نیوز ڈیسک : امریکی راز افشا کرنے والے ایڈورڈ سنوڈن نے کہا ہے کہ وہ دوہری امریکن- روسی شہریت کے لیے درخواست دے گا- سنوڈن امریکی قومی سلامتی کے ادارے میں ملازم تھے- اور انہوں نے امریکی سرکار کی طرف سے امریکی شہریوں کی جاسوسی کے پروگرام بارے افشاگری کی تھی- جس کے بعد وہ امریکہ سے روس جلے آئے تھے-

اپنے والدین سے بچھڑجانے کے بعد ہم میاں بیوی کی اپنے بیٹے سے بچھڑنے کی کوئی خواہش نہیں ہے- اسی وجہ سے ، وبا کے اس زمانے میں اور بند سرحدوں کے وقت میں ہم دوہری امریکی-روسی شہریت کے لیے درخواست دے رہے ہیں

 

یہ بات ایدورڈ سنوڈین نے ٹوئٹر پر کہی

امریکہ کے ادارہ برائے قومی سلامتی – این ایس اے کے سابق ملازم نے مزید کہا کہ وہ اور اس کی شریک حیات اپنے بچے کی پرورش امریکی اقدار کے مطابق کریں گے جن سے وہ بے حد پیار کرتے ہیں اور اس میں اپنی سوچ کے مطابق بولنے کی آزدی بھی شامل ہے

اور میں اس دن کا منتظر ہوں جب میں واپس امریکہ لوٹ پاؤں گا تاکہ سارا خاندان پھر سے اکٹھا ہوجائے

یہ بیان سنوڈن کی بیوی کی جانب سے اس اعلان کے بعد دیا گیا جب انہوں نے اعلان کیا کہ وہ امید سے ہیں- سنوڈن کی بیوی پیشس کے لحاظ سے ایکروبیٹ اور بلآگر ہیں- ان کا نام لنڈسے ملز ہے- ملز نے 2014ء میں امریکہ سے سکونت ترک کی تھی اور 2014 میں اکتوبر کے مہینے میں سنوڈن سے جا ملی تھیں- اور 2017ء میں دونوں کی شادی ہوگئی تھی-

ایڈورڈ سنوڈن 2013ء سے ماسکو میں رہ رہے ہیں- انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ امریکہ کا قومی سلامتی کا ادارہ این ایس اے لاکھوں امریکی شہریوں کے فون ٹیپ کررہا تھا اور انھوں نے اس بارے میں خفیہ دستاویزات کو بھی آن لائن کردیا تھا- اس انکشاف کے بعد وہ امریکہ سے فرار ہونے پر مجبور ہوگئے تھے- وہ سرکاری راز افشا کرنے کے الزام میں امریکہ کو مطلوب ہیں-

جب ایڈورڈ سنوڈن امریکہ سے ماسکو کے راستے کسی اور ملک جارہے تھے تو امریکی حکومت نے ان کا پاسپورٹ منسوخ کردیا تھا- انھوں نے روسی حکام سے سیاسی پناہ کی مانگ کی جو انھیں دے دی گئی- انھیں پہلے تین سالہ رہائش رکھنے کی اجازت کا پرمٹ دیا گیا تھا، جس کی مدت 3 سال تھی اور 2017ء میں اس کے اندر مزید تین سال کا اضافہ کیا جس کی مدت اس سال ختم ہورہی ہے-

سنوڈن کے انکشافات کے بعد امریکی کانگریس نے ایک بل پاس کرکے امریکی شہریوں کی جاسوسی کرکے ان کے بارے میں ڈیٹا کلیکشن کا اتنے بڑے پیمانے پر پروگرام بند کرنے کا حکم جاری کردیا-

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here