معروف لکھیک اور فکشن رائٹر عباس زیدی پاکستان کے مشہور شہر اور پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے تعلق رکھتے ہیں- آج کل سڈنی آسٹریلیا میں مقیم ہیں جہاں وہ ایک جامعہ میں میڈیا اسٹڈیز پڑھاتے ہیں-

کفار مکّہ -اردو ترجمہ

انہوں نے انگریزی میں ایک ناول لکھا،’کفار مکّہ’ جو پاکستان کی سابق وزیراعظم اور پی پی پی کی چئیرپرسن بے نظیر بھٹو کے قتل کے پس منظر میں لکھا گیا- اس ناول کا پہلا انگریزی ایڈیشن 2018ء میں روپا اشاعت گھر دہلی سے شایع ہوا

 

عباس زیدی
اب اس کا اردو ترجمہ عکس اشاعت گھر پنجاب پاکستان سے شایع ہونے جارہا ہے- اردو ترجمے کے ناشرین محمد فہد اور نوفل جیلانی نے ایسٹرن ٹائمز کوبتایا،

” ناول نومبر2020 کے پہلے ہفتے میں شایع ہوجائے گا۔”

 

مترجم عامر حسینی کا فائل فوٹو

ناول کے مترجم عامر حسینی پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں- وہ خود بھی چار کتابوں کے مصنف ہیں اور فکشن بھی لکھتے ہیں- وہ اس ناول کے اردو ترجمے کے حوالے سے کہتے ہیں

 

یہ پہلا ناول ہے جس میں ہمیں ایسے کردار ملتے ہیں جو مذہبی تشدد کا شکار ہیں، مذہبی عتاب کا ہدف ہیں، ان کے خلاف نسل کشی کی مہم چلائی جارہی ہے- پھر اس ناول میں ہم ان کے ساتھ ہورہے برے سلوک کی برابری کے لیے غلط قسم کی مساوات نہیں پاتے، نہ ہی ہم ایسے دھبے پاتے ہیں جو کسی طرح سے اس جبر کا جواز پیش کرتے ہوں یا اس جبر پر ابہام کا پردہ ڈال دیتے ہوں، خاص طور پر شیعہ نسل کشی کے کیس میں، جو پاکستان کا سب سے سلگتا ہوا مگر سب سے زیادہ نظرانداز کیا گیا اور بہت زیادہ مسخ کیا گیا مسئلہ بن چکا ہے-  اردو فکشن میں مشکل سے چند افسانے یا کہانیاں ہوں گی جو اس مسئلے سے متعلق ہوں- میں نے تو شیعہ ٹارگٹ کلنگ پر بس ایک افسانہ دیکھا اور بدقسمتی کہیں یا خوش قسمتی وہ بھی افسانہ ایک  ایسے لکھاری نے لکھا جو خود مذہبی اعتبار سے شیعہ ہیں- یہ اردو ادبی رسالے “شہرزاد” میں شایع ہوا تھا- جب میں نے زیدی صاحب کے ناول کو پڑھا تو میں نے اسے نظر انداز کیے گئے متعلقہ موضوع سے ہم آہنگ پایا اور پاکستان کی معروضی صورت حال کی عکاسی کرتا پایا- اور یہ دیکھا کہ یہ پاکستان کی مذہبی و نسلی معتوب برادریوں کی حالت زار کو تخلیقی کرداروں سے زبردست طریقے سے پیش کرتا ہے- دوسری چیز اس ناول میں جو ہے وہ مصنف کی پاکستانی سیاست کی عوامی جمہوری روایت سے سلوک ہے- پاکستان کے شہری پڑھے لکھے اشراف طبقے کے لبرل لکھاریوں کی اکثریت کے برعکس انہوں نے پی پی پی، بھٹوز اور پی پی پی کے کاڈرز کو مجسم شیطان نہیں دکھایا اور نہ ہی پاکستان کے انتہائی بنیاد پرستانہ راستے پر چل نکلنے کی ساری ذمہ داری پی پی پی پر ڈالی ہے- ہم کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کی عوامی جمہوری سیاسی روایت کے باب میں ان کا فکشن میلو ڈراما نہیں ہے- انہوں نے پی پی پی کے باب میں سابقہ لیفٹ اور حال کے لبرل کی تلخی سے آگے جاکر بغض کو ایک کتاب فروش کے کردار کے زریعے سے دکھانے کی کوشش کی ہے- تو  عباس زیدی کا پاکستان کی کمرشل لبرل ایلیٹ کو فالو نہ کرنا بھی مجھے اچھا لگا- تو ایسے ہی دیگر اور محرکات کے میں نے ناول کے اردو ترجمے کا فیصلہ کیا

 

ایسٹرن ٹائمز نے عباس زیدی کو اپنے ناول بارے ایک وی لاگ ریکارڈ کرانے کی درخواست کی – جسے تھوڑے سے پس و پیش کے بعد انہوں نے قبول کرلیا- ان کا وی لاگ ہم یہاں اپ لوڈ کررہے ہیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here