صوفی تاج محمد خان گوپانگ

 

 

شمیم عارف قریشی سیاہ چشمہ پہنے ہوئے
حیدرعباس گردیزی کی ایک پروگرام میں تقریر کرتے ہوئے یادگار تصویر

ابھی ہم حیدر عباس گردیزی کے گزرجانے کا غم سینے میں تازہ کیے بیٹھے تھے کہ تاج محمد گوپانگ کے گزرجانے کی خبر آگئی اور ہم اب ان دونوں کا غم منانے بیٹھ گئے ہیں- سچ پوچھیں تو مجھے اب تک شمیم عارف قریشی کے گزرجانے کا یقین نہیں آتا- سوچتا ہوں کہ کیا ہمارا وسیب ایسے عوامی دانش کے پہاڑوں کا پھر سے نظارہ کرپائے گا؟ وہ عوامی دانش ور جنھوں نے ہمیشہ عوام کے حقوق کی لڑائی کی اور کبھی کسی لالچ کو قریب نہ آنے دیا-

سرائیکی دھرتی جب سے بندوبست پنجاب میں شامل ہوئی ہے تب سے نوآبادیاتی ذہنیت سے گابھن ہوئے نسل پرستی کے چہرے اس دھرتی کی عکاسی “جاگیردار” کے بدنما چہروں سے کرتے آئے ہیں- اگرچہ پنجابی عوامی دانش کی ترجمانی کرنے والے کئی ایک آوازوں نے ہمیشہ اس نسل پرستانہ عکاسی سے ہٹ کر بھی بات کی- اور کیا عجب بات ہے کہ پنجابی عوامی دانش کی یہ آوازیں بھی بھٹو خاندان کے عشق میں گم ہیں-

پاکستان میں یک طرفہ نام نہاد ترقیاتی منصوبوں کے نتییجے میں ناہموار ترقی کے نمونے چند بڑے شہروں میں جعلی طریقوں سے وجود میں آنے والی سرکاری آئیڈیالوجی کے زیر اثر مڈل کلاس کے بقراط ہمیشہ دھرتی سے پھوٹنے والی دانش کی تحقیر کرتے آئے ہیں- ان کو اس دھرتی کے بس دیہہ خدا ہی یاد رہتے ہیں- اور وہ کبھی اس دھرتی کی کوکھ سے جنم لینے والے عوامی دانش کے زیور سے آراستہ چہروں کو مرکزی دھارے کے بیان میں آنے ہی نہیں دیتے- کیونکہ مرکزی دھارے کی عکاسی کرنے والے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر ان کا ہی قبضہ رہا ہے- درمیانے شہری تعلیم یافتہ طبقے کے یہ بقراطی دانشور دائیں اور بائیں دونوں جانب قابض ہیں اور دونوں قطب میں یہ دھرتی کی کوکھ سے جنم لینے والے عوامی دانشوروں کو جگہ بنانے ہی نہیں دیتے- اسی لیے چند دن پہلے میں نے جب اپنی فیس بک حیدرعباس گردیزی کے گزرنے پر ماتم کیا تو کئی ایک لوگوں نے پوچھا،”یہ کون تھے؟” اور آج جب میں صوفی تاج محمد گوپانگ کے گزرجانے پر تعزیت نامہ پوسٹ کرنے لگا تو مجھے بے اختیار خیال آگیا کہ کہیں لوگ پھر نہ پوچھنے لگ پڑیں کہ یہ کون تھا؟

اگر میں اپنی آسانی کے لیے یہ کہوں شمیم عارف قریشی، حیدرعباس گردیزی اور تاج محمد گوپانگ ہمارے سرائیکی خطے کے وہ عوامی سیاسی دانشور کارکن تھے جنھوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں سیاسی شعور کی منزلیں چڑھنا شروع کیں تھیں- اور اس زمانے میں سرائیکی خطے میں عوامی سیاست کا سب سے بڑا استعارہ سید محمد قسور گردیزی تھے اور یہ تینوں ساتھی کسی نہ کسی حوالے سے عوامی سیاست کے اسی گرو کے ساتھ کھڑے تھے- اور پھر ان تینوں کے عشق “بھٹوخاندان” سے ہوگئے تھے- اور ان کی وسیبی دانش ان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس خطے کے عوام کے ساتھ جوڑ گئی تھی-

