روزنامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر ضیاء شاہد نے 18 دسمبر 2020ء روزنامہ خبریں میں اپنے کالم “تاثرات” میں “محمود خان اچکزئی کون ہے؟” کی سرخی کے ساتھ اپنے تئیں بندوبست پنجاب میں رہنے والوں کو “درست” تاریخی حقائق سے آگاہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا طریقہ واردات یہ ہے کہ وہ کبھی اپنے قاری کو مکمل سیاق و سباق کے ساتھ تاریخی معلومات پیش نہیں کرتے بلکہ وہ مخصوص زمان و مکان میں جتنے سیاست دان اور سیاسی جماعتیں “اسٹیٹس کو” اور “اسٹبلشمنٹ” سے ٹکراؤ میں ہوتی ہیں ان کی تاریخ کو مسخ کرتے ہیں۔ زیر بحث کالم میں بھی انہوں نے اپنے پڑھنے والے قاری کو پاکستانی سیاست کے سیاق و سباق سے آگاہ کیے بغیر اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کی مرکزی قیادتوں کو ڈس کریڈٹ کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ سیاق و سباق سے جان اس لیے چھڑاتے ہیں کیونکہ سیاق و سباق ان کے بنائے مقدمے کے تاروپود بکھیر دینے کے کام آتا ہے۔

اس وقت پاکستان جمہوری تحریک – پی ڈی ایم میں صوبہ خیبرپختون خوا اور بلوچستان سے شامل سیاسی جماعتیں وہ جماعتیں ہیں جن کو ہم نیشنل عوامی پارٹی کی باقیات کہہ سکتے ہیں۔ نیشنل عوامی پارٹی 1957ء میں ڈھاکہ میں بایاں بازو اور قوم پرست جماعتوں کے باہمی ادغام سے ملکر بنائی گئی تھی۔ نیشنل عوامی پارٹی میں مغربی پاکستان(اس وقت پاکستان کے تین صوبوں، دیسی ریاستوں،فاٹا کو ضم کرکے مغربی پاکستان صوبہ اور پورے مشرقی پاکستان کو دوسرا صوبہ بناکر ون یونٹ سسٹم لایا گیا تھا۔ ملک بھر کی جمہوری روایات پر یقین رکھنے والی جماعتوں نے ون یونٹ کی مخالفت کی تھی کیونکہ یہ ون یونٹ سسٹم وفاقی پارلیمانی جمہوریت کے منافی تھا)۔ جن جماعتوں نے مل کر نیشنل عوامی پارٹی بنائی تھی ان میں مشرقی پاکستان سے مولانا عبدالحمید بھاشانی کی قیادت میں الگ ہونے والا عوامی لیگ کا دھڑا، حاجی دانش کی قیادت میں گنتنتاری دل کا دھڑا، مغربی پاکستان سے صوبہ سرحد سے خدائی خدمتگار تحریک باچا خان کی قیادت میں، بلوچستان کے پشتون اکثریتی علاقے کی جماعت ورور پختون عبدالصمد خان اچکزئی کی قیادت میں، استمان گل میر غوث بخش بزنجو کی قیادت میں بلوچستان سے، سندھ عوامی محاذ جی ایم سید کی قیادت میں،سندھ ہاری کمیٹی حیدر بخش جتوئی کی قیادت میں آزاد پاکستان پارٹی پنجاب میاں محمود کی قیادت میں اور کالعدم کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے کارکنان اور رہنماؤں کی بڑی تعداد شامل تھی۔ نیشنل عوامی پارٹی کا سب سے بڑا مقصد ون یونٹ کا خاتمہ،قومیتی بنیادوں پر بنائے گئے صوبائی اکائیوں پر وفاق پاکستان کی تشکیل، بالغ حق رائے دہی کی بنیادوں پر انتخابات اور مرکز کے پاس دفاع،مواصلات، امور خارجہ و داخلہ امور رہیں اور باقی سب امور صوبائی اکائیوں کو دیے جائیں۔ نیپ نے محمود خان اچکزئی کے والد عبدالصمد خان اچکزئی کے مطالبے پر بلوچستان سے پشتون اکثریت کے علاقوں کو الگ کرکے نیا صوبہ پشتون خوا بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔ نیپ نے پاکستانی معشیت کو سوشلزم کے اصولوں پر استوار کرنے کی مانگ بھی رکھی۔ یوں دیکھا جائے تو نیشنل عوامی پارٹی قومیتی شناختوں کو تسلیم کرنے اور ملک کی معشیت کو سوشلسٹ اصولوں پر چلانے کا مطالبہ کرنے والے جمہوری قوم پرست اور بائیں بازو کے گروپوں کا انضمام تھا۔ بلاشبہ نیپ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کی مقبول عوامی شخصیات کے اجتماع کا پلیٹ فارم بن گیا تھا۔ نیشنل عوامی پارٹی کا صدر متفقہ طور پر مولانا عابدالحمید بھاشانی کو بنایا گیا اور اس کے پہلے جنرل سیکرٹری محمود الحق عثمانی تھے۔ نیشنل عوامی پارٹی میں جہاں متحدہ ہندوستان میں تقسیم ہند کے مخالف گروپ تھے وہیں اس میں آل انڈیا مسلم ليگ اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کا بڑا حصّہ بھی جو پاکستان کا حامی رہا تھا۔ ضیاء شاہد نیپ کے لیڈروں پر “غداری اور شازش” کے جو الزامات عائد کرتے ہیں وہ اصل میں پاکستان میں امریکہ نواز جاگیردار، سرمایہ دار سیاست دانوں اور وردری بے وردی بابو شاہی کا پروپيگنڈا تھا اور بعد ازاں اس پروپیگنڈے کو پہلے گورنر جنرل غلام محمد نے اور اس کے بعد جنرل ایوب خان نے منظم طریقے سے پھیلایا۔ نواب اکبّر بگٹی نے حمیدہ کھوڑو کو ديے گئے ایک انٹرویو میں جو 1972ء میں دیا گیا تھا یہ کہا تھا کہ “پنجابی متعصب پریس اور ذہنیت مشرقی پاکستان اور چھوٹے صوبوں کے سیاست دانوں کی کردار کشی کرتا ہے جو ان کی لائن نہ اپنائے وہ غدار اور غیر ملکی ایجنٹ قرار پاتا ہے۔ اس انٹرویو اس لنک پہ پڑھا جاسکتا ہے۔

