خوابوں سے بھرا کوڑادان-مدثر عباس کی نثری نظموں کا مجموعہ

مجھے نہیں پتا کہ اردو میں “نثری نظم” کی صنف میں کربلا سے جڑے مرثیہ کہنے کی روایت ہے یا نہیں- نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ اردو کی نثری نظم میں کتنے لوگوں نے مرثیہ کہنے کی کوشش کی ہے- لیکن میں نے مربوط انداز میں پہلی بار اسے مدثر عباس کے دیکھا ہے- ان کی نثری نظموں کی کتاب “خوابوں سے بھرا کوڑادان” نومبر 2020ء میں نیوز لائن اشاعت گھر لاہور سے شایع ہوئی ہے- اس میں تین ایسی نظمیں شامل ہیں جن کو رثائی نثری نظمیں کہہ سکتے ہیں- میں نے ان کی اس کتاب پر ایک ریویو لکھا ہے جو مندرجہ ذیل لنک پر پڑھا جاسکتا ہے- لیکن ان تین رثائی نظموں کو میں نے الگ سے رکھ لیا تھا- اور چاہتا تھا کہ ان پر الگ سے بات کروں-

مجھے عہد نامہ عتیق میں مقدس نبی یرمیاہ کے مرثیے پڑھنے ہمیشہ سے مرغوب رہے ہیں اور خاص طور پر میں ان کا صہیون پر لکھا مرثیہ تو ہمیشہ ہمیشہ پڑھا ہے- یرمیاہ/ارمیاہ نبی مقدس کے مرثیے کی یہ لائن دیکھیں

Oh, that my head were a spring of water,
and my eyes a fountain of tears!
I would weep day and night over the slain daughter of my people.

اوہ، میرا دماغ چشمہ آب تھا
اور میری آنکھیں آنسوؤں کی پھوار ہیں
میں اپنے لوگوں کی مذبوح بیٹی(یروشلم) پر دن رات آنسو بہایا کرتا ہوں

اسی طرح کا ڈکشن مجھے مدثر کی اردو میں لکھی نثری رسائی نظموں کا نظر آتا ہے۔

اردو ادب میں ایک عرصے تک “نثری نظم” کا جب بھی ذکر مقصود ہوتا تو ذکر کرنے والوں کا رویہ خودبخود “معذرت خواہانہ” ہوجاتا تھا یا وہ مغرب میں اس صنف کے مقبول ہونے کا ذکر کرکے اپنے پیشگی خوف کا اظہار کردیا جاتا اور نثری نظم کے جانی دشمن ناقدین کے قہر سے بچنے کی کوشش ہوتی تھی- لیکن نوجوان شاعروں نے اس طرح کے رویوں سرے سے اپنانے سے انکار کیا ہے اور بہت سے نوجوان ہیں جنھوں نے “نثری نظم” میں وہ بات کہی ہے، جو پابند نظم میں کہنے کی جگہ ہی نہیں بن رہی تھی- بلکہ میں تو یہ کہوں گا جتنے موضوع آج “سنسر” کے نشانے پر ہیں، ان کے لیے سب سے زیادہ موضوع “نثری نظم” کا جوف راس آتا ہے- اور نثری نظم کو سینکڑوں باغی ذہنوں کے درمیان مقبولیت مل رہی ہے، کیونکہ یہ نظم ان کا کیتھارسس کرتی ہے-

میں نے جب مدثر عباس کی تین رثائی نثری نظموں کو پڑھ لیا تو مجھے یوں لگا کہ کلاسیکی مرثیے کی روایت کی پابندی میں جو بات رثائی نثری نظموں میں کہی گئی ہے کہنا اگر محال نہیں تو مشکل ترین ہوگا-

