ہم جنس پرستی پہ کچھ لکھنا میرے لیے اہم یوں ھے کہ میں اس بارے کچھ ذاتی مشاہدات جو پاکستانی سماج کے تناظر میں ہیں بیان کرنا چاھونگا ویسے تو ہم جنس پرستی کی تاریخ بہت پرانی ھے اور ہم بادشاہوں کے درباروں سے لیکر عام آدمیوں اور مخصوص اقوام میں اسکا موجود ہونا دیکھ سکتے ہیں یونانی بادشاہوں میں خود اسکندر بھی اس عادت کا شکار تھا اور یہ یونانی امراء کے ہاں انہونی شے نا تھی اسلامی تاریخ یا مسلمانوں کی تاریخ بھی اس علت سے بھری ھے مسلم تاریخ میں بادشاہوں کے درباروں میں خوبصورت غلاموں اور ہیجڑوں کا ہونا معمول رہا ھے معروف ادباء و شعراء خوبصورت لڑکوں کے عشق میں مبتلا ہوتے اور انکی یاد میں اشعار کہا کرتے تھے حافظ و سعدی جو فارسی شاعری کے امام کہے جا سکتے ہیں خوبرو لڑکوں کی یاد میں شعر کہتے دیکھے جا سکتے ہیں خود مسلم برصغیر کے دربار اور ادبی شخصیات اس ضمن میں تذکرے کے قابل ہیں سلطان مبارک خلجی اپنے خوبصورت غلام لونڈے خسرو پہ اتنا عاشق تھا کہ نظامِ حکومت اسی کے سپرد کر بیٹھا اور اسی کے ہاتھوں مارا گیا سلطان محمود غزنوی اور ایاز کا قصہ تو زبان زدِ عام ھے 
دکنی سلاطین میں سلطان ملو عادل شاہ اس عادتِ بد میں ایسا گرفتار تھا کہ امراء کے خوبصورت لڑکے اٹھوا لیا کرتا تھا رعایا کے خوبصورت لڑکوں کی “عزت” اس سے محفوظ نا تھی آخر اسی عادت بد کے ہاتھوں اسے تاج و تخت سے ہاتھ بھی دھونے پڑے جب اسکی ماں نے اسے درباری امراء کے ساتھ ملکر معزول کر دیا  
عادل شاہی سلسلے کے ایک اور بادشاہ علی عادل شاہ نے امیر برید کے دربار میں موجود دو خوبصورت خواجہ سراء پانے کے لیے باقاعدہ امیر برید سے جنگ چھیڑ دی تھی 
کچھ اقوام نے تو اس عادت کے ضمن میں خاصی شہرت حاصل کر رکھی ھے جنکا نام لینا مصلحت کے خلاف ہو گا الغرض کہ ہم اس علت کو انسانی سماج میں کسی نا کسی حوالے سے موجود پاتے ہیں لیکن آج یہ سمجھنے اور جاننے کی شدید ضرورت ھے کہ گے ازم اور بچہ بازی میں کیا فرق ھے ؟ مغرب سے درآمدہ اصطلاح “گے ازم” دو ایسے بالغ ھم عمر لوگوں کے بارے زیادہ درست ھے جو خواتین کی نسبت اپنی جنس میں ہی زیادہ دلچسپی رکھنے کے باعث اکٹھے رہنے میں دلچسپی رکھتے ہیں یہ ایک ایسا عمل ھے جس میں جبر اور زبردستی کا عنصر شامل نہیں ھے لیکن ہم جنس پرستی کا جو تصور ھمارے ہاں موجود ھے وہ اس سے الگ ھے پاکستانی سماج چونکہ زیادہ کنزرویٹو سماج ھے اسلیے یہاں جنسی خواہش کا حصول عام طور پہ کچھ ضابطوں میں پابند ھے یہ نہیں ھے کہ پہاں سیکس ورکر میل فی میل دستیاب نہیں ہیں لیکن سماج ایسے عمل کو کھلے عام برداشت نہیں کرتا سو جنسی گھٹن کی کیفیت بنی رہتی ھے اس گھٹن کو بہت سے لوگ سیکس ورکرز تک پہنچ کر ختم کرنے میں کامیاب رہتے