The officers had challenged their sentences through their counsels Azam Nazir Tarar and Raja Ghanim Aabir

“پی ڈی ایم کی دو بڑی جماعتیں پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی  کے درمیان حالیہ خلیج کا سبب ماہر قانون اعظم نذیر تارڑ کا نواز لیگ کے ٹکٹ پہ پنجاب سے سینٹر منتخب ہونا ہے۔”

اس بات کا انکشاف پاکستان پیپلزپارٹی لاہور کے ایک سرکردہ رہنما نے کیا جو سابق صدر مملکت آصف علی زرداری اور چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کے انتہائی قریب سمجھے جاتے ہيں۔ انہوں نے کہا:

“سینٹ کے حالیہ انتخابات میں پنجاب کی نشستوں پہ مسلم لیگ نواز، مسلم لیگ قائداعظم اور پی ٹی آئی نے باہمی ڈیل اور اپنے حصّے میں پانچ نشستیں بلامقابلہ حاصل کرنے کی راہ ہموار کی اور بعد ازاں پی پی پی سے اپنے امیدوار کو دستبردار کرنے کو کہا گیا۔ پی پی پی کی قیادت کے سامنے جب مسلم لیگ نواز کے پانچ ممکنہ سینٹرز کی لسٹ دیکھی تو ایک نام پہ انھیں سخت اعتراض تھا۔ آصف علی زرداری نے بلاول بھٹو زرداری سے کہا کہ وہ فوری میاں محمد نواز شریف اور مریم نواز سے متنازع شخص کی نامزدگی واپس لینے کو کہیں- وہ متنازع شخص کی بطور سینٹر نامزدگی واپس لییں اور اس کی جگہ ایسا نام دیں جو غیر متنازع ہو۔ بلاول بھٹو زرداری نے مریم نواز سمییت مسلم لیگ نواز کی قیادت کو پیغام دیا کہ شہید بے نظیر بھٹو کے قتل کیس میں فرانزک ثبوت دھو ڈالنے والے پولیس افسران خرم شہزاد اور سعود عزیز کی وکالت کرنے والے  اعظم نذیر تارڈ کو وہ بطور سینٹر قبول نہیں کرتے اس سے ٹکٹ واپس لیا جائے۔ اعظم نذیر تارڑ ایڈوکیٹ نے بے نظیر بھٹو قتل کیس میں نامزد ملزم پولیس افسران خرم شہزاد ایس پی راول اسلام آباد اور سی پی او اسلام آباد سعود عزیژ کی وکالت کی اور پی پی پی کے پاس ایسے ثبوت ہیں کہ اعظم نذیر تارڑ ایڈوکیٹ نے یہ تعاون اسٹبلشمنٹ میں مشرف کی ہمدرد لابی کے اشارے پہ فراہم کیا- 2017ء میں جب عدالت نے ناکافی ثبوت کی بنا پہ ایس پی شہزاد کو رہا کیا تو مسلم لیگ نواز کی حکومت نے اسے ایس پی سیپشل برانچ تعینات کردیا۔ اس وقت بھی پی پی پی کی قیادت نے اس پہ سخت اعتراض کیا تھا۔ مسلم لیگ نواز کی قیادت نے بلاول بھٹو زرداری کو پیغام دیا کہ اعظم نذیر تارڑ ایڈوکیٹ کی بطور سینٹر نامزدگی نواز لیگ کے قائد میاں محمد نواز شریف کی خصوصی ہدایت پہ ہوئی ہے۔ پی پی پی کے لیے اگلا سرپرائز سینٹ الیکشن کے بعد سینٹر اعظم نذیر تارڑ کا نام سینٹ میں اپوزیشن لیڈر کے طور پہ پیش کیا جانا ہے جس پہ پی پی پی کے شریک جئیرمین آصف علی زرداری نے سخت اظہار ناراضگی اور اس فیصلے کو قطعی نہ ماننے کا عندیہ دے ڈالا ہے۔”

