ادارتی نوٹ: افغانستان کے معروف ٹی وی چینل طلوع نیوز کے یاسر ابرار نے افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد سے ایک طویل نشست کی۔ ان سے انھوں نے بہت سارے سوالات پوچھے۔ اس طویل نشست سے افغان طالبان کی سوچ کا بخوبی پتا چلتا ہے۔ طلوع نیوز نے ان سے کئی کانٹے دار سوالات کیے۔ ان میں سے ایک سوال افغان طالبان کے عالمی جہاد پہ یقین رکھنے والی تنظیموں سے تعلقات بارے بھی تھا- سوال کرنے والے نے افغان طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں القاعدہ کے ممبران کی موجودگی اور مارے جانے بارے سوال اٹھایا۔ افغان طالبان کے ترجمان نے اس طرح کے سوالات کا براہ راست جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ دوحہ امن معاہدہ میں افغان طالبان کے دوسری تنظیموں سے تعلقات کا ذکر نہیں ہے اور وہاں ان کا فرض یہ بنتا ہے کہ وہ افغانستان کی سرزمین امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔ ایک سوال یہ بھی تھا کہ امریکی فوج کے انخلا کے بعد طالبان نے جنگ کرنا کیوں نہیں روکا اور وہ چاہتے کیا ہیں؟ کیا وہ سرکاری افغان انتظامیہ سے مکمل سرنڈر اور کابل پہ بزور قوت قبضہ چاہتے ہیں؟ اس سوال کا جواب بھی افغان ترجمان نے سیدھے سبھاؤ نہيں دیا۔ ایک جگہ پہ افغان طالبان کے ترجمان نے بہت تفصیل سے یہ واضح کیا کہ ان کے نزدیک موجودہ افغان حکومت اور اس کے ادارے امریکی کٹھ پتلی، افغان مسلمانوں کے خلاف امریکی جنگ میں شریک رہے ہیں اور وہ بے دین ہیں۔ ان کے خلاف لڑنا جہاد ہے۔ افغان طالبان سمجھتے ہیں کہ دنیا بھر کے اسلامی ممالک میں جتنے مفتیان کرام اور علماء نے ان کے خلاف فتوے دیے سب امریکی دباؤ میں دیے گئے اور ان کی کوئی حثیت نہیں ہے۔ بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ افغان طالبان افغانستان میں اپنے سوا کسی دوسرے فریق کو افغانستان میں سٹیک ہولڈر مانتے ہی نہیں ہیں اور ان کو لگتا ہے کہ وہ لڑائی لڑکرپورے افغانستان پہ قابض ہوسکتے ہیں۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا فائل فوٹو

مسٹر مجاہد ، السلام علیکم ، پروگرام میں خوش آمدید

مجاہد: وعلیکم السلام، آپ کو، آپ کے سامعین کو، قاری کو اور ناظرین کو۔ شکریہ موقع دینے کے لیے

طلوع نیوز: دو ماہ میں آپ 114 اضلاع کے مراکز پہ قابض ہوگئے ہیں۔ پیناگان کا کہنا ہے کہ آپ کی امن عمل سے استواری محل نظر ہے۔ آپ کا ردعمل کیا ہے؟

مجاہد: اللہ کے نام سے۔۔۔۔۔۔ میں کہوں گا کہ 125 اضلاع دو ماہ میں ہمارے قبضے اور ہمارے زیر کنٹرول ہیں۔ یہ پیش رفت نہ تو بزور طاقت ہوئی اور نہ ہی جنگ کے زریعے ہوئی ہے۔ آپ کو بخوبی معلوم ہے کہ ان میں سے بہت سے کابل انتظامیہ کے سپاہیوں کے لڑائی چھوڑ کر ہمارے ساتھ ملنے کی وجہ سے ہمارے ہاتھ آئے ہیں اور ہم ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک یا ڈیڑھ ماہ میں ہمارا جانی نقصان بہت کم ہوا اور خود کابل انتظامیہ کے فوجیوں کا جانی نقصان بھی بہت کم ہوا ہے۔ کیونکہ جنگ کرنے کی نوبت نہیں آئی اور سارے علاقے خودبخود ہمارے ہاتھ آگئے اور سرکاری فوجی ہمارے ساتھ شریک ہوگئے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس سے امن بارے ہماری نیت پہ سوال اٹھایا جائے کیونکہ آپ واقف ہیں کہ سولہ ماہ میں ہم نے اپنے مسلح آپریشن 25 فیصد کردیے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم نے 75 فیصد اپنی مسلح کاروائیاں کم کردی ہیں۔ اس کے باوجود امن اور مذاکرات کا عمل  آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا ہے اور سست اس وجہ سے ہے کہ ہم دوسری طرف فریقین کے ساتھ بیٹھ نہیں سکیں ہیں۔

طلوع نیوز: لیکن لوگ جانتے ہیں کہ آپ نے جو کہا اس میں سب شامل نہیں ہیں۔ کئی اضلاع ایسے ہیں جو لڑائی کے بعد قبضے میں آئے ہیں۔ کئی شہروں کے مراکز کا آپ نے کئی روز محاصرہ کیے رکھا۔ پل خمری کا شہر اس کی ایک مثال ہے۔ غزنی ایک اور مثال ہے۔ آپ کی طرف سے اس اقدام نے سوالات کھڑے کیے ہیں۔ آپ نے سات دن قبل اپنے ایک بیان میں اسے “فتح” قرار دیا تھا۔ لوگ سوال کرتے ہیں:ہمیں یہ کیسے سمجھ آسکتا ہے؟ کیا آپ فوجی غلبہ چاہتے ہیں؟ کیا آپ (کابل فوج) سے سرنڈر چاہتے ہیں؟آپ چاہتے کیا ہیں؟

