کہنے کو میں روہتک شہر کا ایک چھوٹا سا پترکار (رپورٹر) ہوں- مگر اپنے تعلقات کے اعتبار سے میری پہنچ راجدھانی دلّی کی صحافتی اسٹبلشمنٹ تک ہے- اور میں اپنی “پہنچ” کے سہارے سیاست اور بابو شاہی کے پیروں کے نیچے سے زمین کھسکانے کی تھوڑی بہت صلاحیت رکھتا ہوں- ویسے جتنا میں حرام جادہ ہوں، اس سے کئی ہجار گنا سیاست دان اور سرکاری بابو ہووے ہیں- یہ دونوں قسم کے حرام جادے جتنی گھوس اور جتنے کمیشن کھاویں ہیں،اتنا ہم جیسے بلیکیے اور کالی پیلی رپورٹنگ کرنے والوں کے نصیب میں کہاں ہووے ہیں- لیکن آج تھارے لوگاں نوں ما حرام جادوں کی کالاسپھیکشن پر بھاشن دینے نہیں جارہا، بلکہ تھارے لوگاں کے کاناں میں ایک ایسی پھونک مارنے جارہیا ہوں جو تھم نے بھت مجے دیوے گی- کیونکہ ہندی ما جو صھاپھت ہووے ہے، اوہ چسکے باجی کا دوسرا نام ہووے ہے- روہتک میں ہریانہ کا سب سے لوک پری(مقبول) سماچار پتر “دینک سماچار”(روجنامہ خبریں) ہے- اس سماچار پتر کی لوک پریتا کا کارن بھی اس سماچار پتر میں چسکے باج خبراں ہووے ہیں- ہریانہ کا کون سا آدمی ہے جو “دینک سماچار” نہیں پڑھتا ہے؟ میں انگریجی ما بھی رپورٹنگ کروں ہوں لیکن روہتک شہر کے لوگاں میں ماری پہچان یو “دینک سماچار” ہی ہووے ہے- روی وار(منگل) کو ما چندی گڑھ گیا تھا- چندی گڑھ میں لاٹ صاحب آفس (سیکرٹریٹ) کے سواساتھے وبھاگ(ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ) سیکشن میں کام تھا- میں پراتھامک سواستھے سچو/پرائمری ہیلتھ سیکرٹری کے دفتر میں گیا تو سواستھے سچو تو موجود نہ تھے لیکن وہاں لاٹ صاحب برائے پراتھامک سواستھے کی کرسی و میز کے دوسری طرف ایک مھیلا/عورت بیٹھی ہوئی تھی- جس نے کالی قمیج اور  بلیو کلر کی جینز پہن رکھی تھی- مھیلا لال اور سفید رنگ کی تھی- اس کی سندرتا دیکھ کر میرا من ڈول گیا تھا- یہ بڑی بڑی کالی آنکھیں اور بھنوئیں ایسی جیسے تنی ہوئی دھنوش(کمان)  ہوویں- مھیلا بڑے نخرے سے ٹانگ پر ٹانگ دھرے بیٹھی تھی- اس مدرا(پوز) میں اس کے ایک کولہے اور جانگھ کا گوشت اس انداز میں باہر کو نکلا نظر آرہا تھا کہ میرا کلیجہ باہر آنے کو تھا اور دل بہت تیزی سے دھک دھک کرنے لگا تھا-جبکہ کالی قمیج جو شارٹ کی طرح سے مشکل سے اس کی پشت سے اس کےکولہوں کو چھپا رہی تھی- کولہوں کی آکرتی(انداز) نے میرے من میں بے چینی پیدا کردی تھی- میں میج کے کنارے پر پڑی کرسی پر بیٹھا تو مھیلا نے میرے آنے کا کوئی نوٹس نہ لیا- اس نے ہاتھوں میں ایک فائل پکڑی ہوئی تھی اور تھوڑا سر جھکا کر اس کے پنوں کو پڑھ رہی تھی- اس کے سیس جھکانے سے اس کی چھاتیوں کے ابھار اور پرمکھ بن گئے تھے اور یہ بہت سپشت(واضح نظر آرہے) تھے- میرے ماتھے پر پسینے کی بوندیں جھلک رہی تھیں- کچھ دیر بعد سواستھے سچو آن پہنچے- یہ روی ورما تھے- مالی جات جو کہ  انوسوچت جاتی(شیڈولڈ کاسٹ) ہے سے وہ تعلق رکھتے تھے جو میری جات بھی تھی- اسی کارن وہ میرا بہت دھیان کرتے تھے- انھوں نے کرسی پر بیٹھنے سے پہلے ایک بار میری طرف دیکھا اور پھر مھیلا کو اور پھر زور سے ہنس پڑے-

