 کھرب 37 ارب کے اس بجٹ میں نہ تو وفاق کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا اور نہ ہی ریٹائرڈ ملازمین کی پیشن میں اضافہ کیا گیا ہے۔ جب کہ وفاقی کے زیر انتظام صنعتی ، مالیاتی اور دیگر اداروں کے ورکرز کی کم از کم اجرت میں بھی کوئی اضافہ نہیں کیا گیا حالاں کہ کرونا کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر یہی محنت کش طبقہ ہوا ہے. لیکن اسی اثنا میں نیب، ایف آئی اے، عدالتی اسٹاف اور نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کے اہل کاروں کی تن خواہوں میں ہوش ربا اضافہ کیا گیا ہے. بجٹ میں پیش کردہ عوام دشمن اقدامات ایک طرح سے صوبائی حکومتوں کو بھی راہ دیکھا رہے ہیں وہ بھی اسی طرح عوام دشمن اقدامات کو یقینی بنائیں

اس بجٹ میں سبسیڈی کے مد میں پچھلے سال کی نسبت اڑتالیس فی صد کمی کی گئی، جو کہ 350 ارب سے کم کر کے 180 ارب کر دی گئی ہے. جبکہ وفاقی ترقیاتی بجٹ بھِی پچھلے سال کے 950 ارب سے کم کرکے 650 بلین کر دیا گیا ہے۔ جب کہ صوبوں کے ترقیاتی اخراجات بھی 912 ارب سے کم کر کے 674 ارب روپے کر دیے ہیں.

حکومتی اعدادوشمار کے مطابق کرونا وبا کے باعث اب تک ساٹھ لاکھ سے زائد محنت کش مکمل یا جزوی طور پر ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جب کہ ایک اندازہ کے مطابق بےروزگاروں کی تعداد تقریبا ایک کڑور اسی لاکھ مزدور تک پہنچ جائے گی. لیکن ان کی مالی معاونت کے لیے صرف 200 ارب رکھے گیے ہیں جو کروڑوں محنت کش گھرانوں کے ساتھ بھیانک مذاق ہے.

حکومت ایک طرف یہ کہہ رہی ہے کہ یہ بجٹ ٹیکس فری بجٹ ہےجبکہ دوسری جانب اس نے نئے مالی سال کے لیے6.57 ٹریلین روینیو جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے. یہ اس بات کی جانب واضح اشارہ ہے عوام کی جیب سے مزید پیسا چرایا جائے گا اور مہنگائی کا مزید بوجھ عوام پر لادا جائے گا.

آئی ایم ایف کے تیار کردہ بجٹ نے زندگی کے کسی شعبہ کو بھی نہیں بخشا، ایسے وقت میں جب پوری دنیا میں تیل اور ماِئع گیس کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے تو حکومت کو تو چاہِے تھا کہ وہ ملکی ایکسپورٹ اور ملکی صنعتی پیداوار بڑھانے کے لیے گیس اور بجلی کے نرخوں میں کمی کرتی. حکومت نے اس کے برعکس انرجی پر دی جانے والی 24 ارب روپے کی ریاستی سبسیڈی کم کر کے 10 ارب روپےکر دی ہے. اس کا نتیجہ صنعتی شعبہ خصوصا ٹیکسٹائل اور گارمنٹ کی مکمل تباہی کی صورت نمودار ہوگا جو کہ بے روزگاروں کی نئی فوج وجود میں لائے گا.

ملک کی لیبر فورس جو کہ 6 کروڑ اسی لاکھ کے قریب ہے، کا 75 فی صد حصہ ٹیکسٹائل، گارمنٹ، چمڑہ، کھیلوں کا سامان، سرجیکل اور قالین بافی کی صنعت سے وابستہ ہے اور یہی پانچ شعبے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے حصول کا بڑا ذریعہ ہیں. ان شعبوں کی ترقی کے لیے موجود ” زیرو ریٹنگ” کے نظام کو آئی ایم ایف کی ایما پر پچھلے برس ختم کر کے ملکی معشیت کی ریڑھ کی ھڈی میں خنجر گھونپا گیا. امید کی جا رہی تھی کہ موجودہ بحرانی کیفیت میں یہ نظام بحال کیا جائے گا لیکن ایسا نہ کر کے مزدوروں کے روزگار اور ایکسپورٹ کی صنعت کو مزید خطرے میں ڈال دیا ہے. ان ترقی دشمن اقدامات کے نتیجے میں نہ صرف اشد ضروری غِیر ملکی زرمبادلہ میں کمی واقع ہوگی بلکہ کروڑوں افراد بے روزگار ہو جائیں گے. یہ صورت حال مزید معاشی، سماجی اور سیاسی ابتری کو جنم دے گی.

