حصہ دوم

پہلی صدی ھجری میں حضرت عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ کے قتل سے جڑے عرصے کو بعض مورخین جدید نے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے ایک گروہ کی رائے سے متفق ہوتے ہوئے اسے فتنہ کبیر کا آغاز کہتے ہیں اور اس کے بعد وہ بنوامیہ کے تاریخ نویسوں کی زبان میں ہونے والے واقعات کو اسی فتنہ کبیر کا تسلل بتاتے ہیں۔
ہمیں حدیث اور تاریخ کی کتابوں میں جس صحابی رسول سے اس سارے زمانے کو فتنہ عظیم قرار دیے جانے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کچھ فرمانات کے مصداق اس زمانے کو ٹھہرائے جانے کے اقوال ملتے ہیں وہ حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کی ذات پاک ہے۔ مدینہ طیبہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ وہ ممتاز صحابی رسول تھے جنھوں نے اس زمانے کو فتنہ عظیم کے ظہور کا زمانہ سمجھا اور انہوں نے بھی اس زمانے میں گوشہ نشینی اختیار کی۔
مورخین جدید میں مصر کے ابو طہ مصری بھی شامل ہیں جو اس عرصے کو فتنہ عظیم سمجھتے ہیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے جب منصب خلافت سنبھال لی اور ان سے بیعت کرنے والے کئی ایک جلیل القدر مہاجر و انصاری صحابی رسول آپ کی بیعت کو توڑکر مکّہ سے بصرہ پہنچے اور ایک لشکر تیار کرکے لڑنے کی تیاری کی تو امام علی ابن ابی طالب نے بھی ان کو حجاز کی بجائے عراق میں ہی بصرہ کے قریب روکنے اور ان کے سامنے دو راستے رکھنے کا فیصلہ کرلیا- ایک راستا تو دوبارہ بیعت کے دائرے میں داخل ہونے کا تھا جبکہ دوسرا راستا ان کو بزور سیف دائرہ بیعت میں لانے کا تھا۔

یہ پہلی مرتبہ ہورہا تھا کہ امت مسلمہ کے سب سے زیادہ محترم و مکرم سمجھی جانے والی شخصیات ایک دوسرے کے مدمقابل تھیں اور عام مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ سوال جاگزیں تھا کہ ان دونوں گروہوں میں حق پہ کون تھا؟

ہمیں مصنف ابن ابی شیبہ میں جنگ جمل کے موضوع پہ آنے والی روایات سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ حضرت علی کے لشکر میں بھی کچھ ذہن ایسے تھے جن کے ذہنوں میں یہ سوال گردش کررہا تھا کہ جب دونوں اطراف میں بڑے بڑے مہاجر و اانصار صحابہ کرام ہیں تو پھر حق کا پتا کیسے چلے گا ؟ وہ کس کی طرف ہے؟

یہ بات طے ہے کہ جب مدینہ و مکّہ سے تعلق رکھنے والے مہاجر و انصار صحابہ کا ایک بڑا سیکشن امام علی ابن ابی طالب کی بیعت توڑ کر ان کے مدمقابل آگیا تھا۔ اور دوسری طرف خود مکّہ اور مدینہ میں ایسے صحابہ کرام موجود تھے جنھوں نے پہلے دن سے ہی امام علی ابن ابی طالب کی بیعت نہیں کی تھی۔ مدینہ اور مکّہ میں جس بڑی تعداد نے امام علی ابن ابی طالب کی بیعت کی تھی ان کی بھی اکثریت مدینہ یا مکّہ سے باہر جانا نہیں چاہتی تھی ایسی صورت حال میں جب امام علی ابن ابی طالب مدینہ سے چلے تو ان کے ساتھ ایک ہزار کا لشکر تھا۔
اس لشکر میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ حضرت علی ابن ابی طالب کی رائے یہ تھی کہ ان کی بیعت توڑنے والے ناکثین اگر دائرہ خلافت میں نہ آئے تو ان سے لڑنا اور واپس دائرہ اطاعت میں لایا جانا ہے۔۔ علی ابن ابی طالب علیھم السلام نے علم جنگ بلند نہیں کیا تھا بلکہ جب ان سے سامنا ہوا تو پہلے ان کو قائل کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن جب یہ راستا نہ بنا تو مجبوری میں لڑنا پڑا۔ اس واقعے کو “جنگ جمل” اونٹ والی جنگ کہا گیا۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور ان کے ساتھ جو جلیل القدر صحابہ کرام تھے ان کی رائے میں حضرت عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ کے قتل سے لیکر ابتک جو واقعات رونما ہوئے تھے وہ اس فتنہ عظیم کی نشانی نہ تھے جس میں قتال سے گریز کرکے گوشہ نشین ہوجانے کا حکم دیا گیا تھا۔ بلکہ امام علی ابن ابی طالب اور ان کے ساتھیوں کے نزدیک یہ امت میں انتشار و افتراق ڈالنے اور امت مسلمہ کی وحدت اور جماعت کو تقسیم کرنے کی کوشش تھی اگر ایک فریق مرکز خلافت سے الگ ہوجائے اور وہ مرکز خلافت کے خلاف ہتھیار اٹھالے۔ اسی لیے ہمیں امام علی المرتضی کا وہ قول ملتا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اگر “حق کی پہچان ہوگی تو اہل حق کی پہچان بھی ہوجائے گی اور ایسے ہیجب باطل کی پہچان ہوگی تو اہل باطل کی پہچان بھی ہوجائے گی۔

یہ جنگ 36 ھجری میں ہوئی ۔ اور ہمیں اس جنگ کا تفصیلی احوال سب سے زیادہ طبری کی تاریخ الرسل والملوک اور بلازری کی تاریخ فتوح البلدان میں ملتا ہے۔ طبری نے ابو مخنف سے آٹھ روایات لی ہیں جبکہ باقی روایات اس نے سیف بن عمر تمیمی کوفی سے لی ہیں اور بلازری نے بھی زیادہ تر روایات کے لیے سیف بن عمر تمیمی الاسیدی کوفی پہ اعتماد کیا ہے۔ ابومخنف سے زیادہ تر روایت مجالد بن سعید الھمدانی سے لی ہیں۔ جنگ جمل کا زیادہ تر احوال طبری و بلازری نے ایک اور کوفی عامر بن شراحیل الشعبی کے زریعے کیا ہے۔

اور طبری ، بلازری ، ابوحنیفہ الدنیوری سمیت سب نے لکھا ہے کہ مدینہ سے سعید بن عاص ،مروان بن عاص،عبدالرحمان بن عاص اور مغیرہ بن شعبہ الثقفی یہ مدینہ سے مکّہ آنے والے لوگ تھے جنھوں نے سب نے حضرت علی ابن ابی طالب کے خلاف اعلان بغاوت مکّہ میں کردیا تھا اور ان کے ساتھ مکہ میں حضرت عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ کا مقرر کردہ گورنر عامر بن عبداللہ الحضرمی تھا جس نے اس اعلان بغاوت اور قصاص عثمان کا مطالبہ کردیا تھا۔