ہیں لیکن زیادہ تر لوگ ایسا نہیں بھی کر پاتے تو جو لوگ یہ نہیں کر پاتے انکی توجہ اپنے اردگرد موجود آسان ذرائع پہ مبذول ہو جاتی ھے ان آسان ذرائع میں بچے آسان شکار ہیں ابتداء میں جنسی بھوک کو ختم کرنے کے لیے اختیار کیا جانے والا یہ عارضی بندوبست ہولے ہولے شکاری کی عادت بننے لگتا ھے اور ایک دن خود اس پہ آشکار ہوتا ھے کہ یہ اسکی عادتِ ثانیہ بن چکی ھے ایسا شخص اگرچہ کہ کسی ایک شکار کو اپنے ساتھ مستقل ساتھی کی حیثیت سے رکھ سکتا ھے لیکن وہ کسی ایک بچے پہ ہی تکیہ نہیں کرتا بلکہ اسے نت نئے مزے چکھنے کی عادت پڑ جاتی ھے یہ جو ہم آئے روز اخبارات میں بچوں سے زیادتی کی خبریں پڑھتے اور اس سے بھی زیادہ اپنے اردگرد یہ سب ہوتا دیکھتے ہیں یہ سب کچھ ایسے ہی تناظر کی پیداوار ھے ہمارا مذہبی طبقہ اسے میڈیا کے سر مڑھنے کے چکر میں رہتا ھے جبکہ یہ پورا سچ نہیں ھے
ہم جنس پرستی کا ایک اور پہلو سے بھی میں جائزہ لینے کی کوشش کرونگا کہا جاتا ھے کہ مشاہدہ اور تجربہ کتاب سے بھی زیادہ علم دیتے ہیں میں اس میں کچھ اضافہ یوں کرونگا کہ جو تجربہ آپ پہ ہی گزرے وہ مشاہدے اور کسی آنکھوں دیکھے تجربے سے بھی زیادہ مضبوط ہو سکتا ھے یہ عین الیقین اور حق الیقین جیسی کیفیت کا معاملہ ھے تو بہتر ھو گا کہ میں اپنی کیفیت کی روشنی میں بھی اس معاملے کو سمجھنے کی کوشش کروں جب مجھ میں بلوغت کے آثار پیدا ھوئے تو میں فطری تقاضے کے ہاتھوں صنفِ مخالف میں دلچسپی لینے لگا لیکن جسم کے تقاضے چونکہ ہماری سماجی اخلاقیات سے میل نہیں کھاتے تھے اسلیے اس کشمکش سے گھبرا کر میں نے مذہب کے دامن میں پناہ لی اور ان تقاضوں کو دبانے کی غیر فطری کوشش کرنے لگا مذہبی اجتماعات میں شرکت عبادات مغفرت ذہن کو “شیطانی وسوسوں” سے بچا کر اللہ کی یاد میں لگانے کی اس کوشش میں میں نا کامیاب ہو پاتا تھا اور نا ہی ناکام ۔ اس مذہبی رویے کی ایک ظاہری علامت نامحرم خواتین سے پرہیز بھی تھا عورت کو شپطانی وسوسے کی علامت جان کر میں اس حد تک تنگ نظر ہو گیا کہ نامحرم خواتین سے بچنے کی کوشش میں قریبی رشتہ داروں کی عمررسیدہ خواتین سے بھی بچنے لگا اپنی دانست میں میں خود کو شیطانی خیالات سے بچانے میں مصروف تھا یونہی وقت گزر رہا تھا کہ میں جہاد پہ جانے کی کوشش میں گھر والوں کے ہاتھوں گرفتار ہو کر تعلیم سے ہٹا کر دکان حاضر کر دیا گیا تاکہ والد صاحب کی نظروں کے سامنے رہوں ایک دن میں دکان کے کاونٹر پہ بیٹھا تھا کہ دو لڑکے جھگڑتے نظر آئے پتا چلا کہ ایک خوبرو لڑکے کو دوسرا نوجوان تنگ کر رہا تھا میں نے جب بیچ بچاو کے لیے مداخلت کی تو خوبرو لڑکا میرا
