جیسے ہی پی ڈی ایم نے پیپلز پارٹی کی میزبانی میں تیس نومبر کو ملتان میں جلسہ عام کا اعلان کیا ہے سرائیکی تحریک سے وابستہ کچھ ناعاقبت اندیش سوشل میڈیا ایکٹویسٹ حضرات نے چائے کی پیالی میں ایک طوفان کھڑا کر دیا ہے کہ پیپلز پارٹی جلسہ عام میں لاکھوں کی تعداد میں سرائیکی اجرکیں تقسیم کرکے سرائیکی قوم کو دھوکہ دینے کی کوشش کررہی ہے ۔ حالانکہ سرائیکی اجرک کی تقسیم کا شوشہ بھی خود انہی کی صفوں میں سے چھوڑا گیا تھا ۔ پیپلز پارٹی کے ایک ذمہ دار عہدیدار کے طور پر میں واضح اعلان کرتا ہوں کہ پیپلز پارٹی کی طرف سے اس سلسلے میں نہ تو کوئی باضابطہ اعلان ہوا اور نہ ہی تاحال جلسہ کے سلسلے میں کوئی باقاعدہ تنظیمی مشاورتی اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں کوئی اس طرح کا لائحہ عمل مرتب ہو سکتا ہو ۔ محض مفروضہ کی بنیاد پر پیپلز پارٹی مخالف مہم چلانے کا مقصد یہ واضح کرتا تھا کہ چند سیاسی بونے اپنے قد کو بڑا کرنے کیلئے پیپلز پارٹی کو ہدفِ تنقید بنا رہے ۔ یا پھر اسے آبپارہ والوں کی اوچھی حرکت سمجھ کر ہم نے کسی بات کا جواب دینا مناسب نہ سمجھا ۔ مگر اس وقت مجھے شدید حیرت کا سامنا ہوا جب گذشتہ دنوں پاکستان سرائیکی پارٹی کی جینئس چیئر پرسن محترمہ ڈاکٹرنخبہ لنگاہ صاحبہ اور مرکزی صدر ملک اللہ نواز وینس نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کو آڑے ہاتھ لیتے ہوئے تقریباً وہی بے بنیاد الزامات دہرائے جو ان کی پارٹی کی نچلی سطح کے لوگ بغیر کسی سیاق و سباق کے تسلسل سے دہرائے چلے جا رہے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ

“پیپلز پارٹی وسیب کیلئے ” ن” لیگ سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔”

اس کے علاوہ ان کا دوسرا الزام یہ تھا کہ

“پیپلز پارٹی نے اپنے دور حکومت میں سینٹ آف پاکستان میں قومی زبانوں کے بل میں سے سرائیکی کو نکال دیا تھا۔”

اب باری باری دونوں الزامات کا جواب پیش خدمت ہے۔
حیرت ہے محترمہ ایک سیاسی جماعت کی لیڈر ہوتے ہوئے اتنا بھی نہیں جانتیں کہ کسی بھی قومی پارٹی کے لیڈر جب کسی علاقہ میں جاتے ہیں تو وہاں کی مقامی ثقافت سے جڑی کوئی ٹوپی، چادر یا پگڑی وغیرہ اسے پہنائی جاتی ہے ۔ یہ مقامی ثقافت سے محبت اور یکجہتی کا ایک علامتی اظہار ہوتا ہے ۔ اگر کوئی سرائیکی اجرک جلسہ کے قائدین کو پہنا بھی دیتا تو یہ سرائیکی عوام کو بے وقوف بنانے کی ہرگز کوشش نہ ہوتی بلکہ اسی روایت کا ہی ایک تسلسل ہوتا ۔ مگر لگتا ہے محترمہ کے مشیر اس اہم سیاسی نقطے کو سمجھنے سے قاصر رہے اور بغیر سوچے سمجھے محترمہ کو پریس کانفرنس میں گھسیٹ لائے ۔ حالانکہ بہت سارے ایسے موڑ آئے جب اس بات کی ضرورت محسوس کی جاتی رہی کہ پاکستان سرائیکی پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے کوئی موَقف سامنے آئے مگر ان کی طرف سے سکوت کا عالم ہوتا رہا ۔ لوگ اس موجودہ عُجلت کو کیا رنگ دیتے ہیں ؟ یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے ۔
