خود نوشت سوانح

ناظم حکمت

میں 1902 میں پیدا ہوا
پھر کبھی اپنی جائے پیدائش پر جا نہیں سکا
مجھے پیچھے مڑ کر دیکھنا اچھا نہیں لگتا
تین بر س کی عمر تھی جب میں حلب میں ایک پاشا کے پوتے کے طور پر پل رہا تھا
انیس برس کی عمر تھی جب میں ماسکو کمیونسٹ یونیورسٹی کا طالب علم تھا
انچاس برس کی عمر میں،ماسکو میں دوبارہ
چیکو پارٹی کا مہمان تھا
چودہ برس کا تھا جب شاعری کرنے لگا
کچھ لوگ پودوں ، کچھ مچھلیوں کے بارے سب جانتے ہیں
میں جدائی کے بارے میں جانتا ہوں
کچھ لوگوں کو ہوتے ہیں سب سیاروں کے نام یاد
میں غیرحاضریوں کی تلاوت کرتا ہوں
قید خانے ہوں یا بڑے ہوٹل ،سب جگہ میں نے شب بسری کی ہے
میں نے بھوک دیکھی اور بھوک ہڑتال کی ہے
اور دنیا کی ہر خوراک چکھی ہے
تیس برس کی عمر میں وہ مجھے پھانسی چڑھانا چہتے تھے
اڑتالیس ویں برس وہ مجھے امن کا نوبل انعام دینا چاہتے تھے
جو انہوں نے دے بھی دیا
چھتیس ویں برس میں، میں نے چار مربع کنکریٹ آدھے سال میں لیپ پوت کی
انچاس ویں برس میں کیا پراگ کا سفر
ہوانا سے لگے اس میں اٹھارہ گھنٹے
میں کبھی لینن سے نہیں ملا
مگر سن 24 میں ، اس کے تابوت کے سامنے کھڑا تھا
سن 61ء میں میں نے اس کا مقبرہ دیکھا
جس کا اس کی کتابوں میں ذکر تھا
انھوں نے مجھے پارٹی سے الگ کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے
نہ ہی میں گرتی مورتیوں کے تلے کچلا گیا
سن 51ء میںایک جوان ساتھی کے ہمراہ
میں نے بادبانی کشتی میں موت کے منہ میں سفر کیا
سن باون میں،میں نے چار سال کمر کے بل لیٹے گزارے تھے
شکستہ دل کے ساتھ،موت کا انتظار کرتے ہوئے
جن عورتوں سے مجھے عشق تھا ان سے حسد کیا
چارلی چپلن پہ مجھے کبھی رشک نہ ہوا
اپنی عورتوں سے میں دغابازی کی
اپنے دوستوں کی پیٹھ پیچھے برائی نہ کی
شراب پی مگر روازانہ نہیں
اپنی روٹی کے لیے رقم ایمانداری سے کمائی
اور بہت خوش رہا
دوسروں کی شرمندگی سے بچانے کے لیے جھوٹ بولا
کسی دوسرے کو دکھ نہ پہنچے اس سبب جھوٹ بولا
کئی بار بے سبب بھی جھوٹ بولا
میں نے ریل گاڑیوں، ہوائی جہازوں اور کاروں میں سفر کیا
بہت سارے لوگوں کو ایسا اتفاق نہیں ہوا ہوگا
میں اوپیرا گیا
بہت سے لوگوں نے اس بارے سنا بھی نہیں ہوگا
سن 21ء سے میں نے ان جگہوں پہ قدم بھی نہیں رکھا
جہاں زیادہ تر لوگ جاتے ہیں
مسجد، گرجا گھر، مندر،صومعے اور جادوگھر
لیکن کافی کی تلچھٹ پڑھ کر میری قسمت کا حال بتادیا گیا ہے
میری تحریریں دنیا کی تیس چالیس زبانوں میں شایع ہوچکی ہیں
میرے وطن ترکی میں، ترکش زبان میں ان پر پابندی ہے
سرطان نے مجھے ابھی آن پکڑا نہیں ہے
کچھ کہہ نہیں سکتے کہ ایسا ہوگا
میں کبھی وزیراعظم کی طرح کی کوئی چیز بن نہیں پاؤں گا
مجھے ایسی زندگی کی خواہش ہوگی بھی نہيں
نہ میں جنگ میں کبھی شامل ہوا ہوں
نہ بموں کے ڈر سے آدھی رات کو پناہ گاہوں میں جاکر چھپا ہوں
نہ ہی غوطے لگاتے جہازوں کے خوف سے سڑکوں پہ نکلا ہوں
لیکن 60 برس کی عمر میں مجھے عشق ہوگیا ہے
قصہ مختصر، کامریڈز
حالانکہ آج برلن میں، اپنے رنج و الم سے مرنے کے قریب ہوں
میں یقین سے کہہ سکتا ہوں
ایک ذی بشر کی زندگی جیا ہوں
اور بھلا کسے خبر ہے
کتنی دیر اور زندہ رہوں گا
اور کیا میرے ساتھ بیتے گا

ترجمہ :فاروق حسن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ نظم کی صورت خودنوشت مشرقی برلن میں 11ستمبر 1961ء میں لکھی گئی تھی-

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here