سندھیوں کے بعد بھٹو کی پھانسی سے ذوالفقار علی بھٹو پاکستانی سیاست کے دیومالائی کردار کے طور پر اگر کسی کے ہاں سب سے زیادہ پوجے گئے تو وہ سرائیکی خطہ کے عام عوام تھے- اور اس مقامی آدمی کی محبت اور وارفتہ پن کی عکاسی سرائیکی خطے کے سرائیکی شاعروں اور ادیبوں نے سب سے زیادہ کی- اگر پنجابی شاعروں میں نسرین انجم بھٹی نے “بھٹو دی وار” لکھ کر پنجابی قوم کا کفارہ اتارنے کی کوشش کی تھی- افسوس کسی پنجابی شاعر نے “بے نظیر بھٹو کی وار” اب تک نہیں لکھی- بھٹو دی وار بھی بہت سارے نوجوانوں نے نہیں پڑھی میں اسے یہاں دوبارہ درج کررہا ہوں-

بھٹو دی وار

نسرین انجم بھٹی

میں مرزا ساگر سندھ دا میری راول جنج چڑھی
میں ٹُریا سُولی چُم کے مینوں ایہو رِیت بڑی
میں پِیواں بھر بھر چُلیاں زہر تریہاں لڑی
چولے لتھے انصاف دے خلقت حیران کھڑی
میں اِک پیڑھی دا سُورما تے اٹھاں دا سردار
میں اُڈ اسمانیں چلیاں تے میرا نام اُڈار
میری عشق دے نال اشنائی، میری نابری نال اُمنگ
میری چوراں نال چترائی میری نال قصائیاں جنگ
میری اُڈی خبر خدائے تیک میرا ویلا ہویا تنگ
“میں باجھ بھراواں ماریا میرا ترکش ٹنگیا ای جنڈ”
میں شہید شہادت چکھنا مینوں کھبے پاسے رکھنا
میں لنگھ دریاؤں چلیاں میری سبھناں تائیں گنڈھ
میں جُھومر کھیڈاں کھیڈدا ایس جُوہوں لنگھیا پار
ہُن پِچھانہہ نہ مُڑ کے ویکھنا رہ جانا نہ اُرار
میں مرزا ساگر سندھ دا میری راول جنج چڑھی
میں ٹُریا سُولی چُم کے میرے سِر تے موت کھلہی
میں اپنے بول ویاہونے میں آپ چڑھائی جنج
میں پائی موت نُوں نتھنی میں راضی کیتے رنج
میں سچ سُہاگن کر کے کر دِتی ایہہ پچھان!
اوہ جیون جگ تے سُورمے بن جاندے جو اکھان
میں مرزا ساگر سندھ دا مینوں مانے جگ جہان
کالیاں کُکڑاں بانگاں دِتیاں رات دے ٹوٹے چار
ٹنگ منارے چاننی چن لتھا جیوں تلوار
رات ہنیری قہر دی تے ہنجواں وانگر لو
اج چن میتھوں شرما گیا تے اوہلے رہیا کھلو
میرے مُکھ تے پھندا جُھولدا تے کمبے پیا جلاد
میری اکھیں لالی انت دی میں پھڑی انت دی واگ
تے اُڈ ٹٹیہری جان دی اسمانیں ٹنگ کھلہی
میں کلّا لاڑھا موت دا میری کلّیاں جنج چڑھی
میرے سر تے لاوو کلغیاں تے گل وچ ہار حمیل
میرا چولا رنگ دیو رتڑا میری اجرک گھلو جیل
نی سُن صاحباں پنجابنے! اسمانیں ہوسن میل!
میں اتھرو تھل دی ریت دا اج وساں وانگ تریل
میں پڑھی پڑھائی موت دی میرے پیریں کال دھمال
میری اکھیں اتھرو چاننا میری سانجھ ہئوکیاں نال
مینوں دھرتی لگے اُڈدی میرے پیراں ہیٹھ اسمان
میری اکھیں سُنیہے گُجھڑے میری تلیاں اُتے جان
میرے سُفنے ویکھن والیو میں سُفنا بن کھلہاں
میں سُتاں نیندر جاگدی میں اُٹھیاں موت سویر
میرے اگے پِچھے نھیریاں تے گھیرے چار چوفیر
مینوں مانن والے سنگ اوئے اج پتنوں دُور کھڑے
میں اج دی رات پراہونا مینوں وِدعیا کون کرے
میں سانول نیلی بار دا میری ازلاں کُوک پڑی
میں مِرزا مہران دا میری میری راول جنج چڑھی!
میں کلّی کُوک ایمان دی میرے سجّے کھبّے کُوڑ
میں کنڈھے بلدا دیوڑا تاراں بیڑی دے پُور
میری لوئے لنگھو بیلیو! میں لائی گھر نوں اگ
میں چانن کراں ہنیر نُوں میرا چانن مانے جگ
میری چُپ نال پاٹن کالجے میری دُھم نال کمبن تھل
مینوں روون سسیاں سوہنیاں میں ہر ہر اج دی کل
بیلیو تِتر بولن بار دے تے ویلا رہیا کھلو!
رات اُداسیاں مِل لئی تُساں سُتے رہ گیو!
میں اِک اِکلّا جاگدا تے میری سیج میدان
ڈھول نگارے موت دے کیہڑا سُنے جوان
میرے سجنو بیلیو سُتیو! اِس نیندر دے قربان
کنڈھیاں مُڈھ تُردی پالکی میں وِچ وگاں مہران
میں مِرزا ساگر سندھ دا ہنیراں دی امان
میرے سر تے موہدا کاسڑا اکھواوے ناں اسمان
میری اجرک لال ہنیری میری ٹوپی لج کِسان!
میں آن ہتھوڑے ہتھ دی، میں اج قلمان دا مان
میں جشن مناواں موت دا میں ہر ہانی دا ہان
میرے ہتھیں تند تقدیر دی تے رنگلی رنگ چڑھی
میں مرزا ساگر سندھ دا میری راول جنج چڑھی
میں جُھوٹے لے لئے موت دے میں چاڑھی پینگھ سویل
میں شاہ حسین دی عاجزی میں شاہ لطیف دی ویل
میرے دشمن لِکھن عدالتاں میرے سجناں خبر پڑھی
میں مرزا ساگر سندھ دا میری راول جنج چڑھی

