مونسپل کمیٹی خانیوال – سی او بلدیہ کا اختیارات سے تجاوز، خزانے کو پونے دو کروڑ روپے کا نقصان پہنچانے کا ایک اور اسکینڈل سامنے آگیا

0
54

سی او بلدیہ خانیوال افتخار بنگش بارے 19 جون 2021ء کے قومی اخبارات میں چھپنے والی خبر کا عکس

مونسپل کمیٹی خانیوال – سی او بلدیہ کا اختیارات سے تجاوز، خزانے کو پونے دو کروڑ روپے کا نقصان پہنچانے کا ایک اور اسکینڈل سامنے آگیا

سی ای او مونسپل کمیٹی خانیوال نے جولائی 2019 میں 53 عارضی سینٹری ورکرز کی غیرقانونی بھرتیاں کیں اور حکومت پنجاب کے خزانے کو ایک کروڑ 10 لاکھ 70 ہزار روپے کا چونا لگادیا

تفصیلات کے مطابق مونسپل کمیٹی خانیوال کی سالانہ آڈٹ رپورٹ 2019-2020 کے صفحہ نمبر 21 پہ دی گئی آبزروریشن میں آڈیٹر میاں عبدالصبور عامر نے انکشاف کیا ہے کہ مونسپل کمیٹی خانیوال کے چیف افسر بلدیہ جن کے پاس مونسپل افسر انفراسٹرکچر -ایم او آئی ایس کا چارچ بھی ہے نے جولائی تا اگست 2019 اور ستمبر 2019 تا جون 2020 بلدیہ کی سینٹری برانچ میں 53 عارضی سینٹری ورکرز بھرتی کیے – بھرتی کے دوران محکمہ فنانس پنجاب کے جاری کردہ ضوابط برئے بھرتی ڈیلی ویج اسٹاف اور محکمہ لوکل گورنمنٹ و کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے سروسز رولز کی دھجیاں اڑادیں اور پروسیجر کی کسی ایک شق پہ عمل نہ کیا جس کی وجہ سے یہ بھرتیاں سراسر غیر قانونی ہیں۔ آڈٹ افسر نے لکھا ہے کہ غیر قانونی ڈیلی ویج اسٹاف کی بھرتیوں کی مد میں ایک کروڑ 10 لاکھ 70 ہزار روپے حکومتی خزانے سے نکوالے گئے جس کا سی ای او بلدیہ خانیوال افتخار بنگش کو کوئی اختیار نہ تھا۔ آڈٹ رپورٹ پیرا سے انکشاف ہوا ہے کہ چیف افسر مونسپل کمیٹی خانیوال افتخار بنگش نے ڈیلی ویج اسٹاف کی بھرتی کے لازمی درکار اسسمنٹ رپورٹ ایڈمنسٹریٹر بلدیہ خانیوال /ڈپٹی کمشنر خانیوال آغا ظہیر عباس شیرازی کو نہیں بھجوائی اور نہ ہی ان بھرتیوں کی منظوری مجاز اتھارٹی سے لی-2019ء سے ابتک مجاز اتھارٹی ڈپٹی کمشنر/ایڈمنسٹریٹر بلدیہ خانیوال آغا ظہیر عباس شیرازی ہیں۔ جب اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر خانیوال آغا ظہیر عباس شیرازی سے وٹس ایپ مسیج کے زریعے پوچھا گیا تو انہوں نے جوابی وٹس ایپ مسیج کیا جس میں انہوں نے لکھا کہ (یہ بھرتیاں) ان کے علم میں نہیں ہیں۔

سی او بلدیہ خانیوال افتخار بنگش کی پونے دو کروڑ روپے کی مبینہ کرپشن اور 53 غیر قانونی عارضی ورکرز کی بھرتیوں کا انکشاف کرتا سالانہ آڈٹ رپورٹ 2019-20 کا صفحہ نمبر 21