مجاہد: میں اس نکتہ کو جامع مگر مختصر انداز میں سمجھانا چاہوں گا تاکہ ہم اس بارے بہتر فیصلہ کرسکیں- جنگ بندی عیدالفطر کے چوتھے روز 4 جون 2021ء کو ختم ہوئی۔ عید تین روز میں ختم ہوگئی تھی۔ عید کا جوتھا دن تھا۔ کابل سرکار کی دو آرمی دستوں نے بیانات جاری کیے کہ وہ اپنے زیرکمان علاقوں میں بڑے پیمانے پہ فوجی آپریشن شروع کرنے جارہے ہیں۔ ان میں 215 مومند کور اور 103 تھنڈرکور پکتیا شامل تھیں۔ دونوں کے جاری کردہ بیانات کو ملکی میڈیا نے شہ سرخیوں میں شایع کیا۔ آپ گوگول پہ سرچ کرسکتے ہیں”طالبان کے خلاف بڑے پیمانے پہ آپریشن شروع ہوگیا”۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ عید کے چوتھے روز شروع ہوا۔جب ہمارے خلاف لرا جارہا ہو،جب ہمیں دھمکیاں دی جارہی ہوں تو ہمارے پاس سوائے اپنا اور اپنے علاقوں کا دفاع کرنے کے اور کیا اختیاربچ جاتا ہے؟ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ آپ نےدیکھا کہ سرکاری سیکورٹی انتظامیہ کی وزرات داخلہ اور نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکورٹی کے دو سیکورٹی اہلکاروں نے کابل سرکار کی مرضی سے مشرانوجڑکہ کو پچھلے سال اپنی سرگرمیوں کی رپورٹ دی۔ ان کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کی ہمارے خلاف کاروائیوں میں 50 فیصد اضافہ ہوا اور جبکہ ہماری طرف سے کابل انتظامیہ کے خلاف کاروائیوں میں 7 فیصد اضافہ ہونے کی خبر دی گئی۔ پھر کابل سرکار کے سربراہ افغان صدر اشرف غنی نے کمانڈو فورسز کے ساتھ ایک تقریب میں خطاب کے دوران کہا کہ انھوں نے ملک میں ایک دن میں 50 حملے کئے۔ توجب 50 حملے ایک دن میں ہمارے خلاف ہوں اور ہمارے خلاف حملوں میں 50 فیصد اضافہ ہوجائے اور جنگ بندی کے چوتھے روز جنگ بندی کو بڑھانے یا امن عمل کو آگے بڑھانے کی دعوت دینے کی بجائے ہمارے خلاف حملے کرنے کا اعلان ہو تو کیا ہمیں اس پہ آرام سے بیٹھ جانا چاہئیے اور انتظار کرنا چاہئیے تھا۔ یہ ہمارا حق ہے۔

طلوع نیوز: مسٹر مجاہد، کیا آپ کو نہیں لگتا کہ جو علاقے آپ نے حال ہی مں دوبارہ قبضے میں لیے ہیں وہ حکومت کے کنٹرول میں تھے، آپ کے کنٹرول میں نہ تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ حکومت کہتی ہے کہ  حکومت نے ان علاقوں کو لینے کے لیے آپ پہ حملہ نہیں کیا بلکہ یہ آپ تھے جو آئے اور قابض ہوگئے۔

مجاہد: یہ سب کچھ تو حکومت کی کمزوری کے سبب ہوا۔  یہ اس لیے نہیں ہوا کہ وہ اچھے ہیں اور ایسا نہیں کریں گے۔ اگر وہ چاہتے اور اگر وہ کرپاتے تو وہ لازمی ہمارا خاتمہ کردیتے۔ وہ تو ہردم ہماری جان کے درپے رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایسا کرنہیں سکتے اور ان میں ایسا کرنے کی قابلیت نہیں ہے تو یہ بالکل الگ چیز ہے۔ وہ ایسا کہتے تو ہیں لیکن کرنہیں پاتے لیکن ہمیں دشمن کی طرف سے ہمارے خلاف کیے جانے والی کاروائیوں کے خلاف اپنا دفاع ہر صورت کرنا ہے۔ ہم نے اپنی تحریک شروع کی اور دشمن کے خلاف اپنا دفاع کیا۔ اس صورت حال میں دشمن کی افواج اپنا مورال کھورہی ہیں۔ آج تک ہمیں ہر جگے سے ان کی طرف سے ہتھیار ڈالنے کی خبریں موصول ہورہی ہیں۔ یہاں تک کہ آج جب میں یہاں آپ سے بات کررہا ہوں تو مجھے چار صوبوں سے کال آئی ہیں ، انتہائی اہم اڈوں سے رابطہ کیا گیا اور ہمیں بتایا گیا کہ وہ سرنڈر کرنا چاہتے ہیں۔ اور وہ پوچھ رہے ہیں کہ کیسے وہ یہ کریں۔ ہم ان کو نظر انداز نہیں کرسکتے کیونکہ انہوں نے لڑنا چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے لڑنے کے بہانے ختم کردیے ہیں۔ انھوں نے عدم تحفظ کا خاتمہ کردیا ہے۔ اس لیے ان علاقوں کو صاف کرنا بہت ضروری ہے۔ یہآں پہ ایک اور نکتہ بہت اہم ہے۔ آگر آپ شمار کریں تو گزرے ماہ سے معصوم شہریوں کی ہلاکتوں میں کمی آئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ دشمن وسیع علاقہ چھوڑگیا ہے اور عام آدمی نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ ایسی حالت میں ہمیں آگے پیش رفت جاری کیوں نہیں رکھنی چاہئیے؟