سرائیکی خطے کے اشو لال فقیر، عاشق بزدار نے خوب قرض اتارا اور جب شہید بی بی قتل ہوئیں تب تو بےنظیر بھٹو کی شہادت پر سندھی شاعروں کے شانہ بشانہ سرائیکی شاعروں نے بھی اس پہ نظمیں کہیں-

میں بوجہ ساٹھ اور ستر کی دہائیوں کے عوامی دانشوروں کو الگ الگ کرکے دیکھ نہیں سکتا اور ان دو دہائیوں کے عوامی دانشوروں کی کھیپ آہستہ آہتسہ رخصت ہوتی جارہی ہے- بلکہ 60ء کی دہائی کے قریب قریب سارے ہی عوامی دانشور رخصت ہوگئے اور جو بچے ہیں وہ خاموش ہیں- 70 کی دھائی کے بہت سے دانشور ابھی توانا آواز کے ساتھ موجود ہیں جن کے کئی معاصر اس دنیا سے وقفے وقفے گزرتے جاتے ہیں- اسی ستر کی دہائی کے سرائیکی عوامی دانشورشمیم عارف قریشی، حیدرعباس گردیزی اور تاج محمد گوپانگ تھے- ان دانشوروں نے اپنے بعد آنے والی قریب قریب دو نسلوں سے تعلق رکھنے والوں کو اپنے تک پہنچنے والا علم اور شعور دونوں منتقل کرنے کی اپنی سی کوشش کی-