وفاقی حکومت کی ناعاقبت اندیش پالیسی کی وجہ سے کرونا وائرس نے 22 کروڑ سے زائد انسانوں کو بٌری طرف اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، لاکھوں انسان اس مہلک وبا کا شکار ہو رہے ہیں اور ہزاروں، زندگی کی با، ی ہار چکے ہیں. لیکن حکومت ہے کہ مسلسل لوگوں کو گم راہ کر رہی ہے. عوام کو وبا سے بجانے کے لیے داکٹرز، نرسز ، پیرا میڈیکل اسٹاف فرنٹ لائن زندگی محافظ بن کر کھڑے ہوگئے، اپنی قیمتی جانیں کھو رہے لیکن حکومت نے انہیں بے یارو مددگار چھوڑ دیا ہے.

بے حسی کی انتہا ہے کہ موجودہ بجٹ میں بھی حکومت نے صحت جیسے اہم شعبہ کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے. جبکہ ضروری یہ تھا کہ صحت سے متعلق افرادی قوت کو بڑھانے، مراعات دینے اور صحت کےشعبے کو سب سے زیادہ ترجیح دی جاتی اور خطیر رقم صحت کی سہولیات جنگی بنیادوں پر عوام تک پہنچانے کے منصوبوں کے لیے مختص کی جاتی. شرم کا مقام ہے کہ صحت کے شعبہ کے لیے صرف 20 ارب مختص کیے گیے اور زرعی شعبہ کی ترقی کے لیے 12 ارب رکھے گئے جب کہ حکومت نے غیر پیداواری اخراجات خصوصا دفاع کے لیے بارہ فی صد اضافہ کے ساتھ بارہ کھرب نوے ارب روپے مختص کر کے اپنی ترجیحات کا ایک بار پھر واضح اعلان کر دیا ہے.

حکومت ایک جانب شہریوں کے روزگار اور دیہاڑی دار محنت کشوں کے دکھ میں مگر مچھ کے آنسو بہا رہی ہے تو دوسری جانب کرونا کی آڑ میں 43 پبلک سیکٹرز کے اداروں کی نج کاری، 8 اداروں کو مکمل طور پر بند کرنے، 34 اداروں کو ضم کرنے کے خطرناک منصوبے کے ذریعے لاکھوں محنت کشوں کو بے روزگار کرنے کی سازش کر رہی ہے. جس کی ابتدا اسٹیل ملز کے 9350 ملازمین کی جبری برطرفی کی شکل میں ہو چکی ہے.

عالمی سطح پر غیر ملکی قرضہ جات موخر کئے جانے کے اعلان کےباوجود نئے بجٹ میں 2.94 ٹریلین روپے ان قرضوں کی ادائیگیوں کے لیے رکھنا سمجھ سے بالا ہے. یہ رقم عوامی بہبود کے منصوبوں ترقیاتی، صحت کی سہولیات مہیا کرنے اور بےروزگاری الاؤنس کی مد میں رکھی جا سکتی تھی.

موجودہ حالات میں چند ایک ہنگامی نوعیت کے اہم مطالبات میں

تمام سرکاری و پرائیویٹ سیکٹر کے ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ ،

صحت، تعلیم اور عوامی بہبود کی ترقی کے لیے مختص رقم دفاعی اخراجات کے مساوی کرنا ،

تمام شہریوں کو سوشل سیکورٹی کے تحت رجسٹر کیا جانا ،

غیر ملکی قرضہ جات سے انکار اور یہ رقم عوام کی ترقی پر خرچ کیا جانا،

نج کاری کا عمل فی الفور روکنا،

اسٹیل ملز سمیت تمام سرکاری و نجی اداروں کے برطرف ملازمین کی بحالی،

ایکسپورٹ سیکٹرز کے لیے “زیرو ریٹنگ ” نظام کی از سرِنو بحالی،

ریاستی سبسیڈی کی مکمل بحالی،

اشیا خوردونوش پر سیلز ٹیکس کا خاتمہ اور

ادویات کی قیمتوں میں پچاس فی صد تک کمی شامل ہیں.

( 13 مئی 2020 )

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here