جو بات کلاسیکل اردو شعرا کے ہاں قابل قبول ہووہ امر جلیل کے افسانے میں قابل قبول کیوں نہیں ہوپائی؟ اقبال اور غالب و میر کا عاشق امر جلیل کے ایک افسانے کو توہین قرار دینے کی جرآت کیسے کرپاتا ہے؟

اے اتھرا عشق نئیں سون دیندا، ساری رات جگائی رکھدا اے  

جینوں لگ جاندا اونوں محشر تک سولی تے چڑھائی رکھدا اے

اوچے تیر چلاکے نیناں دے سانوں لذت بخشے زخماں دی

ربا تیر انداز دی خیر ہووے ساڈے زخم سجائی رکھدا

پاکستان میں اہل تکفیر تضلیل نے امر جلیل کی ایک پرانی وڈیو کا ایک کلپ نکال کر کفر و گستاخی کا شور مچارکھا ہے۔ اور وہ سندھ کے اس صوفی منش درویش کو ناش کردینا چاہتے ہیں۔ جیسے ایف ایم حسین مرحوم کی پینٹنگ کو لیکر زعفرانیوں نے ان کا اسٹوڈیو چلادیا تھا اور انھیں قطر میں پناہ لینا پڑی تھی۔ اور مرحوم ساجد رشید کے ایک اداریے پہ توہین کا الزام لگا تو ایک تکفیری فاشسٹ نے ان کو چھرے سے مارنا چاہا تھا۔ گوری لنکیش کو براہمن واد نے مذہب دشمن قرار دیکر مار ڈالا تھا۔ ایک بلاگر بنگلہ دیش میں بے دین قرار دیکر مار ڈالا گیا۔ میرا کالم اسی پہ ردعمل ہے

 

اساں عشق نماز جداں نیتی اے

تدوں بھل گئے مندر مسیتی اے

ملاں چھوڑ دے علم کتاباں دا

ایویں چایا ای بار عذاباں دا

وضو کرلے شوق شراباں دا

تینڈے اندر باہر پلیتی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ملاں کولوں ککڑ چنگا

جیڑھا یار جگاوے ستّے

وے میاں بلھیا چل یار منالے

نئیں تاں بازی لے گئے کتّے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بلھے نچ کے یار منایا اے

سارا دل دا کفر کا گوایا اے

اپنے دل دا مقصد پایا اے

جداں شاہ عنایت نطر کیتی اے

استاد نصرت فتح علی خان ایسے جذبے سے سرشار ہوکر یہ کلام پڑھا ہے کہ جو صاحب درد سنتا ہے اس پہ حال طاری ہوجاتا ہے اور اس کا سارا وجود وجد میں آجاتا ہے۔ اور ہم جو سندھو وادی کے جو باسی ہیں جس کے پانیوں میں بھی عشق اثر ہے اور اس کے صحراؤں کی ہوا میں بھی سحر ہے عشق کا۔ اور یہاں کا جو زمین زادہ فکشن نگار بھی ہے اس کا فکشن بھی شاعر اور صوفی کی طرح حالت جذب میں جب لکھا جاتا ہے تو دقیق نکات کو تہہ در تہہ چھپائے رکھتا ہے

