سابق امیر جماعت اسلامی پروفیسر منور حسن کی وفات پر پاکستانی اور بین الاقوامی زرایع ابلاغ کی جو رپورٹنگ ہے اس کا کلامیہ/ڈسکورس پروفیسر منور حسن کی مذہبی انتہا پسندی اور عالمی وہابی دہشت گردی کی تحریک سے ہمدردی بارے مکمل طور پر خاموش ہے- اور اس رپورٹنگ کا رجحان معذرت خواہانہ لگتا ہے-

ڈان میڈیا گروپ کی آفیشل ویب سائٹ اور 27 جون 2020 کی اشاعت میں شایع ہونے والی خبر میں کسی بھی جگہ یہ نہیں بتایا گیا کہ پروفیسر منور حسن تحریک طالبان پاکستان کے امیر حکیم اللہ محسود کو شہید اور پاکستانی سیکورٹی فورسز کے جو لوگ ٹی ٹی پی سے لڑتے مارے جائیں ان کو شہید قرار دینے سے انکاری تھے- نہ ہی یہ بتایا گیا کہ پروفیسر منور حسن ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان کی حکومت کو اسلامی حکومت قرار دیتے ہوئے، ان کی طرف سے شام، عراق، لیبیا میں وہابی دہشت گردوں کی حمایت اور عراق و شام میں داعش کے قیام میں مدد کے مخالف نہیں تھے-

https://epaper.dawn.com/?page=27_06_2020_003

بی بی سی اردو اور وائس آف امریکہ اردو کی طرف سے شایع ہونے والی خبروں کا مواد قریب قریب ایک جیسا ہے- صحافی تجزیہ نگار مظہر عباس اور منور -حسن کے ساتھی سعید عثمانی کی گفتگو کو جگہ جگہ نقل کیا گیا ہے-

لیکن دونوں اداروں کی اردو ویب سائٹ میں کہیں پر بھی پروفیسر منور حسن کی عالمی وہابی دہشت گرد تحریک سے وابستگی اور پاکستان سمیت مسلم دنیا میں خارجیت زدہ جنگیں کرنے والی القاعدہ اور داعش جیسی تنظیموں سے ہم آہنگی اور نظریاتی اشتراک کا بھولے سے بھی زکر نہیں کیا-

صحافی و تجزیہ نگار مظہر عباس جن کو لبرل صحافی کہا جاتا ہے  سے منقول کسی جائزے میں پروفیسر منور حسن کی ‘اسٹبلشمنٹ مخالفت’ کا تجزیہ موجود نہیں ہے-

پروفیسر منورحسن اسٹبلشمنٹ کی طرف سے “جہاد افغانستان” اور “جہاد کشمیر” پروجیکٹس کی کھل کر حمایت کرتے رہے- لیکن وہ نائن الیون کے بعد  اسٹبلشمنٹ میں جنرل مشرف اور ان کے ساتھیوں کی موڈیفائیڈ ڈیپ اسٹیٹ پالیسی جسے بعد میں آنے والوں نے بھی جاری رکھا کے خلاف تھے-

 کسی ادارے کے شایع ہونے والے تبصرے نے اس “تضاد” کو ڈسکس نہیں کیا کہ ایک طرف تو پاکستان کی آفیشل پالیسی نائن الیون کے بعد امریکہ اور اقوام متحدہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کی تھی تو دوسری جانب اس نے افغان طالبان، حقانی نیٹ ورک، جماعت دعوۃ سمیت کئی ایک جہادی و عسکریت پسند تنظیموں پر سے ہاتھ نہیں اٹھایا- اس تضاد کو ماضی میں اور آج بھی پاکستانی لبرل، امریکی و یورپی لبرل سخت تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں اور حسین حقانی جیسے لبرل تجزیہ نگار تو اس بنیاد پر یورپ اور امریکہ سے پاکستان کی سول اور فوجی دونوں امداد مکمل طور پر بند کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں- لیکن منور حسن کی وفات پر بی بی سی، وائس آف امریکہ،  ڈان میڈیا گروپ، انڈی پینڈنٹ اردو ڈاٹ کوم  نے ان کی اسٹبلشمنٹ مخالفت کو بہت ہی مبہم انداز میں ذکر کرتےہوئے پروفیسر منور حسن کو گلوریفائی کیا ہے-

https://www.bbc.com/urdu/pakistan-53189387

انڈی پینڈنٹ اردو  نے جو خبرنما تبصرہ ادارتی طور پر شایع کیا وہ نیم دروں،نیم بروں، صاف چھپتے بھی نہیں،سامنے آتے بھی نہیں والا تھا- انڈی پینڈنٹ اردو نے لکھا

منور حسن ایک مختلف سوچ کے حامی تھے اور انہوں نے کئی مواقعوں پر کچھ ایسے بیانات دیے جس سے تنازع کھڑا ہوا اور ان پر تنقید کی گئی۔

انڈی پینڈنٹ اردو کی طرف سے اس قسم کے ڈھیلے ڈھالے تبصرے کی سمجھ آتی ہے- انڈی پینڈنٹ میڈیا گروپ برطانوی میڈیا کمپنی ہے اور اس نے اپنی ڈیجیٹل کمپنی کے اردو، عربی اور فارسی ویب سائٹس کے حقوق ایک سعودی میڈیا کمپنی کو فروخت کیےتھے- دی انڈی پینڈنٹ میں سرکاری ملکیت والی ایک کمپنی کی سرمایہ کاری پر کافی سوالات اٹھے تھے جس کا جواب دی انڈی پینڈنٹ کی انتظامیہ کی طرف سے یہ دیا گیا تھا کہ سعودی سرمایہ کاری کمپنی کی انگریزی اشاعت اور انگریزی ویب سائٹ پر اثرانداز نہیں ہوگی-

 https://www.theguardian.com/media/2019/jul/23/evening-standard-and-independent-unable-to-rebut-concerns-over-saudi-ownership

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here