یہ دونوں نسلیں نئی آنے والی نسلوں سے اس وجہ سے خوش قسمت تھیں کہ یہ ایسے عہد میں سانس لیتی رہیں جب ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں انتہائی قدرآور، پاپولسٹ سیاسی و ثقافتی و ادبی شخصیات موجود تھیں- ان دونوں نسلوں نے صرف ذوالفقار علی بھٹو کا ہی عہد نہیں پایا بلکہ ماوزے تنگ، چو این لائی، فیڈرل کاسترو، سوئیکارنو، کم ال سنگ، خردشیخیف ، مارشل ٹیٹو، الاندے، حبیب بورقیبہ، جمال عبدالناصر، جان ایف کینڈی جیسے سیاست دانوں کا عہد بھی پایا- ان کے ہاں نہ صرف فیض احمد فیض، استاد دامن، حبیب جالب، ایاز شیخ جیسے شاعر بے نوا سانس لیتے تھے بلکہ فلسطین سے محمود درویش، شام سے نزار قبانی، ترکی کا ناظم حکمت، چلی کا پابلو نرودا کی مست و بے خود کرنے، جھنجھوڑ دینے والی شاعری کے پہنچنے کا سامان بھی تھا- یہ وہ نسلیں تھیں جنھوں نے انقلاب کے خواب ہی آنکھوں میں سجائے نہیں تھے بلکہ ان کی تعبیر کے لیے میدان میں اتر کر جدوجہد بھی کی تھی اور سب سے بڑھ کر ان کی سیاسی تربیت کے لیے انھیں کندن بنے اساتذہ بھی میسر آئے تھے-
میرے جیسے ہزاروں لاکھوں نوجوان ایسے تھے جب ان کی مسیں بھی اچھے سے بھیگی نہیں تھیں تو انھوں نے اپنے اولین اسباق سیاست اخبارات کی سرخیوں اور قلم فروش کالم نگاروں کے خوشامدی اور جھوٹ سے بھری تحریروں کی بجائے ان دون نسلوں کے عوامی دانشور سیاسی کارکنوں کی صحبت میں بیٹھ کر پڑھے تھے-

اسی لیے میرے جیسے نوجوانوں کا جی ایم سید، باچا خان، عبدالصمد اچکزئی، حسین شہید سہروردی، مولانا بھاشانی، شیخ مجیب، ذوالفقار علی بھٹو، بیگم نصرت بھٹو، شہید بے نظیر بھٹو جیسے سیاست دانوں کے بارے میں وہ تاثر کبھی نہ بنا جو ہماری اور ہمارے بعد دو نسلوں کے ان نوجوانوں کا بن گیا ہے جو پرنٹ میڈیا کی سرخیاں، کالم، الیکٹرانک میڈیا پر نشر ہونے والے پروپیگنڈے کو سیاست کا علم سمجھ کر اس پر ایمان لے آئے ہیں- جو پنجاب اور کراچی کے آڑھتیوں، ٹھیکے داروں، تاجروں، اربن چیٹرنگ کلاس کی ضیاء الحقی ڈاکٹرائن کو پڑھ کر اپنے آپ کو سیاسی شعور کا مالک سمجھ کر کبھی نواز شریف میں تو کبھی عمران خان جیسوں میں مسیحا کو تلاش کرتے ہیں-

میں صد شکر مناتا ہوں کہ ہمارے شعور کا خمیر سرائیکی خطے کے ان عوامی دانشوروں کی فکر سے اٹھا ہے جنھوں نے اسے میدان میں عملی جدوجہد کے دوران کسب کیا تھا اور ان کے استادوں نے عوام کے ہاتھوں مرنے کی بجائے آمروں کے ہاتھوں سولی چڑھنا پسند کیا تھا-