تسبیح پڑی مکاراں آلی، تے داڑھی کیتی چٹّی

پراوا مال ایویں کھادو ای جیویں ترکاری لگدی مٹھی

نہ توں مندر مسیتی وڑیا نہ توں قبر اندھاری ڈٹھی

خبر تڈھاں پوسی جداں منہ تے آسی مٹی

قاضیاں دی کاہاں کتابیاں عشق کی دی منزل اگے آگے

قیاذیا کیہڑھے مسئلے دسیندا ایں

عشق شرع کیا لگے لگے

میں رانجھن دی رانجھن میڈا

روز ازل تنوں اگے اگے

مجھے یہ سب باتیں اس لیے یاد آرہی ہیں کہ سندھمی سماج جو کبھی پاکستان کا سب سے انسان دوست سماج ہوا کرتا تھا اور ہم بندوبست پنجاب میں رہنے والے بار بار اپنے سندھی دوستوں سے پنجاب میں انسان دشمن رویوں کے مذہب بن جانے اور تکفیر کو ایک منظم مہم بن جانے کے طعنے سنتا کرتے تھے وہاں پہ گزرے سالوں میں ظاہر پرست ملاں اپنے گرد ایک ایسا ہجوم اکٹھا کرنے کے قابل ہوگئے ہیں جو تکفیر کے الزامات اب شاعروں اور ادیبوں اور صوفی واد کے رہنماؤں اور ان کے پیروکارروں پہ لگنے کے ساتھ میدان میں نکل آتا ہے اور شاعروں، ادیبوں، صوفی منشوں، ملنگوں اور عام آدمی کے خون کا پیاسا ہوجاتا ہے اور ہم سندھ کی وادی میں “کافر، کافر” “سر تن سے جدا، سر تن سے جدا” کے نعرے سنتے ہیں۔ ہجومی تشدد کی ثقافت پنجاب سے چلتی ہوئی سچل سرمست، وتایو فقیر، شاہ لطیف بھٹائی، عبداللہ شاہ غازی اور شہباز قلندر کی دھرتی تک آن پہنچی ہے۔ اور آئے دن انسان دوست دانشور، ادیب، شاعر اور صوفی منش کہٹرے میں کھڑے کردیے جاتے ہیں اور الزام وہی پرانا ہوتا ہے یعنی توہین کی ہے۔ آج کل ایک انگریزی لفظ مستعمل ہوگیا ہے اور وہ ہے بلاسفیمی ہے۔ تھوڑے دن گزرے جب سندھ یونیورسٹی لطیف بھٹائی کی داسی عرفانہ ملاح کو ایک وڈیو میں ایک مولوی کے سامنے معذرت نامہ پڑھتے دیکھ کر دل خون کے آنسو رویا اور یہ سب جمعیت علمائے اسلام سندھ کے صدر ڈاکٹر راشد سومرو کی کمپئن پہ ہوا۔ ایسے ہی اب سندھی صوفی ادیب دانشور امر جلیل جو اسّی سال کے ہیں ان کے ایک سندھی افسانے”خدا کہیں گم ہوگیا ہے” پر بلاسفیمی کا الزام لگایا گیا ہے۔ اور یہ افسانہ سندھی ادب کی سینکڑوں سال پرانی حکایات کی روایت سے ملتی ہے جو اصل میں وتایو فقیر، سچل سرمست کی پیروی ہے۔ اور اگر ہم برصغیر کی ہند اسلامی تہذیب کی روایت کے بڑے کینویس میں اس کا جائزہ لیں تو اس افسانے میں ایسی کوئی بات نہیں تھی جسے خدا کی توہین پہ محمول کیا جاتا اور اس پہ امر جلیل کے خلاف اسقدر شور مچایا جاتا۔

امر جلیل کے خلاف بلاسفیمی کی مہم آنے سے ایک ہفتہ پہلے جھنگ کی تحصیل شورکوٹ کے ایک قصبے میں شیعہ مسلمان فرقے سے تعلق رکھنے والے شخص کو ایک کالعدم جماعت کے گرگوں نے کلہاڑیوں کے وار کرکے قتل کردیا اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے گئے اور شیعہ مسلمان فرقے کے کسی شخص کا بلاسفیمی کے الزام کے تحت  بلوائی تشدد کے زریعے  یہ پہلا قتل نہيں تھا۔ اور افسوس ناک بات یہ ہے عام طور پہ ہماری سول سوسائٹی بلاسفیمی کے تحت ہجومی تشدد پہ جو درعمل دوسری مثالوں میں نظر آتا ہے وہ کم از کم شیعہ مسلمان یا کسی صوفی ملنگ مسلمان کے بلاسفیمی کے الزام پہ ہومی تشدد کے زریعے قتل ہونے پہ سامنے نہیں آتا۔  

 گزشتہ سال محرم کے دوران صوفی سنّی مسلمانوں اور شیعہ مسلمانوں کے خلاف تکفیر اور توہین کے الزام میں سینکڑوں ایف آئی آرز کا اندراج پاکستان بھر میں ہوا اور یہ اندراج کرانے والے تکفیری گروہ کے لوگ تھے جو محض اپنی تعبیر مذہب کو ہی پورے سماج پہ مسلط کرنے کے خواہاں ہیں۔ ایسے مقدمات میں گرفتار ملزمان کو اکثر ہآغی کورٹ یا پھر سپریم کورٹ سے رہائی ملتی ہے اور وہ بھی سالہا سال کے بعد اور اس دوران صرف گرفتار افراد کی زندگی تباہ نہیں ہوتی بلکہ ان کے خاندان بھی بری طرح سے متاثر ہوتے ہیں۔ یہ جو ہمارے ہاں صوفی اسلام اور شیعہ اسلام پہ عمل کرنے والی برادریوں کی پرسیکوشن  ہے یہ ایک کینسر بن چکا ہے اور قرون وسطی کے زمانے کی پرسیکوشن سے کہیں زیادہ سخت ہے۔