طلوع نیوز: دنیا کی انگلیاں آپ پہ اٹھ رہی ہیں۔ امریکہ سفیر نے ایک ٹوئٹ میں آّ سے تشدد روکنے اور مذاکرات کی طرف پلٹنے کو کہا ہے۔ مسٹر ویسن نے کہا کہ دنیا ایک ایسی حکومت کو قببول نہیں کرے گی جسے جبر سے قائم کیا گیا ہو۔ ایک بنیادی سوال پھر اٹھتا ہے: کیا آپ عسکری طور پہ قبضہ چاہتے ہیں یا سیاسی صلح اور امن کے زریعے حکومت چاہتے ہیں؟

‏مجاہد: امریکہ تو خود طاقت سے قابض ہوا تھا۔ موجودہ حکومت بھی زبردستی مسلط ہوئی تھی۔ آپ کو یاد ہوگا کہ وہ بی 52 اور دوسری طرح کے طیاروں کو استعمال کرکے 20 سال قبل آئے تھے۔ اور ان میں سے کچھ اب بھی یہاں موجود ہیں۔ وہ طاقت کے زور پہ آئے اور طاقت کے زور پہ افغانستان کی عوام پہ موجودہ حالت مسلط کی۔ اگر وہ طاقت استعمال کرسکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟ یہ تو ایک بات ہوئی۔ دوسری بات  یہ ہے کہ  ہم نے اور امریکہ نے 16 ماہ قبل ایک معاہدہ کیا۔ اور یہ معاہدہ اب جاری بھی ہوجگا ہے۔ آپ واقف ہو۔ اس میں زکر ہے کہ  سب سے پہلے امریکی اور اس کے اتحادی فوجی  تکم مئی تک تمام بشمول نیٹو افغانستان سے چلے جائیں گے ۔ دوسرا یہ معاہدہ کہتا ہے کہ  افغانستان کی سرزمین امریکہ کے خناف استعمال نہیں ہوگی۔ تیسرا افغان فریقین کے درمیان مذاکرات شروع ہوں گے۔ چار افغان فریقین کے درمیان مذاکرات میں سیز فائر پہ غور ہوگا۔ ہم نے امریکہ کے ساتھ معاہدے پہ دستخطکردیے۔ آپ بتائیں کہ اب جبکہ مئی گزرگیا، امریکی افواج اب تک افغانستان چھوڑ کر کئی کیوں نہیں؟۔۔۔۔وہ مئی میں نہیں گئے۔ یہ تو ایک خلاف ورزی ہوئی۔ دوسری شرط کے مطابق اب تک امریکہ اور اس کی اتحادی افواج پہ کوئی حملہ افغانستان سرزمین پہ نہیں کیا گیا۔ اس سے معاہدے کے ساتھ ہمارے مخلص ہونے کا پتا چلتا ہے۔ تیسری شق افغان فریقینکے مابین امن مذاکرات شروع ہوں ہے۔ اس میں ذکر کیا گیا تھا کہ یو این کی بلیک لسٹ افغان فریقین کے درمیان مذاکرات کےشروع ہوتے ہی ختم کردی جائے گی۔ اور سارے قیدی رہا کردیے جائیں گے۔ لیکن دونوں کام ہی نہیں ہوئے۔ اب جبکہ امریکہ اپنے وعدے پورے نہیں کررہا یا وہ وہ ان پہ عمل درآمد نہیں کرپارہا  یا وہ کرنا نہیں چاہتا تو ہم کیوں معاہدے کے پابند رہیں؟

طلوع نیوز: مسٹر مجاہد! آپ جانتے ہیں کہ افغانستان سے غیرملکی افواج کی بھاری تعداد کا انخلا تو ہوچکا۔ چند دنوں پہلے ایک سینٹکوم کماندر نے کہا کہ انحلا 50 فیصد سے زائد ہوچکا ہےاور11 ستمبر تک کوئی فوجی نہیں رہے گا۔ معاہدہ دوحہ میں بھی آپ نے کچھ چیزوں پہ اتفاق کیا تھا۔ ان میں سے ایک اہم ایشو آپ کا القاعدہ اور اس جیسے دوسرے دہشت گرد گروپوں سے بالکل الگ ہونا تھا۔ کیا آپ اس اصول پہ ڈٹے ہوئے ہیں؟

مجاہد: کوئی شک نہیں، ہم اپنی بات پہ ڈٹے ہوئے تھے۔ پہلے تو یہ بتایا جائے کہ ستمبر تک انخلا کی تاریخ کو کیوں کھینچا گیا؟ ہم18 ماہ مذاکرات کے بعد رضامند ہوئے تھے۔ اب 5 فیصد امریکی فوجی کیوں ہیں؟ یہاں تک کہ ایک بھی امریکی فوجی اب تک افغانستان میں موجود کیوں ہے؟

طلوع نیوز: آپ جانتے ہیں یہ یہ تعداد صفر ہوجائے گی۔

مجاہد:ہم نے دوسرے دن ہماری افواج اور سویلن پہ امریکی فضائیہ کی بمباری دیکھی۔ انہوں نے فضائی بمباری تسلیم کی۔ یہ معاہدے کے خلاف ہے۔

طلوع نیوز: مسٹر مجاہد، اب مجھے چند بنیادی مسائل کا ذکر کرنے کی اجازت دیں۔20 اکتوبر 2020 القاعدہ کا نمبر ٹو محسن المیسری ضلع غزنی یے علاقے اندار میں مارا گیا۔ یہ علاقہ آپ کے زیرکنٹرول ہے۔ یو این نے 31اکتوبر 2020ء کو کہا کہ طالبان کی صفوں میں القاعدہ کے لڑاکے شامل ہیں اور یہ دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔10نومبر2020 محمد حنیف عرف عبداللہ القاعدہ برصغیر کا ڈپٹی لیڈر افغانستان کے فرح ضلع کے ایک علاقے باقوا میں  آپ کے  اراکین کوبم بنانے کی تربیت دیتا مارا گیا۔ آپ نے افغان حکومت سے جن 5 ہزار قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا اس میں عمر عاصم کی بیوی بھی شامل تھی۔ آکر آپ فروری میں امریکی کی 1267 کمیٹی کی رپورٹ دیکھیں اور امریکہ محکمہ خزانہ کی 26 جنوری 2021 کی رپورٹ ملاحظہ کریں تو آپ کو ان سب میں طالبان کے القاعدہ اور دوسرے دہشت گرد گروپوں سے تعلقات بدستور قائم رہنے کا ذکر موجود ہے۔