مدثر کی نظموں کی کتاب کا صفحہ 71 ہے اور نثری نظم کا عنوان ہے

مرثیہ: آباد بستی سے گزرتا ہوا جلوس

اگر آپ کو یہ جاننے میں دلچسپی ہوکہ مسلمانوں کے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نواسہ حسین ابن علی اپنے خاندان اور حامیوں کے قافلے کو لیکر کس راستے سے کربلا پہنچا تھا تو میں آپ کو مشورہ دوں گا،صادق نجمی کی کتاب “حسین ابن علی کا سفر مدینہ تا کربلا” ضرور پڑھیں- مدثر عباس نے اپنی رثائی نثری نظم کے عنوان کے آغاز میں “آباد بستی” کی ترکیب استعمال کرکے معانی کا جہان آباد کردیا ہے- مقتل خوارزمی اورمقتل عوالم میں حسین ابن علی کے قبر رسول پر کہا ہوا یہ شکوہ درج ہے

السلام علیک یارسول اللہ انا الحسین بن الفاطمۃ فرخک و ابن فرختک و سبطک الذی خلقتنی في امتک فاشھد یانبی اللہ انھو خذلونی و لم یحفظونی و ہذہ شکوای الیک حتی القاک

یارسول اللہ! آپ پہ سلام ہو، میں حسین ابن فاطمہ میں آپ کا جگر گوشہ اور آپ کی جگر گوشہ کا بیٹا اور آپ کا نواسہ ہوں جسے آپ نے اپنی امت میں پیچھے چھوڑا تھا تو اے نبی اللہ، آپ گواہ ہوجائیں انھوں نے مجھے چھوڑ دیا ہے اور میری حفاظت بھی نہیں کی تو میں یہ شکوہ آپ کے حضور بیان کررہا ہوں یہاں تک کہ آپ سے ملاقات کا وقت آن پہنچے-

 

تو جناب حسین ابن علی کے قافلے کا جہاں سے سفر شروع ہوا وہ مسلمانوں کا سب سے بڑا مقدس اور سب سے زیادہ آباد بستی تھی، جسے سب مدینۃ النبی (نبی کا شہر) کے نام سے جانتے ہیں- اور یہہ بستی سب سے زیادہ خانوادہ نبوت سے واقف و شناسا تھی اور اس آشنا و شناسا آباد بستی کے لوگوں نے نواسہ رسول کو یہ کہنے پر مجبور کردیا کہ “انھوں نے مجھے چھوڑ دیا اور میری حفاظت نہ کی”- مدثر عباس کا یہ مرثیہ ان مصرعوں سے شروع ہوتا ہے

ایک قافلہ سالار بڑھ رہا ہے
چھے ماہ کے بچے کو پہلو
میں لیکر اس سرزمین کی
طرف جہاں بچوں کا تیروں
سے شکار کیا جاتا ہے

اس نظم کی یہ لائنیں دیکھیں

بچوں کو اپنے سینے پر سلانے والے باپ کی لاش
گھوڑوں کی ٹاپوں سے تب تک روندی نہ جائیں
جب تک بچے کسی دوسرے مانوس سینے پر سونا نہ سیکھ لیں

چلنا سکھاتا جارہا ہے
ایک باپ اپنی چار سالہ بیٹی کو
جس کے پیر کے تلوے دیکھ کر
ماہرین تاریخ
کربلا سے شام تک
سفر کو ماپ لیں گے

چار سال کی بیٹی اب کیسے
اپنے باپ کے گلے پہ رکھے
خنجر کو ہٹائے؟
راوی اس سوال کو نظر انداز کرتا ہے
اور قتل ہوتے ہوئے باپ کے
چہرے کی طرف بڑھ جاتا ہے