پڑھ پڑھ علم ہزار کتاباں کدی آپنے آپ کوں پڑھیا نئیں

جا جا وڑدے مندر مسیتی کدی من آپنے وچ وڑیا نئیں

ایویں لڑدا ایں شیطان نال بندیا کدی نفس اپنے نال لڑیا نئين

آکھے پیر بلھے شاہ آسمانی پڑھنا ایں جیڑھا من وچ وسیا اونوں پڑھنا نئیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہماری جو سندھی، پشتو، پنجابی، اردو، فارسی کی شعر وفکشن اور صوفی ادب کی روایت ہے اس میں شطیحات اتنے بڑے پیمانے پہ موجود ہیں کہ اگر ان کو ایک جگہ اکٹھا کیا جائے تو دفتر کے دفتر اکٹھے ہوجائیں گے اور ان کو لیکر جب جب ظاہر پرستوں نے فتوے دیے تو سماج کے اکثریتی ضمیر نے اسے رد کردیا اور اس روایت کےے اپنانے والوں کو ہمارے سماج کے عام آدمی نے آدر اور عزت و احترام دیا ہے اور ان پہ اعتراض کرنے والوں کو ملاں ، واغظ ، محتسب، قاضی ، وڈیرہ کو منفی معنی دے ديئے اور ایسے القاب نفس پرستوں، دنیا پرستوں کے لیے مختص ہوگئے۔

ایک طرف تو پاکستانی سماج میں تکفیر پرست ٹولے نے لوگوں کا جینا حرام کیا ہوا ہے اور ہر وقت ان کے کہے اور لکھے پہ نظریں گاڑی رکھتا ہے تو دوسری طرف ہمارے پڑوس ہندوستان میں زعفرانیوں نے اودھم مچا رکھا ہے اوردونوںاطراف ریاستی اداروں کو بھی اسی کام پہ لگا رکھا ہے کہ ان کی وطن سے محبت اور ان کے عقیدے کی جانچ کرتے رہیں اور اس کے لیے کئی متنازعہ قوانین بھی بنادیے گئے ہيں۔ اور آج بلھے شاہ  کی سوچ کبھی ہمارے ہاں محاورہ بن گئی تھی کفر ٹھہرادی گئی ہے۔

تیکوں کعبے دے وچ پیا نور دسے

ساڈا بت خانے حضور وسے

ساکوں نیڑے تیکوں دور وسے

تیڈی نیت وچ بد نیتی اے

وہاں ہندوستان میں آر ایس ایس ، وی پی ایچ ، سنگھ پریوار نے مسلمان، دلت اور دیگر اقلیتوں کا جینا حرام کررکھا ہے۔ ان سے شہریت تک کا حق چھین لینا چاہتے ہیں اور براہمن واد کا تسلط چاہتے ہیں ۔ انھیں مسلمانوں کے چہرے ميں بدیشی نظرآتے ہیں اور ہمارے ہاں فرقہ پرستوں اور تکفیریت کے علمبرداروں نے مسلمانوں کی مسلم تکثریت پسند شناختوں کے اندر کچھ شناختوں کو مردود قرار دے دیا ہے اور وہ ان سب کو یا تو قتل کرنا چاہتے ہیں یا دوسرے درجے کا شہری بنانا چاہتے ہیں یا پھر ان کو جبری بے دخل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ قدیم ظاہر پرست علماء سے بھی الگ تھلگ اپنی نوعیت کے واحد گروہ ملاں اور قاضی ہیں جن کے ماتھے پہ چسپان ہے “اہل تکفیر” ۔

ملاں قاضی ہور اوہ راہ بتاون

شور شرابا رل کے مچاون

عشق کیا جانے شرع دے نال

دل لگ گئی بے پرواہ دے نال

ساڈی دم دم گزرے ھو ہا دے نال

اور یہ قاضی کالم نویسوں کی شکل میں ہیں، اینکرز کی شکل میں ہیں، سیاسی کارکن کی شکل میں ہیں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کی شکل میں ہیں ۔ ان سے جب پوچھا جاتا ہے کہ تمہارا ممدوح اقبال یہ کہتا ہے، میر نے یہ کہا، غالب نے یہ کہا، سائیں اختر لہوری نے یہ کہا، ناصر کاظمی نے یہ کہا۔ شیخ اکبر نے یہ کہا، شبلی نے یہ کہا، مولانا رومی کی حکایات پیش کی جائيں تو یہ کہتے ہیں کہ ان کی شطیحات اور ہیں اور امر جلیل کا افسانہ اس زمرے میں نہیں آئے گا۔ یعنی اسے این آر او نہیں ملے گا۔ پوچھیں کیوں تو آگے سے پھر سستی جذباتیت پہ مبنی تحریروں اور تقریروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے فیس بک دوستوں ميں شامل عامر ہاشم خاکوانی تو امر جلیل کے خلاف فتوی نما پوسٹ لگانے کے بعد دوسری پوسٹ مين اسے پروانہ نجات ہی قرار دینے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں اور ہم تو ان سے بس یہی کہہ سکتے ہیں

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here