معروف ماہر طبعیات،ڈاکٹر پرویز ھود بھائی نے ایف سی کالج لاہور سے بطور پروفیسر برائے طبعیات و ریاضی احتجاجا استعفا دے ڈالا- انہوں نے دعوا کیا ہے کہ انھوں نے اپنے مقام و مرتبے کے مطابق انتظامیہ سے عزت نہ ملنے پر یہ اقدام اٹھایا ہے-

وہ آٹھ سال سے ایف سی کالج لاہور میں طبعیات و ریاضی کے پروفیسر تھے اور ان کا کانٹریکٹ اکتوبر 2020 کو مکمل ہونا تھا-

اپنے استعفا میں انھوں نے لکھا ہے کہ وہ اس لیے مستعفی ہورہے ہیں کہ ایک تو ان کا کانٹریکٹ ملازمت تین سال سے کم کرکے ایک سال کردیا گیا اور پھر اسے ناقابل توسیع ٹھہرایا گیا یعنی اگر اگلے سال ملازمت پر رکھا بھی گیا تو نئے سرے سے کانٹریکٹ ہوگا

میں استعفا دے رہا ہوں،کیونکہ ریکٹر  نے مجھے بعذریعہ ای میل بتایا ہے کہ میں ایف سی کالج کے اکیڈمک تقاضے پورے نہیں کرتا یا اس کی جو قابل تدریس ہونے کے تقاضے ہیں ان پر پورا نہیں اترتا-20 جون کو ملنے والی ای میل میں مجھے بتایا گیا کہ ایف سی کالج کی اکیڈمک سٹینڈرڈ کمیٹی نے میرے کانٹریکٹ کے جاری نہ رہنے کی سفارش کی ہے جس سے وہ(ریکٹر) اتفاق کرتے ہیں- ایسی کوئی میٹنگ حقیقت میں ہوئی یا نہیں؟ میں یقین کے ساتھ کچھ کہہ نہیں سکتا- اگر ایسی کوئی میٹنگ ہوئی تو میری غیر موجودگی میں میرا ٹرائل کیا گیا اور مجھے سزا سنا دی گئی- مجھے یاد نہیں پڑتا کہ ان آٹھ سالوں میں ایف سی کالج کے دوران کسی نے مجھے سے مفروضہ خامی کا زبانی بھی زکر کیا ہو یا تحریری طور پر میری اہلیت پر سوال اٹھایا گیا ہو۔ نہ ہی میں نے ایف سی کالج کی کسی ایک ایسے اجلاس کے مندرجات دیکھے جس میں ایف سی کالج میں میرے کردار کو زیر بحث لایا گیا ہو- میں اس لیے بھی استعفا دے رہا ہوں کیونکہ یونیورسٹی انتظامیہ نا صرف اکیڈمک میڈیاکریٹی کو برداشت کررہی ہے بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے، اسے فروغ بھی دے رہی ہے(خلاق ذہنوں کی پروش اس جامعہ کا مقصود نہیں ہے-) جب مجھ جیسے استاد کے ساتھ اس یونیورسٹی میں یہ رویہ اختیار کیا گیا ہے تو یہاں کے اساتذہ، اسسٹنٹ پروفیسرز، ایسوسی ایٹ پروفیسرز یہاں تک کہ پروفیسرز کے ساتھ یہ انتظامیہ کچھ بھی کرسکتی ہے-ایسی مطلق العنانی، تکبر اور آمریت کسی بھی ادارے میں ناقابل برداشت ہوتی ہے-“

ایف سی کالج  لاہور نے اسٹنٹ پروفیسر عمار علی جان کا کانٹریکٹ بھی نہیں بڑھایا اور ان کو بھی ایف سی کالج سے الگ کردیا-

پاکستان میں لبرل اور لیفٹ لبرل حلقے کا خیال یہ ہے کہ ان دونوں حضرات کے ایف سی کالج سے نکلنے کا سبب ان کے لبرل و ترقی پسندانہ خیالات اور خاص طور پر ان کی فوج پر تنقید ہے-جبکہ انتظامیہ یہ تسلیم کرنے سے انکاری ہے-