دیکھ رہیں کہ آپ شاعر کو اس قصّے میں حسین ابن علی کے آباد بستی سے گزرتے ہوئے سفرکو لیکر کن چیزوں سے دلچسپی ہے- کسی مرثیہ گو اور کسی نوحہ گر کا دھیان ان چیزوں کی طرف نہیں گیا(کم از کم میری نظر سے نہیں گزرا—– تیروں سے بچوں کا شکار کرنے والی سرزمین، بچوں کو کسی اور سینے سے مانوس ہونے تک باپ کی لاش کو گھوڑے کی ٹاپوں سے نہ روندنے کا مشورہ اور ایسے ہی ہمارے شاعر کی نظر حسین ابن علی کی بیٹی کی پریشانی کی طرف ہے جسے یہ فکر کھائے جاتی ہے کہ باپ کے گلو پر رکھے خنجر کو کیسے ہٹائے، جس سے کم از کم اس واقعے کے راوی اور اس راوی سے اس منظر کو روایت کرنے والے مورخ کو دلچسپی نظر نہیں آتی- ہم بہن کا بھائی کے ساتھ کربلا تک کا سفر اور پھر بھائی کے بنا شام تک کے سفر بارے سنتے پڑھتے ہیں اور نثر اور شاعری دونوں ہمارے سامنے ہیں- وہ ایسی سرزمین کی طرف حسین ابن علی کے ساتھ ہم سفر ہیں جہاں ہم سب جانتے ہیں کہ ان پر تیر برسائے گئے- لیکن شاعر برستے تیروں کے دوران ایک اور منظر بھی ہمارے سامنے لیکر آتا ہے کہ مائیں اپنے بیٹوں، بہنیں اپنے بھائیوں اور بیٹیاں اپنے باپ کا نام

اپنے خون آلود دوپٹے سے
ادھیڑ کر دور پھینک دیتی ہیں

اور جب معرکہ کرب و بلا اپنے انجام کو پہنچتا ہے تو وہاں قافلے میں شامل مائیں، بہنیں اور بیٹیاں مل جل کر بھی

لاشوں کو گن نہیں پاتیں
زبان کے ماہرین نہیں جان پائے
ان عورتوں کو
کس نام سے یاد کیا جاتا ہے
جن کا بیٹا قتل کردیا گیا ہو

رثائی ادب میں یہ سوال پہلی بار ہمارے کان سن رہے اور ہماری آنکھیں ان سے دوچار ہورہی ہیں- اور اس سے آگے شاعر کہتا ہے

کیسٹ کی ایک سائیڈ پر
تکبیروں کی اونچی آواز
دوسری سائیڈ پر
گھوڑوں کی ہنہناہٹ
مکّہ والے
خاموشی سے سنتے ہیں
تکبیروں کی آواز اتنی اونچی ہے
کہ سہمے ہوئے بچوں کی سسکیاں
بچوں کو سینے سے لگائے
ماؤں کے کانوں تک پہنچ نہیں پارہیں

یہ کون خدا کے گھر میں
تلواریں اگا رہا ہے کہ
اس کی ہر شاخ حسین کی طرف بڑھ رہی ہے
گھوڑوں کی ٹاپوں
بچوں کی سسکیوں نے
گلیوں کو کاٹ کر
شہر کے اوپر ایک طوفان بنادیا ہے
جس کے دوسری طرف کے ابابیل
کسی کو دکھائی نہیں دیتے

قافلے کو دور سے دیکھنے والے
فورا بتادیں گے
خواتین کے آگے
کون چلتا ہے
اگرچہ عاشور کے بعد
خواتین کو
اپنے قافلے کی سربراہی پر
نظر ثانی کرنے کی ضرورت پڑنے والی تھی

نظم قافلے سالار کی نگرانی میں قافلے کے سفر کے بارے میں ہماری معلومات میں اضافے کرتا ہوا، کہیں، کہیں اس قافلے سالار کے بے سر تن کی آخری منزل پر پیش آئے کچھ مناظر کو پیش کرتا ہے لیکن ساتھ ساتھ کچھ ایسی لائنیں بھی کہتا ہے جو ہمارے شعور المیہ عاشور میں نئے اضافے ہیں
وہ ہمیں دوسرے مرثیہ گو شاعروں کی طرح یہ بتاتا ہے کہ علی اکبر اس سرزمین کی طرف بڑھ رہا ہے،جہاں نوجوانوں کے سینے گھوڑوں تلے روندے جاتے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ ہمیں ایک ایسی حقیقت بھی بتاتا ہے جو اس سے پہلے شاعروں نے نہیں بتائی ہوتی اور وہ کہتا ہے کہ سرزمین کربلا ایسی ہے جہاں نوجوانوں کے بدن گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روندے جاتے ہیں