ضیاء شاہد لکھتے ہیں کہ نیشنل عوامی پارٹی کی صدارت ولی خان کو اپنے والد سے وراثت میں ملی – ایسا کرتے ہوئے انہوں نے نیشنل عوامی پارٹی کی تاریخ کا قتل کردیا۔ نیشنل عوامی پارٹی 1968ء کو باضابطہ طور پر دو بڑے دھڑوں میں بٹ گئی تھی اور اس کی سب سےبڑی بنیادی وجہ مولانا عبدالحمید بھاشانی جو نیپ کے مرکزی صدر تھے کا 1965ء کے انتخابات میں محترمہ فاطمہ جناح کی بجائے درپردہ ایوب خان کی حمایت کرنا تھا۔ اور وہ 1967ء میں عالمی سطح پر بین الاقوامی کمیونسٹ تحریک کے دو حصوں میں بٹ جانے کے بعد چین نواز عالمی کمیونسٹ تحریک کا حصّہ بن گئے تھے جو ایوب خان کو سپورٹ کررہی تھی۔ مولانا بھاشانی اور ان کے ساتھیوں سے اختلاف کرنے والوں نیپ کے لوگوں نے پشاور میں یکم جولائی 1968ء کو ورکنگ کمیٹی کا اجلاس بلایا جس میں کل تین سو مندوبین شریک ہوئے جن میں 76 کا نیپ مشرقی پاکستان سے اور 320 مندوبین کا تعلق مغربی پاکستان سے تھا۔ اس اجلاس میں مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے مندوبین کی اکثریت محمود علی قصوری ایڈوکیٹ کو مرکزی صدر بنانا چاہتے تھے لیکن بنگالیوں نے محمود الحق عثمانی کے حق میں وزن ڈال دیا۔ اس سے تعطل پیدا ہوا۔ اس موقعے پر بلوچستان سے تعلق رکھنے والے میر غوث بخش بزنجو نے اس اختلاف کو دور کرنے کے لیے خان عبدالولی خان کا نام مرکزی صدارت کے لیے پیش کیا۔ ولی خان بقول غوث بزنجو اور محمود قصوری کے مندوبین میں سب سے غیر متنازعہ شخصیت تھے۔ ان کا نام سامنے آتے ہی بنگالی مندوبین نے ایم ایچ عثمانی کا نام واپس لے لیا۔ یوں ولی خان نیشنل عوامی پارٹی کے ماسکو نواز دھڑے کے مرکزی صدر اور محمود الحق عثمانی مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوگئے۔ اب ضیاء شاہد صاحب سے کوئی پوچھے کہ نیپ کی صدارت پر ولی خان کا فائز ہونا کون سی وراثت تھی جو ان کو ملی تھی۔ اور یہ نیپ ایک ایسی پارٹی تھی جس کے خلاف ایوب خان نے 1959ء میں برسراقتدار آتے ہی بدترین آپریشن شروع کررکھا تھا اور اسٹبلشمنٹ اس جماعت کی سب سے بڑی دشمن تھی۔ نیپ ایسے سیاستدانوں کا مجموعہ تھی جو اس وقت ایوب خان رجیم کے خلاف لڑرہی تھی جب پنجاب سے تعلق رکھنے والے اکثر جاگیردار اور سرمایہ دار سیاست دان ایوب خان کا بغل بچہ بنے ہوئے تھے۔ اور یہاں ایک اور تاریخی حقیقت بھی سامنےآنی چاہئیے اور وہ یہ ہے کہ جب 1968ء میں نیپ ولی خان وجود میں آئی تو یہ ضیاء شاہد لاہور میں کچھ ایسے نوجوان صحافیوں کے ساتھ اسٹبلشمنٹ کی صفوں میں اپنا مقام بنانے کے لیے چودھری ظہور اللہی کے چرن چھوتے تھے اور ان کی کاسہ لیسی میں جمہوریت پسند قوتوں کے خلاف پروپیگنڈا جرنلزم کیا کرتے تھے(جیسے یہ آج کررہے ہیں)۔

