اس ہفتے کئی ایک عالی دماغ گزر گئے۔ اردو ادب و تنقید سے وابستہ دلّی میں مقیم شمیم حنفی چلے گئے۔ پھر خبر آئی کہ کراچی سے نامور ماہر امراض نسواں و ماہر وضع حمل /قبالت گیری (آبسٹریشن) ڈاکٹر فریدون سیتھنا بھی فوت ہوگئے۔ شمیم حنفی کو تو اردو دنیائے ادب کے لوگ اچھے سے جانتے تھے لیکن ڈاکٹر فریدون سیتھنا سے نئی نسل کے لوگ بہت کم واقف ہیں- وفات کے وقت ان کی عمر 80 سال تھی۔ انھوں نے اپنے پسماندگان میں اپنی اہلیہ اور تین بیٹے چھوڑے ہیں۔

میں نے ڈاکٹر فریدون سیتھنا کا نام پہلی بار لیاری کے دوستوں سے سنا تھا۔ وہ لیاری کے باسیوں کے لیے ان داتا اور مسیحا کی طرح تھے۔ انھوں نے ڈاؤ میڈیکل کالج سے گریجویشن کی اور وہ رائل کالج برائے قبالت گیری و امراض نسواں کے فیلو تھے۔ انھوں نے اپنی ساری زندگی لیڈی ڈفرن ہسپتال(ایل ڈی ایچ) کھارادر کراچی میں گزاری- اس ہسپتال میں وہ پرانے شہر کراچی کی عورتوں کے معالج رہے۔ وہ غریبوں کے دیوتا معالج کی حثیت رکھتے تھے۔

وہ کلفٹن میں واقع “تصور تولید مرکز “(کانسپٹ فرٹلیٹی سنٹر) کے چئیر اور میڈیکل ڈائریکٹر تھے۔

میرے لیے وہ اس لیے بھی بہت زیادہ قابل احترام تھے کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے پہلی زچگی اور ان کی پہلی اولاد یعنی بلاول بھٹو کی پیدائش لیڈی ڈفرن ہسپتال کھارادر کراچی میں ان کے ہاتھوں ہوئی تھی اور انھوں نے اس دوران ایسے انتظامات کیے تھے کہ ایک تو شہید بی بی کی زچگی کی قطعی اطلاع لیک نہ ہو اور دوسرا زچہ و بچہ دونوں باحفاظت رہیں اور کوئی پیچیدگی محترمہ شہید بے نظیر بھٹو کے ہاں نہ ہو۔

جب آمر ضیاء الحق نے اپنے ہی بنائے وزیراعظم محمد خان جونیجو اور غیر جماعتی قومی اسمبلی کو تحلیل کردیا تو اس وقت ملک کی مجموعی سیاسی فضا اس آمر کے خلاف تھی اور خود اس کے اپنے کیمپ میں سے بہت سے سیاسی کھلاڑی درون خانہ پی پی پی کو اپنے تعاون کا یقین دلاچکے تھے۔ جنرل ضیاءالحق کو اپنے زرایع سے صرف یہ پتا چلا تھا کہ شہید بے نظیر بھٹو امید سے ہیں اور ان کے ہاں پہلے بچے کی پیدائش متوقع ہے۔ اس نے اپنی معلومات کے مطابق اگلے عام انتخابات ان تاریخوں میں کرانے کا فیصلہ کیا جن میں یہ اغلب امکان تھا کہ بے نظیر بھٹو پہلے بچے کی پیدائش کے عمل سے گزریں گی اور ان کے لیے یہ کسیی صورت ممکن نہیں رہے گا کہ وہ اپنی پارٹی کے لیے الیکشن کمپئن چلائیں اور انتخابی جلسوں سے خطاب کرسکیں۔ جنرل ضیاء الحق کو معلوم تھا کہ 1985ء میں ایم آر ڈی میں کچھ لوگوں کی مدد سے اس نے ایم آرڈی میں شامل جماعتوں کی اکثریت کے انتخابات کے بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ لے لیا تھا اور اپنے تئیں غیرسیاسی ذہنوں کی ایک پوری کھیپ اسمبلیوں میں پہنچادی تھی۔ اس بائیکاٹ کے جمہوریت کو نقصانات جو ہوئے اس کا اندازہ ایم آرڈی میں موجود بالغ نظر سیاسی قائدین کو ہوچکے تھے اوراس مرتبہ ضیاء کے غیر جماعتی انتخابات میں اسے واک اور نہیں ملنا تھا تو اس نے شہید بے نظیر بھٹو کو انتخابی پروسس میں حصّہ لینے سے روکنے کے اقدامات پہ غور شروع کردیا تھا۔ لیکن شہید بےنظیر بھٹو نے اپنی بہادری، طاقت اور قوت ارادی سے ضیاءالحق آمر اور اس کے بعد اس کی باقیات کے سارے عزائم خاک میں ملائے۔ اور وقت مقررہ سے پہلے بلاول بھٹو زرداری حالیہ چئیرمین پاکستان پیپلزپارٹی اس دنیا میں تشریف لے آئے۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے زچگی کے بعد کے دورانیہ کو اپنی قوت ارادی کے بل بوتے پہ وقت مقررہ سے پہلے عبور کرلیا۔