یہ معلوم کیے بغیر کہ
نوجوانوں کے سینے پر
ماؤں نے آخری تازہ بوسہ کب دیا؟

ہمیں دیگر رثائی شعروں کی طرح یہاں بھی یہ پڑھنے کو ملتا ہے کہ علی اکبر شبیہ پیمبر رجز پڑھتے ہیں اور دوہراتے ہیں اور رجز سن کر بوڑھا باپ زندگی کی دعا کرتا ہے لیکن آگے کے مصرعے ہمیں اس طرف لے جاتے ہیں جس طرف شاید پہلوں کا دھیان نہیں گیا تھا

مگر پرچھیاں کہاں
مجبور باپ کی
دعاؤں کو پورا ہونے دیتی ہیں

بڑھتی چلی جارہی ہے زینب
ایک صحرا کی طرف
جہاں پہنچ کر
بہنوں کو اندازہ ہونے والا ہے
کہ کیوں کر وہ “بھائی” کا لفظ
چاہتے ہوئے بھی
اپنی ڈکشنری میں سنبھال کر رکھ نہیں سکیں گی

بیٹا، بھائی اور ماں جیسے
سانس لیتے، جیتے جاگتے لفظ
پہلے ہی آتش زدہ خیموں کے اندر
دم گھٹنے سے مرگئے ہوں گے

ہم بڑھتے چلے جارہے ہیں
آنسوؤں کی ایسی فصل کی جانب
جو فصل
سرزمین کربلا پر گرنے والے
ہر خون کے قطرے کے ساتھ
کٹ کٹ کر گرے گی
گھوڑوں کی ٹاپ سے لگی
جسموں کی باقیات کو ہی دیکھ کر
انسان ماتم کرنا سیکھے گا
اور
صدمے کی موت مرنے کا گر
سیکھ جائے گا

یعنی آباد بستی سے گزرنے والے قافلے کا سفر کتنے امکانات اپنے اندر پوشیدہ رکھے ہوئے تھا اور کتنی باتیں جو اس نظم میں امکان کے راستے سے وقوع پذیر ہوتے ہم دیکھ پاتے ہیں-

مدثر عباس کے دوسرے مرثیے کا عنوان”پزل باکس میں قید دلہا” ہے- کربلا میں جنگ کے دنوں میں قاسم کی شادی کے ایام بارے ہم نے بہت سے منظوم قصّے پڑھے ہیں اور کئی سوالات کا سامنا ہوتے بھی دیکھا- لیکن ہمیں شاعر ایک نئی جہت سے متعارف کراتا ہے اور المناکی کو اور المناک بنا ڈالتا ہے- شاعر بتاتا ہے کہ حسین ابن علی کے ہاں ان دنوں میں سب سے اہم سوال کیا تھا؟

مہندی والے ہاتھوں میں تلوار کا دستہ
نئی پوشاک پہ کربلا کی ریت
وہ ریت جو قاسم کی لاش کے ساتھ
مل کر
کسی بھی ہستی سے زیادہ
حد سماعت و بصارت کے حامل حسین ابن علی کو
تذبذب میں ڈال دے گی کہ
گوشت کے ٹکڑوں اور ریت کو
کس ترتیب سے جوڑا جائے
ایسے کہ قاسم کا جسم مکمل ہوجائے

ام فروہ جلد مایوس ہوگی
جب گھوڑوں کی ٹاپوں پہ لگا
قاسم کا گوشت
عباس و اکبر کے سینوں پہ
اگے گوشت سے مل کر ایک ہوجائے گا

ام فروہ
قاسم کے ٹکڑوں کو جوڑنے کی کوشش ترک نہیں کرنے والی
وہ ترتیب خاص میں ان کو جوڑے گی
زندان شام میں بھی یہی مصروفیت رکھے گی
مگر
قاسم کا جسم نہیں بن پائے گا

