ایک نجی ٹی وی چینل کے کراچی میں رپورٹر نے بختاور بھٹو کی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک کاروباری گھرانے کے نوجوان محمود چودھری سے سگائی کی خبر بریک کی اور ساتھ ہی اس تقریب کے لیے ارسال کیا جانے والا دعوت نامہ بھی افشا کردیا- مجھے بلاول ہاؤس کے انتہائی مصدقہ زریعہ سے معلوم ہوا ہے کہ یہ خبر بلاول بھٹو زرداری کی ٹیم کے ایک رکن نے بلاول بھٹو زرداری کی رضامندی سے اس نجی ٹی وی چینل کے نمائندے تک پہنچائی تاکہ اس حوالے سے افواہوں کو “سچ” سمجھے جانے سے روکا جاسکے-

بختاور بھٹو زرداری کا آصف زرداری اور بے نظیر بھٹو کی اولاد میں دوسرا نمبر ہے- سب سے بڑے بلاول بھٹو پی پی پی کے چیئرپرسن ہیں- ان کے بعد بختاور بھٹو زرداری ہیں اور پھر آصفہ بھٹو زرداری ہیں- بے نظیر بھٹواور آصف زرداری کے تینوں بچوں کی پیدائش کے وقت انتہائی نازک تھے- جب بلاول بھٹو زرداری کی پیدائش متوقع تھی ملک میں عام انتخابات ہونے والے تھے اور پیپلزپارٹی کے لوگ کہتے ہیں کہ پی پی پی کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لیے سرگرم صدر اسحاق خان، ڈی جی آئی ایس آئی حمید گل اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اسلم بیگ کی اشیر باد سے یہ سراغ لگانے کی سرتوڑ کوشش کی گئی ک کسی طرح بے نظیر بھٹو کی زچگی کے ایام کا پتا چل جائے اور انہی دنوں میں الیکشن کی تاریخ مقرر کردی جائے تاکہ بے نظیر بھٹو الیکشن کمپئن نہ چلا پائیں- لیکن بے نظیر بھٹو کی زچگی کے دنوں کی ٹھیک تاریخ تک ان کے مخالفین کی رسائی نہ ہوسکی اور بے نظیر بھٹو نے لیڈی ڈفرن ہسپتال میں بلاول بھٹو زرداری کو جنم دیا اور اس کے بعد بھرپور انتخابی مہم بھی چلائی۔

سن 1988ء کی انتخابی مہم کے دوران آئی جے آئی کے الیکشن میڈیا سیل کے انچارج حسین حقانی تھے اور انہوں نے اس دوران بلاول بھٹو کی پیدائش کے حوالے سے انتہائی گھٹیا قسم کے پروپیگنڈے عوام میں پھیلائے تھے- جیسے ان کی سربراہی میں قائم پروپیگنڈا سیل نے بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی کردار کشی کی مہم چلائی تھی- آکسفورڈ میں بے نظیر بھٹو کی زندگی بارے کئی اسکرپٹ لکھ کر قلم فروشوں میں بانٹے گئے اور اس طرح سے انھیں ایک اخلاق باختہ عورت ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا-

اگر ہم پاکستان میں سیاسی بیٹ میں رپورٹنگ کرنے والے سینئر رپورٹرز سے انٹریوز اور انکشافات کی بنیاد پر غیر جمہوری عناصر کے جینڈر بیسڈ تعصبات اور اخلاقیات سے گرے اسکرپٹ لکھے جانے کی کوئی کرانیکل تاریخ مرتب کریں تو ہمیں پتا چلے گا کہ اس کا مربوط آغاز ایوب خان کی آمریت کے دنوں میں سب سے پہلے محترمہ فاطمہ جناح بھٹو کے خلاف ہوا تھا جب وہ ایوب خان کے مدمقابل آئيں- فاطمہ جناح کے شادی نہ کرنے اور مجرد زندگی گزارنے کو لیکر ان پر غیر فطری جنسی زندگی گزارنے کا الزام اخبارات کی زینت بنا اور انتہائی گھٹیا قسم کے لطیفے مس جناح کے بارے میں عوام کے اندر عام کیے گئے-

پینسٹھ کی جنگ کے بعد معاہدہ تاشقند پر جب ایوب خان کے پسندیدہ وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے آمر صدر ایوب خان سے اختلاف کیا اور وزرات سے استعفا دے دیا اور ایو خان کی حکومت پرشدید تنقید شروع کی تو ایوب خان نے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف کردار کشی کی ذمہ داری اپنے وزیر اطلاعات گوہر الطاف کو سونپ دی- اس زمانے میں حکومتی پریس ٹرسٹ کے تحت شایع ہونے والے اخبارات کے ساتھ ساتھ دیگر اخبارات میں ذوالفقار علی بھٹو کی کردار کشی کے لیے جہاں اور بہت سی پرپیگنڈا خبریں شایع کی گئیں، وہیں ذوالفقار علی بھٹو کو شاہنواز بھٹو کا سوتیلا بیٹا ثابت کرنے کی کوشش ہوئی، ان کا ایک ہندؤ والد گھاسی رام بھی ڈھونڈ نکالا گیا- اسی دوران پہلی بار بيگم نصرت بھٹو کو ذوالفقار علی بھٹو کی بیوی ہونے کے ناتے اسکنڈلائز کیا گیا- حالانکہ اصفہان کے ایک انتہائی معزز اور شریف خاندان سے بیگم نصرت بھٹو کا تعلق تھا لیکن ان کے بارے میں یہ پروپیگنڈا لانچ ہوا کہ وہ تہران میں ایک کلب میں ڈانسر رہی تھیں-