ممنون ہوا ہماری دوستی ہو گئی مجھے خبر نہیں ہوئی کہ کب یہ دوستی کا رشتہ عشق میں بدل گیا میں نے اس لڑکے کے عشق میں وہ سب کیفیات محسوس کیں جو عمومی طور پہ عاشق لوگ محبوباوں کے عشق میں محسوس کرتے ہیں یہ دوستی بدنامی کا باعث بننے لگی تو کسی نے بڑے بھائی کو خبر کی اور اسکی زور زبردستی کے باعث یہ تعلق ختم ہوا آج میں اس “خلل دماغی” جسے عشق کہتے ہیں کا بہتر تجزیہ کر سکتا ہوں مجھے صاف طور پہ محسوس ہوتا ھے کہ ایک لڑکے سے عشق میری فطرت نا تھی میری فطرت لڑکیوں ہی میں دلچسپی لینا تھی لیکن جب میں نے مذہبی تعلیمات کے زیراثر اپنے ان جذبات کو شیطانی سمجھ کر دبانے کی کوشش کی تو یہ بجائے دبنے کے کسی اور جانب منتقل ہو گئے میں چاہت کے اس فطری جذبے کو اپنے ہی ہم جنس میں غیر محسوس طریقے سے ڈھونڈنے لگا تھا بہرکیف میری شادی ہو گئی اور میں مکمل طور سے اس ٹرانس سے باہر آ گیا آج مجھے ہم جنس پرستی سے کوئی شغف نہیں لیکن یہ بھی سچ ھے کہ میں کسی وقت میں اسکے زیراثر رہا ہوں میں اپنی ذات کے مشاہدے سے جو بات سمجھا ہوں وہ یہ ھے کہ پاکستانی سماج میں بالعموم اور ان علاقوں میں بالخصوص جو اس عادتِ بد کے لیے بدنام ہیں مذہبی تعلیمات اور نامناسب رہنمائی بھی ہم جنس پرستی کیوجہ ھے ھمارے ایک دوست ہارون وزیر نے اس پہ تفصیل سے لکھا تھا کہ کیونکر انکا علاقہ اس عادت کا شکار ھے وہ بھی آخر پہ یہی نتیجہ نکالتے ہیں کہ جہاں عورت کی شکل بھی دکھائی دینی مشکل ہو وہاں یہ رویہ غیرفطری طور پہ پنپ جاتا ھے یہانتک کہ زیادہ تر شعراء لڑکوں کے حسن کے قصیدے ہی کہتے دکھائی دیتے ہیں
لیکن اسکا یہ مطلب ہرگز نا ہو گا کہ ہم جنس پرستی فطری شکل میں کہیں موجود ہی نہیں یہ موجود ھے مجھے پہلے پہل اس پہ یقین نا تھا لیکن کچھ واقعات نے میری سوچ بدل کر رکھ دی ایک بار میں اور میری مسز ھم جنس پرستی کے رحجان پہ بات کر رھے تھے ساتھ میری ساس بھی بیٹھی ہم لوگوں کی گفتگو سن رہی تھیں کافی دیر تک وہ ھم دونوں کی بحث سنتی رہیں میرا اور مسز کا خیال یہ تھا کہ مخالف جنس تک رسائی نا ھونا اس رویے کی وجہ ھے میری ساس کہنے لگیں کہ میں جب جوان تھی تو تب بھی یہ رویے موجود تھے اس وقت تو نہ میڈیا کی پہنچ گھر گھر تھی اور نا ہی سماج میں بنیادپرستی کی شکل میں آج جتنی گھٹن تھی تب بھی ھمارے محلے کی دو خواتین ایکدوسرے کے عشق میں مبتلا تھیں جن میں سے ایک چار بچوں کی ماں تھی اور دوسری کنواری تھی حالت یہ تھی کہ شادی شدہ لڑکی سارا سارا دن اپنی دیوار پہ چڑھ کے ساتھ والے اس گھر میں جھانکتی رہتی تھی جہاں اسکی محبوبہ رہتی تھی رفتہ رفتہ دونوں کے گھر والوں کو اسکا علم ہو گیا پہلے پہل تو انہیں سمجھانے بجھانے سے کام چلایا گیا جب وہ نہیں سمجھیں تو شادی شدہ عورت کو بچے چھین کر گھر سے نکال دیا گیا لیکن اس عمل سے