 

‘سکھدیو پریم ناتھ! واسنا جاگنے کا کوئی خاص سمے نہ ہووے، پوری طرح سے بہار پر پہنچا شریر اور ہتھیاری مدرا(ادائیں) اسے جگانے کے لیے کافی ہوتی ہیں’

سواستھے سچو روی ورما کی بے باک شبدوں سے خجالت محسوس کررہا تھا- لیکن میں نےہاتھ جوڑ کر ورما جی کو اور اس عورت کو پرنام کیا- دونوں نے سر کے اشارے سے جوابی پرنام کیا- اس دوران اس مھیلا نے میری طرف دیکھا، مجھے ایسے لگا جیسے اس کی آنکھیں ایکسرے مشین کی طرح میری اسکینگ کررہی ہوں-

 “ڈاکٹر سمیرین ہیں، آج کل “ڈینگی انمولن پری یوجنا” میں میری سہایک سمان ویک کے روپ میں کام کررہی ہیں-

(ڈاکٹر سمرین ہیں، آج کل ڈینگی بھگاؤ پروجیکٹ میں میری اسٹنٹ کوآرڈینٹر کے طور پر کام کررہی ہیں)

تھارے شہر روہتک کے جلا ناگرگ ہسپتال(ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال) کی چکتیسا ادھیکشک (ایم ایس) رہ چکی ہیں- اور اپنے دو کولیگ ڈاکٹرز سے ان کو طلاق کا بھی تجربہ ہے- آج کل ہم پر دیالو(مہربان) ہیں- ویسے اگر تم نہیں آتے تو میں خود تمہیں بلا لیتا-ڈاکٹر سمرین سے تمہیں ملانا چاہتا تھا اور اتفاق سے آج تم خود چلے آئے- آپ کی ستھتی(حالت) انگت(بتاتی) کرتی ہے کہ آپ ڈاکٹر سمرین کے ساتھ سمے بیتانا پسند کریں گے-“

پھر انھوں نے اپنا دھیان ڈاکٹر سمرین کی اور لگایا-

” یہ سکھدیو پریم ناتھ ہیں، روہتک میں ہریانہ کے لوک پریاتا اخبار دینک ” سماچار” کے رپورٹر ہیں- بہت چتر ہیں- روہتک میں چلتا پرزہ مانے جاتے ہیں- یہاں راجدھانی دلّی کی پترکار پریتشتھان(صحافتی اسٹبلشمنٹ) کی ناک کا بال ہیں- یہ آپ کے بہت کام آسکتے ہیں۔”

میں نے ایک فائل روی شرما کی اور بڑھائی اور ان سے کہا کہ اس میں درج کام کو لاگو کرنے کی جرورت ہے، تو روی شرما نے کہا، ‘کام ہوجائے گا، ڈاکٹر سمرین کی بات سنو۔ ساتھ والے کمرے میں چلے جائیں، وہاں کوئی نہیں آئے گا۔’

یہ سن کر ڈاکٹر سمرین اٹھ کھڑی ہوئیں- میں بھی ساتھ ہی اٹھ کھڑا ہوا- ہم دونوں اس کمرے سے نکلے تو باہر کھڑے نائب قاصد نے ہمیں بغل والے درواجے کی اور جانے کا اشارہ کردیا- ہم دونوں اندر داخل ہوئے- کمرہ ایک ڈرائنگ روم کی طرح سجا ہوا تھا- ہم صوفے پر آمنے سامنے بیٹھ گئے اور ہمارے درمیان میج حائل تھی-

