مجھے یہ بات انتہائی حیرت اور صدمے سے دوچار کرتی  ہے کہ ہمارے ذہنوں میں اب بھی یہ یقین سرایت کیے ہوئے کہ جنسی بدسلوکی لازمی طور پر جسمانی طاقت سے ممکن ہوتی ہے اور ایک بالغ کا ریپ جسمانی جبر کے ملوث ہوئے بغیر نہیں ہو سکتا- اس یقین کی بنیاد کیا ہے؟ یہ کہ جنسی بدسلوکی لازمی طور پر فریقین کی جسمانی طاقت میں غیر توازن سے جنم لیتی ہے اور اس کے علاوہ اس کی کوئی دوسری وجوہات نہیں اور اگر ہیں بھی تو وہ کم از کم ریپ کو ممکن بنانے کے لئے کافی نہیں۔

کاش کہ میں یہاں اس بات کی وضاحت کے لئے کچھ ذاتی تجربات بیان کرپاتی کہ کیسے عدم تحفظ، خوف، اعتماد میں کمی، جہالت اور شدید صدمہ/ ٹراما، یا  کی پوزیشن میں ہونا اور ایسی کئ دیگر صورتیں جو کسی انسان کو جذباتی، جسمانی یا نفسیاتی طور پر غیر محفوظ بناتی ہیں، ایسی صورت حال پیدا کرسکتی ہیں  جس میں متاثر شخص خود کو اسی طرح جنسی استحصال کے خلاف بے یارومدگار پاتا/پاتی ہے جیسے کہ جسمانی زور یا زبردستی کے زیر اثر اور یہ کہ کس طرح اتھارٹی کا غلط استعمال، قطع نظر اس سے کہ وہ اختیار حقیقی ہے یا محض تصوراتی، مخصوص حالات میں متاثر/متاثرہ کی کمزوریوں کو کسی جنسی شکاری کے لئے استحصال کے زبردست مواقع میں بدل سکتا ہے۔

اگر ہم یہ تسلیم کر لیں کہ بدسلوکی کرنے والا  انسانی خواہشات کا اسیر اور اپنی جبلی ضروریات کے سامنے بے بس ہونے کی وجہ سے کسی حد تک اپنے افعال کے ارتکاب کے لئے قابل گرفت نہیں تو بالکل اسی زاویے سے سوچتے ہوئے ہمیں بدسلوکی کا نشانہ بننے والے میں بھی انسانی خصائل و اوصاف کی موجودگی کا ادراک کرنا ہو گا، اسے بھی انسان ہونے کی رعایت دینی ہو گی۔

اگر جنسی خواہش کی تکمیل کا متمنی کوئی شخص کسی دوسرے فرد کو مسلسل بہلائے پھسلائے  ، ڈرائے، تعاقب کرے، اس سے مسلسل ربط میں رہے، اسکا پیچھا کرے تو کیا فوراً یہ واضح نہیں ہوجاتا کہ کسی نہ کسی روز مسلسل ترغیب و ترھیب کے عمل میں رہنے والا، مسلسل تفاعل میں موجود شخص آخر کار ایسے لمحات میں پا لیا جائے گا جب وہ مزاحمت کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو گا۔

مزاحمت کو آسان کیوں سمجھا جاتا ہے؟

مزاحمت اپنی قیمت رکھتی ہے۔ اس میں جذباتی اور جسمانی وسائل خرچ  ہوتے ہیں۔

اپنی طرف بڑھتی کسی بدی، شیطانیت یا زیادتی کے خلاف مسلسل مزاحمت اس بات کی متقاضی ہے کہ مزاحمت کرنے والا ایک مشین کی طرح مستقل مزاج ہو۔ نہ کبھی کمزور پڑے، نہ تھکے، ہمیشہ ڈٹا ہوا اور مستعد رہے اور کسی کی مسلسل استحصال کی کوششوں کے سامنے ہتھیار نہ ڈالے۔ جب ہم کسی شخص کی اپنی جنسی خواہشات کی تکمیل کی کوشش کو فطری تحریک کا نتیجہ مانتے ہیں تو اسی منطق کی رو سے دوسرے شخص کی ان کوششوں کو رد کرنے کے عمل کے دوران جذباتی ضعف کا شکار ہو کر آخرکار جنسی جبر کا شکار ہو جانے کو بھی فطری مظہر ماننا ہو گا۔

