قاضی نور احمد بلوچستان کے سیاسی کارکنوں کے لیے نیا نام ہرگز نہیں ہے لیکن پنجاب میں رہنے والوں کے لیے یہ نیا نام ہے۔ پاکستان کی کی شہری تعلیم یافتہ مڈل کلاس کے لیے تو سارا بلوچستان ہی اجنبی ہے۔ ان کی اکثریت آج بھی بلوچستان اور بلوچ قوم کے بارے میں جو جانتی اور محسوس کرتی ہے وہ بس سرکاری پروپیگنڈا ہی ہے۔

 

قاضی نور احمد نے اپنی سوانح عمری لکھی ہے۔ جسے علم و ادب پبلشر بک مال شاپ نمبر 13، اردو بازار کراچی نے شایع کیا ہے۔ مجھے کامریڈ رفیق کھوسہ کی خود نوشت کے ساتھ ہی یہ کتاب بھیجی گئی اور میں نے اس کتاب کا جس دن آخری صفحہ پڑھا، اس دن مجھے ملتان میں عوامی ورکرز پارٹی کے رہنما کامریڈ محمد علی بھارا کے تعزیتی ریفرنس اور بھائی قیصرعباس صابر ایڈوکیٹ کی کتاب کی تقریب رونمائی میں شریک ہونا تھا۔ اور شومئی قسمت یہی وہ دن تھا جس دن بی ایس او کی سابق مرکزی چئیرپرسن کریمہ حبیب بلوچ کا جنازہ کینڈا سے کراچی پہنچنا تھا- جو پہنچا تو ضرور لیکن اسلام آباد مرکز میں بیٹھی سیکورٹی اسٹبلشمنٹ نے اس میت کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جو یہ اس سے پہلے یہ بھٹو اور نواب اکبر بگٹی کی میتوں کے ساتھ کرچکی تھی۔ اس نے نواب خیر بخش مری کے جنازے کو بھی ہائی جیک کرنے کی کوشش کی تھی۔ بلوچ قوم کی نوجوان عورتوں، مردوں، بوڑھوں اور نہایت چھوٹے بچے بچیوں نے کراچی سے لیکر بلوچستان کے کئی ایک علاقوں میں سے تمپ جانے والے راستے ڈی چوک تربت پہ جمع ہوکر اپنی خاتون رہنما کے ساتھ اظہار یک جہتی کی جو مثال قائم کی اس نے باقی اقوام کے جمہوریت پسندوں، قوم پرستوں اور سوشلسٹوں عوام کے سامنے یہ سوال ضرور چھوڑ دیا ہے کہ اس موقعہ پر وہ اپنی غیر حاضری کی کیا تاویل پیش کریں گے؟

قاضی نور محمد یکم جولائی 1949ء میں بلوچستان کے ضلع کیچ کے ایک گاؤں پیدارک میں پیدا ہوئے اور بطور ڈپٹی سوشل ویلفئیر افسر کیچ 2009ء میں ریٹائرڈ ہوئے۔ قاضی نور محمد طالب علمی کے زمانہ سے سیاست سے وابستہ ہوئے اور جب وہ گورنمنٹ ہائی اسکول قلات میں جماعت نہم کے طالب علم تھے تو ان کو پتا چلا کہ ایوب خان مستونگ آرہے ہیں تو قاضی نور احمد نے اپنے بڑے بھائی عبدالحمید سے کہا کہ یہ وہی ایوب خان ہے جس نے قلات ریاست پر حملہ کیا، خان معظم کے محل اور مسجد کو تباہ کیا۔۔۔۔۔۔۔ ان کے بھائی نے ان کو راستا سجھایا اور رات بھر بیٹھ کر قاضی نور احمد نے ایوب خان کے خلاف پمفلٹ لکھا اور اس کی دستی نقول تیار کیں اور اگلے دن دونوں بھائیوں نے اس پمفلٹ کو قلات بازار میں تقسیم کردیا۔ قاضی نور احمد اس پمفلٹ کو لکھنے کی سازش میں گرفتار ہوسکتے تھے لیکن ان کا جرم حسین بخش بنگلزئی نے قبول کرلیا جو بعد ازاں سینٹ کے ممبر بھی بنے۔