ولی خان کا خانوادہ سیاست میں اسٹبلشمنٹ کے چرن چھوکر نہیں آیا تھا۔ سب کو پتا ہے کہ خدائی خدمت گار تنظیم بناکر ولی خان کے والد نے پشتون سماج میں کتنی بڑی اصلاحی عدم تشدد پر مبنی تحریک کی بنیاد رکھی تھی اور انگریزوں کے دور میں باچا خان اور ان کے ساتھیوں نے خدائی خدمتگار پلیٹ فارم ہو یا نیشنل کانگریس کی انگریز سامراج مخالف تحریکیں ہوں نے قید وبند کی مصیبتیں اٹھائی تھیں اور سینکڑوں کارکن جانوں سے گئے تھے اور جب پاکستان بنا تو اس وقت بھی صوبہ سرحد میں کانگریس کی حکومت تھی جسے زبردستی توڑا گیا اور اسی دور میں قصّہ خوانی بازار میں خدائی خدمت گاروں کے خون سے ہولی کھیلی گئی۔ باچا خان کی سیاست کا اگر جائزہ لیا جائے تو وہ کوئی پھولوں کا سیج نہیں تھی۔

ضیاء شاہد تاریخی حقائق بیان کرتے ہوئے اپنے قاری کو یہ بتادیتے کہ محمود خان اچکزئی کے والد اپنے سیاسی کرئیر کا آغاز انجمن _وطن سے کیا تھا جس کے وہ صدر تھے اور وہ انگریز سامراج کے خلاف جدوجہد میں کانگریس کے اتحادی رہے اور انگریز دور میں بھی ان کو بار بار جیل جانا پڑا۔ جب انھوں نے پاکستان بننے کے ورور پختون تحریک بنائی تو اس دوران 1948ء سے لیکر 1959ء تک وہ بار بار جیل بھیجے گئے۔ اور پھر ان کو یحیحی آمر نے 1969ء میں گرفتار کیا اور وہ 1973ء تک یعنی پانچ سال پھر جیل میں رہے۔ اور جیل سے باہر آئے۔ یہ عبالصمد خان اچکزئی تھے جنھوں نے بلوچستان میں پہلے عام انتخابات میں عورتوں کے ووٹ کا اندراج نہ کرانے کی ٹیبو کو توڑا اور بہت بڑی تعداد میں عورتوں کے ووٹوں کا اندراج بھی کرایا اور ان سے انتخابات میں ووٹ بھی دلوائے۔ عبدالصمد اچکزئی اور ان کے ساتھیوں کے نیپ ولی خان سے اختلاف جنوبی بلوچستان کو بلوچستان سے الگ کرکے کے پی کے میں ضم کرکے بڑا صوبہ تشکیل دینے کے مطالبے کو نیپ سے نکالنے پر احتجاج کیا اور الگ ہوکر پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کی بنیاد رکھی۔ وہ جیل سے باہر ابھی چند ماہ پہلے ہی آئے تھے کہ ان کو ایک بم دھماکے میں شہید کردیا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان آرمی ایک بار پھر بلوچستان اور کے پی کے میں فوجی آپریشن کررہی تھی۔ نیپ- ولی خان کی اتحادی حکومتیں سرحد اور بلوچستان سے ختم کردی گئیں تھیں بلکہ نیپ پر ایک بار پھر پابندی لگادی گئی تھی۔ اور اس کی ساری قیادت گرفتار ہو کر چیل جاچکی تھی۔ ایسے میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی مرکزی ورکنگ کمیٹی نے اپنا نیا سربراہ چنا اور یہ شہید ہونے والے خان عبدالصمد خان کی جگہ ان کے بیٹے کو لیکر آئے۔ یہ وراثتی نہیں بلکہ پختوں خوا عوامی ملّی پارٹی کے منجھے ہوئے بالغ ممبران ورکنگ کمیٹی کا فیصلہ تھا۔

سیاست میں اپنے پیاروں کی قربانیاں دینے اور لمبی لمبی قید کاٹنے والے سیاست دانوں کو وراثتی سیاست کرنے کا طعنہ دینے والے کے اپنے میڈیا گروپ کا جو کہ ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی کی پروڈکٹ ہے میں خود وہ چیف ایڈیٹر ہیں، انگریزی اخبار نکالا تو اسے چلانے کے امریکہ تربیت لینے کے لیے اپنے مرحوم بیٹے کو بھیجا اور اسے “دا پوسٹ” کا چیف ایڈیٹر بنایا۔ اب روزنامہ خبریں کا ایڈیٹر “امتنان شاہد” سگا بیٹا ہے۔ جو اسی میڈیا گروپ کے ٹی وی چینل فائیو نیوز کا سی ای او بھی ہے۔ اپنی بہو اور پوتے کو بھی اسی میڈیا گروپ میں عہدے بانٹے ہوئے ہیں۔ کیا یہ اقربا پروری نہیں ہے؟ ایجنٹی اور دلالی کے جھوٹے الزامات پر اگر ترکی بہ ترکی اور شورش کاشمیری اسلوب میں جواب دیا تو ضیاء شاہد کی سماعتوں پر وہ بہت گراں گزرے گا حالانکہ جب شورش کاشمیری خود اپنی زبان سے اس اسلوب میں بات کیا کرتے تھے تو موصوف خوب سر دھنا کرتے تھے۔

ضیاء شاہد سے یہ سوال بھی کیا جاسکتا ہے کہ جن لیڈروں کو وہ غدار اور غیر ملکی ایجنٹ گردانتے نہیں تھکتے کیا ان لیڈروں نے 25 اکتوبر کی رات مشرقی پاکستان پر چڑھائی کی تھی؟ کیا بنگالیوں کی عورتوں پر پاکستانی فوجی چڑھانے کی شرمناک باتیں کرنے والا جنرل نیازی نیپ کا تھا؟

کیا پاکستان کے سیاست دان یہ سوال کرنے میں حق بجانب نہیں ہیں کہ جن جہادی دہشت گردوں نے پاکستان کے ایک لاکھ معصوم شہریوں کو دہشت گردی کرکے شہید کیا کیا وہ جہادی عوامی نیشنل پارٹی یا میپ نے بنائے تھے؟ کیا اے پی ایس پشاور میں خون کی ہولی کھیلنے والوں کا ترجمان احسان اللہ احسان کو سرکاری مہمان پشتونوں ، سندھیوں، سرائیکیوں نے بنایا تھا یا بلوچ سیاست دانوں نے بنایا تھا؟ کیا اسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد میں پی ڈی ایم میں شامل سیاست دان لیکر آئے تھے؟ اور پھر کیا اس کی مخبری انھوں نے کی تھی؟