بھی دونوں کی شیفتگی میں کچھ فرق نا آیا دونوں خواتین اکٹھی رہنے لگیں دونوں کے گھروالوں نے قطع تعلق کر لیا میری ساس کا کہنا ھے کہ وہ دونوں جب ادھیڑ عمر کو پہنچیں تو ان میں سے ایک کی وفات ہو گئی تب دوسری کے بچے آ کر اسے واپس گھر لے گئے میں اور میری مسز یہ سن کر حیران ہوئے کہ آج سے نصف صدی قبل بھی ایسی مثال مل سکتی ھے جب سماجی بائیکاٹ اور جان کے خطرے کے باوجود دو انسان روایت اور خوف کا اپنے غیر روایتی عشق کے لیے سامنا کریں تب پہلی بار مجھے یہ سمجھ آئی کہ یہ رویہ محدود سہی لیکن موجود ھے اور اسکا انکار درست نا ہو گا
اس دوران میری بات امریکہ میں موجود مس تزئین حسن سے ہوئی جو ایک ریسرچ اسکالر ہیں انہیں مجھ سے خواتین کے ساتھ ہراسمنٹ جو رشتے داروں کی جانب سے ہوتی ھے کے بارے کچھ جاننا تھا چونکہ میں نے اس بابت اپنی مسز کی مدد سے ایک چھوٹا سا سروے کیا تھا موقع دیکھ کر میں نے ان سے خواتین میں ہم جنس پرستی کے رحجان کی بابت پوچھا جس پہ انکی ریسرچ جاری تھی یہ یاد رھے کہ مس تزئین جماعت اسلامی سے تعلق رکھتی ہیں تو مجھے یہ اطمینان رہا کہ وہ اگر اس رحجان کے فطری طور پہ موجود ہونے کے بارے گواہی دینگی تو کم از کم مجھے کوئی شک نہیں رھے گا کہ اس رائے میں تعصب شامل ھے مس تزئین نے اپنی ریسرچ کے بارے جو آگاھی دی اسکے مطابق انہوں نے امریکہ میں کئی خواتین کے ساتھ وقت گزار کر یہ ریسرچ کی تھی اور یہ کہ جن خواتین پہ انکی ریسرچ تھی ان میں انہیں کسی ایسی نفسیاتی پیچیدگی کی اطلاع نہیں ملی جس نے ان خواتین کو اس راہ پہ ڈالا ہو انکے مطابق یہ خواتین کہتی ہیں کہ انہیں نوجوانی کے آغاز ہی سے مخالف جنس کی بجائے ہم جنسوں میں کشش محسوس ہوتی تھی
میں نے ابتک ہم جنس پرستی اور بچہ بازی دونوں کا جائزہ اپنے سماج میں موجود حوالوں سے لیا ھے تو میں انہی حوالوں میں سے ایک اور حوالہ لے کر ایک تیسرے زاویے سے اس عادت کا تجزیہ کرنا چاہونگا “اسٹاک ہوم سینڈروم” نفسیات کی زبان میں ایک ایسی ذہنی کیفیت کو کہا جاتا ھے جس میں ظلم کا شکار ہونے والا فرد یعنی مظلوم ظالم کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ھے اور اغلب امکان ھے کہ وہ خود بھی اسی ظلم کو دوہرانا شروع کر دے فوک وزڈم سماجی نفسیات کو بیان کرنے کا ایک مضبوط طریقہ ھے پنجاب کی فوک وزڈم بچہ بازی میں مبتلا فرد کے بارے ایک کہاوت کہتی ھے جسکا مطلب کچھ یوں ھے کہ بچہ بازی وہی کرتا ھے جو اپنے بچپن میں خود بھی کسی بچے باز کا شکار رہ چکا ہوتا ھے آپ اسٹاک ہوم سینڈروم کی اصطلاح کو بآسانی اس لوک کہاوت کے تناظر میں سمجھ سکتے ہیں ہمارے سماج میں پھیلی بچہ بازی کی علت ڈریکولائی تصور کو سمجھنے میں معاون ھے
