“تم اس سے زیادہ کچھ کر بھی نہیں سکتے۔ تمہارے پاس یہی ایک راستا ہے۔ اس لیے ضمیر نام کے پرندے کو مار ڈالو۔ یہ پرندہ صرف تمہیں پریشان کرے گا۔ تمہیں روزگار نہیں دے گا”

مرگ انبوہ – ص193

مشرف عالم ذوقی کا ناول “مرگ انبوہ” میں نے حال ہی میں پڑھا ہے۔ ناول کا آغاز انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب میں سانس لے رہی نوجوان نسل کی زندگی مصروفیات اور ان کا اپنے سے پہلے والی نسل سے گہرے فاصلےسے ہوتا ہے۔ ابتدائی طور یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ ناول ہندوستان میں “زعفرانیت” اور اس کے سب سے بڑے ممکنہ ہدف بارے لکھا گیا ناول ہے لیکن اس کا اندازہ ہمیں پاشا مرزا کے والد جہانگیر مرزا کی ڈائری کے اوراق پڑھ کر ہوتا ہے- مشرف عالم ذوقی نے جہانگیر مرزا کے تخیل کے زریعے سے ہندؤ فاشزم کی انتہائی بدترین شکل کو دکھایا ہے جو ہندوستان میں مسلمانوں کی مکمل طور پہ نسل کشی اور دلت و مسیحوں کو واپس آریہ ورت میں لیکرآنا ہے۔ ناول میں ہمیں کہیں کہیں کافکائی تکنیک اور کسی جگہ طلسماتی حقیقت نگاری کی تکنیک کو کامیابی سے استعمال ملتا ہے اور ناول اپنی گرفت میں قاری کو لیے رکھتا ہے۔ جہانگیر مرزا جو نسلی اعتبار سے ترک مغلیہ خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ اور وہ نظریاتی اعتبار سے کمیونسٹ پارٹی کا رکن ہے اور کمیونسٹ آئیڈیالوجی کے زریعے سے وہ معاشرے میں پھیلے براہمن واد، نسل واد، سرمایہ واد اور جاتی واد کے خلاف اپنے قلم سے جدوجہد کرتا ہے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے صحافی ہے۔ اور وہ اپنے قلم کو کسی صورت برائے فروخت نہیں رکھتا لیکن اس دوران ہندوستان کو زعفرانیت اپنے نرغے میں لے لیتی ہے اور ہر شعبے میں وہ چھا جاتی ہے اور جو ذہین دماغ اس کے اگے سرنگوں نہیں ہوتا، اس کی روزی روٹی کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور وہ دیکھتا ہے کہ اس کا بیٹا پاشا مرزا اس سے نفرت کرنے لگتا ہے۔ وہ اپنی محرومیوں کا دوش اسے دیتا ہے۔ اس کی تعلیم آگے جاری رکھنے کے لیے اس کی بیوی سارہ اپنے زیور بیچ دیتی ہے اور جب اسسے بھی کام نہیں چلتا تو اس کا بیٹا پاشا مرزا ایک جاب کرکے اپنے تعلیمی اخراجات خود اٹھانے لگتا ہے۔ یہ دیکھ کر جہانگیر مرزا کو اپنی بے بسی کا شدید احساس ہوتا ہے۔ اسے اپنے آدرشوں جنکی وہ آج تک پاسداری کرتا آیا ہے فضول لگنے لگتے ہیں اور وہ اپنے بیٹے اور اپنی بیوی کو معاشی سکھ دینے کے لیے ہندؤ فاشزم کے سب سے سے بڑے پروپیگنڈا سنٹر میں جانے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اس کی ایک دوست تارا دیش پانڈے ہوتی ہے جس سے وہ اپنی پریشانی کا ذکر کرتا ہے تو وہ “بی مشن” کے سربراہ راکیش کو فون کرتی ہے اور اسے راکیش سے ملنے کا موقعہ ملتا ہے۔ اس ملاقات کے دوران اسے تین آپشن ملتے ہیں اور وہ سب سے آخری اور قدرے کم پرکشش آپشن قبول کرلیتا ہے۔ اور یہ آپشن ہوتا ہے ہندی، انگریزی اور اردو اخبارات میں شایع ہونے والے ایسے مواد کی چھانٹی کرکے اسے “بی مشن” کے اردو ترجمان رسالے “جیتنا” میں شایع کرنے کی نگرانی کرنا جو براہ راست زعفرانیت کو مدد دیتا ہو۔ ایک نامی گرامی مسلمان سیکولر کمیونسٹ جہانگیر مرزا خاموشی سے ہندؤ فاشزم کو آگے بڑھانے والے اردو رسالے کا ایڈیٹر انچیف بن جاتا ہے لیکن اس کا نام کہیں شایع نہیں ہوتا۔ جہانگیر مرزا کویہ کام کرنے کے دوران یہ پتا چلتا ہے کہ اس رسالے میں سرعام نام کے ساتھ کام کرنے والے بریلوی شاہنواز قادری، سلفی ناظر، مولانا فرقان اصل میں مسلمان نہیں ہیں بلکہ وہ موساد اکے ایجنٹ ہیں۔ یہ بات اسے بلوائی حملے (موب لنچنگ) کا شکار ہونے والے مولوی افضل کی بیٹی زرین بتاتی ہے جسے ایک ہندؤ بنیاد پرست سوامی نے اپنی رکھیل بناکر رکھا ہوتا ہے اور وہ بھی بی مشن کے لیے کام کررہی ہوتی ہے۔ شاہنواز قادری، فرقان احمداور ناظر بعد ازاں مین سٹریم ہندوستانی میڈیا پہ بطور مسلمان علماء کے طور پر :بی مشن” کے سب سے بڑے حامی بنکر نمودار ہوتے ہیں۔ جبکہ یہ تینوں عالم جہانگیر مرزا کے سامنے اسلام کے نظریہ رخصت سے مدد لیکر اپنی جان بچانے کے لیے زعفرانیت کے آگے جھک جانے کے عمل کا عذر پیش کرتے ہیں۔ مشرف عالم ذوقی کے اس ناول میں ہمیں ہندؤ فاشزم مسلمانوں کے درمیان تقسیم اور تفریق کا ذمہ دار دکھائی دیتا ہے جبکہ اس میں مسلمانوں کے اندر جو بنیاد پرستی، جہاد ازم، تکفیریت اور خارجیت ہے جو ہمیں مسلمانوں کے سب سے بڑے فرقوں کے اندر سے نکلتی نظر آتی ہے اس کا کوئی نشان نہیں ملتا۔ مشرف عالم ذوقی کا ایک ناول “مسلمان” کے نام سے 1992ء میں ہندی میں شایع ہوا تھا اور پھر یہ 11 سال بعد اردو میں شایع ہوا تو اس کے اردو اور ہندی دونوں دیباچوں میں مشرف عالم ذوقی نے “اسلامی آتنک واد” اور “مسلم آتنک واد” جیسی اصطلاحوں کو “نسل پرستانہ” قرار دیا لیکن وہ “مرگ انبوہ” میں “ہندؤ طالبانیت” اور “ہندؤ راشٹر” کے ساتھ ساتھ “ہندؤ فاشزم” اور ” ہندؤ بنیاد پرست” جیسی اصطلاحیں استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ “مسلمان” کے عنوان سے ناول لکھے جانے کا دفاع کرتے ہیں اور ایسے ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ ہندوستان میں “ہندوتوا” کا مشن “مسلمان نسل کشی” ہے۔ وہ اپنے کرداروں کے زریعے سے اور اس میں واقعات کے رونما ہوتے دکھانے کے راستے سے یہ دکھاتے ہیں کہ کیسے ہندوستان کی ریاست اور اس کے جملہ ادارے “زعفرانیت” کے آگے سرنگوں ہوگئے ہیں اور اس میں انتظامیہ، مقننہ، عدلیہ اور میڈیا چاروں شامل ہیں۔ اس ناول کو پاکستان میں سنگ میل پبلیکیشنز لاہور نے 2020ء میں شایع کیا اور ہندوستان میں یہ 2019ء میں شایع ہوا۔ مشرف عالم ذوقی کہتے ہیں کہ انھیں یہ ناول لکھنے میں پانچ سال لگ گئے جبکہ اس موضوع پہ ان کا پہلا ناول “نالہ شب گیر” دو ہزار چودہ میں شایع ہوا تھا۔ مشرف عالم ذوقی اس ناول کے آخر میں اپنے ایک مضمون میں ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت زار پہ بات کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ “مسلمان ہونا جرم بن گیا ہے”۔