ہم جب جنگ جمل، جنگ صفین ، واقعہ کربلا بنوامیہ کے بادشاہوں خاص طور پہ عبدالملک بن مروان جس کے دور میں اموی حکومت بہت زیادہ مستحکم ہوئی کا رویہ دیکھتے ہیں تو ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ انھوں نے شعبی اور محمد بن شہاب زھری کو ترجیح دی اور جو علمائے جرح و تعدیل ہیں انھوں نے بھی ان دونوں کو نہ صرف امامین المحدثین مانا بلکہ ان کو تاریخ کے باب میں نصف ھجری کے بعد ہونے والے واقعات کی تاریخ میں بھی بہترین قرار دیا۔ بلکہ ان علمائے جرح و تعدیل نے تو جس سیف بن عمر تمیمی کو حدیث میں کذاب، مخترق اور متروک ٹھہرایا تھا اسے تاریخ و اخبار کے باب میں عمدہ راوی قرار دے ڈالا۔ کیوں؟ وہ زیادہ تر ایسی روایات بیان کرتا ہے جو بنوامیہ کو طاقت فراہم کرتی ہیں۔

لوط بن یحیحی ابومخنف جمل و صفین کا بنیادی اور واحد راوی ہے ۔ اس نے “کتاب صفین” کے نام سے کتاب لکھی ۔ کتاب “انساب الاشراف” میں ابن سعد نے “کتاب جمل ” کے عنوان سے ابومخنف سے مروی احادیث جو درج کی ہیں ان کی تعداد تینتیس بنتی ہے۔ جنگ جمل بارے ابومخنف کی روایات کردہ اخبار میں سے بعض خبریں تفصیل کے ساتھ ہیں۔ علماء جرح و تعدیل کے نزدیک عراق کی تاریخ کی تدوین جس شخص نے سب سے پہلے کی وہ ابومخنف ہی ہیں۔ اب یہاں ایک فرق ملحوظ خاطر رہے کہ علماء جرح و تعدیل جو ہیں وہ ابومخنف کو روایت میں اسے غیرثقہ قرار دیتے ہیں۔ کچھ اس کو متروک قرار دیتے ہیں۔
ابن ندیم نے ابومخنف عراق کے معاملے میں اور اس کی فتوحات کے بارے میں دوسرے راویوں کو سب سےبرتر قرار دیتے ہیں۔ کتاب”یاقوت الحموی فی معجم الادباء” نے ابومخنف کے بارے میں کہا کہ وہ فتوحات و جنگ ہائے اسلام کا اولین خبرنگار تھا۔(جلد17 صفحہ 41)
پہلی صدی ھجری کی تاریخی اخبار بارے ایک دوسرا راوی سیف بن عمر الاسیدی التمیمی الکوفی ہے۔ علماء جرح و تعدیل اور علم الرحال کے مولفین جیسے ابن معین، نسائی ، حاکم نیشاپوری ، ابن حبان البستی ہیں وہ اسے احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے باب میں زندیق، کذاب اور فرضی قصّہ گو قرار دیتے ہیں ۔ ان برائیوں کے سبب ماہرین علم الرجال نے اسے احادیث کے باب میں توجہ کے قابل نہیں سمجھا۔ لیکن سیف بن عمر تمیمی فتوحات اسلام اور اس سے متعلقہ اخبار میں ان ہی علماء اسماء الرجال کے نزدیک قابل اعتماد ہے اور وہ اسے تاریخ کے بیان میں عمدہ شخص قرار دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ ابن حجر عسقلانی تقریب التہذیب کی جلد ایک ص757 پر اور ذہبی میزان الاعتدال کی جلد 2 ص 303 پر اس کے بارے میں لکھا “بانہ اخباری عارف” یعنی وہ تاریخی خبروں کا عارف ہے۔
اب یہاں پر ہمارے سامنے ایک متضاد صورت حال سامنے آتی ہے۔ علماء جرح و تعدیل جو ہیں وہ ابومخنف کو حدیث میں ضعیف اور کچھ اسے متروک ہونے کی بنا پہ تاریخ کے راوی کے طور پہ بھی مکمل طور پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اور بعض اس کی تاریخ کو یہ کہہ کر رد کرتے ہیں کہ وہ کوفہ کے “رافضی” گروہ میں سے تھا (حالانکہ اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے)۔ جب کہ سیف بن عمر تمیمی جو ہے جس سے امام علی اور ان کے شیعہ کے موقف سے ٹکرانے والی روایات نقل ہوئی ہیں کی طرف یہی علماء جرح و تعدیل دو اطراف میں بٹ جاتے ہیں۔ ایک فریق وہ ہے جو روایت حدیث میں تو اس کو نہیں مانتے لیکن جو روایات اخبار تاریخی ہیں ان میں سیف بن عمر تمیمی ان کے نزدیک “ثقہ” ہوجاتا ہے۔ اور تاریخ کے بیان میں بھی عمدہ قرار پاتا ہے۔ تو یہ جو ایک باب میں اس پہ جرح اور دوسرے باب میں اس کی عدالت تسلیم کی جارہی ہے اس میں کس بنیاد پہ ہم کہیں کہ عدل اور انصاف کو ملحوظ خاطر رکھا گیا؟ اور ہم کیسے ان مرویات سے دور ہوسکتے ہیں جن کو جھوٹا اور کمزور قرار دیا گیا؟ اور وہ ایسی روایات ہیں اگر ہم تدوین تاریخ میں ان مرویات سے دور ہوجائیں تو ابتدائی اسلامی تاریخ کے مطالعے میں بہت بڑے خلا سے دوچار ہوجائيں گے۔ اور ہم اس شخص کو بہت بڑے واقعات تاریخ واخبار کی روایات میں سچا کیسے کہہ سکتے ہیں جس سے جھوٹ اور کمزوری کی نسبت کی گئی ہو اور اسے مختلق و متروک راوی حدیث کہا ہو ان لوگوں نے جو جرح و تعدیل رجال کے باب میں بہت بڑے عالم ہیں؟
اس مشکل اور متضاد صورت حال سے نکلنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ جنگوں اور انقلابات کی جو تاریخ ہے اسے ہم دوبارہ سے دیکھیں۔ اور یہ جو کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ عمل تاریخ میں ہمارے اسلاف کے طریقے کے خلاف ہوگا تو یہ غلط ہے۔ مستشرقین نے اسلام کی ابتدائی تاریخ کو دوبارہ سے دیکھنے کے لیے جس طریقہ تفتیش کو اپنایا وہ طریقہ تو ہمارے ہی کئی ایک بڑے مورخین تاریخ اسلام نے مشخص کیا تھا۔ ان میں ایک فلسفی تاریخ عرب و اسلامی ابن خلدون ہے۔ اس کے نزدیک تاریخ کے علم کی تعریف اس کے باطن میں نظر ڈالنا ، تحقیق اور تعلیل کرنا ہے۔ وہ اس علم کے مبادیات دقیق اور کیفت وقائع اور ان کے اسباب پہ گہری نظر ڈالنے کو کہتا ہے۔
اس کا خیال ہے کہ مسلمانوں کی تاریخ لکھنے والے مصنفین نے ساری اخبار کا فی الاستعیاب احاطہ کیا اور ان کو جمع کیا اور پھر ان کو لکھتے ہوئے دفاتر کے دفاتر تیار کردیے۔ ان اخبار کے دفاتر کے بارے میں یہ دعوا کیا گیا کہ ان میں موجود اخبار میں ٹھیک اور غلط دونوں داخل ہوگئے ۔ دسیسہ کاری ہوئی ، اختراعی باتیں شامل کی گئیں ، وہم اور گمان بھی شامل کردیے گئے اور تو اور موتیوں کے ساتھ کنکر بھی شامل ہوئے۔ اور کہیں تفصیل کی کمی کو پورا کرنے کے کمزور روایات اور گھڑی ہوئی روایات شامل کرلی گئیں۔ اس کا بہت ہی اہمیت کا حامل قول یہ ہے کہ ان کے بعد آنے والوں نے اور ان کی پیروی کرنے والوں نے اسی پر اکتفا کرلیا۔ انھوں نے واقعات و حالات کے اسباب کو نہ دیکھا – نہ ان کی ںگرانی کی اور نہ ہی وضعی احادیث کا انکار کیا اور نہ ہی انھیں دور کیا۔ اور اسی لیے تحقیق بہت کم کی گئی ۔ تنقیح نہ ہونے کی وجہ سے غلط اور ٹھیک مدغم ہوگیا۔ وہ کہتا ہے کہ ہمیں تنفیح کا طریقہ اختیار کرنا ہے-