سن 1967ء میں قاضی نور احمد کراچی چلے آئے اور گورنمنٹ اسلامیہ کالج کراچی میں داخلہ لے لیا۔ اور اسی سال نومبر میں گورنمنٹ خیر محمد ندوی ہائی اسکول میں “بلوچ اسٹوڈنٹس ایجوکیشنل آرگنائزیشن ” کے سالانہ انتخابات ہونے تھے۔ 26 نومبر کو یہ انتخابات نوالین میں واقع اسکول میں ہونا طے پائے تھے، بعد ازاں ان کا مقام بدل کر “کیٹرک ہال” کیا گیا اور وہاں بھی یہ نہ ہوسکے۔ اور اس دوران تنظیم کا نام ” بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن”(بی ایس او) رکھنے کا فیصلہ کرلیا گیا تھا۔ قاضی نور احمد کے بقول اس وقت سوویت یونین کے سفارت خانے میں کام کرنے والے کامریڈ قادر بخش نظامانی نے چند بلوچ طلباء کو اکٹھا کرکے بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے لوالین میں منعقد ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے اور نیپ سے ہٹ کر نئی بی ایس او بنانے کا کہا اور اس گروہ کے سرکردہ رحیم الظفر تھے اور یہ رحیم الظفر قاضی نور احمد کو بھی دعوت دینے پہنچے۔ وہاں ناخوشگوار واقعہ پیش آیا جس کے بعد اس گروہ کے دو اور لوگ نظامانی کی تجویز کے مخالف ہوگئے۔ بہرحال جس روز الیکشن ہونا تھےاس دن مغربی پاکستان کے گورنر نواب امیر محمد خان آف کالا باغ قتل ہوگئے اور اسکول و کیٹرک ہال میں انتخابات نہ ہوسکے کیونکہ وہ بند کردیے گئے اور یہ انتخابات گاندھی گارڈن میں سردار عطاء اللہ مینگل کی رہائش گاہ پہ ہوئے جس میں بی ایس او کے پہلے صدر ڈاکٹر عبدالحئی اور جنرل سیکرٹری بیزن بزنجو(میر غوث بخش بزنجو کے یٹے) منتخب کرلیے گئے۔ جبکہ کچھ عرصے بعد 68ء میں رحیم الظفر کی قیادت میں بی ایس او- اینٹی سردار قائم کی گئی۔ یہ بی ایس او اینٹی سردار بعد ازاں پاکستان پیپلزپارٹی کی حمایتی بن گئی اور اس کی داستان رحیم الظفر نے اپنی چار جلدوں میں شایع ہونے والی خود نوشت “سنگ لرزاں” میں لکھی ہے۔

یہ وہ وقت تھا جب ٹھیک چار دن بعد 30 نومبر 1967ء کو لاہور میں گلبرگ میں واقع ڈاکٹر مبشر حسن کی کوٹھی میں سیاسی کارکنوں کا جو مختلف گروپوں سے تعلق رکھتے اکٹھے ہوئے۔ دو روزہ کنونش کے آخری دن 30 دسمبر کو ایک نئی سیاسی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کی بنیاد رکھی گئی۔

قاضی نور احمد نے ایف ایس سی کے امتحان میں فیل ہوجانے کے بعد اسلامیہ کالج چھوڑ دیا اور وہ ایس ایم کالج چلے گئے۔ اگرچہ انہوں نے ماہ و سن تو نہیں لکھے لیکن قرائن بتاتے ہیں کہ 1968ء کا سال شروع ہوچکا تھا۔ اور اسی سال کے وسط میں نیپ ولی خان نے ریگل چوک میں ایوب خان کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا تھا جس میں حبیب جالب نے اپنی مشہور نظم “صدر ایوب زندہ باد” پڑھی تھی- قاضی نور احمد اس جلسے میں موجود تھے اور ان کا کہنا ہے کہ جب جب حبیب جالب ٹیپ کا فقرہ “صدر ایوب زندہ باد” پڑھتے تو مجمع “ایوب خان مردہ باد” کا نعرہ لگاتا تھا۔