میں جب اس عادتِ بد پہ پوسٹس لکھ رہا تھا تو ایک دوست نے پاکستان کے ایک علاقے سے مجھے فون کیا میسینجر پہ آئی کال میں اس دوست کا کہنا تھا کہ کاشفِ بھائی آپ بچہ بازی کے باب میں جن وجوہات پہ لکھ رہے ہیں ان میں سے سب میرے شہر میں موجود ہیں اور پورا شہر اس قبیح عادت کا شکار ھے اس نے مجھے تفصیل سے اپنے شہر کی سماجی ساخت کے بارے بتایا یہ شہر قبائلی سماج کی شکل رکھتا تھا روزگار کے مواقع محدود تھے اسمگلنگ ایک اہم ذریعۂ روزگار تھی پینے کا صاف پانی مہنگے داموں دستیاب تھا تعلیم و علاج کے مواقع مشکل سے دستیاب تھے الغرض ہر وہ عوامل موجود تھے جنہیں اس فعل کے جواز میں ثانوی عوامل کے طور دیکھا جا سکتا تھا لیکن جو بات اس دوست نے مجھے کہی وہ یہ تھی کہ کاشف بھائی آپ نے اس فعل کے عام ہونے میں جس وجہ کو بنیادی وجہ کے طور بیان کیا تھا میں بھی اسی کو اپنے علاقے میں اس عادت کے پنپنے کی اصل وجہ کے طور دیکھتا ہوں اسکا کہنا تھا کہ ھمارے علاقے میں پردے کی شدید پابندی ھے عورت گھر سے باہر کم کم ہی نظر آتی ھے روایتی مذہبی تصور کے تحت مرد و خواتین کے کسی بھی جگہ اکٹھے ہونے کے امکانات نہیں ہیں اس لیے جبلی تقاضے ہم جنسی کی طرف رغبت کو بڑھاوا دینے لگتے ہیں اور یہ چیز شہر کا کلچر بن چکی ھے شام کے بعد شہر کے کئی امراء کی بیٹھکوں میں محافل سجتی ہیں جہاں نوعمر لڑکوں کے رقص کا اہتمامِ ہوتا ھے لیکن اسکا یہ بھی کہنا تھا کہ غربت بہرحال اس فعلِ بد کی وجوہات میں سے ایک کمتر وجہ ضرور ھے اسکے مطابق اس نے بہت سے کم عمر لڑکوں کو اس عادت سے چھٹکارا دلانے کی کوشش بھی کی لیکن انہیں کھلے پیسے کا ایسا چسکا پڑ چکا ھے کہ وہ کچھ عرصہ اس عادت سے دور رہنے کے بعد اس جانب دوبارہ راغب ہو جاتے ہیں اگر انہیں مناسب ماحول ملے جس میں وہ کسی ہنر کو سیکھ کر معقول روزگار کما سکیں تو اس برائی کا سدباب ممکن ھے
حرفِ آخر ۔ بچہ بازی اور ہم جنس پرستی الگ الگ فعل ہیں بچہ بازی کی سب سے بڑی وجہ ہمارے سماج میں موجود مرد عورت کے بیچ موجود غیر ضروری پردہ ، اور بلوغت کے بعد جنسی تعلیم و سیکس کی عدم دستیابی ھے ہم جنس پرستی کا رحجان فطری ھے اگرچہ کہ اسکا ذوق رکھنے والے بہت کم ہوتے ہیں اسلیے ایسے لوگوں کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنانے کی بجائے انکے مسئلے کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے نا کہ محدود مذہبی تصوراتی عینک سے اس معاملے کو دیکھا جائے ایک بہت قلیل تعداد میں وہ لوگ بھی موجود ہیں جن میں بچوں سے سیکس کا جذبہ فطری طور پہ موجود ہوتا ھے ایسے لوگوں کی کڑی نگرانی رکھنے اور انکے نفسیاتی علاج پہ توجہ کی ضرورت ہوتی ھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here