دریں اثنا زرایع سے معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم پورٹل پہ بھی سی ای او بلدیہ خانیوال کی عارضی سینٹری ورکرز کی غیرقانونی بھرتیاں کرنے اور خزانے کو پونے دو کروڑ روپے کا نقصان پہنچانے کی شکایت درج کرآئی گئی جو شکایت وزیراعظم ہاؤس سے چیف سیکرٹری پنجاب کو ارسال کی گئی – چیف سیکرٹری آفس سے پتا چلا ہے کہ چیف سیکرٹری پنجاب نے ایڈمنسٹریٹر بلدیہ/ڈپٹی کمشنر خانیوال سے اس معاملے کی مکمل انکوائری رپورٹ ارسال کرنے کا حکم صادر کیا ہے۔

ادھر ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ملتان ریجن حیدر عباس وٹو نے شہری محمد ظفر اور علی سلطان کی طرف سے سی ای او بلدیہ خانیوال افتخار بنگش کے خلاف 53 عارضی سینٹری ورکرز غیر قانونی طور پہ بھرتی کرکے خزانے کو نقصان پہنچانے کی درخواست بمعہ ثبوت ملنے پہ انکوائری ریگولر کردی۔ انکوائری افسر ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن تعینات خانیوال سرکل آفس وسیم شاہ مقرر کیے گئے ہیں۔ اس انکوائری کی پہلی پیشی پہ سی ای او بلدیہ خانیوال پیش نہ ہوئے اور ان کے بھیجے دو کلرک پیش ہوئے جس پر ڈی ڈی اے سی ای خانیوال سرکل نے سخت برہمی کا اظہار کیا- ڈی ڈی اے سی ای سرکل خانیوال نے اپنے تحریری حکم نامے پہ اگلی پیشی پہ سی او بلدیہ خانیوال افتخار بنگش کو ذاتی طور پہ پیش ہونے اور لازمی سارے ریکارڈ سمیت پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

دائیں طرف سی او مونسپل کمیٹی خانیوال بائیں سمت چیف منسٹر پنجاب سردار عثمان بزدار

افتخار بنگش 2016ء میں جونئیر ہونے اور سی ای او کی پوسٹ کے لیے درکار گریڈ نہ رکھنے کے باوجود چیف افسر بلدیہ کی پوسٹ پہ مونسپل کمیٹی خانیوال میں تعینات ہوئے اور ان کو تحصیل کونسل خانیوال کے چیف افسر کا اضافی چارج بھی دے دیا گیا۔ حال ہی میں ان کی پروموشن کی گئی ہے۔ افۃخار بنگش کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ چیف منسٹر پنجاب سردار عثمان بزدار کے ساتھ دوستی کے دعوے دار ہیں اورسوشل میڈیا پہ ان کے ساتھ اپنی تصویریں بھی شئیر کرتے رہتے ہیں۔ بلدیہ خانیوال میں ان پہ کرپشن کے لاتعداد الزامات ہیں۔ اینٹی کرپشن میں ان کے خلاف کئی انکوائریاں چل رہی ہیں اور ان سمیت بلدیہ کے کئی ملازمین پہ اینٹی کرپشن تھانہ سرکل خانیوال میں 60 لاکھ مٹّی چوری کرنے میں معاونت کرنے کے الزام میں بھی مقدمہ درج ہے جس کی انکوائری آخری مراحل میں ہے۔

مونسپل کمیٹی خانیوال کی دو مالیاتی سالوں کی رپورٹس  بلدیہ خانیوال کی ہر ایک برانچ میں اختیارات سے تجاوز، غیرقانونی اقدامات، کروڑوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں، انتہائی حساس اور لازمی اہمیت کے ریکارڈز کی عدم دستیابی اور مبینہ طور پہ کروڑہا روپے کے غبن کی نشاندہی کرتی ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزیدہوش ربا انکشافات کا امکان ہے۔

بلدیہ خانیوال میں ہورہی کرپشن میں سی او بلدیہ خانیوال کا دست راست نقشہ برانچ کا ہیڈکلرک ظفر فاروق گجر بتایا جاتا ہے جسے انٹی کرپشن نے رنگے ہاتھوں رشوت لیتے پکڑا لیکن پھر نقشہ برانچ میں لگادی گیا جو کہ غیرقانونی ہے، آمدنی سے زائد ناجائز اثاثے بنا چکا ، انٹی کرپشن میں درجنوں انکوائریاں زیر سماعت ہیں

   

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here