حامد میر نے “باکمال شاعر ،لاجواب اپوزیشن لیڈر” کے عنوان سے ایک کالم لکھا ہے۔ اس کالم میں انھوں نے جو باتیں درج کیں ان کی بنیاد سابق وزیر اعظم اور اب سینٹ  میں اپوزیشن لیڈر سید یوسف رضا گیلانی کی کتاب “چاہ یوسف سے صدا” میں بیان واقعات پر رکھنے کا دعوا کیا ہے- اس کالم کے آغاز میں انھوں نے اس کتاب میں 1988ء کے انتخابات میں پی پی پی کے ٹکٹ کے حصول کی کہانی بیان یوں کی :

“جب پارٹی ٹکٹوں کا فیصلہ ہو رہا تھا تو پیپلز پارٹی ضلع ملتان کے صدر الطاف کھوکھر نے یوسف رضا گیلانی کی بجائے ریاض قریشی کو ٹکٹ دینے کی سفارش کی لیکن فیصلہ گیلانی صاحب کے حق میں ہو گیا۔”

کتاب سے سیاق و سباق کے بغیر یہ خلاصہ ایسے ظاہر کرتا ہے جیسے یوسف رضا گیلانی ضلعی صدر الطاف کھوکھر اور ضلعی تنظیم سے مشاورت کے بغیراور پارٹی سے مشاورت کے بغیر ملتان سے امیدوار بنے تھے جبکہ اس کتاب مين یوسف ڑضا گیلانی نے اس قصّے کے آغاز میں بتایا کہ کیسے وہ لودھراں سے قومی اسمبلی کا انتخابات لڑنا چاہتے تھے لیکن جہانگیر بدر نے ان کو مرزا ناصر علی کے حق میں لودھراں والا حلقہ چھوڑنے کو کہا کہ آپ تو جہاں سے لڑیں گے جیت جائیں گے تو ملتان کی سیٹ پہ وہ جہانگیر بدر کی خواہش پہ آئے۔ اور اسی قصّے کے شروع میں انھوں نے بتایا کہ ملتان سے قومی اسمبلی کی نشست پہ وہ ضلعی صدر ملک الطاف کھوکھر کو اعتماد میں لے چکے تھے لیکن اجلاس کے شروع ہوتے ہی انھوں نے اس حلقے کے لیے یوسف رضا کی جگہ ریاض حسین قریشی کا نام پیش کردیا۔ دوسرا پی پی پی میں بے نظیر بھٹو سے رابطہ کی تفصیل بھی انھوں نے بیان کی ہے جو جونیجو کے دور میں ہی ہوگیا تھا۔ ان کو استعفا دینے اور پارٹی کے عہدے داروں سے ملنے کو روکا گیا تاکہ مناسب وقت پہ ان کے استعفے کا کارڈ کھیلا جاسکے۔

 

سید یوسف رضا گیلانی کی کتاب چاہ یوسف سے صدا میں نواز شریف کو مفاہمت کی دعوت دینے کا خیال بے ںظیر بھٹو کا تھا جس کے لیے انھوں نے ملک قاسم اور یوسف رضا گیلانی کو مقرر کیا تھا اور یہ دونوں جب لاہور اس مقصد کے لیے پہنچے تو نواز شریف نے یوسف رضا گیلانی کو اکیلے آنے کا کہا، یوسف رضا گیلانی نے ملک قاسم اور بے نظیر بھٹو دونوں کو اعتماد میں لیا اور تب گئے نواز شریف کے پاس اور وہاں نواز شریف نے ان کو ضامن بنایا کہ وزیر اعظم پہ انھیں اعتماد نہیں ہے اگر وزیر اعظم نے دھوکہ دیا تو وہ پی پی پی چھوڑ کر ان کے ساتھ شامل ہوجائیں گے –

 

 

 

 

اب دیکھیں حامد میر اس کے الٹ لکھ رہا ہے

 “یہ وہ زمانہ تھا جب مرکزی حکومت شریف خاندان کے کاروبار کو تباہ کرنے پر تلی بیٹھی تھی اور پنجاب حکومت ’’جاگ پنجابی جاگ‘‘ کا نعرہ لگا رہی تھی۔ نواز شریف مرکزی حکومت کے ساتھ مفاہمت کیلئے تیار تھے لیکن انہیں فریقین کے مابین کسی ضامن کی تلاش تھی۔ اس زمانے میں صدر مملکت بہت طاقتور ہوا کرتے تھے اور ذرا سی ناراضی پر اسمبلیاں توڑ ڈالتے تھے۔