تو ہم کیسے ان سلبی و ایجابی اخبارات میں تطبیق دے سکتے ہیں جس کا ذکر ابن خلدون نے تاریخ کے بحث کے منہاج میں ذکر کیا ہے؟

ابن خلدون اسلامی تاریخ کی آٹھویں صدی ھجری کا فلسفہ تاریخ کا ماہر تھا جس نے تاریخی روایات میں پائے جانے والے مذکورہ بالا عیوب کا ذکر کیا۔ اور اس نے اپنی تحقیق میں اسے ان تجربات سے الگ کیا جو چھوتھی صدی ھجری کے زمانے سے چلے آرہے تھے اور وہ طبری و مسعودی و مسکویہ و ابن اثیر و مقریزی سے مماثل تھے۔ اس کے بعد سخاوی کے ہاں بھی یہی تجربہ دہرایا گیا۔ اگر یہ درست ہے کہ آٹھویں صدی ھجری میں ہمارے ہی ایک ماہر تاریخ نے تاریخ اسلامی کے تنقیدی مطالعے کی بنیاد ڈال دی تھی تو پھر اس خوف کو لوگوں کے ذہن میں ڈالنا کہ تاریخ اسلامی میں کھوٹے کو کھرے سے الگ کرنے کے لیے اختیار کیا جانے والا طریقہ مستشرقین کا ہوجائے گآ۔ اسی طرح سے یہ بات کیسے عدل ٹھہرے گی کہ ہم کسی تاریخ کی تصنیف کرنے والے کو یہ کہیں کہ وہ فلاں فلاں مستشرق کے مذہب اور منہج سے متاثر ہے۔

لیکن اگر ہم زرا گہرائی میں جاکر اپنے پہلی چار صدی ھجری کے تاریخی ادب کو دیکھیں تو ہمارے سامنے یہ بات آئے گی کہ ابن خلدون نے اگرچہ فلسفہ تاریخ اسلامی پہ ایک نظری مقدمہ دیا لیکن اس نظری مقدمہ سے بہت پہلے ہمارے جو تاریخ کے شيوخ تھے وہ راویان تاریخ اورراویان تاریخ کی مرویات پہ درایت اور تجزیہ و تحلیل کا سلسلہ شروع کرچکے تھے۔

جب کہ ہمارے جو قدیم مرخین اساتذہ تھے انھوں نے ٹھیک اور غلط روایت کی خود پہچان کی ۔ اور انھوں نے کہا کہ یہ راوی زندیق ہے، وہ راوی متروک و ضعیف ہے ، تیسرا مدلس ہے اور غیر ثقہ ہے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ جب تدلیس و کذب و اختلاق روایات میں بہت زیادہ ہوگیا تو علماء جرح و تعدیل کی ایک پوری جماعت میدان میں اتر آئی اور انھوں نے ان راویوں اور مولفین کے بارے میں ہماری رہنمائی کی ۔ انھوں نے ان راویوں کی تنقید کو واضح کیا ۔ مثبت اور منفی تحریریں لکھیں۔ حقیقت یہ انھوں نے جان لڑا کر اس مواد کو الگ کرنے کی کوشش کی- یہاں پہ ہمیں ایسی کوششیں بھی نظر آتی ہیں جن کا مقصد ایسے راویوں کی روایات کو مشکوک ٹھہرانا تھا جو آل امیہ اور آل عباس کے خلاف برسر پیکار تھے۔ اور آل امیہ اور آل عباس نے کوشش کی کہ ان کے مدمقابل جو شیعان آل محمد کی روایات ہیں ان کو اپنے دربار اور حکومت کے زیرسایہ پرورش پانے والے مورخین کی روایات سے بدل ڈالیں اور شیعان آل محمد کو غیر معتبر ٹھہرائیں۔