 

مجاہد: آپ کو یہ بھی سننا چاہئیے۔ پہلے یہ کہ میں امید کرتا ہوں کہ آپ نے معاہدے کو بغور پڑھا ہوگا کیونکہ یہ جاری کردیا گیا ہے اور کوئی اس کا حصّہ خفیہ نہیں رکھا گیا۔

طلوع نیوز: بالکل ۔ میں نے اسے احتیاط سے پڑھا ہے۔ 

  

مجاہد: اس معاہدے میں کہیں یہ ذکر نہیں ہے کہ ہم کسی(دہشت گرد گروپ) سے تعلق رکھتے ہیں یا نہیں رکھتے۔ درحقیقت تعلقات کا مسئلہ سرے سے زیربحث ہی نہیں آیا۔ جے بات پہ اتفاق ہوا وہ یہ تھا کہ افغانستان سے کو ئی خطرہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو درپیش نہیں ہوگا۔  

  

طلوع نیوز: القاعدہ سے لیکر دوسرے دہشت گرد گروپوں سے (خطرہ پیدا ہونے نہیں دیا جائے گا) 

  

مجاہد: ہاں، تمام سے۔ ایسی صورت حال جیسے جنگ میں ہوتی ہے، ہمیں ایک بڑی جنگ کا سامنا ہے۔۔۔۔ ہم اپنی دھرتی کو یا ہمارے علاقوں کو صاف نہیں کرسکتے یا ہم وہاں پہ مکمل نگرانی نہیں رکھ سکتے یا ایسی صورت حال میں جہاں مفتوح اورغیر مفتوح علاقے ہیں اور وہ علاقے جہاں نہ تو ہم ہیں اور نہ ہی ہمارا دشمن ۔۔۔۔ جہاں پہ کسی کی رٹ نہں ہے تو ایسی صورت حال میں  یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی خلاف وروي نہ ہو یا ویسے واقعات بالکل نہ ہوں۔ صوت حال کیسی ہی کیوں نہ ہو  ہم اس میں ملوث نہیں پائے جائیں گے۔  رپورٹیں جو شایع ہوئیں ہیں وہ یا تو کابل سرکار کی ہیں یا امریکیوں کی ہیں۔ یہ ہم سے دشمن کی دشمنی پہ مبنی ہیں۔ 

  

طلوع نیوز: وہ اقوام متحدہ کی ہیں۔  

  

مجاہد: اقوام متحدہ بھی امریکی رپورٹوں پہ انحطار کرتی ہے یا یہ کابل کی این ڈی ایس کی معلومات پہ انحصار کرتی ہے۔

  

طلوع نیوز: آپ کا تبصرہ یہ اشارہ دیتا ہے کہ دوحہ معاہدے میں القاعدہ سے تعلقات ختم کرنے کا معاہدہ نہیں کیا اور ابھی تک آپ کے تعلقات قائم ہیں۔  

  

مجاہد: پہلی بات تو یہ ہے کہ اس میں تعلقات بارے سرے سے کسی چيز کا زکر ہی نہیں ہے۔ دنیا میں سلمانوں کے درمیان تعلقات عقیدے پہ ہوتے ہیں اس کا منطق سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس مسئلے کا دوران مذاکرات ذکر ہوا تھا- ہم نے امریکیوں کو وضاحت ک تھی کہ 20 سال سے ہمارا کسی سے کوئی تعلق نہیں ہے سب سے کٹا ہوا۔ بطور مسلمان  ہم سب کا مشترکہ عقیدہ توحید ہے ۔ ان حالات و واقعات کے ساتھ ہمارا ساری مسلمان دنیا سے تعلق ہے۔ تعلقات سے کیا مطلب ہے؟(ہم سے پوچھا جاتا ہے) اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ افغان سرزمین سے امریکہ کو کسی خطرے کا سامنا نہیں ہوگا۔ یہ ہے وہ بات جس کا معاہدے میں زکر ہے۔ ہم معاہدے کے مشتملات کے پابند ہیں ناکہ اس کے جو میڈیا یا دوسرے افراد کہتے ہیں۔  

  

طلوع نیوز: آپ کہہ رہے کہ تعلقات برقرار رہیں گے؟

مجاہد: نہیں، ہمارے تعلقات۔۔۔ اس کا مطلب “وہ تعلقات: نہیں جوآپ کہتے ہیں۔ ہمارے کزشتہ 20 سال سے تعلقات نہیں ہیں۔

     

طلوع نیوز: مسٹر مجاہد! اگر آپ کے تعلقات نہیں ہیں تو عبدالمسلم المصری غزنی کے اندار ضلع میں کیسے مارا گیا؟

مجاہد: میں نے آپ کو کہا نا کہ اس حوالے سے ہمیں کوئی ثبوت نہیں دکھایا گیا۔ ہم نے شواہد مانگے تھے۔ اس کی لاش کہاں ہے؟ اور۔۔۔ اب تک کوئی ثبوت ہمیں فراہم نہیں کیا گیا۔ یہ بس ٹی وی اور ریڈیو پہ لگائے گئے الزام ہیں۔  

طلوع نیوز: ابوالمسلم المصری کہاں ہے؟ مسٹر مجاہد!کیا آپ کو معلوم ہے؟

  