اب چلتے ہیں پیپلز پارٹی کے سرائیکی صوبے کی ساتھ کی گئی زیادتیوں کی طرف ۔ 1993ء میں جب پاکستان پیپلز پارٹی برسر اقتدار آئی تو اس وقت سرائیکی وسیب کو پاکستان کے سب سے بڑے آئینی عہدوں یعنی صدر پاکستان اور سپیکر قومی اسمبلی سے سرفراز کیا اور اس کے ثمرات باقاعدہ محسوس کئے گئے۔ اسی طرح محترمہ کی یادہانی کیلئے یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ 2002ء میں پیپلز پارٹی نے چودھری اعتزاز احسن کو لاہور اور یزمان منڈی سے بیک وقت الیکشن لڑوایا اور وہ دونوں جگہوں سے جیت گئے ۔ اس وقت طارق بشیر چیمہ پیپلز پارٹی کے ضلعی ناظم کے طور پر کام کر رہا تھا اور اس کی خواہش تھی کہ پیپلز پارٹی چودھری اعتزاز کی یہ نشست چھوڑ دے تاکہ اس کا نامزد کردہ اُمیدوارضمنی الیکشن میں وہ سیٹ جائے مگر محترمہ بے نظیر شہیدنے چیمے کی مخالفت کے باوجود چودھری اعتزاز سے یہ نشست خالی کروا کر بیرسٹرتاج لنگاہ مرحوم کو دی اور انہیں اپنی پارٹی کا ٹکٹ دے کر میدان میں اتارا ۔ مقصد محض اتنا تھا کہ سرائیکی قیادت کی موَثر اور نمائندہ آوازقومی اسمبلی تک پہنچ سکے۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تاج لنگاہ مرحوم پیپلز پارٹی کی اس جیتی ہوئی نشست پر چند سو ووٹوں سے زیادہ نہ لے سکے اور اپنی ضمانت ضبط کروا بیٹھے ۔ اب چلتے ہیں 2008ء کے عام انتخابات کی طرف، جب پیپلز پارٹی نے سرائیکی وسیب کی جھولی میں وزارتِ عظمی کا تاج ڈال دیا اور پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ لوگوں نے یہاں ترقی ہوتی دیکھی اور شراکتِ اقتدار کو محسوس کیا ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو یہ اقتدار سرائیکی صوبے کے مینڈیٹ پر نہیں ملا تھا بلکہ اس کے پس منظر میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیاسی بصیرت، بے مثال جدوجہد اور عظیم شہادت تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے مکارانہ ہتھکنڈوں کے باوجود انہیں یہ اقتدار پیپلز پارٹی کو دینا پڑا اور تاریخ میں پہلی مرتبہ وزیر اعظم کی سطح پر قومی اسمبلی کے فلور پر سرائیکی ایشو کو ہائی لائیٹ کیا گیا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سرائیکی تحریک میں جان پڑ گئی اور تحریک کا مومینٹم روز بروز بڑھتا چلا گیا جسکے نتیجے میں پیپلز پارٹی نے سرائیکی صوبہ کمشن کا اعلان کیا اور اس کی تجاویز کی روشنی میں سینٹ سے دو تہائی اکثریت سے سرائیکی صوبے کے قیام کا بل پاس کروا لیا جو آج بھی اپنی آئینی حیثیت میں قائم ہے ۔ اس دوران یوسف رضا گیلانی ، محترم تاج لنگاہ کے ساتھ بطور سرائیکی لیڈر مسلسل رابطہ میں رہے ۔ انہیں کابینہ کے اجلاس میں بھی ساتھ لے جاتے اور ایک ہفتہ تک وزیر اعظم ہاوَس میں بطورسرکاری مہمان اپنے ہاں رکھتے ہوئے دن رات مشاورت کا عمل جاری رکھا ۔ چونکہ پیپلز پارٹی کے پاس قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں مطلوبہ دو تہائی اکثریت نہیں تھی اور اسٹیبلشنٹ کا ہرگز موڈ نہیں تھا کہ پیپلز پارٹی سرائیکی صوبے کے ایشو پر مزید پیش رفت کرے ۔ بالآخر حتمی وارننگ کے طور پر یوسف رضا گیلانی کو وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑ گئے ۔ اس کے باوجود پیپلز پارٹی نے باقاعدہ اعلان کردیا کہ کہ ہم اگلا الیکشن سرائیکی صوبے کے نام پر لڑیں گے ۔ اور تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی قومی سیاسی جماعت نے سرائیکی صوبے کو اپنے منشور کا حصہ بنایا مگر اس کا صلہ یہ ملا کہ سرائیکی خطے سے پیپلز پارٹی کو شکست سے دوچار کرکے سرائیکی صوبہ کی کھلی دشمن ن لیگ کو الیکشن جتوا دیا گیا جس نے اسٹیبلشمنٹ سے کئے گئے وعدہ کے تحت سرائیکی صوبہ ایشو کو سبوتاژ کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی سے دو صوبوں کو بل پاس کروا کر سرائیکی صوبہ ایشو کو اپنی طرف سے دفن کر دیا ۔
اسی طرح جب جون 2017 ء میں سینٹ میں قومی زبانوں کا بل پیش کیا گیا تو بڑی بحث کے بعد سات قومی زبانوں کے بل کو چار قومی زبانوں کے بل میں تبدیل کیا گیا چونکہ سرائیکی اس وقت تک کسی صوبے کی زبان نہیں تھی اسی طرح باقی زبانوں کا معاملہ بھی تھا تو طے یہ پایا کہ علاقائی زبانوں (بشمول سرائیکی) کی ترویج کیلئے پیش کیا جانے والا سات زبانوں کے بل پر اس وقت تک اتفاق رائے ممکن نہیں جب تک سرائیکی صوبے کے قیام کی آئینی ترمیم منظور نہیں ہو جاتی ہے ۔ لہذا طے یہ پایا کہ اس وقت جو چار صوبائی اکائیاں موجود ہیں انہی کی زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دیا جائے ۔ اور ساتھ ہی مخدوم ہوسف رضا گیلانی اور مخدوم احمد محمود کو ٹاسک دے دیا گیا کہ وہ سرائیکی صوبہ کیلئے ہوم ورک شروع کر دیں۔ اس پر بھی نام نہاد سرائیکی دانشوروں نے پیپلز پارٹی کے خلاف خوب طوفان کھڑا کر دیا اور جتنا ہو سکتا تھا پیپلز پارٹی کے ساتھ اپنے بغض کا اظہار کیا ۔ اس کے بعد 2018 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی بھی مجبور ہوئی کہ سرائیکی صوبے کو اپنے منشور کا حصہ بنائے ۔ اس مقصد کیلئے اسٹیبلشمنٹ نے انہیں “جنوبی پنجاب صوبہ محاذ ” ڈیزائن کرکے دیا اور پہلے سو دنوں میں صوبہ بنانے کے وعدے پر جب انہوں نے یہاں سے واضح اکثریت حاصل کر لی۔ سو دنوں میں صوبہ تو وہ کیا بناتے، اُلٹا انہوں نے دو سال صوبے کا لولی پاپ دینے کے بعد دو صوبائی سیکریٹریٹ (بہاول پور اور ملتان) بنانے کا اعلان کرکے سرائیکی قوم کو باقاعدہ تقسیم کرنے کی ایک گھناوَنی سازش کا سنگ بنیاد رکھ دیا ۔ مگر اس سازش پر پاکستان سرائیکی پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے کسی قسم کی احتجاجی تحریک چلانے کی بجائے کسی سیاسی جماعت کو سرائیکی دشمن گردانا بھی تو ہمیشہ سرائیکی تحریک کا دم بھرنے والے پیپلز پارٹی کو گردانا۔!