ہمارے پاس ایسی تالیفات کا مجموعہ ہے جن کے عنوانات سے پتا چلتا ہے کہ وہ تاریخ کے راویوں کا تنقیدی جائزہ لینے والی کتابیں ہیں ۔ جیسے تاریخ ابن معین جسے معروف محدث عثمان بن سعید دارمی نے “سوالات عن ابن معین عن رواۃ الرجال” کے نام سے مدون کیا۔ ابن معین تیسری صدی ھجری کے کبار اہلسنت علماء میں شمار ہوتے ہیں اور انھیں آئمہ جرح و تعدیل بھی کہا جاتا ہے۔ اسی طرح الاسامی و الکنی (اسماء اور کنیت) کتاب ہے جو امام احمد بن حنبل کی کتاب ہے اور یہ بھی تیسری صدی ھجری کے امام اہلسنت ہیں۔ ایسے ہی جوزجانی کی کتاب “احوال الرجال۔۔۔۔۔” ہے۔ ایسے ہی الیمان العجلی الکوفی کی کتاب “معرفۃ الثقات” اور امام مسلم کی کتاب ہے “الکنی و الاسماء” ۔ یہ سب کتابیں تیسری صدی ھجری کے علماء اسلام کی لکھی کتابیں ہیں جو راویان حدیث و اخبار کی حثیت سے بحث کرتی ہیں۔ ایسے کی بردیجی کی کتاب “طبقات الاسماء المفردہ من الصحابہ و التابعین و اصحاب الحدیث” ، امام نسائی کی کتاب ” الضعفاء والمتروکین” ، ابن ابی حاتم کی کتاب “الجرح و التعدیل”، العقیلی کی کتاب “الضعفاء” ، ابن حبان بستی کی کتابیں “الثقات ” “المجروحین” اور “مشاھیر علماء الامضار” طبرانی کی کتابیں ” المعجم الکبیر”،”المعجم الوسیظ” اور “المعجم الکثیر” ، ابن عدی الجرجانی کی کتاب”الکامل الضعفا والرجال” اور اسی کی کتاب “تصحیفات المحدثین” عمر بن احمد بن ازداد کی کتاب “ذکر من اختلف العلماء و فقھا الحدیث” ، ابن شاہین کی “تاریخ اسماء الثقات”، ابن ندیم کی “الفھرست”، الکلاباذی کی کتاب “رجال الصحیح بخاری” ہے ۔ اور یہ سارے علماء چوتھی صدی ھجری کے علماء ہیں۔ اور ایسی کتابیں لکھنے والے ہمیں پانچویں صدی ھجری کے علما ملتے ہیں۔
اب ان علماء کی جو اس قسم کے علم کی تدوین ہے اس سے ہم کیا نتیجہ نکالیں؟ اور ہم کیسے اس کی تفسیر کریں جبکہ جو تاریخ اور سب سے اہم علم حدیث میں تدلیس ہوئی اور جو گھٹایا بڑھایا گیا اس پہ وہ متفق نہیں ہیں؟ اور وہ جو کہتے ہیں کہ ان روایات کی جو ابتداء اس کی درایت نہیں ہوئی ہے؟ ان کی بات کو کہاں رکھیں؟ ٹھیک بات یہ ہے کہ ہمارے مذکورہ بالا علماء نے اپنے آپ کو تاریخ اور حدیث کی تدوین ، اس کی تصحیح اور اور اس میں رطب و یابس آیا اس کو الگ کرنے کے لیے بہت کوشش کی اور اپنی زندگیاں اس کام کے لیے لگادیں۔ ان میں سے کئی ایسے ہیں جنھوں نے ان روایات کو الگ کیا جو زمانہ اموی و زمانہ عباسیہ میں شیعان آل محمد کی روایات کے مدمقابل گھڑی گئی تھیں۔

اب ہمارے سامنے پہلی صدی ھجری کی تاریخ کی اخبارات کے اولین راوی جو ہیں ان کے نام یہ ہیں

سیف بن عمر الاسیدی التمیمی الکوفی ، ابو مخنف، واقدی ، ہشام
یہ جو سیف بن عمر الاسیدی تمیمی ہے اس کی ولادت کوفہ میں ہوئی ۔ علماء جرح وتعدیل نے اس کو کذاب کہا ۔ اس کا دین زندقہ بتایا۔ کچھ نے کہا کہ وہ ساقط الحدیث ہے۔ اسے ضعیف اور متروک الحدیث کہا گیا اور یہ تک کہا گیا کہ وہ کوئی شئے ہی نہیں ہے۔ اسے ایک طرف حدیث کی روایت میں متروک راوی کہا گیا۔

دوسری طرف محمد بن عمر واقدی ہے ۔ جتنے اسلامی غزوات ہیں ان کا یہ سب سے بنیادی راوی ہے۔ علماء جرح و تعدیل نے اسے ضعیف اور لیس بشیء کہا۔ جیسے امام شافعی نے کہا کہ واقدی جھوٹا ہے۔ امام احمد بن حنبل کو اس سے شکایت ہے کہ وہ احادیث کی اسناد اور متن حدیث بدل دیتا ہے۔ اور جان بوجھ کر جھوٹ بولنے والا قرار دیا۔ ابن معین کہتا ہے کہ اس کی بیان کردہ حدیثوں کو ردی قرار دیتے ہیں۔ اور انھوں نے اس پہ حدیثیں گھڑنے کا ماہر کہا۔
اب اگر صورت حال ان راویوں کے حوالے سے ایسی ہے تو ان سے روایات کی طرف متوجہ ہونے والا ایک تو سخت متحیر ہوگا،دوسرا وہ ان مورخین اور راویوں کی روایات کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرے گا۔ ان دونوں حالتوں میں اس پہ یہ لازم آئے گا وہ اکثر روایات تاريخ ہی نہیں بلکہ احادیث پہ بحث کا جو منھاج ہے اسے ساقط کردے۔ اور جب ہم اپنے موضوع جمل وصفین کے معرکوں کی نسبت اسے دیکھیں تو ہمیں ان علماء کے موقف کا بھی جائزہ لینا ہوگا جو سیف بن عمر کی روایت حدیث پہ تو شدید حرح کرتے ہیں اور وہ اس کی اس بارے میں اخبار کو ایک ثقہ آدمی کی اخبار کے طور پہ لیتے ہیں۔ ایسے میں تو اس کی روایات تاریخ سے بھی اتفاق نہیں کیا جاسکے گا اور ان کے درمیان سرخ اور کالی لکیریں نہیں کھینچی جاسکیں گی۔ یا اس میں جو روایات طبری نے اس موضوع پہ اس سے لی ہیں انکے بارے میں جرمن مستشرق بروکلمان توقف کرتا ہے اور وہ سیف بن عمر پہ قبائل کی اخبار، ان کے فخر، ان کے اقدامات اور جنگ کے دنوں کا وہ جو ذکر کرتا ہے ان میں غلو کرنے کا الزام لگاتا ہے۔ وہ اسے تحریف روایات ، تدلیس سے تعبیر کرتا ہے۔ سیف بنی تمیم اور بنی اسد کے جن لوگوں کی روایات لیتا ہے اور اسے بیان کرتا ہے تو وہ ان کے نام تک بھول جاتا ہے۔ ایسے میں ہم اس سے روایات ہونے والی اخبار کی تنقیح کیسے کریں گے؟ اور ہم اس کی بیان کردہ اخبار کی توثیق کیسے کریں گے؟