 

ڈاکٹر فریدون سیتھنا اور ان کی ٹیم کے دیگر لوگوں پہ زبردست دباؤ تھا لیکن انہوں نے اپنے مریض کی کوئی معلومات ضیاء الحق رجیم کو فراہم نہیں کی- کسی غیر متعلق آدمی کو اس جگہ پہ قدم رکھنے کی اجازت نہیں تھی جہاں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی ڈیلیوری کے انتظامات کیے گئے تھے۔ ان کے سوا ان کی ٹیم میں شامل کسی رکن کو آپریشن تھیڑ میں داخل ہونے سے پہلے نہیں معلوم تھا کہ زچہ کون ہے؟ اور پھر ریکوری کے دوران بھی ان کی ٹیم کو ضیاءباقیات کے ہاتھوں چڑھنے سے مکمل طور پہ بچانے کے انتظامات بھی کیے گئے تھے۔

یادش بخیر 29 مئی 1988ء کو جنرل ضیاء الحق نے جونیجو حکومت اور قومی اسمبلی کو برخاست کیا اور ٹی وی پہ اپنے خطاب میں اس نے 90 دن میں الیکشن کرانے کا وعدہ کیا تھا- اور اس کے فوری بعد شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے الیکشن میں حصّہ لینے کا اعلان کیا تھا۔ اوجڑی کیمپ واقعہ اور دیگر عوامل کی وجہ سے سیاسی حالات ضیاء الحق کے لیے کافی پریشان کن تھے۔ وہ چاہتا تھا کہ عام انتخابات شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی زچگی کے دنوں میں کرائے۔ لیکن وہ اس سے پہلے ہی 17 اگست 1988ء کو طیارہ کریش ہونے کی وجہ سے اپنے ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگیا۔ اس کے بعد ایوان صدرمیں براجمان صدر اسحاق خان، آئی ایس آئی کے ہیڈکوارٹر میں براجمان جنرل حمیدگل اور چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے پہ براجمان جنرل اسلم بیگ اور دیگر اینٹی پی پی پی ضیاءالحق باقیات سے تعلق رکھنے والے باوردی نوکر شاہی نے ضیاء الح‍ق کے نومبر میں انتخابات کرانے کی تاریخ کو برقرار رکھا ان کو یقین تھا کہ بے نظیر بھٹو الیکشن مہم نہیں چلا پائیں گی لیکن 21 ستمبر 1988 کو بلاول بھٹو خیر خریت سے پیدا ہوئے اور محترمہ بے نظیر بھٹو نے بہت جلدی ریکور کیا اور وہ اکتوبر سے ہی انتخابی کمپئن میں شریک ہوگئیں۔ اکتوبر 1988ء میں ہی سپریم کورٹ نے فیصلہ دے ڈالا تھا کہ انتخابات جماعتی بنیادوں پہ ہوں گے – یوں ڈاکٹر فریدون سیتھنا کی مدد سے محترمہ بے نظیر بھٹو نے ضیاء الحق کی باقیات کا منصوبہ ناکام بنادیا۔ اور شہید بی بی ہمیشہ ان کی احسان مند رہیں۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کی زبردست حمایت اور تعاون سے

