رواں ہفتے پارلمینٹ میں ہم نے کچھ تماشے دیکھے- ایک تماشہ تو یہ تھا کہ جنرل مشرف کو باوردی صدر منتخب کرانے کے لیے ترمیمی قانون پیش کرنے والے سابق وزیر قانون ڈاکٹر شیر افگن مرحوم کے صاحبزادے اور آر ٹی ایس ڈاؤن قومی اسمبلی کے رکن امجد علی خان بلوچ نے تعزیرات پاکستان کے دھارا 500 میں ایک اضافی ذیلی دھارا “الف” کا اضافہ کرنے کی سفارش کرنے والا بل پیش کیا- اسے عوام نے ” مجوذہ قانون برائےتحفظ ناموس۔۔۔۔” کا نام دے ڈالا- اس بل میں کہا گیا ہے کہ مقدس ہی نہیں بلکہ اس مقدس کی بہن کو تنقید یا تمسخر کا نشانہ بنایا گیا تو یہ بھی قابل دست اندازی پولیس جرم ہوگا اور جرم ثابت ہونے پر ملزم کو دو سال سزا اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا-

مقدس کی ناموس  کے لیے ایک اور ترمیمی بل لانے کی ضرورت کیوں پیش آئی جبکہ تعزیرات پاکستان کے درجنوں دھارے ایسے ہیں جن کو باآسانی اپنے مقصد کے لیے کسی بھی گستاخ، نافرمان اور ناہنجار کو قابو میں لایا جاسکتا ہے؟ اور لایا بھی جارہا ہے- بلکہ ہزاروں گستاخ و ناہنجار تو خود ہی غائب ہیں اور ان کے ورثا نے ان کے غیاب کو جبری گمشدگی کا نام دے دے رکھا-

مقدس کے پاس تو نظریاتی اثاثے بھی ہیں جو کفر و گستاخی و توہین کے کوڑوں سے پیٹ کر قابو نہ آنے والوں کو قابو کرنے میں ماہر ہیں- تو کیا لوگ پھر بھی قابو میں نہیں آرہے؟

لوگ کہتے ہیں کہ یہ ترمیمی بل ایک صحافی جس کا نام احمد نورانی ہے کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے بعد لانے کی ضرورت پیش آئی – اس تحقیقاتی رپورٹ میں ایک ریٹائرڈ فوجی جنرل عاصم باوجوہ اور ان کے خاندان کے منقولہ و غیرمنقولہ اثاثوں کی تفصیلات افشا کی گئی تھیں اور یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ اربوں ڈالر کے یہ اثاثے ایک درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والے گھرانے نے کیسے بنائے؟

کیا یہ سوال بنا کسی سیاق و سباق کے سامنے آیا؟

پاکستان کی سیاست سے جڑے ہر شخص کو پتا ہے کہ اس وقت برسراقتدار پاکستان تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں نے پاکستان مسلم لیگ نواز کے سربراہ میاں محمد نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف کے خاندان شریفیہ کے جملہ اثاثوں کی چھان بین کے لیے نیب اور پھر عدالت عالیہ کو درخواستیں گزاریں، اسی دوران ایک جی آئی ٹی رپورٹ بھی آئی اور اس دوران خاندان شریفیہ سے ان کے جملہ اثاثوں کی منی ٹریل مانگی گئی- سپریم کورٹ اور نیب کے مطابق میاں نواز شریف اور شہباز شریف منی ٹریل اور اثاثوں کے بنائے جانے کو قانونی ثابت کرنے میں ناکام رہے- شہباز شریف دو کیسوں میں سزا پاگئے، مزید کیس چل رہے ہیں-

ناجائز اثثے بنانے، اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھانے اور منی لانڈرنگ جیسے الزامات پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماؤں پر بھی ہیں- مرکزی قیادت سے لیکر نچلی قیادت تک ان الزامات کے تحت بنائے گئے مقدمات میں یا تو ضمانت پر ہیں یا جیل میں ہیں-

پاکستان تحریک انصاف کا وزیراعظم عمران خان جسے ساری اپوزیشن سلیکٹڈ اور آر ٹی ایس ڈاؤن وزیراعظم کہتی ہے کا کہنا ہے کہ جب تک اپوزیشن جماعتوں کے رہنماء اور ان جماعتوں کی طرف سے حکومتی عہدے رکھنے والے اپنے اثاثوں کے جائز طریقے سے بنانے کا ثبوت نہیں دیتے ان کی جان نیب اور عدالتوں سے نہیں چھٹے گی-