استحصال کا شکار ہونے والا کس طرح مزاحمت کے دوران اپنی توانائی و ذہنی سکون کھوتا ہے اسکی ایک ہلکی مثال  میرے اور میرے مالک مکان کے درمیان روزمرہ کا ربط  ہے۔ میرا مالک مکان  انتہائی مہربان اور مددگار شخص ہوتے ہوئے بھی بعض اوقات مجھے مشکل صورت حال سے دوچار کردیتا ہے جس سے نمٹنا مجھے ذہنی و جذباتی کشمکش اور مشقت میں مبتلا کرتا ہے۔ مجھے اکثر اوقات خود کو اس کشمکش میں پاتی ہوں کہ مجھے اُس کے جنسی مزاح پر مبنی جملوں، میرے جسم بارے نامناسب تبصروں اور کبھی کبھار مجھے اس طرح چھونا کہ جو مجھے واضح طور پر پریشان کر دے کی کوششوں کا کیسے جواب دینا ہے۔ ایسا نہیں کہ میں اسے سراپا شیطان تصور کرتی ہوں یا وہ  مسلسل مجھ سے کسی قسم کی زبردستی کی کوششوں میں لگا رہتا ہے۔ درحقیقت وہ مجموعی طور پر ایک اچھا انسان ہے۔ اسکے باوجود اسکے ساتھ روزمرہ کی بات چیت اور برتاؤ کے دوران میں مسلسل ایک یا دوسری صورت حال سے نبرد آزما رہتی ہوں- یوں لگتا ہے کہ میں ہر وقت حالت جنگ میں ہوں، میری حسیات چوکنا رہنے پر مجبور ہیں۔

مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میں ایک باریک تنی رسی پہ چل رہی ہوں۔ میرے مالک مکان کی میری طرف پیش قدمی کے سامنے میرا کوئی عدم توازن پہ مبنی ردعمل یا تو اسے اپنے طرز عمل کو جاری رکھنے کی ترغیب دے گا یا وہ پہلے کی طرح مددگار اور مہربان نہیں رہے گا۔ مجھے اپنے لفظوں کا دھیان رکھنا پڑھتا ہے، اپنے چہرے کے تاثرات ، اپنی حرکات و سکنات اور سارا وقت اپنے اضطراری ردعمل کو قابو میں رکھنا پڑتا ہے۔ میں اپنے ابلاغ اور ترسیل خیالات کو یونہی آزاد نہیں چھوڑ سکتی چاہے میں اپنے لفظوں کا پہرہ دیتے دیتے تھک ہی کیوں نہ گئی ہوں۔ اب اگر کسی روز میں اسقدر تھک جاوں کہ مزاحمت کرنا چھوڑ دوں تو کیا اس کا مطلب ہو گا میں نے اسکی خواہشات کی تکمیل کے لئے رضامندی ظاہر کر دی؟ جنگلی خونخوار جانور اپنے شکار کو پکڑ کر بہت دیر دانتوں میں دبوچے رکھتے ہیں، حتی کہ شکار مزاحمت کرتے کرتے تھک جائے، یہ تھکن شکاری کا حوصلہ بڑھاتی چلی جاتی ہے اور شکار کو زندگی سے دور کرتی چلی جاتی ہے۔

اگر یہ کہا جائے کہ میرے مالک مکان کا رویہ جسمانی ضرورت اورجنس مخالف کے لئے کشش کے تحت فطری رویہ ہے تو سوال یہ ہے کہ میرے اس رویے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تمام محسوسات بھی تو انسانی فطرت کا ہی ایک رنگ نہیں؟  اب الزام دیا جائے تو کسے،  پہلا قدم اٹھانے والے کو یا یا ردعمل دینے والے کو، خواہ وہ ردعمل خاموشی ہی کیوں نہ ہو؟

میں یہ اعتراف کرتی ہوں کہ مجھے اسکا جواب معلوم نہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ اس کی جانچ کا ایک ہی طریقہ ہے کہ دیکھا جائے کون جبر و ازیت سہہ رہا ہے اور اس ازیت کا محرک کون ہے، یہ بات واضح ہے کہ محرک ہر صورت فطرت ہے مگر فطرت کو پکڑ کر کٹہرے میں نہیں لایا جا سکتا سو یہ معاملہ انسانوں کے بیچ ہی طے کرنا ہو گا ۔ یاد رکھا جائے کہ میری یہ گفتگو گناہگار اور بے گناہ یا غلط اور صحیح کے روایتی اخلاقی معیارات کے تناظر میں نہیں بلکہ انسان کی اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل، انکی تکمیل کے لئے کسی دوسرے شخص کے جذبات اور حق اختیار کی نفی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی پچیدہ صورتحال اور اس سے نمٹنے کے تناظر میں ہے۔ اس صورتحال کو پیدا ہونے سے روکنے کا اختیار کس کے پاس ہے۔ یہ بات سمجھنا مشکل نہیں کہ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ جنسی خواہش کا اظہار کرنے والا اپنی نفسانی خواہشات کے زیر اثر ایسا کرتا ہے تب بھی اس شخص کے پاس اسکے اظہار یا نہ اظہار کرنے کے درمیان انتخاب کرنے کا اختیار موجود تھا مگر فریق ثانی کے پاس اس اظہار کے جواب میں اپنا ردعمل دینے یا نہ دینے کا حق انتخاب اسی وقت چھن گیا تھا جب اسے ایسی صورتحال سے دوچار کر دیا گیا، اب بھلے وہ خاموش کیوں نہ رہے، یہ خاموشی بھی ردعمل کے طور پر دیکھی جائے گی اور نتائج رکھے گی۔

