کربلا سے ہندوستان تک: شیعی مجالس کی تاریخ

 

پیغمبر محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود بھی کمال کے خطیب تھے- سیرت النبی کے مصنف،ابن اسحاق نے ایک جگہ پر لکھا کہ روایات میں آیا ہے کہ پیغمبر محمد علیہ السلام کے لیے سات یا آٹھ ھجری/629/630 عیسوی میں دو قدموں اور ایک نشست کا منبر بنایا گیا- اس سے پہلے وہ زیتون کے ایک درخت سے ٹیک لگاکر خطبہ دیا کرتے تھے- ان ابتدائی سالوں میں لفظ مجلس بعض اوقات لفظ مبنر کے مترادف کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا-

(Reference: Margoliouth,1918)

پیغمبر محمد علیہ السلام کا بیانیہ پرانے قبائلی خطیبوں سے مختلف تھا- ان کی نوعت مذہبی تھی اور ان کا مقصد قبائلی تقسیم کو قطع کرنے والی نئی مسلم برادری کی تعمیر تھی- تاہم نئی مسلمان برادری میں خطیب کا کردار تھوڑے سے تسلسل کے ساتھ جاری رہا- اس تسلسل کا ثبوت  نیزہ برداروں کی موجودگی میں دیکھا جاسکتا ہے جو کہ ابتدائی قبائلی خطیبوں کے ساتھ جڑے ہوتے تھے اور جو آج بھی جمعہ کے اجتماعات میں خطیبوں پر سایہ کیے رہتے ہیں- ایک مسلمان جو جمعہ کا خطبہ دیتا ہے خطیب کے طور پر جانا جاتا ہے- اگرچہ یہ اصطلاح شیعہ مجلس پڑھنے والوں کے لیے عام طور پر استعمال نہیں ہوتی لیکن ان کو بھی بعض اوقات خطیب کہہ دیا جاتا ہے- خطیبوں کی اب بھی قدر وقیمت ان کی طلاقت لسانی/فصحات/شستہ فن خطابت اور بنا لکھے نوٹس کے اکثر انتہائی دقیق اور ہموار بیان کے سبب کی جاتی ہے-

 

پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے سے خطابت نماز جمعہ کے اجتماعات کا لازمی جزو رہی ہے اور ان میں حاضری تمام آزاد بالغ مردوں کے لیے لازمی رہی ہے- اسلام کے ابتدائی سالوں میں، نماز جمعہ خلیفہ اور اس کے نمائندے ہی پڑھایا کرتے تھے- اس لیے یہ اجتماع اہم عوامی اعلانات کرنے کی جگہ بن گیا تھا- خطبہ کا ایک نماں وصف خلیفہ کی تعریف اور اس کے لیے دعائے رحمت تھا جس کو خطیب آخر میں شامل کیا کرتا تھا اور اس میں حاکم کا نام بھی شامل ہوتا تھا

( Reference: Gaffney,1994:120-2)

چوتھے خلیفہ، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کزن اور داماد علی ابن ابی طالب(علیہ السلام) کے دور حکمرانی کے اندر، مسلمانوں میں ایک خانہ جنگی ہوئی اور اس باہمی حلفشار میں حضرت علی علیہ السلام کا بھی قتل ہوا- علی علیہ السلام کے قتل کے بعد، بنوامیہ کے بادشاہوں نے نماز جمعہ کے اجتماعات میں منابر کو حضرت علی علیہ السلام پر شب و ستم کرنے کے لیے استعمال کیا اور یہ رسم پہلی صدی ھجری کے آخری میں جاکر کہیں ختم ہوئی-

)Margoliouth,1918)

تاہم شیعہ حضرت علی علیہ السلام اور ان کی اولاد سے براہ راست نامزد کردہ آئمہ کو ہی نائبین پیغمبر علیھم السلام مانتے ہیں- یہ وہ شخصیات تھیں جو شیعان علی کے نزدیک نماز جمعہ پڑھانے اور خطبہ دینے کی اہل تھیں- شیعہ کی اکثریت نے یہ مانا کہ امام کی غیبت کے زمانے میں جمعہ کے روز ظہرین ہی ادا کی جائے گی اور ان نمازوں کو بنا خطبے کے ہی ادا ہونا چاہیے۔

(Momen, 1985:170)

تاہم یہ معاملہ 14 ویں صدی سے اس وقت بدلنا شروع ہوا جب کچھ شیعہ علماء نے یہ کہنا شروع کردیا کہ اگرچہ امام زمانہ غائب ہیں، ان کے نمائندے نماز جمعہ کے اجتماعات منعقد کرنے کے شرعی طور پر اہل ہیں- 16 ویں صدی میں، شیخ علی الکراکی کے فتوے کی پیروی کرتے ہوئے،ایسے نماز جمعہ کے اجتماعات ہونے لگے۔

 

(Arjomand, 1984:134-8)

 

  تاہم،ایسے اجتماعات کا جواز شیعہ علماء کے درمیان اس کے بعد بھی باعث نزاع ہی رہا- ہندوستان میں 16ویں صدی یعنی 1200 ھجری میں نماز جمعہ کے اجتماعات اور خطبات شیعہ کے اندر ہونا شروع ہوئے اور اس سے بھی بہت بڑا تنازع اٹھ کھڑا ہوا-6

ٹوبے ایم ہورتھ ایک انجیلکن پیرش پرائسٹ ہیں جو کہ  برمنگھم  کے مسلمانوں کی بڑی تعداد والے علاقے میں رہتے ہیں- انھوں نے ییل یونیورسٹی سے گريجوشن کی اور پھر آکسفورڈ سمیت کئی جامعات میں پڑھایا-وہ زیادہ تر مسیحی-مسلمان تعلقات پر بات کرتے ہیں

Toby M. Howarth

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here