 ڈاکٹر شیر سید جو کہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کے زمانے میں سوسائٹی برائے آبسٹریشن و گائناکالوجسٹ پاکستان(ایس او جی پی ) کے صدر تھے تو انھوں نے ڈاکٹر فریدون سیتھنا کے زریعے سے ہی سندھ حکومت کو دیہی مراکز صحت پہ تعیناتی کیے مڈوائف تربیتی پروگرام شروع کرنے پہ رضامند کیا اور اس پروگرام کو شہید بے نظیر بھٹو نے بہت سراہا تھا۔ یہ ڈاکٹر فریدون سیتھنا تھے جنھوں نے ایس او جی پی کی طرف سے نوجوان عورتوں میں چھاتی کے کینسر کی روک تھام کے لیے بنائی گئی ویکسین لگوانے کی سہولت سندھ حکومت اور پھر وفاقی حکومت کے تعاون سے فراہم کرنے کی منظوری لی تھی اور یہ بھی محترمہ بے نظیر بھٹو کی خصوصی دلچسپی سے ممکن ہوا تھا۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں نیشنل کمیٹی برائے صحت زچہ و بچہ کی تشکیل 1994ء میں ہوئی اور اس کے پہلے تین ممبران میں سے ایک ممبر محترمہ بے نظیر بھٹو نے ڈاکٹر فریدون سیتھنا کو بنایا تھا۔ ديگر دو اراکین میں ڈاکٹر امتیاز کمال اور ڈاکٹر صدیقہ این جعفری تھے اور اس کمیٹی نے پاکستان میں زچہ و بچہ کی بلند ترین شرح اموات کو نیچے لانے کے لیے سفارشات کرنا تھا۔

ڈاکٹر سیتھنا لاتعداد ماہرین اممراض نسواں کے استاد تھے۔ وہ عورت کو بااختیار بنانے کے کاز کے سخت حامی تھے۔ انھوں نے مڈوائف کے کردار کو ہمیشہ سپورٹ کیا اور حاملہ خواتین کی دیکھ بھال کو منظم انتظام میں بدلنے میں دن رات کام کیا- وہ خود کہتے تھے کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے ان کے کام اور تجاویز کو ہمیشہ اہمیت دی اور ان کو عملی شکل دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

ليڈی ڈقرن ہسپتال میں وہ آبسٹریشن و گائناکلوجی کے ڈیپارٹمنٹ ژیں پوسٹ گریجویٹ طلباء کی تدریس اور تربیت کے عمل سے جڑے رہے۔ جب کچھ سال اندرون شہر کے حالات بہت خراب تھے تب بھی انھو نے کراچی میں زچگی کے ایمجنسی کیسز میں اپنی خدمات کی فراہمی جاری رکھی۔

لیڈی ڈفرن اسپتال کو جدیدترین بنانے کے پیچھے بھی ڈاکٹر فریدون سیتھنا کا کردار تھا۔ انھوں نے اردشیر کآؤس جی کو ہسپتال میں مڈوائفری اسکول قائم کرنے کے لیے درکار فنڈ جاری کرنے پہ رضامند کرلیا تھا۔

ڈاکٹر فریدون سیتھنا کراچی میں آباد اس چھوٹی سے نفیس،مہذب  پارسی برادری کا حصّہ تھے جنھوں نے کراچی شہر کو اولین تعلیم یافتہ پروفیشنل مڈل کلاس فراہم کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا۔

ان کی وفات کی خبر کو پاکستانی الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے تین سے چار اداروں نے ہی اہمیت دی لیکن انھوں نے بھی ایک سطر میں ڈاکٹر فریدون سیتھنا اکور بے نظیر بھٹو و پی پی پی سے ان کے تعلق کے بیان کو نمٹادیا۔اور وہ بھی صرف اتنا کہ ” وہ بے نظیر بھٹو کی زچگی کے وقت ڈاکٹر تھے”-

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here