مجاہد: ہمیں اس کے ٹھکانے کا کچھ پتا نہیں ہے۔ ہمیں نہیں پتا کہ وہ کہاں ہے۔ دوبارہ کہوں گا کہ ملک حالت جنگ میں ہے۔ آدھا ملک ہمارے کنٹرول میں نہیں ہے۔ ہماری سرحدیں کھلی ہیں، ہم حالت جنگ میں ہی، ہمارے پاس نہ وزرات داخلہ ہے اور نہ ہی ایسی انٹیلی جنس کہ جو تمام شہریوں پہ نظر رکھ سکے اور یہ جان سکے کہ کون کہاں ہے اورکون کہاں نہیں ہفے، کون تحریک چلاتا ہے اور کون نہیں۔ ایسی صورت حال میں کوئی چیز اہم ہے تو یہ کہ وہ ہمیں ثبوت فراہم کریں کہ کوئی خطرہ امریکہ کے لیے افغانستان کی سرزمین پہ ہے یا کسی کا اس طرح کا کوئی ارادہ ہے۔

طلوع نیوز: آپ نے اتفاق کیا تھا کہ جتنے بھی قیدی آپ کے رہا ہوں گے وہ دوحہ معاہدے کی پابندی کریں گے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ واپس جنگ کے میدان کو نہیں پلٹیں گے۔ اگر ہم سوال کو مختصر کریں تو مالی خان کہاں ہے جو انس حقانی اور حافظ رشید کے ساتھ رہا ہوا تھا؟ سابق این ڈی ایس سربراہ رحمت اللہ نبیل کہتا ہے کہ وہ پکٹیا صوبے میں طالبان کی طرف سے جاری جنگ کی کمان سنبھالے ہوئے ہے۔

مجاہد: میں ایک بار پھر کہوں گا کہ معاہدے کو اچھے سے پڑھیں۔ معاہدے میں کہیں ذکر نہیں کیا گیا کہ ہمارے قیدی رہائی کے بعد میدان جنگ میں پلٹیں گے نہیں۔

طلوع نیوز: لیکن آپ نے کہا تھا کہ وہ دوحہ معاہدے پہ حرف بہ حرف عمل کریں گے۔

مجاہد: جی ہاں ہم پابند ہیں۔ وہ جو اب لڑرہے ہیں وہ بھی پابند ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ امریکہ کو افغانستان کی سرزمین سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی افواج افغانستان سے چلی چائیں گے، ہم پابند ہیں ۔۔۔ اس کا مطلب ہے کہ اگرافغان فریقین کے درمیان مذاکرات ہوئے تو ہم سب بشمول قیدی پابند ہیں اگرسیز فائر پہ بحث ہوئی، ہم پابند ہیں۔ اس میں کوئی سوال کیسے پیدا ہوتا ہے؟ ہم معاہدے کی ایک ایک شق کے پابند ہیں۔ 

طلوع نیوز: آپ کے بہت سے قیدی میدان جنگ میں واپس آئے ہیں۔ مالی خان پکٹیا میں لشکر کی قیادت کررہا ہے۔

مجاہد: میں پھر اس معاملے کو دوہرا رہا ہوں۔  نہي، ہمارے رہا ہونے والے قیدیوں میں سے کوئی ایک بھی قیدی جنگ کے میدان کو نہیں لوٹا۔ کیونکہ وہ جسمانی اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں۔ ان میں سے بعض کے گھریلو مسائل ہیں۔ ہم سب مصروف ہیں۔ میں آپ کو مثال دے رہا ہوں۔ ایک مختصر مثال  کیونکہ اب تک کسی نے بھی اس معاملے کو زیر بحث لانے کی ہمت نہیں کی۔ امارت اسلامی افغانستان اپنے ڈھانچے پہ نظر ثانی کررہی ہے۔ کچھ گورنر اور حکام تبدیل کردیے گئے ہیں۔ تین سے چار مثالوں میں کچھ افراد جو رہا ہونے والے 5 ہزار قیدیوں میں سے ہیں کو صلعی گورنر اور اس سے نیچے کے عہدوں پہ فائز کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ سفارشات منظوری کے لیے امیرالمونین اور ہمارے قائد کو بھیج دی گئی ہیں۔جب انھوں نے ان کے سابقہ ریکارڈ کو دیکھا کہ وہ جیل میں رہے اور اب رہا کیے گئے تو انھوں نے اسے مسترد کردیا اور حکم دیا کہ جتنے لوگ رہا ہوئے گھر پہ رہیں اور معاہدے کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔

طلوع نیوز: مسٹر مجاہد! 

مجاہد: ایک تو افواہیں ہیں تو دوسری حقیقتیں ہیں۔۔۔۔

طلوع نیوز: کیا آپ اس کی تصدیق کریں گے کہ مالی خان پکتیا میں جنگ کی ‍قیادت کرہا ہے۔

مجاہد: نہیں، نہیں۔ مالی خان کےپاس قیادت نہیں۔ پکتیا میں جنگ کی قیادت پکتیا کا گورنر کررہا ہے۔

طلوع نیز: مالی خان کہاں ہے؟ کیا دوحہ میں؟

مجاہد: نہیں وہ گھر پہ ہے۔۔ حاجی مالی خان زیرعلاج ہے اور اپنے گھر ہے۔ بہرحال میں جانتا کہ وہ ہے کہاں لیکن وہ میدان جنگ نہیں ہے۔

طلوع نیوز: مسٹر مجاہد! افغانستان میں موجودہ جنگ کا نام کیاہے؟ جہاد؟ مسلمانوں کا قتل؟ برادرکشی؟ یہ کیا ہے؟