ضیاء شاہد پاکستان کی ان جمہوریت کش اور عوام دشمن قوتوں کی ترجمانی کرتے ہیں جنھوں نے پہلے سہروردی کو گاندھی کا چیلا اور ایجنٹ کہا اور پھر اسے وزیراعظم بنادیا۔ یہ ان قوتوں کے بھی ترجمان ہیں جنھوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں نیپ اور جمعیت علمائے اسلام کی اتحادی حکومتوں کو پاکستان دشمن قرار دے کر ان کے خلاف سازش و بغاوت کا کیس کیا جو حیدرآباد سازش کیس کے نام سے مشہور ہے اور انھی قوتوں نے بعد ازاں غدار کہے جانے والے لیڈروں میں سے کئی ایک کو پی این اے میں شامل کروادیا جن میں ولی خان کی بیگم نسیم ولی خان اور سردار شیر باز مزاری بھی شامل تھے۔ جب یہ پی این اے میں شامل ہوئے تو یہی ضیا شاہد اور ان کے ساتھی مجیب الرحمان شامی پی این اے کو بھٹو کی فسطائیت سے نجات دلانے والی قوت قرار دینے میں سب سے آگے تھے۔ ضیاء شاہد کیا ہمیں دکھاسکتے ہیں کہ انہوں نے اس زمانے میں کبھی “صحافت” میں یا پھر نوآئے وقت میں یا روزنامہ جنگ میں کبھی پی این اے کے صدر مفتی محمود سے یا دیگر جماعتوں کے صدور سے پوچھا تھا کہ نسیم ولی خان جیسے غدار اس اتحاد میں کیا کررہے تھے؟ یہی ولی خان جب جنرل ضیاء الحق سے کہہ رہے تھے کہ انتخاب سے پہلے احتساب کرو اور انتخابات کو “احتساب” پر قربان کرنا چاہتے تھے تو اس زمانے میں یہ ولی خان “غدار” کیوں نہ ٹھہرا؟ اور آپ کی ضیاء الحق سے محبت میں کمی کیوں نہ آئی؟ جن قوتوں کے کہنے پر آپ جیسے صحافی جناح پور کا چورن بیچتے رہے وہی جب ایم کیو ایم بنارہے تھے یا اسے مشرف کے زمانے میں خوب نواز رہے تھے تو یہ کیوں نہ پوچھا کہ کل جو غدار تھے وہ آج اسٹبلشمنٹ کے پیارے کیسے ہوگئے؟ جب ضیاء شاہد مسلم لیگ نواز میں شامل ہوئے تو عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ وہ اتحاد میں تھی اور نیپ کی باقیات سردار اختر مینگل بلوچستان کے چیف منسٹر تھے۔ اس زمانے میں جب روزنامہ خبریں نواز لیگ کا ترجمان بن چکا تھا آپ کی تحقیق کہاں چھپی رہ گئی تھی؟ نواز شریف کی کھلی کہچری میں اگر آپ سے ذلالت بھرا سلوک نہ ہوتا اور نواز شریف آپ کو بھی وہی مقام دے ڈالتے جو اس زمانے میں آپ کے رفیق مجیب الرحمان شامی، مجید نظامی، عبدالقادر حسن سمیت بہت سے قلم کاروں کو ملا ہوا تھا تو آپ کبھی وہاں سے نکلتے ہی نہ

ضیاء شاہد اس قبیلے کی صحافت کرتے ہیں جس نے ہر جمہوری تحریک کے خلاف اسٹبلشمنٹ کے پروپیگنڈے کو آگے بڑھایا اور عوام سے ووٹ لیکر آنے والوں کی کردار کشی کی۔

اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنے کی توفیق اگر کبھی ملے تو ضرور دیکھيے کہ ایک ایسے میڈیا گروپ کے آپ مالک ہیں جس نے بلیک میلنگ پر مبنی زرد صحافت کو ایک منظم تربیتی ادارہ فراہم کیا ہے۔ شریفوں کی پگڑیاں اچھالنا اور پاپا رازی صحافت کرنا یہی کچھ ہے آپ کے دامن میں۔ ساری عمر گھٹیا سازشی مفروضے بیچتے گزری ہے اور اب جب قبر میں پیر لٹکائے بیٹھے ہیں تب بھی وہی بے ڈھنگی چال ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here