اب اس سارے معاملے کا فیصلہ میں قارئین پر چھوڑتا ہوں کہ پیپلز پارٹی نے کہاں اور کب سرائیکی دشمنی کا مظاہرہ کیا؟ پیپلز پارٹی میں مجھے سمیت لاکھوں کی تعداد میں ایسے لوگ شامل ہیں جو پارٹی میں رہتے ہوئے سرائیکی تحریک کو دامے ، درمے ، سخنے اور قدمے سپورٹ کرتے رہتے ہیں ۔ سرائیکی پارٹیوں کی طرف سے دی گئی ہر کال پر لبیک کہتے ہیں اور میں نے خود اور میرے خاندان نے زندگی بھر سرائیکی تحریک کو عملی طور پر سپورٹ کیا ۔ روزنامہ’’ آفتاب‘‘ کی ایڈیٹوریل ٹیم میں شامل ہو کر سرائیکی ایڈیشن ’’لوک رنگ‘‘ کی بنیاد رکھتے ہوئے سرائیکی تحریک کی فکری، ثقافتی،ادبی اور سیاسی آبیاری کا اہتما م کیا جس کے ہاتھوں سرائیکی مخالف قوتیں زچ ہونے لگیں ۔ اسی طرح اپنے والد گرامی قدر حضرت علامہ رحمت اللہ طارق کی شہکار تصنیف ’’انسانیت پہچان کی دہلیز پر ‘‘ کو سرائیکی صوبہ کا مقدمہ بنا کر پیش کیا جس نے سرائیکی مخالف قوتوں کو مسکت جواب دیا اور سرائیکی تحریک کے خلاف مذموم پروپیگنڈہ کا علمی جواب پا کر ان کے منہ بند ہوئے اور سرائیکی تحریک پر غداری اور ملک دشمن ہونے کے الزامات کی شدت میں خاطر خواہ کمی آئی ۔ محترمہ نخبہ بی بی یہ جواب آپ کی جماعت کی طرف سے آنا چاہیے تھا ۔ مگر وہاں سے تو ایسا کچھ برآمد نہ ہوا ۔ جناب اکبر انصاری اور محترم ممتاز خان ڈاہر کے چند مزاہمتی مضامین کے آپ کی جماعت کے کریڈٹ میں سوائے الزام تراشی کے اور ہے ہی کیا؟
میں توقع کر رہا تھا کہ اس وقت پاکستان میں جمہوریت کی بقا اور سول سپرمیسی کی بحالی کی جو فیصلہ کن جنگ’’ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ‘‘کے نام سے جاری ہے آپ کی پارٹی اس جنگ کا حصہ بن کر پاکستان کی بالا دست قوتوں کے خلاف اپنا عملی حصہ ڈالتے ہوئے مظلوم اور استحصال کا شکار قوموں کی نمائندگی کریں گی، مگر آپ نے تو’’ پی ڈی ایم‘‘ کے جلسہ کے خلاف آواز اٹھا کر ثابت کر دیا کہ آپ کن قوتوں کے ساتھ کھڑی ہیں ۔ دعا گو ہوں کہ آپ کو صائب مشاورت نصیب ہو اور آپ سرائیکی پارٹی خطے میں ایک بامقصد کردار ادا کر سکیں اور آپ کو احمد نواز سومرا جیسے فعال کارکن میسر آئیں جنہوں نے عمر بھر اس تحریک کی آبیاری کی ہے اور آج آپ کی پالیسیوں کی وجہ سے گھر بیٹھنے پر مجبورہیں ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here