قاضی نور احمد نے 70 کلفٹن پر بھٹو صاحب سے اپنی ملاقات کا احوال بھی لکھا ہے۔ جس طرح سے بھٹو صاحب نے ان کا سواگت کیا اور واپسی پہ 500 روپے کا لفافہ بھی دیا اور ان کو پی پی پی میں شمولیت کی دعوت دی، وہ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ پھر بھٹو صاحب سے قاضی نور احمد کا ٹاکرا تربت میں ہوا جہاں وہ سوشل ویلفئیر افسر کے طور پر تعینات تھے اور ایک قطار میں کھڑے تھے جب ڈپٹی کمشنر تربت نے ان کا تعارف کرانا چاہا تو بھٹو نے انگریزی میں کہا کہ میں ان کو جانتا ہوں اور پھر کہا کہ اس سے سرکاری نوکری چھڑاؤ اور اسے پارٹی میں لاؤ۔ قاضی نور احمد نے یہ بھی لکھا ہے کراچی قیام کے دوران جب نومبر 1968ء(یہ تاریخ بھی انھوں نے نہیں لکھی) بھٹو صاحب کو گرفتار کرلیا گیا تو ان کی پیپلزپارٹی کے لوگوں سے سخت تلخ کلامی ہوگئی اس وقت جب انھوں نے بھٹو پر الزام لگایا کہ وہ انھوں نے 500 روپے کے عوض ان کی وفاداریاں خریدنے کی کوشش کی تھی اور نیپ چھوڑنے کا کہا تھا۔

قاضی نور احمد نے 74ء میں بلوچستان میں فوجی آپریشن اور بھٹو حکومت کا نیپ اور جے یو آئی کے خلاف کریک ڈاؤن کا ذکر بھی تفصیل سے کیا ہے۔ اور پھر جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے دنوں کا زکر بھی کیا۔ اور یہ بھی بتایا ہے کہ کیسے اس زمانے میں کئی ایک پشتون و بلوچ رہنماؤں نے ضیاء الحق سے امیدیں استوار کرلیں تھیں اور بھٹو دشمنی میں بہت آگے نکل گئے تھے۔

قاضی نور احمد فوجی آپریشن کے دوران ایک مقدمے میں نامزد ہوئے تو کیسے انہوں نے مفروری کاٹی اور پھر پتا چلا کہ وہ تو پہلی انکوائری میں بے گناہ قرار پاگئے تھے۔ اس کتاب میں انہوں نے ضیاء الحقی مارشل لا کے دوران بلوچ، پشتون قوم پرستوں اور لیفٹ کے اتحاد پہ مبنی کالعدم نیپ کا شیرازہ بکھرنے پہ بھی لکھا ہے۔ کیسے پہلے این ڈی پی بنی اور پھر اے این پی اور پھر بزنجو صاحب نے پاکستان نیشنل پارٹی بنائی اور وہ ایم آر ڈی کا حصّہ بنی۔ وہ بہت تفصیل سے بی ایس او کی پیٹی بورژوازی قیادت کی مبینہ بزدلی اور موقعہ پرستی کا ذکر بھی کرتے ہیں۔ وہ میر غوث بخش بزنجو کے ساتھ ان کے اپنے ہی شاگردوں کا 1988ء میں دغا کرنا بھی زیر بحث لائے ہیں۔

اپنے ذاتی حال احوال کے ساتھ ساتھ انہوں نے بلوچستان کی سیاست سے جڑے اہم واقعات اور حالات کا بیان بھی انتہائی شستہ اور سلیس اردو میں کیا ہے۔ بلوچ سیاست پر یہ کتاب انتہائی اہم دستاویز بن جاتی ہے۔ اور اسے ہر سیاست سے دلچسپی رکھنے والے کو پڑھنے کی ضرورت ہے۔
کتاب خریدنے کے لیے علم و ادب پبلشر کے درج ذیل نمبر پہ رابطہ کیا جاسکتا ہے:
+92 335 7466850
(یہ وٹس ایپ نمبر بھی ہے)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here