اب اس کے مقابلے میں دوسرا راوی ابو مخنف ہے۔ ہم اسے مدرسہ اخبارات عراقیہ کا بانی کہیں تو غلط نہیں ہوگا۔ ابومخنف تاریخ عراق کا ایک ایسا راوی ہے جس کے بارے میں علماء جرح و تعدیل کا بالاتفاق خیال ہے کہ وہ عراق کی خبریں بیان کرنے میں صادق بھی ہے اور ثقہ بھی ہے۔ حدیث کی روایت کے باب میں کسی ایک محدث نے اس پہ نہ تو جھوٹ کا الزام لگایا نہ اس پہ مختلق الاحادیث کا الزام لگا، نہ اس پہ متون حدیث و اسانید کو بدل ڈالنے کا الزام لگا اور نہ ہی اس کو مذہب کے باب میں زندیق ہونے کا لقب دیا۔ ابومخنف پہ دوسری و تیسری صدی ھجری کے کسی ماہر علم جرح و تعدیل نے “رافضی” نہیں لکھا۔ ہاں اس کو “شیعہ” لکھا گیا اور ہم سب جانتے ہیں کہ پہلی صدی ھجری کے جن لوگوں پہ لفظ شیعہ کا اطلاق کیا جاتا ہے ان میں سے ایک بھی راوی ایسا نہیں ہے جسے حدیث کے باب میں جھوٹا کہا جاسکے۔ ابو مخنف صرف اخبار عراقیہ مدرسے کا بانی نہیں ہے بلکہ وہ اصحاب اخبار کوفہ کا استاد بھی ہے اور ان کا غالب چہرہ بھی۔ وہ خود بھی صاحب تصانیف ہے اور خود راوی اخبار بھی ہے۔ پہلی صدی ھجری کے عراق اور کوفہ سے تعلق رکھنے والی روایات کے حوالے سے طبری اور بلازری نے بھی اسی پہ اعتماد کیا۔
ہمارے زیربحث موضوع میں ایک اور شخصیت بہت اہمیت کی حامل ہے۔ اور وہ محمد بن شہاب زھری متوفی 111ھجری ۔ زھری حدیث اور تاریخ دونوں کی تدوین میں اہمیت کا حامل ہے۔ علماء جرح و تعدیل نے اس کی عظیم ثقاہت اور صاقت پہ مکمل اتفاق کیا ہے۔ اسے مدرسہ مدینہ کا بانی کہا جاتا ہے۔ لیکن جب ہم اس کی امام علی ، معرکہ جمل و صفین بارے روایت کردہ اخبار دیکھتے ہیں تو اس میں ہمیں معاویہ ابن ابی سفیان اور امویوں کی طرف جھکاؤ نظر آتا ہے۔ اور اموی بادشاہوں اور گورنروں اور امرآ کے ساتھ اس کے گہرے مراسم نظر آتے ہیں۔ اموی خلفاء تاریخ اسلامی، زمانہ حیات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفاء راشدین کے حالات معلوم کرنے کے لیے اس کی طرف رجوع کیا کرتے تھے – اب اس کے جواب کیسے ہوسکتے تھے، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ پھر وہ اسے اپنے دربار اور لگائی گئی عدالت میں طلب کرتے تھے تاکہ اس سے تاریخی امور بارے فیصلہ سنیں چاہے وہ زھری کو پسند آئے یا نہیں تو ایسے موقعہ پہ زھری جو بیان کرتا وہ اسے اس کے نام سے اپنے ماتحت علاقوں میں پھیلا دیا کرتے تھے۔ بلازری کے ہاں زھری انساب کے بیان میں اور صفین کے معرکہ کے بیان میں اکثر واقعات کا راوی بن جاتا ہے- بلازری زھری سے 22 روایات لیتا ہے معرکہ صفین کے بارے میں جن میں وہ اموی روایات یا امویوں کی تائید کرنے والی روایات کو مقدم رکھتا ہے۔ اب اگر ہم اس کے حدیث اور تاریخ میں مدینہ کے مدرسہ کے علمبردار ہونے کو منفی معانی میں نہ بھی لیں تو یہ ایک حقیقت ہے کہ اس کا عبدالملک بن مروان، ولید بن مروان ، عمر بن عبدالعزیز، ولید بن یزید اور ہشام بن عبدالملک کے درباروں کے ساتھ وابستگی رہی ہے۔ اس کی جو مرویات ہیں اور اس کا جو موقف ہے اور اس کے جو جوابات ہیں ان کو ان سب بادشاہان امیہ نے تعریف و تحسین کی نظر سے دیکھا ہے۔ اور حضرت عمر بن عبدالعزیز نے تو ایک خط اپنے گورنروں کے نام جاری کیا تھا جس میں انھوں نے لکھا،”تم سب پر ابن شہاب کی اطاعت لازم ہے کیونکہ وہ تم سب میں اللہ کی قسم ماضی کے زمانوں کا سب سے بڑا عالم ہے”(ابن ابی حاتم :الحرح و تعدیل جلد ہشتم صفحہ 171) یہ قول ٹھیک ہی ہوگا لیکن اس کو ہم اس زاویے سے بھی دیکھ سکتے ہیں کہ وہ اموی بادشاہوں کے نزدیک اس لیے ثقہ ٹھہرا کہ وہ اپنی رائے کو ان کی مرضی کے مطابق تشکیل دیتا رہا ہوگا۔ اگر ہم حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے دور میں اس کی روش سے صرف نظر کرلیں تو باقی بادشاہان بنی امیہ تو سارے کے سارے وہ تھے جن کے ادوار میں ان کے گورنر ان سب لوگوں کوخون میں نہلاتے رہے جو علی ابن ابی طالب علیہ السلام اور آل محمد کے پیرو تھے اور جبر و طاقت سے ان کو علی ابن ابی طالب اور دیگر اہل بیت کے فضائل کی احادیث بیان کرنے سے روکتے رہے۔ ابن شہاب زھری کے بارے میں ہمیں یہ بھی ملتا ہے کہ جس زمانے میں اس کے اموی بادشاہوں سے گہرے تعلقات تھے اسی زمانے میں وہ مدینہ کی مسجد میں امام علی بن حسین السجاد زین العابدین، امام باقر علیھم السلام کے مدرسہ میں بھی بیٹھتا رہا اور اس نے امام زین العابدین و امام باقر سے روایات بھی بیان کیں۔ یہاں تک کہ امام احمد بن حنبل نے زھری کی امام زین العابدین سے بیان کی گئی روایات کو قابل اعتماد بھی قرار دیا-
( دیکھیے مسند امام احمد تحقیق محمد محمود شاکر القاھرہ جلد 3 حدیث رقم 1882 تا 1883 ، طبقات ابن سعد جلد 3 صفحہ 186)