نواز شریف اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان کو قابلِ اعتماد ضامن نہیں سمجھتے تھے۔ لہٰذا انہوں نے یوسف رضا گیلانی کو اپنا ضامن بنا دیا۔ شرط صرف یہ تھی کہ اگر وزیراعظم نے دوبارہ پنجاب حکومت کے ساتھ وعدہ خلافی کی تو گیلانی صاحب کو پیپلز پارٹی چھوڑنا ہو گی۔

جب محترمہ بےنظیر بھٹو کو پتہ چلا کہ نواز شریف نے یوسف رضا گیلانی کو اپنا ضامن بنایا ہے تو وہ حیران رہ گئیں۔”

اب اس سے اندازہ کرلیں کہ حامد میر نے چونکہ یوسف رضا گیلانی کی کردار کشی کا ذہن بنالیا تھا تو انھوں نے بے نظیر بھٹو کی طرف سے بھیجے جانے والی مفاہمت کی تجویز کو نواز شریف کی تجویز بنادیا۔ یہ بھی یاد رہے کہ یہ بے نظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت کی بات ہورہی ہے۔ سب سے پہلے محاذ آرائی تو نواز شریف نے شروع کی تھی اور “جاگ پنجابی جاگ” کا نعرہ تو نواز شریف نے 1988ء میں قومی اسمبلی کے انتخابات ہار جانے کے بعد پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے وقت لگایا تھا ڈر تھا کہ کہیں پنجاب بھی نہ چلا جائے۔ اور اس دور میں پی پی پی کے وفاقی وزرا پہ پنجاب حکومت نے فوجداری مقدمات درج کررکھے تھے اور وفاقی وز؛ر محنت سمیت کئی وفاقی وزرا پنجاب اور اپنے حلقوں میں آ نہیں سکتے تھے۔ (حامد میر کا حافظہ یقینا خراب نہیں ہے بلکہ انھوں نے جان بوجھ کر حقائق مسخ کیے) وہ آگے لکھتے ہیں:

“گیلانی صاحب کا مزید کمال یہ تھا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کے درمیان ضامن بننے کے بعد بھی دونوں میں معاملات ٹھیک نہ ہوئے۔ نہ گیلانی صاحب نے پیپلز پارٹی چھوڑی نہ نواز شریف نے طاقتور اداروں کے ساتھ مل کر سازشیں کرنا چھوڑیں اور آخر کار صدر غلام اسحاق خان نے محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت کو برطرف کر دیا۔”

نواز شریف نے جب خود ہی بقول ان کے طاقتور اداروں کے ساتھ مل کر سازشیں نہ  چھوڑیں(وہ اسامہ بن لادن پیسے لیکر بے نظیر بھٹو کے خلاف عدم اعتماد لائے اور انھوں نے بدترین کردار کشی کی بے نظیر بھٹو اور پی پی پی کی) تو سید یوسف رضا گیلانی پی پی پی کیوں چھوڑ دیتے۔ کس قدر مہمل فقرے لکھے ہیں گیلانی صاحب کو وعدہ خلاف ثابت کرنے کے لیے حامد میر نے ۔

اس سے آگے وہ یوسف رضا گیلانی کا اپنے تئیں ایک اور جھوٹ سامنے لائے :

ایک دن وزیراعظم صاحبہ نے شیخ زین بن سلطان النیہان کے اعزاز میں ایک ظہرانہ دیا۔

وزیراعظم مہمان کے دائیں اور گیلانی بائیں جانب بیٹھے ہوئے تھے۔ وزیراعظم نے بڑے فخر سے شیخ زید کو بتایا کہ میرے اسپیکر صاحب کا تعلق ایک بڑے روحانی خانوادے سے ہے اور یہ بہت اچھے شاعر بھی ہیں۔