ایسے میں احمد نورانی پاکستان تحریک انصاف کے وزیراعظم عمران خان کی کرپشن سے نفرت کرنے کی کمٹمنٹ کی جانچ کرنے کے لیے ایک بڑی تہلکہ خیز تحقیقاتی رپورٹ لیکر سامنے آگئے- عاصم باوجوہ اور ان کے خاندان کے اثاثوں کی ٹریل کا سوال اٹھایا- عاصم باجوہ ریٹائرڈ جنرل ہیں- وہ اب ایک عام شہری ہیں- ان پر لگے الزامات کی نیب کو تحقیقات کرنے میں کوئی روکاوٹ نہیں ہے- ابھی تک تو نیب حاضر سروس فوجی افسران اور ججز کا احتساب نہیں کرسکتا ہے- لیکن عاصم باوجوہ نے اپنے خاندان کی منی ٹریل اور اثاثوں کے جائز طریقے سے بنائے جانے کی وضاحت کے لیے خود کو نیب کے سامنے سرنڈر کرنے کی بجائے  پاکستانی ٹی وی چینلز پر اپنی مرضی کے فریم ورک کے ساتھ آنے اور سوالات کا جواب دینے کا طریقہ کار اپنایا-

وہ اپنی مرضی کے چنے ہوئے اینکرز کے سوالات سے بھی گھبرا گئے- شاہ زیب خانزادہ کے پروگرام سے تو وہ بھاگ ہی گئے- کاشف عباسی کے سوالات کے جواب میں وہ اتنے  حواس باختہ ہوئے، کہنے لگے کہ وہ پڑھے لکھے صحافی ہوکر ایسے  سوالات کرتے ہیں-

عجیب بات یہ ہے کہ احمد نورانی کی شاندار تحقیقاتی رپورٹ  ایک ریٹاٹرڈ جنرل کے خاندان کے اثاثوں کے بارے میں ہے، جو سی پیک اتھارٹی کا سربراہ اور وزیراعظم کا مشیر برائے اطلاعات جیسے اہم ترین عہدے رکھتا ہے، کسی بھی اخبار میں شایع نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی ٹی وی چینل پر یہ آن ائر ہوئی- لیکن اس رپورٹ کے جواب دینے کے لیے ٹی وی جینل پر پرائم ٹائم میں ٹاک شوز ضرور ہوئے- اس سے ہم اندازہ کرسکتے ہیں کہ پاکستان کا مین سٹریم الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کس قدر کنٹرولڈ ہے۔

سوشل میڈیا، عالمی زرایع ابلاغ پر یہ تحقیقاتی رپورٹ زور و شور سے زیر بحث آئی اور اس طرح سے جو دباؤ الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر اس خبر کا بائیکاٹ کرنے پر تھا، وہ بے اثر بنکر رہ گیا-

کتنی عجیب بات ہے کہ ایک تحقیقاتی رپورٹ جسے خود ہی پاکستان کے کسی چینل پر آن ائر نہیں ہونے دیا گیا اور نہ ہی کسی اخبار میں شایع ہونے دیا گیا، جب ایک ویب سائٹ پر چھپ جاتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ تحقیقاتی رپورٹ اگر اتنی ہی مستند تھی تو ایک غیر معروف ویب سائٹ پر شایع کیوں کی جاتی؟ پھر اس رپورٹ کو ہندوستانی ویب سائٹ پر شایع رپورٹ کا چربہ کہا گیا- لیکن جب اس رپورٹ میں دئے گئے حوالوں اور پیش کردہ دستاویزات کے ٹھیک ہونے کا ثبوت سامنے آنے لگا تو تب ہمارے ریٹائرڈ جنرل متحرک ہوئے-

احمد نورانی ایک ریٹائرڈ جنرل کے خاندان کے مالیاتی اثاثوں کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے لانے پر سی پیک کے مخالف، راء کے ایجنٹ، امریکی سی آئی اے کے اشاروں پر کام کرنے والے ٹھہرائے گئے-

ریٹائرڈ جنرل عاصم باوجوہ نے اس رپورٹ کو “سی پیک” کے خلاف سازش قرار دے ڈالا- پاکستان تحریک انصاف اور حکومتی وزراء و مشیر اسے نواز شریف خاندان کی بلیک میلنگ تکنیک قرار دینے لگے- اور انہوں نے جب وزیراعظم کے مشیر کے عہدے سے مستعفی ہونے اور سی پیک اتھارٹی کے سربراہ کے عہدے پر کام کرتے رہنے کا فیصلہ کیا تو ایک خوش فہمی یہ پیدا ہوئی تھی کہ آر ٹی ایس ڈاؤن وزیراعظم عاصم باوجوہ سے سی پیک اتھارٹی کے سربراہ کے عہدے سے مستعفی ہونے کی مانگ کریں گے لیکن انہوں نے استعفا واپس کردیا اور عاصم باوجوہ کو کلین چٹ دے ڈالی-

ایسے میں موجودہ حکومت کے ناقدین نے یہ سوال اٹھانا شروع کردیا کہ جس طریقے سے منی ٹریل سیاست دانوں، تاجروں، سرمایہ کاروں، سرکاری ملازمین سے مانگی جاتی ہے، ویسے منی ٹریل حکومتی وزراء و مشیر اور حکومت کے اہم عہدوں پر فائز ریٹائرڈ فوجی افسران سے کیوں نہیں مانگی جاتی؟