امیر شام کے حوالے سے روایات کا ایک منبع ہشام بن عمار دمشقی ہے اور اس پہ بلازری نے اپنی کتاب”انساب الاشراف” میں مکمل انحصار کیا ہے۔ اس سے کل 27 روایات نقل کی ہیں اور سب کی سب ایسی ہیں جن کی بنیاد اور سراغ ہمیں کہیں اور نہیں ملتا۔ ہشام دربار امیر شام کا حاص مقرب بھی تھا۔ اسی ھشام نے معاویہ ابن ابی سفیان کی بیٹی رملۃ سے بھی روایات درج کی ہیں اور اس نے ہی حضرت عمر بن خطاب سے یہ بات منسوب کی کہ انھیں امیر شام میں کسری عرب / عرب کے بادشاہ کی صورت نظر آتی ہے اور یہ بھی بلازری کی کتاب انساب الاشراف میں نقل ہوئی ہے اور اس روایت کا سراغ ہمیں مدینہ و مکّہ کے مدرسہ حدیث و تاریخ میں کہیں نہیں ملتا۔
یہاں ہمیں اپنے موضوع سے متعلق ایک اور شخصیت کو بھی زیربحث لانا ہے اور وہ شخصیت ہے عامر بن شراحیل بن عبد الشعبی ہے۔ یہ کوفہ میں 24 ھجری میں پیدا ہوا اور 104 ھجری میں کوفہ میں ہی اس کی وفات ہوئی۔ اس اعتبار سے اس کی عمر کل 80 سال بنتی ہے۔ اس نے کل 50 صحابہ کرام سے حدیث روایت کیں۔ اور صحاح ستہ کا یہ بہت مشہور راوی ہے۔ یہ ایک ایسے قبیلے سے تعلق رکھتا تھا جو کوفہ میں حضرت علی ابن ابی طالب علیھم السلام کے سب سے زیادہ وفادار قبائل میں سے ایک تھا۔ اس کی سیاسی وفاداریاں بدلتی رہیں۔ جب حضرت علی ابن ابی طالب کوفہ میں تشریف لائے تو اس کی عمر اس وقت 13 سال ہوگی۔ اس لیے اس زمانے میں اس کے بارے میں ہمیں تاریخ میں کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی شہادت 40 ھجری میں ہوئی تو اس کی عمر اس وقت 17 سال کی ہوگی۔ اور ہمیں یہ بالکل خبر نہیں ملتی کہ شعبی امیر شام کے مقرر کردہ گورنران کوفہ مغبیرہ بن شعبہ، زیاد بن ابی سفیان اور پھر نعمان بن بشیر کے زمانے میں بھی ہمیں شعبی کے بارے میں کوئی خبر نہیں ملتی۔ پہلی بار شعبی کے سیاسی رجحان کی خبر ہمیں مختار ثقفی کے کوفہ پر قبضے کے وقت ملتی ہے جب یہ اس کے مقربین کے طور پہ سامنے آیا لیکن جلد ہی یہ مختار سے منحرف ہوکر بصرہ فرار ہوگیا اور وہاں سے یہ مدینہ پہنچا اور اس کی ملاقات وہیں حجاز پہ قابض مصعب بن زبیر سے ہوئی اور جب مختار قتل ہوگیا تو یہ مصعب بن زبیر کا مقرب بن گیا اور مصعب بن زبیر نے اسے دس ہزار درھم دیے۔ اور یہ مصعب بن زبیر کے گن گانے لگا اور بلازری نے اس سے مصعب کے حق میں یہ روایت نقل کی ،”میں نے مصعب سے زیادہ منبر پہ تشریف فرما امیر کبھی نہیں دیکھا”(انساب الاشراف جز 4 صفحہ 71) اور جب عبدالملک بن مروان نے مصعب کو قتل کرکے اقتدار سنبھالا تو شعبی اس کے ساتھ مل گیا۔ اوراس کا یارانہ عبدالملک کے بھائی بشر بن مروان گورنر عراق کے ساتھ ہوگیا اور یہ اس کی جلوت و خلوت کا ساتھی ہوگیا اور اس کے گھر پہ سجنے والی محفلوں کا یہ لازمی شریک ہوا کرتا تھا۔ جب حجاج بن یوسف عراق کا گورنر ہوا تو اس نے شعبی کو اپنے دربار میں بلایا اور بقول اس کے اس نے اس سے کچھ چیزوں کے بارے میں سوال کیا اور اس کی میرے جواب سے تشفی ہوگئی۔ حجاج کن چیزوں کے بارے میں اس سے پوچھ رہا تھا یہ بات شعبی نے نہیں بتائی لیکن سب کو پتا ہے کہ حجاج بن یوسف نے کوفہ و بصرہ کی گورنری پہ فائزہونے کے بعد کوفہ میں اپنے دربار میں سب سے پہلے اپنے جاسوسوں سے یہی پوچھا تھا کہ کوفہ میں شیعان آل محمد کے سرگرم لوگ کون ہیں اور مختار ثقفی کی باقیات میں کون ہیں۔ اور قوی امکان ہے کہ اسے شعبی کی مختار ثقفی سے وابستگی بارے بتایا گیا ہو اور وہ شعبی کو علوی تحریک کا خفیہ رکن سمجھا ہو۔ حجاج بن یوسف کو شعبی نے کیسے مطمئن کیا ہوگا؟ اس بارے میں تو اللہ ہی جانتا ہے لیکن حجاج کی قربت اور اس کی نگاہ کرم کی سب سے بڑی شرط علی ابن ابی طالب اور آل محمد سے اظہار برآت ہی کافی نہ تھا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان پہ سب و شتم بھی لازم تھا۔ اور یہ بات بھی طے ہے کہ کسی حدیث کے بڑے عالم کے لیے اس دور میں یہ لازم تھا کہ وہ نہ صرف فضائل علی ابن ابی طالب کو چھپائے بلکہ ان کے مقابلے میں فضائل آل امیہ کو فروغ بھی دے۔ شعبی سے ذہبی نے تذکرۃ الحفاظ میں یہ روایت درج کی ہے کہ اس پوچھ گچھ کے دوران حجاج نے اسے عارف پایا اور اسے اپنا خاص مقرب بنالیا اور اس کو بہت بڑا رتبہ دیا اور یہ مقام اس سے اس نے کبھی نہ چھینا۔۔(جلد اول ص 85) اس کے بعد شعبی نے حجاج کا ساتھ اس وقت چھوڑ دیا جب عبدالرحمان الاشعث نے خروج کیا تو یہ اس کی طرف مائل ہوگیا لیکن جیسے ہی وہ شکست کھاگیا تو یہ اموی سپاہ سالار قتیبہ بن مسلم الباھلی کے پاس جاپہنچا اور اس کو شیشے میں اتارا اور اس سے کافی مال بھی لیا اور قتیبہ بن مسلم الباہلی نے ہی اسے حجاج کے دربار میں لیجاکر اس کی جان بخشی کرائی اور دوبارہ تقرب بھی دلایا۔ شعبی نے نفع بخش سیاست کو اپنا راستا بنایا اور اسی کوشش نے اسے عبدالملک بن مروان کا ملازم بنادیا جہاں یہ اس کی اولاد کی تعلیم و تربیت پہ مقرر ہوا۔ یہ عبدالملک بن مروان کے اتنا قریب ہوا کہ اس نے اسے روم اپنا سفیر بناکر بھیجا۔ عبدالملک بن مروان کے ہاں سالوں گزار کر یہ پھر عبدالعزیز بن مروان گورنر مصر کے دربار سے منسلک ہوگیا- عبدالملک بن مروان کے بارے میں اس نے تعریفوں کے پل باندھے اور علم حدیث میں اس کو بہت بڑا عالم و حافظ ثابت کیا اور یہاں تک کہا کہ اس نے جو بھی حدیث کسی صحابی سے سنی تھی کوئی ایسی نہ تھی جو عبدالملک نے نہ سن رکھی ہو اور اس میں وہ مجھ سے سبقت نہ لے گیا ہو۔ آج کے دور میں ہم جسے حکمرانوں کی امیج بلڈنگ کہتے ہیں شعبی نے عبدالملک کے باب میں اسی میں مہارت حاصل کررکھی تھی۔ اس طریقے سے شعبی نے بنوامیہ کی امیج بلڈنگ کی ۔ اس نے کسی طریقے سے حضرت عمر بن عبدالعزیز کا تقرب حاصل کیا اور انھوں نے اسے کوفہ کا قاضی مقرر کردیا۔ اس کے بعد یزید بن عبدالملک کی بادشاہی کے زمانے میں اس نے عراق کے گورنر عمر بن ھبیرہ کا تقرب حاصل کیا۔ اور جب گورنر عراق کو اموی خلیفہ کے مفاد میں کسی مسئلے میں فتوا درکار ہوتا تو شعبی اس کے لیے راہ ہموار کرتا اور والی عراق کے زریعے سے اسی مناسبت سے فتوا خلیفہ کو بھجوا دیا جاتا ۔ شعبی ان فقہا میں شامل تھا جس نے یہ فتوی دیا تھا کہ حاکم کی اطاعت رعایا پہ فرض ہے چاہے وہ کیسا ہی کیوں نہ ہو۔ شعبی پوری زندگی بنوامیہ کے بادشاہوں،گورنروں اور امرا کے ساتھ جڑا رہا اور ان سے منفعت مادی لیتا رہا۔

