خانیوال (نیوز ڈیسک ) صوبائی محتسب اعلی پنجاب کے ایڈوائزر ہیلتھ ڈاکٹر شہزاد امجد نے الزام عائد کیا ہے کہ مونسپل کمیٹی خانیوال کے چیف افسر افتخار بنگش، افسر ٹاؤن پلاننگ اعجاز پہوڑ، ہیڈ کلرک نقشہ برانچ ظفر گجر نے ان کی تعمیر شدہ بلڈنگ واقع گورنمنٹ گرلز کالج روڈ کے نقشے کی منظوری کے لیے 5 لاکھ روپے فیس جمع کرائی لیکن ابتک نہ تو نقشہ پاس ہوا اور نہ ہی ان کو این او سی جاری ہوا- اس بات کا انکشاف ڈاکٹر شہزاد امجد نے ایسٹرن ٹائمز کے رپورٹر سے بات چیت کرتے ہوئے کیا-

“میں نے چیف منسٹر پنجاب سردار عثمان بزدار اور صوبائی اسمبلی میں مونسپل کمیٹی خانیوال کے چیف افسر بلدیہ افتخار بنگشن، ہیڈ کلرک ظفر گجر اور پلاننگ اینڈ انفراسٹرکچر افسر اعجاز پہوڑ کے خلاف درخواست جمع کرادی ہے-“

ادھر ایک شہری نے ڈی سی خانیوال آغا ظہیر عباس شیرازی کو ثبوت کے ساتھ درخواست بھیج رکھی ہے جس میں مونسپل کمیٹی خانیوال کی نقشہ برانچ، سی ای بلدیہ اور پٹوار حلقہ خانیوال کے عملےکی ملی بھگت سے جعلی لینڈ سب ڈویزن الناصر ٹاؤن سمیت کئی جعلی ہاؤسنگ اسکیموں کو چلانے کا الزام عائد کیا گیا ہے- تاحال اس درخواست پر کوئی انکوائری شروع نہیں ہوئی- اے ڈی سی آر خانیوال کے پاس اس درخواست کو پندرہ روز سے زیادہ بیت چکے ہیں

ڈپٹی کمشنر خانیوال /ایڈمنسٹریٹر بلدیہ خانیوال نے ایک ایسے شخص کو نقشہ برانچ کا ہیڈ کلرک بنانے کی منظوری دی جو رنگے ہاتھوں رشوت لیتے ہوئے گرفتار ہوا اور ضمانت پر ہے اور اپنی تنخواہ سے کہیں زیادہ پرآسائش زندگی بسر کررہا ہے- ڈپٹی کمشنر خانیوال خود بھی اب اپنی تنخواہ سے زیادہ اثاثوں کے الزام کی زد میں ہیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here