مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش: سچائی کا قتل – لیل و نہار/ عامر حسینی

دا سنڈے ٹائمز (13 جون 1971ء) میں "جینوسائیڈ" کے نام سے خصوصی نیوز رپورٹ شایع ہوئی اور اس نے مشرقی پاکستان میں چل رہے ڈرامے کے بارے میں عالمی رائے عامہ میں تبدیلی پیدا کردی۔

0
191

سولہ دسمبر انیس سو اکہتر کو پاکستان کی فوج نے ڈھاکہ میں پلٹن میدان میں بھارتی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال کر باقاعدہ سرنڈر کیا۔ اور ہندوستان میں سویلین اور فوج سے نوے ہزار لوگوں کو جنگی قیدی بنالیا۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ جس وقت پاکستانی فوج نے ڈھاکہ میں سرنڈر کیا، اس وقت تک پاکستان میں عام لوگ مشرقی پاکستان میں امریکی سامراج، روسی سوشل سامراج، بھارت اور ان کے مبینہ اتحادی مکتی باہنی کس خلاف پاکستانی فوج کی مبینہ کامیابیوں کا جشن منارہے تھے۔ اس زمانے میں چھپنے والے تمام اخبارات کی سولہ دسمبر 1971ء کی اشاعت میں ہیڈلائنز دشمن کے دانت کھٹے کرنے کی خبروں سے بھرے ہوئے تھے۔ پاکستانی پریس مکمل کنٹرولڈ تھا اور مغربی پاکستان کے زرایع ابلاغ میں “آزاد زرایع” سے کوئی خبر شایع ہی نہیں کی جارہی تھی۔

انعام عزیز کی کتاب “اسٹاپ دا پریس” میں شامل ایک مضمون “بنگلہ دیش کیسے بنا” میں انعام عزیز نے پاکستان میں پریس کے مکمل کنٹرولڈ ہونے کی کہانی بیان کی ہے۔ ان دنوں وہ لندن میں جنگ میڈیا گروپ کے روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر تھے۔ اور وہ کہتے ہیں کہ جب مشرقی پاکستان میں لڑائی اپنے اختتام کی طرف گامزن تھی تو حالات اتنے دگر گوں تھے کہ پاکستان سے ان کے تمام روابط کٹ چکے تھے۔ پاکستان فون کال کرنا بھی ناممکن ہوچکا تھا۔ اس دوران انہوں نے پاکستانی سفارت خانے میں تعینات ہائی کمشنر جنرل یوسف سے میر خلیل الرحمان کو ایک فون کال کرنے میں مدد فراہم کرنے کو کہا۔ جنرل یوسف نے ان کو اگلے دن ہائی کمیشن آنے کو کہا اور انہوں نے جی ایچ کیو راولپنڈی کال ملائی، جہاں پر میر خلیل الرحمان پہلے سے موجود تھے۔ میر خلیل الرحمان سے فون پر بات ہوئی۔ اور انہوں نے فون پر ہی اسی دن وزرات دفاع کا جاری کردہ پریس مراسلہ مجھے پڑھ کر سنایا، جسے انہوں نے احتیاط سے لکھ لیا۔ اس مراسلے میں پاکستان کو مشرقی اور مغربی پاکستان دونوں جگہوں پر جیتا ہوا بتایا گیا تھا۔ انعام عزیز دفتر واپس لوٹے اور جو انھیں بتایا گیا تھا، اسی پر لیڈ اسٹوری بناڈالی جس کی سرخی کچھ یوں بنتی تھی:
” پاکستان جنگ جیت رہا ہے”
انعام عزیز یہ لیڈ اسٹوری بناکر کچھ دوستوں سے ملنے چلے گئے۔ اور جب گھر جانے کے لیے وہ ایک ٹیوب اسٹیشن پر پہنچے تو انہوں نے اگلے دن کا “دا ٹائمز” خریدا جو ایک رات پہلے ہی بازار میں آچکا تھا اور اس کی شہ سرخی تھی: پاکستان فوج نے سرنڈر کردیا۔” میں واپس بھاگم بھاگ دفتر پہنچا لیکن دفتر بند تھا اور اخبار پرنٹ ہونے کے لیے چلاگیا تھا۔ اگلے دن انعام عزیز کو درجنوں کالز موصول ہوئیں اور روزنامہ جنگ لندن کے متعدد قارئین نے انعام عزیز کو دیانت داری سے دور پڑی صحافت کرنے کا طعنہ دیا۔

ڈھاکہ میں انٹرنیشنل پرل کانٹینٹل ہوٹل “نو وار زون” بنا ہوا تھا۔ اسی ہوٹل کی چار دیواری کے اندر جنرل نیازی کی 15 دسمبر 1971ء کی گفتگو کی ریکارڈ وڈیو یو ٹیوب پر بھی مل جاتی ہے، جس میں وہ کہہ رہے تھے کہ بنگلہ دیش ان کی لاش پر بنے گا اور وہ وطن کی خاطر جان لٹادیں گے۔ لیکن ہوا اس کے برعکس انہوں نےجان بچالی اور آبرو بیچ ڈالی۔