ڈاکٹر سمرین نے میری اور کچھ دیر تک دیکھا اور پھر کہنے لگی،

‘وہاں روہتک میں لگے اوپایوکت  (ڈپٹی کمشنر) سے پرائچت ہیں؟

میں سوال سن کر ڈاکٹر کے چہرے کی طرف دیکھنے لگ گیا ہے- اور سوچنے لگا کہ کیا جواب دوں- میری بدھی تیجی سے کام کررہی تھی- سوچ رہا تھا کہ ایسی اس اوپا یوکت میں کیا بات ہے جو یہ قاتل حسینہ اس کے بارے میں مجھ سے پوچھ رہی تھی- روہتک کا اوپایوکت ایک مسلمان تھا- جات کا سید تھا اور حیدرآباد دکن سے تعلق رکھے تھا- مودی سرکار نے ہریانہ میں راج سنگھاسن پر بیٹھنے کے بعد روہتک کا اوپایوکت ایک مسلے افسر کو بنانے پر ٹی وی اور سوشل میڈیا پر کافی چرچا کی تھی- لیکن سکھدیو پریم ناتھ کو اپنے سورس سے اس افسر بارے کچھ اچھی خبریں موصول نہ ہوئی تھیں-  جنتا کے سامنے حسینی بھگت بننے والے کے بارے میں عام یوجنا یہ تھی کہ وہ خلوت میں شراب نوشی، لونڈیا باجی کرنے والا تھا- اور گھوس میں ملی دمڑی بھی نہیں چھوڑتا تھا-

” آپ نے بتایا نہیں؟”

ڈاکٹر سمرین کی آواز مجھے خیالات کی دنیا سے واپس لے آئی-

 “روہتک کے اوپایوتک ایک بھگت مانس آدمی ہیں- میں نے تو ان کو شیعہ مسلمانوں کے ماتمی جلوس مں زنجیر چلاتے دیکھا ہے- لوگ بتاتے ہیں کہ اپنے آبائی شہر حیدرآباد دکن میں ان کے 400 سال قدیم مجلس اجا(عزا) ہوتی ہے-“

میرا جواب سن کر ڈاکٹر سمرین ایک دم سے زور زور سے ہنسنے لگیں- ان کی ہنسی میں طنز تھا اور کاٹ دار تیکھی نظروں سے انھوں نے میرا جائزہ لیا- اور پھر ایک اور ہی آواج میرے کانوں کو سننے کو ملی

” کون بھوسڑی کا ،میا چود ایسی سماچار پترکار سکھدیو پریم ناتھ کو دیتا ہے-“

یہ در ویہار /گالی بھرے شبد سن کر میں دنگ رہ گیا- اور ایک دم سے میری بدھی نے مجھے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر سے صاف اور سچی بات کرنا پڑے گی-

ٹھیک کہا جو روہتک کے اوپایوتک کو بھلا مانس کہہے وہ بھین چود ہی ہوگا-

ہاہاہا، اب آئے ہو نا لائن پر، یہ بھاشا ہے ایک ہندی اخبار کے پترکار کی-

“سالے کی زعفرانی سیوکوں سے پھٹتی ہے- ہریانہ سرکار کا کوئی بھی وزیر ،مشیر ہو یا پھر دلّی سرکار سے آیا کوئی لاٹ صاحب، اس کی پھٹ کر ہاتھ میں آجاتی ہے- کتّے کی طرح دم ہلا کر آگے پیچھے پھرتا رہتا ہے- اور اگر کوئی کمجور ہو تو اس پر چڑھائی کردینا اس کی فطرت ہے۔”