مشرف عالم ذوقی نے فکشن اور نان فکشن تحریروں میں “مسلمان سوال” کو جیسے ٹریٹ کیا ہے، اس پہ انھیں پاکستان اور ہندوستان کے ادبی اور غیر ادبی حلقوں سے بے پناہ داد ملی ہے اور یہ داد انھیں ملنی بھی جاہئیے۔ جبکہ ہندوستان میں ایک سیکشن نے ان پہ تعصب اور نسل پرستی کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ میرے ذہن میں یہاں پہ یہ سوال بھی گردش کررہا ہے کہ جیسے مشرف عالم زوقی نے ہندوستان میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے عروج اور ایسے ہی ہندوستانی سماج میں ہندؤتوا کے نظریے کے گراس روٹ لیول تک مقبول ہونے کے تناظر میں “مسلمان” کو کمتر بنائے جانے سے نسل کشی تک پہنچ جانے والے سلسلے کو فکشن کا موضوع بنایا ویسے پاکستان کے اردو اور انگریزی میں لکھنے والے ادیبوں نے پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کو کمتر بنائے جانے اور 1980ء سے 2020ء تک خاص طور پہ پاکستانی شیعہ مسلمانوں کو کمتر بنائے جانے سے لیکر ان کی نسل کشی تک پہنچ جانے والے منظم پراسس کو فکشن کا موضوع کیوں نہ بنایا؟ بڑے بڑے واقعات رونما ہوئے لیکن ہمیں کسی ایک ناول نگار کی طرف سے ناول”شیعہ” عنوان سے لکھا نہیں ملا اور نہ ہی کسی نے اس کو اپنے فکشن میں ایسے ٹریٹ کیا جیسے مشرف ذوقی نے ہندوستانی مسلمانوں پہ مبنی فکشن کو ٹریٹ کیا، کیوں؟

میں نے بطور ایک ترقی پسند لکھاری کے پاکستانی اردو اور انگریزی فکشن نگاروں کے ہاں اس غفلت اور بے نیازی کا بار بار تذکرہ کیا۔ اس موضوع پہ آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی نژاد عباس زیدی نے کئی بار شکوہ شکایت کی اور انھوں نے تو اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ کیسے ہندوستانی اور پاکستانی انگریزی اور اردو میں لکھنے والے معروف نام متعصب اور جانبدار رویے اختیار کیے پائے گئے ہیں۔ وہ کئی ایک انگریزی میں لکھنے والے پاکستانی نژاد لکھاریوں سے اس حوالے سے اپنے مکالموں کا زکر بھی کرتے ہیں اور ان کا زیر طبع ناول شیعہ سوال اور اس پہ پاکستان کی اربن تعلیم یافتہ مڈل کلاس رویوں اور کرداروں کے گرد ہی گھومتا ہے۔ جبکہ جہاد افغانستان اور پاکستان میں جہادی نیٹ ورک کی تعمیر کے پس منظر میں انھوں نے مسلم شیعہ اور مسلم صوفی سوالوں کو اپنے 2018ء میں روپا پبلیکیشنز دہلی سے شایع ہونے والے ناول میں ٹریٹ کیا ہے جس کا اردو ترجمہ ميں نے کیا اور وہ 2020ء میں عکش پبلیکیشنز لاہور سے شایع ہوا ہے لیکن پاکستان اور ہندوستان کے وہ ادبی حلقے جو مشرف عالم ذوقی کے ناول “مسلمان” اور “مرگ انبوہ” کی تعریف کرتے ہو‏ئے “کمیونل جانب داری” کے الزام سے نہیں ڈرے وہ عباس زیدی کے ناول کو نجانے کیوں زیربحث لانے سے ڈرے ہوئے ہیں؟

ناول میں پروف کی کئی غلطیاں ہیں جنھیں اگلے ایڈشن میں درست کیا جانا بہت ضروری ہے۔ 432 صفحات پہ مشتمل ناول کی قیمت 900 روپے ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here