مجاہد: یہ جہاد ہے، قبضے کے حلاف، قبضے کے حامیوں کے خلاف،بغاوت و خروج کے خلاف

طلوع نیوز: لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ 1397ھجری /2018ء میں 37 ممالک کے 100 سے زائد علما سعودی عرب اکٹھا ہوئے  تھے جہاں پہ او آئی سی کے سیکرٹری جنرل بھی شریک ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا تھال مسلمان ملک میں مسلمان کا خون بہانا حرام ہے۔ 1339ھجری(ستمبر2020) میں میزان میں مسلمانوں کی انٹرنیشنل یونین نے افغانستان میں جاری جنگ اور مسلمانوں کے قتل کو حرام قرار دیا۔ ان اقران میں 1399ھجری(اکتوبر 2029) میں دو ہزار مذہبی علماء کابل میں اکٹھے ہوئے اور انہوں نے افغانستان میں جنگ کو حرام قرار دیا مئی 29 سن 2021ء کو مصر کے مفتی اعظم ڈاکٹر ابراہیم عبدالکبیر نے جنگ کو حرام اور ناجائز قرار دیا اور کہا کہ مسلمان کا قتل تمام انسانیت کا قتل ہے اور یہ کعبہ کی بے حرمتی سے کہیں زیادہ سنگین گناہ ہے۔ آٹھ دسمبر 2020ء کو عالم اسلام کے علماء نائجیریا میں اکٹھے ہوئے اور کہا کہ یہ جنگ فوری بند ہونی چاہئیے۔ ہم ڈاکٹر شیخ اکریمہ صابری کا ان میں سے ذکر کرسکتے ہیں۔ اکریمہ صابری مسجد الاقصی کے امام ہیں نے کہا کہ افغانستان میں جنگ قرآن کی سورت نساء کی چورانوے نمبر آیت کی رو سے ناجائز ہے۔ تین ہفتے پہلے ایک کانفرنس مکّہ میں ہوئی جس کے شرکاء پاکستان، افغانستان اور سعودی عرب کے علماء تھے۔ او آئی سی نے تین ہفتے پہلے کہا کہ افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں جنگ کا جاری رہنا مسلمانوں کو مارنا ہے۔ کیا آپ ان سب کو تسلیم نہیں کرتے؟

مجاہد: میں امید کرتا ہوں آپ مجھے بھی سنیں گے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جب ہمارا جہاد امریکہ کے خلاف شروع ہوا تو جن لوگوں کے نام آپ نے لیے ان میں سے کسی نے جہاد کا فتوا نہیں دیا اور جبکہ آپ کا ملک مقبوضہ ہوتو اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ تو کیا اب ہمیں ان کی طرف سے جنگ ختم کرنے کی بات پہ کان دھرنے کی ضرورت ہے؟ دوسری بات جن کا آپ نے ذکر کیا ان کی بہت بڑی اکثریت تو ان ممالک میں سرکاری ملازموں کی ہے اور وہ امریکہ کے دباؤ میں ہیں۔ جب جان نکولسن کابل میں ناٹو کا کمانڈر تھا، اس نے کہا تھا کہ وہ طالبان پہ مذہبی اور فوجی دباؤ بڑھائیں گے تاکہ ان کو مذاکرات پہ مجبور کیا جاسکے۔ اس نے مذہبی دباؤ کی وضاحت کی تھی کہ وہ دنیا بھر کے علماء کو کہیں گے کہ وہ طالبان کے خلاف بات کریں۔موجودہ حالات میں کوئی عالم جوکہ آزاد ہو ،معتبر ہو اور ساکھ رکھتا ہو ایک لفظ بھی نہیں کہتا(ہمارے خلاف) سوائے ان کے جن کی حکومتوں میں نوکری ہس یا وہ اپنی حکومتوں سے جنگ کے خلاف ڈکٹیٹشن لے رہے ہیں۔ ان کی بحث اور بات ہے ان کے الفاظ کو غلط معنی دیے جارہے ہیں۔ مثال کے طور پہ ہم الاقصی مسجد کے امام کی بات کرتے ہیں- جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انھوں نے ایسی کوئی بات کی ہے تو انھوں نے کہا کہ انہوں نے ہرگز ایس تبصرہ نہیں کیا۔ مسجد الاقصی کے امام نے ہمیں بتایا کہ امریکہ کے خلاف لڑنا جہاد ہے اور کوئی اس سے انکار نہیں کرسکتا۔

طلوع نیوز: لیکن مسلمان اکثریت کے ملکوں میں علماء کی ملاقاتوں کی خبریں آرہی ہیں—–

مجاہد: میں اس طرف بھی آؤں گا۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ان سب شریف آدمیوں(علماء) کو اایسے الفاظ کہنے کی ہدایات ملیں ہیں۔ دوسری بات ہمارا جہاد ان کے فتوے سے نہ شروع ہوا تھا اور نہ ہی ان کے فتوے سے ختم ہوگا۔ تیسری بات اسلامی فقہ کا ایک اصول ہے۔ یہ سائنسی مزضوع ہے۔ اور وہ اصول یہ ہے کہ کسی مسئلے پہ اگر آپ کو فتوا دینا ہے تو آپ کو دونوں اطراف بارے تحقیق کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر دونوں اطراف کے فریق موجود نہ ہوں تو کسی کے خلاف فتوا جاری کرنا جائز نہیں۔ وہ تمام مفتی جن کا آپ نے ذکر کیا ،ان میں سے ایک بھی ہمارے ساتھ بیٹھا نہیں تاکہ ہم سے پوچھے کہ ہم لڑ کیوں رہے ہیں اور ہمارا مسئلہ کیا ہے؟ تاکہ ہم ان کو وضاحت سے بتاسکیں اور وہ فتوا دے سکیں۔