ام فروہ
مدینہ لوٹے گی اور عباس کی ماں سے ملے گی
عباس کی ماں
قاسم کی ماں
ٹکڑوں میں بٹ گئے جسموں کو
ترتیب خاص میں پھر سے جوڑنے کے پزل کو
حل کرنے کی کوشش کریں گی
دونوں ایک دوجے کی مدد کریں گی
دونوں ناکام ہوں گی تو
زینب کی آواز آئے گی
“قاسم کا بکھرا ہوا جسم پزل ہے
جس کا حل صرف عباس کے پاس تھا”
عباس کے ہاتھ کٹ گئے
پزل تک پہنچنے سے رہ گئے
ام فروہ! تم سے اب یہ کیسے حل ہوگا
ام فروہ ایک جنون میں
پزل حل کرنے میں مگن رہے گی
قاسم اپنی ماں کے ہاتھوں پہ آنے کا منتظرہوگا
جبکہ جسین اپنے جسم کے زخموں کو گننے کی بجائے
یہ دیکھتے ہوں
کہ آیا کسی قاتل کے ہاتھوں سے
ان پر پھینکی جانے والی ریت میں
قاسم کی لاش کا کوئی حصّہ تو نہیں ملا؟
حسین نہیں چاہيں گے
ان کے جسم کے کسی زخم میں
قاسم کے کسی حصّے کی
قبر بن جائے

مدثر عباس کی کتاب “خوابوں سے بھرا کوڑا ڈان” میں تیسری رثائی نثری نظم کا عنوان”گھوڑوں کا بھیانک خواب” ہے- یہ نظم شام غریباں کے وقت سے شروع ہوتی ہے اور ایک جانے پہچانے منظر کو دیکھتے دیکھتے جب ان مصرعوں تک پہنچتے ہیں

کربلا کی کھدائی نہیں کی گئی
کہ ماؤں،بہنوں اور بچوں کی سسکیوں کو نکال کر
الگ الگ کرکے میوزیم میں رکھا جائے
اور
عالمی عدالت میں درخواست دائر کی جائے
کہ جب بچے ماؤں سے بچھڑ کر
کربلا کی ریت اور سربریدہ لاشوں سے ٹکرارہے تھے
تو کسی پناہ گزین کیمپ کا بندوبست
کیوں نہیں کیا گیا؟
بڑے جج صاحب کہیں گے
کہ پناہ گزین خیموں میں
زخمی گھوڑوں کو مرہم لگایا جارہا تھا
The Court is Adjourned

زینب کے بال
عاشور کی رات سے زیادہ
سیاہ تھے
اتنی سیاہی کہ نیزے اور تیر چلانے والے سپاہی
غلط نشانہ لگاتے رہے
زینب بھی ان نشانوں کو غلط مان لیتی
اگر وہ تیر خطا ہوکر سجاد کی کمر
یا گم ہوتے بچون کی ایڑیوں میں نہ لگتے

مجھے مدثر کی تینوں رثائی نثری نظموں کا ڈکشن (یعنی اس میں استعمال ہوئے الفاظ اور ان کی ترتیب سے سامنے آنے والے معانی) اردو ادب کی رثائیہ شاعری کی کلاسیکی روایت سے الگ لگتا ہے اور یہ کہیں نہ کہیں ہمیں آج سے بھی جوڑتا ہے- مجھے امید ہے کہ مدثر کے ہاں سانحہ کربلا اور اس سے جڑے واقعات کے لیے الگ ڈکشن میں اور نظمیں پڑھنے کو ملیں گی-

 

مدثر عباس راولپنڈی کے ایک گاؤں میں 1992ء پیدا ہوئے اور انھوں نے فارسی ادبیات میں ماسٹرز کیا ہوا ہے-ان کو عربی، اردو، پنجابی، فارسی پر دسپرس حاصل ہے اور ان کی نظموں کا مجموعہ حال ہی میں “خوابوں سے بھرا کوڑا دان” نیوز لائن اشاعت گھر سے شایع ہوا ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here