حبیب یونیورسٹی کراچی میں بی بی سی سے منسلک صحافی محمد حنیف کے کانٹریکٹ میں بھی توسیع نہیں کی گئی- اس بارے میں رضا رومی کی شروع کردی ویب سائٹ پر یہ دعوا کیا گیا کہ ان کو بھی اسٹبلشمنٹ کے دباؤ پر نکالا گیا ہے- لیکن حبیب یونیورسٹی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ  ان پر نہ تو اوپر سے کوئی دباؤ تھا اور نہ ہی کسی نے ان  نکالنے کو کہا-

حبیب یونیورسٹی کے باوثوق زرایع نے بتایا کہ محمد حنیف کو تھیڑ پر لیکچرز دینے کے لیے انگیج کسی کی سفارش پر کیا گیا تھا اس وقت ان کے بیٹے کے تعلیمی اخراجات کے لیے ایکسٹرا آمدن کی ضرورت تھی جو امریکہ میں پڑھ رہا تھا-  محمد حنیف کو مخصوص لیکچرز دينے کے لیے کہا گیا- وہ لیکچرز میں بھی باقاعدگی نہیں رکھ پارہے تھے- ویسے بھی حبیب یونیورسٹی کے جو سب سے بڑے ٹرسٹی ہے ان کی طرف سے امداد میں کمی نے گھمبیر مسائل پیدا کئے جس کے بعد کئی اقدامات اٹھائے گئے ان میں سے ایک محمد حنیف کا کانٹریکٹ کا ختم ہونا بھی ہے-

حبیب یونیورسٹی میں کانٹریکٹ پر پڑھانے والے ایک اسٹنٹ پروفیسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ حبیب یونیورسٹی میں اس وقت کئی ایسے استاد موجود ہیں جن کے خیالات محمد حنیف سے بھی کہیں زیادہ ریڈیکل اور پروگریسو ہیں تو اگر محمد حنیف کی ملازمت مبینہ طور پر فوج کے دباؤ پر ختم کی گئی ہوتی دیگر اساتذہ بھی وہاں سے نکالے جاتے-

“حبیب یونیورسٹی کی انتظامیہ میں ہائی رینک کے عہدے دار ایسے ہیں جن کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ  کافی سخت گیر خیالات رکھتے ہیں اور  اگر دباؤ اوپر سے آیا ہوتا تو ایڈمنسٹریشن میں موجود اس عہدے دار کو اس کے عہدے سے الگ کیا جاتا”، اسٹنٹ پروفیسر نے اضافہ کیا-

حبیب یونیورسٹی میں محمد حنیف سے پڑھنے والے طلباء و طالبات کا ان کی ملازمت ختم ہونے پر ملا جلا ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے- طلباء و طالبات نے محمد حنیف کے لیکچرز میں بے قاعدگی کا ذکر کیا- کچھ طلباء و طالبات کو حتمی یقین تھا کہ ان کی ملازمت کے خاتمے کے پیچھے اسٹبلشمنٹ ہے اور کچھ کا خیال تھا کہ اس کا سبب حبیب یونیورسٹی کا مالی بحران اور ڈاؤن سائزنگ کی پالیسی ہے-

بائیں بازو کے کئی ایک کارکنوں کا خیال یہ ہے کہ کانٹریکٹ سسٹم بنیادی طور پر ایک محنت کش دشمن نظام ہے اور یہ ايجوکیشن سیکٹر سمیت ہر سیکٹر میں ورکنگ کلاس کا استحصال کررہا ہے- اسے فی الفور ختم ہونا چاہئیے اور اس کی جگہ مستقل ملازمت کا ہی قانون رائج ہونا چاہئیے- کئی کارکنوں کا کہنا تھا کہ ھودبھائی،عمارجان اور محمد حنیف جیسے کمپراڈور کلاس کے اشراف نے خود بھی کبھی تعلیمی اداروں میں ملازمت کے عدم تحفظ اور  پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی یونین نہ ہونے  پر آواز بلند نہیں کی- کیا پرویز ھود بھائی اور عمار جان نے ایف سی کالج میں اساتذہ کی یونین کی تشکیل کی کوشش کی؟ یا محمد حنیف نے کی ہو؟

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here