پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے قومی اسمبلی سے سینٹ الیکشن کے لیے اعلانیہ رائے شماری کرانے کے لیے متعارف کرائے جانے والے قانونی بل کی منظوری کے لیے دو دن کی ناکام کوششوں کے بعد صدارتی آرڈیننس کا سہارا لیا ہے۔ صدر پاکستان عارف علوی نے “الیکشن ترمیمی آرڈیننس 2021 جاری کیا ہے۔ اس بل کی ایک صفحے کی سمری وفاقی حکومت نے شایع کی ہے۔ سمری میں دلچسپ عبارت یہ درج ہے کہ الیکشن ترمیمی آرڈیننس میں الیکشن ایکٹ کی شق 122 میں ترمیم سپریم کورٹ کے فیصلے سے مشروط ہے۔ جبکہ ساتھ ہی آرڈیننس کو فی الفور نافذ العمل بھی قرار دیا گیا ہے۔ حکومت نے جمعے کو ہی کابینہ سے آرڈیننس کی منظوری لے لی تھی۔

حکومت سینٹ کے انتخابات (جن کا شیڈول فروری میں الیکشن کمیشن نے کرنا ہے) میں خفیہ رائے شماری سے عدم تحفظ کا شکار نظرآتی ہے۔ اس سلسلے میں پہلے اس نے اپوزیشن کو رام کرنے کی کوشش کی – اس کے بعد صدر پاکستان عارف علوی نے ایک ریفرنس سپریم کورٹ کو بھیج دیا اور سپریم کورٹ سے یہ تشریح چاہی کہ کیا آئین کی شق 122 کا اطلاق سینٹ انتخابات پر بھی ہوتا ہے جس کا فیصلہ ابھی آنا باقی ہے۔ لیکن سپریم کورٹ میں جاری سماعت کے دوران ججز کے ریمارکس سے حکومتی ایوان میں بے چینی پھیل گئی اور بعد ازاں حکومت نے بل کو پارلیمنٹ سے منظور کرانے کی کوشش کی جو ناکام ہوئی اور اب حکومت صدارتی آرڈیننس لے آئی ہے جس میں اعلانیہ رائے شماری کی ترمیم کو سپریم کورٹ کے فیصلے سے مشروط کردیا گیا اور ساتھ ہی اس میں یہ بھی ترمیم کی گئی کہ اگر خفیہ رائے شماری ہوئی تو کوئی بھی پارلیمانی جماعت کا سربراہ کسی بھی بیلٹ پیپر کو دکھانے کی مانگ الیکشن کمیشن سے کرسکتا ہے اور الیکشن کمیشن اسے دکھانے کا پابند ہوگا۔

حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پاکستان جمہوری تحریک – پی ڈی ایم نے صدارتی آرڈیننس کو مسترد کردیا ہے اور اسے سپریم کورٹ کو ڈکٹیٹ کرانے کے کی کوشش قرار دیا ہے۔ جبکہ پاکستان کے معروف اور تجربہ کار قانونی معاہرین کی اکثریت نے اس آرڈیننس میں ترمیم کو سپریم کورٹ کے فیصلے سے مشروط کرنے کے عمل کو مفروضاتی قانون سازی قرار دیا ہے۔

بظاہر ایسا نظر آرہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو سینٹ کے انتخابات میں اپنے کئی اراکین اسمبلی پر اعتماد نہیں ہے اور پاکستان تحریک انصاف کےاندر موجود دھڑے بندیوں سے وہ سخت خوفزدہ بھی نظر آتی ہے۔ جبکہ ایسی اطلاعات بھی سامنے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کو خدشہ ہے کہ اس کی اتحادی جماعت مسلم لیگ قائداعظم بھی اپوزیشن کے اراکین کو ووٹ دے سکتی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے عجلت میں اٹھائے گئے اقدامات سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ حکومتی مشیر ، وزرا اور ترجمان گزشتہ پونے تین سالوں میں اپوزیشن جماعتوں اور خاص طور پہ مسلم لیگ نواز اور پی پی پی کے اراکین پارلیمنٹ کو توڑنے اور نواز لیگ کے دانت کھٹے کرنے کے جو دعوے کیے وہ دعوے سچائی کی صورت میں سامنے نہیں آئے اور اب فرسٹریشن میں “اوٹ پٹانگ” قدم اٹھارہے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here