شیخ زید نے فوراً پوچھا کہ آپ انگریزی میں شاعری کرتے ہیں یا اردو میں؟ گیلانی صاحب نے فٹ سے جواب دیا میں دونوں زبانوں میں شاعری کرتا ہوں۔ شیخ زید نے پوچھا کہ کیا آپ رومانوی شاعری کرتے ہیں؟ گیلانی صاحب نے فٹ سے ہاں میں جواب دیا۔ شیخ زید نے فرمائش کی کہ اپنا تازہ کلام سنائیے۔ گیلانی صاحب نے کسی شاعر کا یہ شعر سنایا؎

تجھے چاہا تیری دہلیز پر سجدہ نہ کیا

وہ میرا عشق تھا یہ میری خودداری تھی

“اب مسئلہ یہ تھا کہ اس شعر کا ترجمہ کون کرے؟ تو جناب اس شعر کا ترجمہ آصف علی زرداری نے کیا۔ نجانے شیخ صاحب کو کیا سمجھ آئی انہوں نے فرمایا ’’جناب اسپیکر! آپ کی شاعری میں تو بڑا تکبر ہے‘‘۔ وزیراعظم صاحبہ حالات کی نزاکت بھانپ چکی تھیں انہوں نے موضوع بدل دیا۔

اس کہانی کا کلائمیکس یہ ہے کہ جب شیخ زید کو ایئر پورٹ پر الوداع کیا جا رہا تھا تو انہوں نے گیلانی صاحب سے کہا کہ مجھے اپنا دیوان ضرور بھجوائیے گا۔ گیلانی صاحب نے مسکرا کر وعدہ کیا جی ضرور بھجواؤں گا۔

مہمان رخصت ہو چکا تو گورنر پنجاب چودھری الطاف حسین نے مشورہ دیا کہ بازار سے کسی کا بھی دیوان خریدیں، اس پر اپنی تصویر لگائیں اور بھجوا دیں۔ معلوم نہیں کہ گیلانی صاحب نے اس مشورے پر عمل کیا یا نہیں۔ میں نے یہ واقعہ اس لئے بیان نہیں کیا کہ یہ ناچیز انہیں جعلی شاعر کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔

 یہ واقعہ تو انہوں نے خود اپنی کتاب ’’چاہِ یوسف سے صدا‘‘ میں لکھا تھا۔ میں تو صرف ان کے کمالات بیان کر رہا ہوں۔”

آپ اب اس سارے واقعے کو خود چاہ یوسف سے صدا میں پڑھیں جن کے سکرین شاٹ میں یہاں پہ اپ لوڈ کررہا ہوں

اس سارے واقعے میں جب مترجم شیخ زید ان کو شعر سنانے کا کہتا ہے تو یہاں پہ حامد میر جان بوجھ کر گیلانی صاحب کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو سرگوشی میں کی گئی بات کو درج کرنا گول کرگئے۔ یوسف رضا گیلانی نے بے نظیر بھٹو کو بتادیا کہ وہ شاعر نہیں ہیں اور جو شعر سناتے ہیں وہ ان کے نہیں ہوتے تو بے نظیر بھٹو نے ان سے کہا کہ اب تو بات ہوگئی ہے آپ کسی کے بھی شعر سنادیں۔ حامد میر نے یہ جو لکھا “فٹ سے یوسف رضا گیلانی نے ۔۔۔۔” یہ فٹ سے کتاب میں کہاں ہے ؟

 

یہ مفروضہ صورت حال اگر پیش آجائے تو یوسف رضا گیلانی نے گورنر الطاف حسین سےپوچھا تھا کہ تب کیا کیا جائے۔ حامد میر خود معصوم بنکر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ ایک تو یوسف رضا گیلانی ازخود نواز شریف کے ضامن بی بی سے پوچھے بغیر بن گئے اور دوسرا خودساختہ شاعر بھی جبکہ کتاب میجں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حامد میر اتنی لمبی چوڑی بددیانتی پہ مبنی تمہید کیوں باندھ رہا ہے؟ وہ دراصل یہ ثابت کرنے پہ تلا ہوا ہے کہ سینٹ میں اپوزیشن لیڈر بننے کی خواہش یوسف رضا گیلانی کی اپنی تھی، وہ اس کے لیے باپ پارٹی سے ووٹ مانگنے پہنچ گئے اور پی پی پی اور مسلم لیگ نواز ميں لڑائی کی وجہ بھی یوسف رضا گیلانی ہیں ، ماضی ميں بھی وہ نواز شریف کی بے نظیر سے  مفاہمت کرانے کے خودساختہ مشن میں ناکام ہوئے اور اب بلاول بھٹو اور مریم نواز کو آپس میں لڑوادیا وہ لکھتا ہے:

“نواز شریف نے اپنی تمام غلطیوں کا کفارہ ادا کرنے کی کوشش کی لیکن گیلانی صاحب کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بننے کا شوق چرا گیا۔

راجہ پرویز اشرف نے مسلم لیگ ن سے وعدہ کیا تھا کہ اگر گیلانی پی ڈی ایم کے امیدوار ہونگے تو اپوزیشن لیڈر مسلم لیگ ن سے ہو گا۔ گیلانی اپنی پارٹی کی غلطی سے چیئرمین سینیٹ کا الیکشن نہ جیت سکے۔ انہیں بڑا ظرف دکھانا چاہئے تھا۔ وعدہ پورا کرنا چاہئے تھا۔ جب مسلم لیگ ن نے انہیں بار بار وعدہ یاد دلایا تو گیلانی صاحب بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کے ووٹوں سے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بن گئے۔

اس لڑائی کی اصل وجہ کچھ بھی ہو لیکن عوام الناس میں اسکے ذمہ دار یوسف رضا گیلانی ہیں جو مسلم لیگ ن کے ذریعہ سینیٹر بنے اور پھر ’’باپ‘‘ کی مدد سے مسلم لیگ ن کو نیچا دکھا دیا۔ وہ جیسے شاعر ہیں ویسے ہی اپوزیشن لیڈر ہوں گے کیونکہ اب ان کی سیاست ایک ایسے باپ کی مرہونِ منت ہے جس کا دستِ شفقت حاصل کرنے کے بعد وہ ایک سرکاری اپوزیشن لیڈر کہلائیں گے۔”

آپ سے گزارش ہے دو روز پہلے بلاول بھٹو زرداری کی پریس کانفرنس اور کل محترمہ شیری رحمان و ديکر رہنماؤں کی پریس کانفرنس سنیں ان دونوں پریس کانفرنسوں کا لب لباب یہ ہے:

مسلم لیگ نواز نے اپوزیشن لیڈر برائے سینٹ کے لیے پی پی پی سے کوئی رابطہ نہیں کیا اور نہ مشاورت کی –

پی ڈی ایم کے اجلاس میں جس ميں راجا پرويز اشرف شریک تھے جمعیت اور نواز لیگ نے باہمی کوئی اتفاق کیا ہو تو کیا  لیکن پی پی پی نےاپوزیشن لیڈر کے لیے نواز لیگ کو حمایت کا یقین نہيں دلایا- جب مشاورت ہوئی نہیں تو یقین دلانا کیسا۔ ہم اکثریتی پارٹی تھے اور ہیں ہمارے پاس آزاد سینٹر کو چھوڑ کر فاٹا کے دو ارکین بطور حامی تھے اور ہمارے پاس اس طرح سے 26 ووٹ تھے جوپی ڈی ایم کے برابر ہیں تو رولز کے مطابق پھر بھی لیڈر یوسف رضا گیلانی نے بننا تھا۔

کیا سینٹر دلاور خان آزادامیدوار کے طور پہ قائم ہونے کے بعد اب تک مسلم لیگ میں نہیں رہے۔ اور آزاد امیدوار خود چل کر ائے ناکہ یوسف رضا ان کے پاس گئے تھے۔ حامد میر نے جس طرح سے سید یوسف رضا گیلانی از خود نواز شریف کے پاس ضامن بننے کو بھیجا ایسے ہی ان کو از خود باپ پارٹی کے پاس بھیج دیا۔

حامد میر کا یہ کالم  پاکستان پیپلزپارٹی سے بغض، تعصب اور علمی بددیانتی سے بھرا ہوا ہے- انھوں نے پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت جو پی ڈی ایم کے اجلاس میں شریک تھی کے بیانات کو زرا اہمیت نہیں دی اور مسلم لیگ نواز کے بیانات کو یک طرفہ درج کردیا۔ یہ کالم ساری عمر ان کیا پیچھا کرتا رہے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here