میں نے ایک دم سے وہ سچ اگل دیا جو میں اگلنا نہیں چاہتا تھا-

“میں جلا ناگرگ ہسپتال روہتک کے گائنی وارڈ کی ہیڈ ڈاکٹر تھی- جب یہ سید عباس حیدرآبادی آئی سی ایس وہاں پر اوپایوتک بن کر آیا- میں تازہ تازہ ڈاکٹر اوم پرکاش ستھیارتھی سے الگ ہوئی تھی جو میری زندگی میں آنے والا دوسرا مرد تھا- اور کافی اپ سیٹ تھی- مجھے یاد ہے بطور اوپایوتک سید عباس حیدرآبادی آئی سی ایس کا جلا ناگرگ ہسپتال روہتک کا پہلا دورہ تھا- مختلف وارڈ کا دورہ کرتے ہوئے جب اوپایوتک گائنی وارڈ تک آئے تو میں سب سے آگے تھی،میرے پیچھے میری کولیگز، جونئیر ڈاکٹرز ،نرسیں اور نائب قاصد و اٹینڈنٹ کھڑے تھے- اوپایوتک مجھ پر نظر پڑنے کے بعد اپنی نظریں مجھ سے ہٹا نہ پائے اور کنکھیوں سے مجھے تکتے رہے اور کافی دیر گائنی وارڈ میں ہی ٹھہرے رہے- مجھ سے میرا نمبر طلب کیا جو میں نے دے دیا-  چند روز گزرے تھے کہ اچانک مجھے جلا ناگرک ہسپتال روہتک کے چکتیسا ادھیکشک(ایم ایس) مقرر کرنے کا سواستھا سچو  روی شرما کی طرف سے نوٹیفکشن آگیا- میں حیران تھی بنا سفارش کے اور بنا کوئی طاقت کے میرا چکتیسا ادھیکشک مقرر ہونا سمجھ سے باہر تھا-  بعد میں مجھے پتا چلا کہ یہ سب ہمارے اوپا یوتک حیدرآبادی آئی سی ایس کی کوششوں سے ہوا تھا- اکٹر مجھے وہ اپنے دفتر بلالیتے اور گھنٹوں یہان سے وہاں کی بات چلتی اور ان کی آنکھیں کچھ کہتی تھیں- میں مھیلا ہونے کے ناطے سب سمجھ رہی تھی- ایک دن انہوں نے اپنا دل میرے سامنے کھول کر رکھ دیا- مجھ سے عشق کا دعوا کیا- اور مجھ سے تعلق کی ارج گجاری- میں نے ایک ماہ اور دیکھا- اس دوران اوپایوتک صاحب کی بے صبری اپنے عروج کو چھو رہی تھی- میں نے رضامندی کی شرط ویاہ رکھی تو تھوڑی خاموشی کے بعد وہ کہنے لگا کہ میں مسلمان ہوجاؤں اور اس کے فرقے سے ہوجاؤں تو وہ مجھ سے کانٹریکٹ شادی کرلے گا- مجھے اس کی یہ شرط عجب لگی- میں نے مسلمان ہونے سے صاف منع کردیا تھا لیکن نجانے میں کیسے اسکی باتوں میں آگئی- اس نے مجھے کہا کہ وہ مجھ سے ویاہ کرلے گا اور مذہبی کی تبدیلی کی شرط بھی نہیں رکھے گا- یوں میں اس کے بہلاوے میں آگئی اور ہم نے واسنا کی ساری حدیں پار کرلیں- وہ مجھے رات گئے اوپایوتک کیمپ آفس طلب کرتا جہاں اس وقت اس کا خانساماں ہوتا اور پھر ساری رات ہم نشے میں دھت ہوکر اپنی واسنا پوری کرتے- اس دوران میں اس سے اصرارکرتی رہی کہ وہ مجھ سے ویاہ کرلے- وہ ٹال مٹول سے کام لیتا رہا- پھر اس کی بیوی اور بچے بھی وہیں کیمپ آفس آکر رہنے لگے- اور اوپایوتک اب مجھ سے ملنا تو درکنار،میری کال تک اٹھانا چھوڑ گئے- ایک دن جب میں جذبات میں آکر اس کے دفتر جاپہنچی اور ریٹائرنگ روم میں خوب جھگڑ کر چلی آئی- تو اگلے دن میرے سواستھا وبھاگ چندی گڑھ رپورٹ کرنے کو کہا گیا- میں سمجھ گئی تھی کہ افسر بکار خاص بناکر بھیج دی گئی ہوں- میں سواستھا وبھاگ چندی گڑھ چلی آئی- سوچا تھا کہ اوپایوتک کے کارناموں کو یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کردوں گی لیکن یہاں روی شرما جی مجھے مل گئے- ان کے سندر ویہار سے مجھے سکون کے کچھ لمحات میسر آگئے- میرے پاس اوپایوتک روہتک کے ہریانہ کے سب سے بڑے بھڑوے اور بھاڑ کماؤ دلال کاشی راؤ چوہان سے گہرے سمبندھ کے ناقابل ترید ثبوت ہیں- اور میں چاہتی ہوں کہ اوپا یوتک سید عباس حیدرآبادی آئی سی ایس کی عجت کی ارتھی پورے ہریانہ میں نکلے- ہریانہ کے پردھان منتری کے سسرال سے اوپایوتک کے جو گھوس و کمیشن کے بندھن ہیں، اس کے کچھ دستاویزی اور وڈیو کلپ ثبوت میرے پاس ہیں- کیا آپ میرا ساتھ دیں گے؟”

