یہ غلط ہے کہ دانشور عمران خان کو سمجھ نہیں پائے۔ سچی بات یہ ہے کہ یہ نام نہاد دانشور جمہوریت ۔ عوام کے حقوق اور ترقی کے ہمیشہ مخالف سمت میں کیوں کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ یہ دولہ شاہ کے چوہے ہیں ان دانشوروں کو بھی مصنوعی طور پر بڑا کر کے دکھایا گیا تھا۔ دانش بگھارنا ان کا پیشہ ہے۔ ذریعہ روزگار ہے۔ یہ جمہوریت مخالف طاقتوں کے غلام ہیں۔ ان کی شہرت جمہوریت کے دشمنوں کے پیدا کردہ مصنوعی سماج کی دین ہے۔

یہ پاکستان کی عوام کی آزادیوں کے قاتل ہیں۔ پاکستان کے عوام کے حقوق کے دشمن ہیں۔ انہوں نے جو کچھ بھی عمران خان کے بارے میں مثبت یا  جو کچھ پی پی پی کی قیادت کے بارے میں منفی بتایا وہ سب کا سب انہیں فیڈ کیا گیا تھا۔ انہیں ہدایات دی گئی تھیں۔ انہیں انسٹرکشن دی گئی تھی۔ ان کی اپنی ذاتی رائے ہرگز نہیں تھی۔ ان کی اوقات ہی نہیں ہے کہ یہ ذاتی رائے بنا سکیں۔ انہیں جو کچھ بھی فیڈ کیا گیا انہوں نے معقول ادائیگی کے بعد اس کی پریزنٹیشن پرنٹ میڈیا ٹیلی میڈیا پر بیٹھ کر کر دی ۔

دانشور اور صاحب رائے لوگوں کی شناخت کرنے کی جدوجہد کریں۔ضروری نہیں کہ وہ آپ کو ٹی وی چینل پر بیٹھے نظر آئے یا اخبار میں لکھتے نظر آئیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو عمران خان کی صلاحیتوں کے بارے میں ایک دن بھی کنفیوز نہیں ہوئے اور نہ ہی دھوکا کھایا۔

روز اول سے آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ مجھے ترس آتا ہے اس صورت حال میں کہ عمران خان وزیراعظم بن گیا تو کیا کرے گا۔

اس بیچارے کے تو بس کی بات ہی نہیں ہے۔

آصف علی زرداری کو اس قدر اعتماد کیوں تھا کیونکہ وہ زمین کا بیٹا ہے۔ تاریخ کا بیٹا ہے۔ حالات واقعات پر درست انداز میں گرفت رکھتا ہے۔ اور ملکی سیاست اور عوام کے حقوق کا محافظ ہے۔

سچ جاننے کی جدوجہد کریں۔ سچ کی شناخت کی جدوجہد کریں۔  اور تجزیہ کریں کہ کیا  1988 سے آج تک پی پی پی کی قیادت نے کبھی آپ سے کوئی جھوٹ بولا۔ کوئی ایسی بات کی جو بعد ازاں جھوٹی ثابت ہوئی ہو۔ نہیں پی پی پی کی قیادت ہر امتحان سے سرخرو ہوکر سامنے آئی۔

سچ محض یہ ہے کہ ملک میں سیاست کرنا پی پی پی کی قیادت کا کام ہے اور اس کے مخالفین خصوصی طور پر مسلم لیگ نواز کی قیادت اور پی ٹی آئی کی قیادت نوٹنکی ہی ڈراما باز ہیں۔  یہی انگلی کی حرکت پر ایکٹنگ کرتے ہوئے نام نہاد لیڈر ہیں اور ملک کو برباد کرنے کا سبب ہیں۔

یہی ایک سچ ہے جسے آپ نہیں جانیں گے تو آپ اپنے حقوق  اور ملکی مفادات کے مجرم قرار پائیں گے۔

………………..

پی پی پی کی جائز قانونی منتخب حکومت کو ناکام ثابت کرنے کے لیے ملک کے تمام ادارے جدوجہد کرتے تھے۔ نافرمانی کرتے تھے اور نافرمانی کو بڑی بڑی چیختی چنگھاڑتی سرخیوں کے ذریعے میڈیا میں جگہ دی جاتی تھی۔

فوجی افسران کھلم کھلا باغیانہ بیانات دیتے تھے ۔جج روزانہ بیٹھ کر عدالت نے حکومت کو پچھاڑتے تھے۔ اور چتاونی دیتے تھے ۔ حکومت کے اچھے افعال اور ترقیاتی کاموں کے خلاف احکام امتناعی جاری کئے جاتے تھے اور حکومت گرانے کی جدوجہد کرنے والوں کو ہلا شیری  دی جاتی تھی۔ جمہور دشمنوں کے پیسہ پر طاقت پکڑنے والے میڈیائی جنگجو ادارے  پی پی پی حکومت کے روزانہ گرنے کی خبریں بنایا کرتے تھے ۔ مالیاتی ڈسپلن کو برباد کرنے کے لئے روزانہ مقدمے کھڑے کیے جاتے تھے۔