بلازری شعبی کی بڑی تعریف کرتا ہے۔ جبکہ شعبی اپنی پوری زندگی میں جب بنوامیہ والے برسراقتدار آئے تب سے ان کے جواز حکمرانی کے لیے عذر تلاش کرتا رہا۔
میں نے جب جب طبری اور بلازری کی کتب میں میں دور خلافت علی المرتضی ابن ابی طالب، جمل و صفین اور امویوں کے بارے میں خبروں کی ابتدائی راویان کی تفصیل پہ غور و خوض کیا تو میرے سامنے یہ بات آئی کہ انھوں نے ایسے ابتدائی راویوں پہ اعتماد کیا جو بنوامیہ کے مقربین میں سے تھے اور ان میں ایک شعبی بھی تھا جس کا ذکر میں نے تفصیل سے کردیا۔ اور ان میں ایسے راوی زیادہ ہیں جو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے اور یہاں تک کہ ان پہ نسیان کا الزام بھی لگایا گیا۔ شعبی نے ان اخبار کے لیے جن راویوں پہ زیادہ انحصار کیا ان میں ان میں الھمدانی السری بن اسماعیل اور مجالد بن سعیدالھمدانی الیمانی الکوفی بھی ہیں لیکن شعبی سے ان کی روایات اکثر مشکوک ہیں کیونکہ ابومخنف و نصر بن مزاھم نے ان سے جو روایات درج کی ہیں وہ شعبی سے مروی روایات سے متعارض ہیں۔

اسلامی فتوحات اور بڑے واقعات جو نصف اول ھجری میں رونما ہوئے تو ان کو پہلے زبانی روایات کے زریعے سے بیان کرنے کا سلسلہ شروع ہوا اور بعد ازاں ایک ایسا گروہ اہل علم سامنے آیا جنھوں نے ان روایات کو ضبط تحریر میں لانے کا سلسلہ شروع کیا اور انھوں نے ان واقعات پہ الگ الگ رسائل مدون کرنے شروع کیے۔ جیسے مدائنی اور ابو عبیدہ معمر بن المثنی ، الہھیثم بن عدی اور ابومخنف نے ابتدائی صدی ھجری کے نصف میں ہونے والے معرکوں پہ الگ الگ رسالے مدون کیے۔ اور المیہ یہ ہے کہ ان مدون رسائل کی اکثریت ضایع ہوگئی اور ان کا کوئی اثر باقی نہ رہا۔ ان رسائل پر دوسری اور تیسری صدی ھجری کے بڑے مورخین نے اعتماد کیا اور ان روایات کو اپنی کتابوں میں شامل کیا۔ ان میں بلازری، یعقوبی، ابی حنیفہ دینوری اور طبری شامل ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ان کبار مورخین نے جن رسائل میں آنے والی روایات کو لیا تو وہ راوی اور رسائل مدون کرنے والے بھی پہلی صدی ھجری کے نصف میں ہونے والے واقعات کے پس پردہ جو سیاسی-سماجی تحریکیں اور صف بندیاں تھیں وہ ان میں سے کسی نہ کسی سے وابستہ تھے اور ان وابستگیوں کو یا تو ان رسائل کے مدون کرنے والوں نے خود ظاہر کردیا یا ان روایات کے متون کے داخلی تجزیوں سے ہمیں اندازہ ہوجاتا ہے۔ گمان غالب یہ ہے کہ جن اولین مورخین نے نصف صدی ھجری کے دوران ہونے والے معرکوں پہ الگ الگ رسائل مدون کیے انہوں نے اپنے عہد کے راویوں اور روایات پہ ہی اکتفا کیا۔
مثال کے طور پہ ہمیں “جنگ جمل” پہ سب سے پہلے جس رسالے کا سراغ ملتا ہے وہ رسالہ نصر بن مزاحم متوفی 71 ھجری کا ہے جس کا نام “وقعۃ الجمل” ہے۔
دوسرا رسالہ وہ ہے جو ابومخنف متوفی 80 ھجری کا لکھا ہوا ہے جس کا نام “کتاب الجمل” ہے۔
تیسرا جو رسالہ ہے وہ “وقعۃ الجمل” کے نام سے محمد بن زکریا بن دینا الغلابی متوفی 148 ھجری سے لکھا ہوا رسالہ ہے۔
چوتھا رسالہ سیف بن عمر الاسیدی التمیمی الکوفی متوفی 180 ھجری نے لکھا ہے۔
پانچواں رسالہ مدائنی “کتاب الجمل” ہے جن کی وفات 235 ھجری میں ہوئی تھی۔
رسالہ عبداللہ بن جابر بن یزید الجعفی متوفی 280 ھجری کا ہے جس کا نام “کتاب الجمل” ہے۔