ہمارے لیے بیرسٹر تاج محمد لنگاہ، شمیم عارف قریشی، حیدرعباس گردیزی اور تاج محمد گوپانگ کا چلے جانا صدمے کا سبب تو ہے لیکن یہ اطمینان بھی ہے کہ یہ اور ان جیسی اور گزرجانے والی ہستیوں نے شعور کی جو شمع فروزاں اس سے کئی اور شمعیں فروزاں ہوئی ہیں- بلکہ سرائیکی خطے کے اندر عوامی دانش سے بغاوت کی جو چنگاریاں بھڑکیں ، انھوں نے ہمارے خطے کے جاگیرداروں کے خرمن کو جلایا ہی نہیں بلکہ اس نے یہ آگ سید یوسف رضا گیلانی جیسوں کے سینوں میں بھی بھڑکادی ہے- اگر اس خطے میں فخر امام اور شاہ محمود قریشی جیسوں نے نوآبادیاتی ذہنیت کے ساتھ اپنے محسنوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی روایت بد کو اپنائے رکھا تو سید یوسف رضا گیلانی جیسوں کو اقتدار اور پاور کو ٹھوکر مارنے کی ہمت بھی عطا کی ہے- اور وہ سٹیج پر برملا کہتے ہیں کہ انھوں نے سرائیکی خطے کی عوام کا مقدمہ لڑنا تاج محمد لنگاہ جیسے استادوں سے سیکھا ہے-

آج ہمارے خطے میں ہزاروں نوجوان ایسے ہیں جو اپنے سے پہلی دو نسلوں سے منتقل ہونے شعور کو آگے منتقل کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور یہ شعور ان نوجوانوں میں منتقل ہورہا ہے جو بے نظیر بھٹو کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کے شانہ بشانہ کھڑے ہوگئے ہیں- مشتاق گاڈی، میر احمدکامران مگسی،غصنفر سوجھل فقیر،امام بخش، ملک سلیم، شکیل احمد بلوچ، تابش، رانا سلطان محمود اور ایسے ہی ان سے آگے نوجوان نسل ساحل چانڈیو، حسن مرتضی،راشد علی رحمانی اور ہزاروں نام ہیں جو سرائیکی خطے کی لوک دانش کے پاسدار بن گئے ہیں اور اپنی پہلی دو نسلوں کی باقیات(منصور کریم سیال، پروفیسر صالاح الدین، حیدر جاوید سید، رفعت عباس، اشو لال فقیر، عاشق بزدار، احسن واگھا وغیرھم) کے ساتھ جڑ کر کھڑے ہیں- یہ مایوس کن صورت حال نہیں ہے – رجائیت اور امید سے بھری ہوئی ہے- اور مجھے لگتا ہے کہ رجعت پرستی اور ردعمل کی شب کا آخر آن پہنچا ہے- اور مجھے نجانے کیوں امیر خسرو کی کہی یہ غزل یاد آرہی ہے، شاید گوتم جو تاج محمد گوپانگ کو بہت پسند تھے کہتے تھے جیون دکھ ہے اور اس سے مکت نجات اور وصل ہے- تاج محمد گوپانگ بھی مکت ہوگئے اور اب وہ نروان پاکر خسرو کی یہی غزل گنگنا رہے ہوں گے

سرسوں پھول بنی اور کوئل کوکت راگ ملھار
ناریاں جھولے ڈال کے دیکھت ہیں ساون کی دھار
جل بن ماہی جیسی برہن تھی کاٹت بن واس
اب تو ہریالی ہووت ہے من کی اک اک آس
بدلی کی ڈولی کی چلمن جب اٹھ جاوت ہے
امبر بھی ایسے جلوؤں کی تاب نہ لاوت ہے
مکھ پر لالی ، اکھین گجرا، گجرے پھول بہار
رَت بھی من موہن ہے اس پر گوری کرت سنگھار
نین جو لاگے ہوں پریتم سنگ جیون ہولی ہو
اکھین نگری میں بس پریت کی اک رنگولی ہو
رھانی رنگت میں بھیگت ہو دل کی چُنری بھی
اور پون لہرا کے گاوت ہو اک ٹھمری بھی
راج کماری بھی اوڑھت ہو آنچل اک زرتار
راجہ جی بھی پہنے ہووت ہو پھلوا کے ہار
جھن جھن باجت ہو پلائلیا رُت کے پاؤں میں
شبنم برسن لاگے ہر اک من کے گاؤں میں
سیتا گھونگٹ کاڑھ کے ہووے اپنے رام کے سنگ
جیسے آپ چلے خسرو جی شاہ نظام کے سنگ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here