اس سب جھوٹ فراڈ کی بنیاد پر یہ مقدمہ تیار کیا جاتا تھا کہ پی پی پی کی گورننس کمزور ہے۔ سچی بات ہے جس حکومت  کو ملک کی سپریم کورٹ،  ملک کی افواج ، ملک کی پولیس ، ملک کے انتظامی افسران دل و جان سے قبول ہی نہ کرتے ہوں  وہ اچھی گورننس آخر کیسے دے سکتی ہے۔

پھر پاکستانی عوام کی جدوجہد اور دعائیں رنگ لائیں اور بالآخر ایک ایسی حکومت وجود میں آئی ۔ جس میں سب جمہور دشمن ادارے ایک ہی پیج پر تھے۔ عمران خان کے کسی ناجائز کام کے خلاف سپریم کورٹ دیوار نہیں بنی۔ بلکہ تاریخ میں بھٹو کے قتل ، صدر زرداری کے خلاف دو عہدوں والے مقدمہ اور یوسف رضا گیلانی کی برطرفی جیسے ذلیل ترین اور گھٹیا ترین مقدمہ کی طرح نیا مقدمہ  کرونا از خود نوٹس کی صورت میں سامنے آیا۔ جب جوڈیشری نے ذلیل ہوتی ہوئی اور ناکام ہوتی ہوئی وفاقی حکومت کو عزت دلانے کی خاطر صوبہ سندھ کی حکومت کی جدوجہد کو یرغمال بنایا اور بیماری روکنے کی تمام کوششوں کو فعال طریقے سے ناکام بنایا۔

اعلی ترین فوجی افسران غیر ممالک میں جا کر اس حکومت کی خاطر بھیک مانگتے نظر آئے ۔ خارجہ پالیسی کو تو چلاتے ہی محترم آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ہیں ۔ اس کے علاوہ مخالف سیاسی جماعتوں کو رام کرنے کا کام بھی ان ہی کے ذمہ آن پڑا۔

کم از کم دو اہم ترین مواقع پر جب یہ حکومت گر جاتی ، قمر جاوید باجوہ نے مخالف سیاسی جماعتوں سے وعدے وعید کرکے اس کے لیے مزید وقت نکلوایا۔

انتظامی افسران کی جانب سے اس حکومت کے خلاف ہرگز کوئی مزاحمت نہ ہوئی کیونکہ اس حکومت میں منتخب ارکان اسمبلی نے ذلت اور تذلیل کی انتہا دیکھی اور افسران نے غرور اور تکبر کی دوسری انتہا دیکھی ۔ کم از کم دو مواقع پر پنجاب کی منتخب حکومت کو سرکاری افسران کی نگرانی میں دیا گیا۔

اس سب کچھ کے باوجود کیا ہوا۔

جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کرنے والی تمام تمام کوششیں ناکام ہوئیں۔

پاکستان کی تاریخ میں میں سب سے بڑی میڈیا موومنٹ ایک بغلول کو انسان بنا کر پیش ہی نہ کر پائی۔ بادشاہ ننگا ہے۔

جب بچے نے کہہ دیا کہ بادشاہ ننگا ہے ۔ تو عوام کی آنکھوں پر پڑے پردے ایک ایک کرکے اترتے چلے گئے ۔ اب ننگے بادشاہ کو عوام کی نظروں سے بچانا ممکن نہیں رہا ہے ۔ آج نہیں تو کل پورا ملک ہی نہیں ، پوری دنیا کہے گی کہ بادشاہ ننگا ہے۔

وزیراعظم بے وقوف ہے۔ احمق ہے۔ کرپٹ ہے۔ چور ہے اور ڈاکو ہے۔

یہ حکومت ہر گز منتخب حکومت نہیں ہے یہ کارٹلائزیشن کا نتیجہ ہے ۔ جمہوریت کے خلاف بنانے والے، بننے والے تمام کارٹل اکٹھے ہوئے اور انہوں نے اپنی مرضی کا وزیراعظم نصب کروا لیا تھا۔

اگر یہ کارٹل عوام کو کچھ دینے کے لیے قائم کیے گئے ہوتے تو ممکن ہے کہ کچھ طویل عمر پاتے مگر یہ سب کارٹل عوام کے کپڑے اتارنے کے لیے عوام کے زیر جامہ اتارنے کے لیے وجود میں آئے ہیں۔ اس لیے انہیں ان کے سامنے ننگا ہو کر کھڑا ہونا پڑا ہے۔

آئیں! بادشاہ کے لیے دعا کریں کہ اسے کفن نصیب ہو جائے۔ ساری زندگی تو وہ ننگا ہی کھڑا رہا ہے۔

رانا شرافت ایڈوکیٹ پی پی پی سے وابستہ ہیں اور سیاست حاضرہ پر لکھتے ہیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here