یہ سب کہہ کر ڈاکٹر سمرین نے میری طرف دیکھا-

“کیوں نہیں، میں ساتھ ضرور دوں گا، لیکن بدلے میں مجھے کیا ملے گا؟”

میرے سوال پر ڈاکٹر سمرین کہنے لگی

“میرے پاس آپ کو دینے کے لیے یہ چیک ہے۔۔۔۔(میں نے چیک دیکھا، 50 لاکھ روپے کا تھا)”

“یہ سب ٹھیک ہے لیکن مجھے کچھ اور بھی چاہئیے”

یہ کہتے ہوئے میں نے اس کے بھرے بھرے جسم پر بھرپور واسنا بھری نظر ڈالی

اس نے طنز بھری مسکراہٹ کے ساتھ میری طرف دیکھا اور ایک لمحے چپ رہ کر اگلے لمحے کہا

ٹھیک ہے مجھے منجور ہے۔۔۔۔۔ آج رات میرے فلیٹ پر تمہاری دعوت ہے-

उपायुक्त रोहतक के कंजरकाशी राव चौहान के साथ संबंध सामने आए हैं

नशे में धुत उपायुक्त रोहतक में लेडी डॉक्टर के साथ नग्न होकर डांस करने का वीडियो वायरल

रिश्वतखोरी और सेक्स वीडियो के वायरल होने के बाद रोहतक के उपायुक्त सैयद अब्बास को बर्खास्त कर दिया

गया

ڈپٹی کمشنر روہتک کے  ساتھ عالمی بھڑوے کاشی راؤ چوہان سے تعلقات کا پتا چلا ہے

ڈپٹی کمشنر روہتک کے نشے میں چور ہوکر لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ ننگے ہوکر نرتکی رقص کرنے کی ويڈیو وائرل ہوگئی  

رشوت خوری اور سیکس ویڈیو وائرل ہونے پر روہتک کے اوپایوتک کو برخاست کردیا گیا-

پس نوشت

دو سال بعد

चंडीगढ़ जांच आयोग ने पूर्व उपायुक्त रोहतक को उनके खिलाफ सभी आरोपों से बरी कर दिया।

سابق ڈپٹی کمشنر روہتک کو ایک جانچ کمیشن نے ان پر لگے تمام آروپوں سے بری کردیا-

दैनिक समचार संवाददाता सुखदेव प्रेम नाथ आयोग के समक्ष पेश हुए، उन्होंने कहा कि उन्हें मिली जानकारी गलत थी उन्होंने आयोग से बिना शर्त माफी मांगी

دینک سماچار پترکار سکھدیو پریم ناتھ تحقیقاتی کمیشن کے سامنے پیش ہوئے- انھوں نے تحریری بیان میں کہا کہ ان کو موصولہ اطلاعات غلط ثابت ہوئیں- وہ غیر مشروط معافی کے طلبگار ہیں

दैनिक समचार चंडीगढ़ हरियाणा

(روزنامہ خبریں چندی گڑھ ہریانا)

   

 सुखदेव प्रेम नाथ (फोन पर) आईसीएस साहिब, पिन नंबर प्राप्त हुआ है

سکھدیو پریم ناتھ(فون پر): آئی سی ایس صاحب! پن نمبر مل گیا ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here