ان سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا مسلمانوں کو مارنا جائز ہے، وہ جواب میں کہتے ہیں نہیں۔ اگر آپ فتوا میڑ یہ ذکر کرین کا امریکہ کی کٹھ پتلیوں کو مارنا جنھوں نے امریکہ کے ساتھ کھڑے ہوکر 20 سال تک قوم کو مارا ہے، وہ اپنے مذہب کے خلاف کھڑے ہیں اور اس سے دشمنی رکھتے ہیں ، امریکی مفادات اور امریکی نظام کی حفاظت کررہے ہیں اور نیویارک و واشنگٹن کا تحفظ کررہے ہیں۔، تو کیا ان کو مارنا جائز ہے ناجائز؟ تب اگر وہ مفتی اس طرح کے کیس میں یہ کہے کہ یہ ناجائز ہے تو جو آپ ہرجانہ کہیں گے میں دوں گا۔ یہ تب ہی ہوسکتا ہے جب مفتی آتے اور دونوں پارٹیوں کو بٹھاتے  اور تب وہ ہمارے بارے میں فیصلہ کرتے۔۔ یک طرفہ طور پہ جاری کیے ہوئے فتوے کی کوئی ساکھ نہیں ہوا کرتی، یہ سیاسی مسئلہ ہے ، یہ مذہبی مسئلہ نہیں ہے، ہم اس کا احترام نہیں کرتے، ہمارے اپنے علماء ہیں اور ہمارے اپنے مفتی ہیں۔ ہم سےے اکثر عالم دین ہیں اور ہم مذہب سے اچھے سے واقف ہیں۔ وہ امریکہ سے جہاد کو جائز نہیں سمجھتے۔ وہ جہاد سے شروع سے ہی منکر ہیں اور اب بھی اس کا انکار کررہے ہیں۔   

طلوع نیوز: تب فتوا کسے جاری کرنا چاہئیے؟ میں نے او آئی سی، مسلمان علماء کی بین الاقوامی تنظیم، مصر کے مفتی اعظم ، مجسد الاقصی کے امام سب کا ذکر کیا۔ کسے فتوا جاری کرنا چاہئیے تاکہ یہ جنگ ختم ہو؟

مجاہد: ان ہی شخصیات کولیکن فتوے کی جو شرائط ہیں کہ ہم بھی ہوں اور دوسرا فریق بھی ہو۔

طلوع نیوز: کیا آپ ایسے کسی اجلاس کے لیے تیار ہیں؟

مجاہد: فتوا دینے کے اصول لاگو ہونے چاہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ جس مسئلے پہ فتوی درکار ہے اس کی پوری تفصیل سے وضاحت ہو۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو وہ فتوی معتبر ہوگا۔

طلوع نیوز: کیا آپ تیار ہیں؟

مجاہد: ہمارے بھی علماء ہیں۔ ہمیں دنیا کو چتاونی دینے کی ضرورت کیا ہے؟ دنیا کے اپنے علماء ہیں اور ان کے اپنے مسائل ہیں۔ افغانستان کے اپنے علماء ہیں۔  ہم مصر یا اقصی کے مفتی کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے ہم تو اپنے علماء کے پیچھے نمازیں پڑھتے ہیں۔

طلوع نیوز: اس کا مطلب ہے آپ کو قبول نہیں۔ 

مجاہد: نہیں، وہ سب سیاسی فتوے ہیں۔ وہ نکولسن کے دباؤ میں جاری ہوئے ہیں، امریکی ہدایت پہ۔ وہ یک طرفہ ہیں۔ ان کی کوئی قانونی بنیاد نہیں بنتی۔

طلوع نیوز: لیکن لوگ تو سوال کریں گے کون سے فتوؤں کو وہ سیاسی خیال کریں؟ کچھ بھی ہو، جب آپ نے صوبے فرح میں ضلع انار دارا پہ قبضہ کیا تو ضلعی گورنر کے کمپاؤنڈ اور این ڈی ایس کی عمارت کو بارود سے اڑایا اور اللہ اکبر کا نعرہ لگایا۔ تو لوگ پوچھ رہے ہیں کہ یہ کس قسم کا جہاد ہے؟ عمارت کا قصورکیا تھا؟ کیا وہ بھی بے دین تھی؟

مجاہد: ہاں، یہ دلچسپ سوال ہے۔ مجھے کہنا چاہئیے کہ آج جب میں اور آپ بات کررہے ہیں تو ابتک 125 اضلاغ پہ ہم نے قبضہ کرلیا ہے۔ ایک ہی ایسا واقعہ ہوا ہے۔ دوسرا کسی اور مقام پہ ہوا ہے۔ 

طلوع نیوز: فریاب کے ضلع اندکھوئی میں؟

مجاہد: ہاں

طلوع نیوز: بہرحال اندکھوئی بارے آپ کا ردعمل معلوم ہے لیکن انار دارا بارے کیا؟

مجاہد: نہیں، اندکھوئی میں نہیں؛ یہ کوئی اور مقام تھا۔ میں اس بارے آپ ک بتاؤں گا۔ عمارت جسے تباہ کیا گیا وہ صرف ضلع کے لیے نہیں تھی۔ یہ پولیس ہیڈکوارٹر اور این ڈی ایس کی سہولت کاری کے لیے تھی۔ اس کے سامنے جائے سفید تھی۔ جب مجاہدین وہاں پہنچے تو انہوں نے بتایا کہ دشمن افواج کی بڑی تعداد اکٹھی ہوچکی ہے اور وہ ضلع کو واپس لینے کی کوشش کریں گے اور ضلع پہ حملہ ہوگا۔ یہ فوجی مقام ہے اور یہ وہ جہ ہے جہاں مزاحمت کی گنجائش نہیں ہے۔ بہت سارا ہموار میدان ہے۔ اگر دشمن پیچھے سے آکر حملہ کرت اور مضبوط گڑھ پہ قبضہ کرلیتا ہے تو مجاہدین پیچھے سے مزاحمت کے قابل نہیں ہوں گے۔اور اگر ہم پیچھے جاکر لڑتے ہیں تو وہ اس کو مضبوظ حصار کے طور پہ استعمال کریں گے تب بھی ہم مزاحمت نہ کرپاتے۔

طلوع نیوز: لیکن عوام جو جانتے ہیں۔۔۔۔ 

مجاہد: یہ عسکری فیصلہ تھا۔ اور عسکری فیصلہ دشمن کے مضبوط حصار کو گرانے کا تھا۔ یہ جنگ کی ضرورت ہوتا ہے کئی ایک علاقوں میں۔۔۔۔۔۔