اگر ہم اوپر دیے گئے استدلال کو درست مان لیں تو باقی جو چیز طے ہونا رہ جاتی ہے وہ یہ ہے کہ کیا معاشرے میں انسانی روابط و تعلقات میں جنسی رعایات کے تبادلہ کی توقع رکھنا کس حد تک درست  ہے؟ کیا کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے اپنی جنسی خواہشات کے اظہار میں مکمل آزاد ہونے اور اس سے مثبت ردعمل کی امید رکھنے میں درست ہے یا پھر سرزنش اور سزا کا حقدار ہے؟ ہم میں سے بہت سے کہیں گے، کیوں نہیں؟ یہ انسان ہی ہیں جو ایکدوسرے کی طرف راغب ہوتے ہیں اور جبکہ ہم دنیا میں ہر طرح کے جذبات اور احساسات کی تجارت ہوتے دیکھتے ہیں تو جنسی جذبات و احساسات کو اس سے الگ کیوں رکھا جائے؟ میں یہ سمجھتی ہوں کہ اس سوال کا بھی کوئی آبجیکٹو اور حتمی جواب ممکن نہیں اور اگر ہے بھی تو مجھے اسکا علم نہیں۔ میں التبہ یہ ضرور  جانتی ہوں اگر جواب مندرجہ بالا مقدمے کے اثبات میں ہے یعنی کسی شخص سے جنسی توقعات وابستہ کرنے کی تائید کرتا ہے تو لامحالہ ایک نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔

جب جب مجھے کسی فرد کی طرف سے مبہم اشاروں یا واضح لفظوں میں ایسی توقع کے اظہار کا سامنا ہوا اور میری عدم دلچسپی کے باوجود وہ شخص کسی نہ کسی طرح اپنی خواہش کا مسلسل اظہار کرتا رہا اور میں نے اس میں سراسر اپنی ہتک، تذلیل اور اپنی ذات کی نفی محسوس کی تو درحقیقت یہ احساسات سچے نہ تھے، میں نے دروغ گوئی سے کام لیا،میں خود اپنے ہی ردعمل کو سمجھ نہ سکی یا اگر میں نے ایسا محسوس کیا بھی تو میرے احساسات مجھے ایسی صورتحال سے دوچار کرنے والے کے جنسی جذبات کے مقابلے میں کم اہم، ناخالص، اور غیر فطری تھے۔

اگر میرے الفاظ یہ ثابت کرنے لئے کافی نہیں کہ میں نے ایسی صورتحال میں حقیقتاً خود کو مجروح، ڈرا ہوا، ازیت زدہ ، کمزورمحسوس کرتی ہوں تو پھر کس طرح میرے احساسات کی صداقت ثابت ہو؟ اور اگر میرے الفاظ کا یقین کیا جاتا ہے  تو پھر یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ میں ایسا کیوں محسوس کرتی ہوں؟ اس سوال کا جواب سہل ہے کہ جس ارتقاء کی سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے ایک جنسی استحصال کا مرتکب شخص اپنے اندر موجود منہ زور جبلی قوتوں کے سامنے بے بس ہے، اسی ارتقاء نے میرے شعور کوخود آگاہی، خودی، عزت نفس، اپنے جسم پر اختیار کی خواہش جیسے انسانی اوصاف اور جذبات سے روشناس کرایا ہے۔  سو ہم دونوں اپنی اپنی جگہ فطرت کے کاریگری کے ہاتھوں مجبور ہیں۔ ہاں البتہ کیا جبلت ارتقا کی سیڑھی پر، کم یا زیادہ،  شعور کے تابع نہیں؟ اگر ایسا  نہ ہوتا تو کسی بھی طرح کے جبر کا شکار کبھی اپنے شکار ہونے کی کیفیت سے آگے بڑھ کر شکار بننے کے احساس،  اپنے تشخص کے تحفظ اور اپنی ذات میں موجود اختیار کے استعمال کی خواہش کے ادراک تک نہ پہنچتا۔  اگر جنسی تسکین کی خواہش اور اسکی تکمیل کے لئے کسی دوسرے انسان پر جبر محض فطری رحجان ہے  تو اس طاقت کے زبردستی استعمال کا شکار بننے والے  شخص کے اندر ذلت، بے بسی، غصے اور اپنے جسم اور حقوق کے تقدس کی پامالی جیسے احساسات و جذبات بھی اپنی شدت اور اصلیت میں اتنے ہی فطری اور خالص ہیں۔ تواب یہ طے کرنا ہو گا کہ ان میں سے کن جذبات کا احترام کیا جائے اور کن پر روک لگائی جائے۔

اس ڈسکورس میں اہم ترین مفروضہ جسے دوبارہ دوہرانے اور یاد رکھنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ” ایک فرد کے حقوق بارے آگاہی خودکار طریقے سے ان حقوق کو مرحمت نہیں کردیتی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here