ادھر باوثوق زرایع سے پتا چلا ہے کہ اعظم نذیر تارڑ سابق وفاقی سیکرٹری کیبنٹ ڈويژن اخلاق احمد تارڑ کے سگے بھتیجے ہیں اور وہ سابق صدر مملکت رفیق تارڑ کے بھی دور پار کے عزیز ہیں اور ان کے آبائی چک سے تعلق رکھتے ہیں اور سینٹ کی ٹکٹ کے لیے ان کے سفارشی بھی رفیق تارڑ ہی ہیں۔

پی پی پی کے زرایع کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے مسلم لیگ نواز نے سابق صدر آصف علی زرداری کی زبان کاٹنے اور ان پہ بہیمانہ تشدد کرنے کے الزام میں مقدمے میں نامزد سابق آئی جی سندھ رانا مقبول کو سینٹر منتخب کرایا تھا جس پہ بھی پی پی پی نے سخت اظہار ناراضگی کیا تھا۔ اب یہ اعظم نذیر تارڑ کا معاملہ سامنے آگیا ہے۔

ادھر پی پی پی کے مرکزی میڈیا سیل ٹیم کے ایک رکن نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پہ بتلایا کہ 16 مارچ 2021ء کو مسلم لیگ نواز کی میزبانی میں پی ڈی ایم کے اجلاس کی اندرونی کاروائی مسخ کرکے میڈیا کو دینے کا الزام بھی نواز ليگ پہ لگایا جارہا ہے۔

پی پی پی کے زرایع کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایسی مصدقہ اطلاعات ہیں کہ مسلم لیگ نواز کے شعبہ اطلاعات و نشریات کی ایک اہم شخصیت نے پی ڈی ایم کے اجلاس کے بعد پریس ٹاک کا انتظار کیے بغیر دوران اجلاس ہی آصف علی زرداری کی بات چیت کو تروڑ مروڑ کر اور مریم نواز کی گفتگو بنا سنوار کر میڈیا کو پہنچائی جس کا مقصد پی پی پی کے امیج کو مسخ کرنا اور انھیں دباؤ میں لاکر لانگ مارچ سے پہلے استعفے دینے پہ مجبور کرنا تھا لیکن پی پی پی  پھر بھی مان کر نہیں دی بلکہ اس نے استعفے پی پی پی کی سی ای سی سے منظوری سے مشروط کردیے۔

 

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے صحافی و تجزیہ کار کلدیپ سنگھ کا کہنا ہے:

 

” میاں نواز شریف پی ڈی ایم میں پہلے دن سے مہم جویانہ پوسچر کے ساتھ اپنی سودے بازی کی پوزیشن کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں اور اس کے لیے کندھا پی پی پی کا استعمال کررہے ہیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اگر پی پی پی کی سنٹرل ايکزیگٹو کمیٹی استعفے نہ دینے کا فیصلہ کرتی ہے تو نواز لیگ پی پی پی سے الگ ہوکر نام نہاد انقلابی راستا اختیار نہیں کرے گی اور پی پی پی کے ارتقائی راستے کو اپنا لے گی- ہاں اس دوران اپنے حامی میڈیا سیکشن کے زریعے پی پی پی کی کردار کشی کی مہم جاری رہے گی۔”

 

 

کیا پی ڈی ایم ٹوٹ جائے گا؟ یا نواز لیگ پی ڈی ایم کے اکثریتی رائے کے بل بوتے پہ پی پی پی کوپی ڈی ایم سے اپنی راہیں الگ کرنے پہ مجبور کردے گی؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک تجزیہ کار کا کہنا تھا،” پی ڈی ایم سے اگر پی پی پی نکل گئی سلیکٹر اور سہولت کار دونوں پہ موجود دباؤ ختم ہوجائے گا اور قوی امکان ہے کہ مسلم لیگ نواز کے ہارڈ لائنر بشمول مریم نواز گرفتاراور ایک بڑا گروپ قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین کا نواز لیگ کو خیرآباد کہنے جیسا منظر دیکھنے کو مل جائے گا۔”

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here