طلوع نیوز: اگر آپ کا مقصد حکومت کرنا تھا تو آپ ان عمارتوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرسکتے تھے

مجاہد: یہ جنگ ہے۔ بعد مں ہم اسے استعمال کرسکتے ہیں۔ اگر ملک تعمیر ہو تو ہم اس کو بہت کم لاگت میں تعمیر کرلیں گے۔ لڑائی کے دوران کوئی بھی اس میں بیٹھ سکتا ہے اور اسے مضبوط حضار بناکر مجھے مار سکتا ہے تو ہمیں بھی اس مضبوط حصار کو گرانے کا حق حاصل ہے۔ آپ لزکزن کے گھروں میں تو مضبوط گڑھ نہیں بناسکتے جو گزشتہ 20 سال میں تعمیر ہوئے ہیں۔

طلوع نیوز: مسٹر مجاہد، آپ کا لیڈر ملّا ہبیت اللہ کہاں ہیں؟

مجاہد: وہ یہیں ملک میں ہیں- ان کی حفاظت کے پیش نظر میں اس خاص مقام کی نشاندہی نہیں کرسکتا جہاں وہ مقیم ہیں۔ لیکن وہ ملک میں ہیں اور وسیع و عریض جہاد کی قیادت کررہے ہیں۔

طلوع نیوز: پھر آپ کا وفد دوحہ جانے سے پہلے پاکستان مشاورت کے لیے کیوں گیا تھا؟

مجاہد: یہ درست نہیں ہے۔ وہ کبھی مشورہ کرنے نہیں گئے۔

طلوغ نیوز: آپ کو پتا ہے کہ مذاکرات کےپہلے دور کے خاتمے کے بعد ملّا بردار پاکستان گئے تھے۔ ایک ویڈیو آن لائن شیئر ہوئی تھی جس میں وہ کراچی میں ایک ہسپتال میں زخمی طالبان کی عیادت کرتے ہوئے دیکھے ئے۔ پھر وہ آپ کے اراکین کے اجتماع میں ظاہر ہوئے اور ان کو بتایا کہ تمام قیادت یہاں ہے اور زخمی طالبان کا علاج افغانستان میں ممکن نہیں تھا اور ہمارے پاس اس صورت حال کو برداشت کرنے کے اور کوئی چارہ کار نہیں تھا۔ یہ ویڈیو موجود ہے۔

مجاہد:میں ایک بات آپ پہ صاف صاف واضح کردوں۔ ملّا بردار اخوند کا دورہ پاکستان سرکاری دورہ تھا اور مقصد پاکستانی حکومت کے ذمہ داران سے ملنا تھا۔ پاکستان میں ہمارے 35 لاکھ پناہگزین افغان ہیں۔ ان میں ایسے افراد اور گروہ ہیں جو جہاد کے لیے افغانستان آتے ہیں، زخمی ہوتے ہیں یا بیمار ہوتے ہیں یا فوت ہوجاتے ہیں اور ایسے شہادت پاتے ہیں اور پھر ان کو ان کے خاندانوں تک بھیجا جاتا ہے جو ڈیورنڈ لائن کے ساتھ یا وزیرستان میں رہتے ہیں یا بلوچستان میں یا کسی مفتوحہ علاقے میں۔ ان علاقوں میں ہمارے35 لاکھ لوگ پناہ گزین ہیں۔ تو وہ لوگ جب بیمار یا زخمی ہوتے ہیں تو اس ملک کے ہسپتالوں میں جاتے ہیں۔وہ وہاں 20 سال سے ہیں یا 30 سال سے یا 40 سال سے تو وہآں کے ہسپتال اور دوائیں استعمال کرتے ہیں۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ تو یہ سرکاری دورہ تھا۔ یہ کسی سے مشاورت کے لیے نہیں تھا۔ جب آپ پاکستان جاتے ہیں تو آپ قومی مسائل میں مدد مانگتے ہیں۔

طلوع نیوز: مسٹر مجاہد، یہ ویڈیو ہے۔ یہ سوشل میڈیا پہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان کے وزیر داخلہ شيخ رشید نے اپنے ایک حال ہی میں دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ بہت سارے طالبان کے خاندان پاکستان میں ہیں وہ لوئی بر اور بارکوہ جیسے ایڈریس بھی فراہم کرتا ہے۔

مجاہد: میں پھر کہوں گا کہ ہمارے اراکین وہاں ہوسکتے ہیں کیونکہ وہاں ہمارے لوگ پناہ گزین ہیں، ان کے خاندان وہاں ہوسکتے ہیں۔ اور وہ یہاں جہاد بھی کرتے ہیں اور پھر وہاں اپنے خاندان والوں سے ملنے جاتے ہیں۔ ان کے خاندان 40 سالوں سے وہاں مقیم ہیں۔انہوں نے اس سے پہلے جہاد کے دوران ہجرت کی تھی۔ آغیں زرا دیکھتے ہیں کہ ہماری قیادت پہ پاکستان کا اثر ہے؟ ہماری قیادت کے لوگ پاکستان مارے گئے۔ مسٹر منصور پاکستان کے سرحد علاقے سے قندھار کی طرف سفر کررہے تھے تو راستے میں شہید ہوگئے۔ملّا بردار اخوند آٹھ سال پاکستان کی قید میں رہے۔

طلوع نیوز: ملّا عمر کا انتقال پاکستان میں ہوا؟

مجاہد: نہیں، ہرگز نہیں۔ یہ غلط ہے۔ وہ زابل میں شنکئی میں فوت ہوئے تھے۔

طلوع نیوز میں شایع ہونے والے انٹرویو کا ترجمہ ویب سائٹ ایڈیٹر عامر حسینی نے کیا ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here