ذوالفقار علی بھٹو پر غیر ازواجی تعلقات کا الزام بھی لگایا گیا اور کئی خواتین کے نام بھی اس باب میں اچھالے گئے- ذوالفقار علی بھٹو کے خاندان کی عورتوں کے بارے میں جنسیاتی پروپیگنڈا 1970ء کے انتخابات کے دوران دائیں بازو کے پریس سے متواتر ہوتا رہا- ان کی والدہ کے حوالے سے انتہائی شرمناک بے بنیاد من گھڑت باتیں پریس میں چھپتی رہیں اور سیاسی جلسوں میں بیان ہوتی رہیں- جب جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء لگایا تو ایک بار پھر ذوالفقار علی بھٹو کی کردار کشی میں ان کی بیوی کو گھسیٹا گیا اور ایک خاتون تھیں حسنہ بیگم ان کے حوالے سے درجنوں کہانیاں پریس میں لائی گئیں- اس حوالے سے انعام عزیز کی کتاب “اسٹاپ دی پریس” میں کافی تفصیل موجود ہے-

ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد اسکرپٹ رائٹرز نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی کردار کشی کو اپنا خصوصی مرکز بنایا جب انھوں نے پی پی پی کی قیادت سنبھال لی اور اس پروپیگنڈے میں بتدریج تیزی آتی گئی- بے نظیر بھٹو کی کردار کشی میں ایک ٹرن اس وقت آیا جب ان کی شادی نواب شاہ کے ایک ایسے خاندان میں طے پائی جو سیاست میں سندھی قوم پرستانہ سیاست کے حوالے سے ایک نمایاں مقام رکھتا اور ساتھ ساتھ کاروباری گھرانا تھا- اب کردار کشی دو رخی ہوگئی تھی- ایک طرف بے نظیر بھٹو کی زمانہ طالب علمی کے دور بارے جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا تو ان کے شوہر آصف علی زرداری کی شادی سے پہلے نوجوانی کے دنوں کے قصّے گھڑے گئے- ان کو ایک عیاش امیر زادے کے طور پر پیش کیا گیا- سچائی کو پس پشت ڈال کر پروپیگنڈا کیا کہ بے نظیر بھٹو سے آصف علی زرداری کی شادی بلیک میلنگ کا نتیجہ تھی اور کئی باردونوں کے درمیان تعلقات خراب ہونے کی افواہیں اڑائی گئیں- یہاں تک کہ آصف علی زرداری مرتضی بھٹو کے قاتل ٹھہرادیے گئے-

بعد ازاں آصف علی زرداری کو بے نظیر بھٹو کا قاتل بناکر پیش کیا گیا- اور انھیں پی پی پی پر ایک قابض کی شکل میں پیش کیا گیا- جب آصف علی زرداری صدر پاکستان بنے تو اسکرپٹ رائٹرز ایک نیا اسکرپٹ لیکر آئے جس میں آصف علی زرداری کے تعلقات کئی پیپلزپارٹی کی خواتین رہنماؤں سے جوڑے گئے- پھر تنویر زمانی کو ان کی بیوی کے طور پر پیش کیا گیا- اور ایسے ہی ماڈل ایان علی کے ساتھ ان کا اسکینڈل بنایا گیا-

اسی دوران جب بلاول بھٹو زرداری سیاست میں سرگرم ہوئے تو اسکرپٹ رائٹرز نے پہلے تو ان کو پلے بوائے کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی اور اس کے بعد آج تک ان کو گے ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جارہا ہے- اس دوران جب آصف علی زرداری کی بیٹیاں سیاست میں اپنے بھائی کے شانہ بشانہ کھڑی ہوئیں تو ان کی ذات پر بھی جنسیاتی حملے شروع کیے گئے- نقیب اللہ محسود کے ساتھ بختاور بھٹو کے معاشقے کی کہانی گھڑی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے گلی کوچوں میں اس اسکرپٹ کو ایک “مصدقہ خبر” کے طور پر پھیلا دیا گیا-

آج بختاور بھٹو کی منگنی کو اسکنڈلائز کیا جارہا ہے- ان کے ہونے والے منگیتر محمود چودھری کے خاندان بارے امریکی بلاگر سنتھیا رچی ڈی نے ٹوئٹ کیا اور ان پر قادیانی ہونے کا الزام تھونپ دیا اور دیکھتے دیکھتے یہ الزام وائرل ہوگیا جس کا حقیقت سے کوئی رشتہ نہیں ہے-

بختاور بھٹو کے منگیتر چودھری محمود کے والد چودھری انتہائی معزز کاروباری شخص ہیں اور ان کے منگیتر چودھری محمود کا خاندان صوفی سنّی مسلمان خاندان ہے جو صوفیانہ روادار روایات سے جڑا ہوا ہے- اور ان کے بارے میں قادیانی ہونے کا پروپیگنڈا شر انگیزی اور جھوٹ ہے-

پاکستان میں نجانے کب وہ دن آئے گا جب پاکستانی صحافت پلانٹڈ اسکرپٹ کو صحافت بناکر پیش کرنے والے نام نہاد صحافیوں سے آزاد ہوگی اور سیاست میں سیاسی مخالفین کی خواتین پر جنسیاتی حملے بند ہوں گے-

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here