اپریل 1972ء یعنی بنگلہ دیش بنے ہوئے ابھی پانچواں مہینا ہوچلا تھا تو اس وقت بھی پاکستانی پریس نے اپنا محاسبہ کرنا شروع نہیں کیا تھا۔ ایک ہفت روزہ انگریزی میگزین “دا آؤٹ لک” ویکلی تھا جس نے 1972ء میں اپنی اشاعت کا دوبارہ آغاز کیا تھا کیونکہ ایوب خان نے اس کا ڈکلیئریشن منسوخ کرڈالا تھا۔ اس نے مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش بننے پر تفصیل سے مواد شایع کرنا شروع کیا۔ اپریل 1972ء کی اشاعت میں اقبال خان کا ایک مضمون شایع ہوا۔ عنوان تھا
Guilt Syndrome: Who wants to know the truth?
اقبال خان نے پانچ صفحات پر پھیلے مضمون میں تفصیل سے بتایا کہ مغربی پاکستانی پریس نے مشرقی بنگال میں 5 مارچ 1971ء سے شروع ہونے والے ملٹری آپریشن اور بعد میں رونما ہونے والے واقعات کی معروضی اور آزادانہ رپورٹنگ بالکل بند کردی۔ اور پاکستانی پریس مکمل طور پر کنٹرول اور غلامی میں آچکا تھا۔ وہ لکھتا ہے کہ ایک طرف تو ناخواندہ قسم کے جنونیوں کی اکثریت تھی جو مشرقی پاکستان میں ملٹری آپریشن کا سے جشن منارہی تھی۔ اور دوسری طرف پاکستانی لبرل و سوشلسٹ اشرافیہ کا حال یہ تھا کہ وہ بھی اس حوالے سے حقائق سے آنکھیں بند کیے بیٹھے تھے۔ مشرقی پاکستان میں آپریشن سے قبل غیر ملکی اخبارات کے نمائندوں کو قریب قریب نکال باہر کیا گیا تھا۔ مقامی پریس پر مکمل کنٹرول تھا۔ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کے حامی سمجھے جانے والے اخبارات کے دفاتر کو بھی آپریشن کے دوران تباہ کردیا گیا تھا۔ اس آپریشن جس کا نام “آپریشن سرچ لائٹ” تھا کے دوران عالمی میڈیا میں خبروں کا سیلاب اس وقت آنا شروع ہوا جب ملٹری آپریشن کے نتیجے میں کئی لاکھ لوگ مشرقی پاکستان کی مغربی بنگال سے لگنے والی سرحد کے راستے ہندوستان میں داخل ہوئے اور ہندوستانی سرکار ان کو کیمپوں میں رکھا۔ اقبال خان کہتا ہے کہ پاکستانی پریس اور عوامی حلقوں میں حکومت وقت نے مشرقی پاکستان سے بڑے پیمانے پر آبادی کے انخلا کو عظیم مہاجرت قرار یے جانے کے انٹرنیشنل میڈیا کو دشمن پروپیگنڈا کا شکار قرار دے ڈالا۔ اور یہ صورت حال اس وقت بھی قائم رہی جب خود ملٹری حکومت نے مغربی پاکستان سے دس صحافیوں کے ایک وفد مشرقی پاکستان کا دورہ کرایا تاکہ وہ حکومتی منشا کے مطابق رپورٹ تیار کرسکیں۔ لیکن ان صحافیوں میں سے ایک صحافینیویل انتھونی مسکارینہاس بھی تھا جو کراچی میں اخبار نیوز مارننگ کا اسٹنٹ ایثیٹر تھا۔ لیکن اس نے مشرقی پاکستان میں جو ہوتے دیکھا، اس کی روداد پاکستانی اخبار میں چھاپنے کی بجائے ،اسے غیر ملکی رسالے میں چھپوانا پسند کیا۔ اس نے دا سنڈے ٹائمز لندن کے ایٹیٹر ہیرولڈ ایونز سے رابطہ کیا۔ پہلے وہ خود لندن پہنچا اور پھر اس کے بیوی بچے بھی لندن پہنچ گئے۔ جس دن یہ سب ہوا، اس سے اگلے روز دا سنڈے ٹائمز (13 جون 1971ء) میں “جینوسائیڈ” کے نام سے خصوصی نیوز رپورٹ شایع ہوئی اور اس نے مشرقی پاکستان میں چل رہے ڈرامے کے بارے میں عالمی رائے عامہ میں تبدیلی پیدا کردی۔ اس وقت کے پاکستانی فوجی آمر جنرل یحیی خان کی حکومت نے صحافی انتھونی مسکارینہاس کو دشمن اور غدار قرار دے ڈالا۔

آج جبکہ بنگلہ دیش اپنے قیام کے 49 سال پورے کرچکا ہے تب بھی سچائی کو دفن کرنے کا وتیرا جاری ہے۔ آج کے باقی بچے کچھے پاکستان میں میڈیا اسی طرح سے کنٹرول میں ہے۔ وہ خوشی سے اور کہیں زبردستی منحرف آوازوں کا بائیکاٹ کیے جارہا ہے۔ اور آج بھی سرکاری طور پر مارچ 1971ء سے لیکر 16 دسمبر1971ء تک مشرقی پاکستان میں جو ہوا، “اس میں سارا قصور دوسروں کا ہے اور یہ عالمی سامراجی سازش تھی” کا بیانیہ ہی آگے بڑھایا جارہا ہے۔

(یہ کالم 16 دسمبر 2020 بروز بدھ روزنامہ بدلتا زمانہ ملتان میں شایع ہوا)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here