فوج سے ریٹائرڈ ہونے والے ہائی رینک کے کمیشنڈ افسران کے اثاثوں کی چھان بین نیب، ایف آئی اے وغیرہ کیوں نہیں کرتیں؟ حاضر سروس فوجی افسران کے خاندان اور رشتے داروں کے آمدنی سے زیادہ شاہانہ طرز زندگی گزارنے کے الزامات کی تحقیقات متعلقہ ادارے کیوں نہیں کرتے؟ یہ سوال شدت سے اٹھ رہے ہیں اور پاکستان کی عوام کی اکثریت پاکستان کی فوج کی کمرشل سرگرمیوں پر سوالات اٹھارہی ہے-

سب سے بڑا سوال یہ اٹھایا جارہا ہے کہ اگر سویلین  سرکاری کمرشل اور بزنس و سروسز سیکٹر کی نجکاری کرنا بہترین پالیسی ہے تو اس پالیسی کا اطلاق ملٹری کی کمرشل سرگرمیوں سے کیوں نہیں ہوتا؟ گیس،تیل، بجلی، کھاد، سیمنٹ سمیت مینوفیکچرنگ سے لیکر سروسز سیکٹر ریاست کے سب سے منظم ادارے پاکستان آرمی کے تحت کیوں چلائے جارہے ہیں؟ ان کی بھی نجکاری کیوں نہیں کی جاتی؟

پاکستان کی فوج کے ہائی رینکس اور اہم ترین حساس عہدوں پر فائز رہنے والے افسران کی اکثریت کے طرز زندگی اور ان کے اثاثوں کو عمومی شک کی نظر سے دیکھا جانے لگا ہے-ایسے شواہد، ثبوت اور واقعات تواتر سے سامنے آئے ہیں کہ پاکستان کے شہریوں کی اکثریت ان کو ایماندار خیال نہیں کرتی اور وہ پاکستانی فوج کے اس دعوے سے بھی اتفاق نہیں رکھتی کہ اس کا جو اندرونی احتساب کا اور نگرانی کا سسٹم ہے وہ ٹھیک کام کررہا ہے-

گزشتہ تین سابق چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے پر رہنے والے فوجی افسران کے مالیاتی اثاثوں بارے خبریں آئی ہیں، ایسے ہی درجن بھر سے زیادہ حال ہی میں ریٹائرڈ ہونے والے افسران پر کرپشن کے الزامات سامنے آئے ہیں-

حال ہی میں پاکستان بار کونسل کے زیر اہتمام کل جماعتی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے انکشاف کیا ہے کہ عدلیہ میں اصلاحات کی جو تجاویز 18 وین ترمیم کے زریعے آئین کا حصّہ بنائی گئیں، ان کو دھمکی دیکر 19 ویں ترمیم کے زریعے تبدیل کرایا گیا- عسکری اسٹبلشمنٹ نے سارے نظام کو اڑانے کی دھمکی دی تھی-

مجھے پاکستان پیپلزپارٹی کے سنٹرل ایگزیگٹو کمیٹی کے درجن بھر اراکین نے بتایا تھا کہ پارٹی جئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے ان کو “توسیع ملازمت بل” کے حوالے سے بریف کیا تھا کہ اگر اسے متفقہ پاس نہ کرایا گیا تو انجام بھگتنے کے لیے تیار رہیں- بلاول بھٹو مزاحمت کا سوچ رہے تھے کہ احسن اقبال اور دیگر مسلم لیگی رہنماؤں نے ان کو بتایا کہ وہ بل کی حمایت کا فیصلہ کرچکے ہیں-

بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان بار کونسل کے زیر اہتمام کل جماعتی کانفرنس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں صاف کہا کہ پارلیمنٹ کو کسی کمپنی کے افراد کے مفادات کے لیے ربڑ اسٹمپ بنانے سے کمپنی کا چلنا دشوار ہوجائے گا-

لوگ یہ بھی سوال اٹھارہے ہیں کہ کیا حکومت اور اس کی ڈوریاں ہلانے والے افراد واقعی پاکستان کی مسلح افواج کی عزت و احترام کو برقرار رکھنے کے لیے درست سمت میں اقدام اٹھارہے ہیں؟

 اس سوال کا جواب بھی نفی میں ہے- بلکہ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ آئین پاکستان مسلح افواج سے وابستہ افراد کو جو  کردار اور اختیار دیتا ہے اور حلف جو تقاضا ان سے کرتا ہے، اس سے انحراف کرنے والوں پر اٹھنے والی تنقید اور ان غیر آئینی،غیر قانونی اقدام کرنے والوں کا تمسخر اڑائے جانے کو روکنے کے لیے پاکستان کے آئین اور تعزیرات پاکستان کے دھاروں میں تبدیلیاں لائی جارہی ہیں- اور یہ آئین شکنی،قانون سے انحراف اور حلف سے ہٹ جانے والوں کا زبردستی احترام پیدا کرنے کی کوشش ہے جس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلے گا-   

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here