اسی طرح ابوجعفر علی بن نعمان البجلی نے کتاب”الجمل فی امر طلحہ و الزبیر و عائشۃ” ، ابومحمد مصبح العجلی نے “کتاب الجمل”،ابی المنذو ھشام بن محمد بن السائب الکلبی متوفی 51 ھجری ، ابوعبداللہ محمد بن عمر واقدی ،أبي اسحاق اسماعيل بن عيسى العطار البغدادي، عبد الله بن محمد بن أبي شيبة المتوفى سنة ١۲۳، أبي جعفر احمد بن محمد البرفي كتاب بعنوان (الجمل) أبي اسحاق ابراهيم محمد بن سعيد بن هلال الثقفي الكوفي المتوفى سنة 147ه/ ۸۹۷ ،غلابی نے واقعہ جمل میں دو کتابیں لکھیں “جمل الکبیر” اور “جمل المختصر”، ابوالقاسم المنذڑ ابن محمد لقا، عبد العزیز بن یحیحی عیسی الجلودی متوفی 332 ھجری ، ابو جعفر بن محمد بن علی بن حسین بن موسی بن بابویہ القمی متوفی 417 ھجری نے کتاب الجمل لکھی۔

یحیحی بن سلیمان الجعفی (استاد بخاری) ،جابر بن یزید الجعفی ، جابر بن نمیر الانصاری،عمر بن شمر ، ابو محنف ، اسماعیل بن عیسی العطار بغدادی، نصر بن مزاحم، محمد بن عمر واقدی ، محمد زکریا غلابی، ابراہیم بن الحسین الھمدانی ابوالخطاب ابن دحیۃ الکلبی، اسحاق بن بشر وغیرہ نے صفین کے واقعہ پہ الگ الگ کتابیں لکھیں۔ اس فہرست کو دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ ان میں جو پہلی صدی ھجری کے نصف میں پیدا ہوئے تھے انھوں نے جمل اور صفین دونوں جنگوں پہ کتابیں لکھیں۔ اور بعد میں بھی جنھوں نے جنگ جمل بارے لکھا انھوں نے صفین بارے یں بھی لکھا۔
تاریخ سازی اس طویل درایت پہ مبنی تجزیے سے ہمارے سامنے ایک بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ کوفہ میں جس مکتب کو شیعان آل محمد کہا جاتا ہے اس مکتب کے ابتدائی مورخین جن میں سرفہرست ابومخنف، نصر بن مزاحم ہیں ان کو تاریخ کے بیان کے باب میں ویسے ہی رد کردیا جاتا ہے جیسے اس مکتب سے تعلق رکھنے والے وفا شعاروں کو رد کردیا گیا اور ان کی قربانی کو دھوکہ دہی، فریب اور غداری کے الزامات کے پیچھے چھپا دیا گیا۔ ان کے بارے میں جو مواد ابومخنف و نصر بن مزاحم جیسوں نے اکٹھا کیا تھا اسے بھی غیرمستند کہہ کر رد کرنے کی کوشش ہوئی۔ کیونکہ وہ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے موقف کو صاف اور شفاف طریقے سے پیش کررہے تھے۔

طبری نے جنگ جمل کے واقعات کی تفصیل میں اہل کوفہ کی حمایت کے لیے اصحاب جمل کی طرف بھیجے گئے خطوط کی تفصیلات لکھی ہے۔ اور یہ بھی بتایا ہے کہ کوفہ میں جو بعد ازاں کبار شیعان آل محمد میں شمار ہوئے ان میں سے کچھ کے جوابات بھی تحریر کیے ہیں۔ ان میں ایک جواب صوحان بن زید کا بھی ہے جو جنگ جمل میں میں معروف ناصبی ابن یثربی کے ہاتھوں شہید ہوئے اور ابن یثربی جنگ جمل کے وقت یہ رجز پڑھ رہا تھا
اضربھم ولا اری اباحسین – کفی بھا حزنا من الحزن
انا نمر الامرار الرسن
میں لوگوں کی گردنیں مار رہا ہوں لیکن ابو الحسین کو نہیں دکھ پارہا- ہم تو وہ لوگ ہیں جو دار پہ بھی اپنا کام کرجاتے ہیں
ابن یثربی نے امام علی علیہ السلام کے تین ساتھیوں کو جنگ میں شہید کرنے کے بعد عمار بن یاسر کے سامنے آکر یہ اشعار پڑھے
انا لمن ینکر في ابن یثربی – قاتل علباء و ھند الجملی
و ابن صوحان علی دین علي
میرے ابن یثربی ہونے کا کون انکار کرسکتا ہے- علباء و ھند الجملی اور ابن صوحان کو قتل کیا جو دین علی پہ تھے۔

اس سے اندازہ کیا جاسکتا تھا کہ ناصبیت قدیمہ کے لوگ جہاں حضرت علی ابن ابی طالب علیھم السلام سے ہی نہیں بلکہ ان کے شیعان سے بھی شدید نفرت تھی اور وہ اس کے قتل پہ کس قدر فخر محسوس کیا کرتے تھے۔

ابوحنیفہ دینوری نے ایک طویل قصّہ کوفہ کے شعیان آل محمد کی وفاداری پہ مہر ثبت کرنے والا لکھا ہے جسے وہ “وقعۃ الجمل” کے عنوان میں لیکر آئے ہیں:

حضرت علی ابن ابی طالب کو جب اصحاب جمل کی جانب سے کوفہ والوں کو خطوط روانہ کرنے کی اطلاع موصول ہوئی تو آپ نے ھاشم بن عتبہ بن ابی وقاص ،امام حسن اور عمار یاسر کو کوفہ روانہ کیا۔ یہ سب ذی قار سے کوفہ پہنچے تو اس روز حضرت موسی اشعری رضی اللہ عنہ بھی کوفہ ہی میں تھے۔ وہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ ان کے خطاب کو سنتے ہوئے متوحش دکھائی دے رہے تھے۔(دینوری ان کا پورا خطبہ نقل کرتا ہے) اس کا لب لباب یہ تھا کہ لوگ اپنی تلواروں کو توڑ دیں اور گھر بیٹھ جائیں یا دور دراز مقامات پہ چلے جائیں اور کسی کا ساتھ نہ دیں کیونکہ یہ وہ ایام فتنہ تھے جس میں مبتلا ہونے سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا تھا۔ جب ابو موسی اشعری نے اپنا وعظ مکمل کرلیا تو پھر امام حسن کھڑے ہوئے آپ نے تقریر کی ۔ آپ کے بعد عمار یاسر بولے اور پھر حجر بن عدی نے لوگوں سے کہا کہ امیر المومنین کا ساتھ دیں۔ان کے یہ کہنے کی دیر تھی لوگوں کی اکثریت نے کہا

“سمعنا و اطعنا – ہم نے سنا اور مان لیا” اور پھر حلف دیتے ہوئے کہا
ہم چاہے آسانی ہو یا تنگی ، شدت ہو یا پھر گردن ماری جائے علی ابن ابی طالب امیر المومنین علیہ السلام کے نکلیں گے۔ امام حسن کہتے ہیں کہ اگلی صبح تک کوفہ سے 9 ہزار 7 سو 50 لوگوں کا لشکر تیار ہوگیا تھا اور یہ لوگ ذی قار میں جہاں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ٹھہرے ہوئے تھے آکر مل گئے۔ وہاں کوفہ کے گرد و نواح اور بصرہ سے بھی لوگ آکر آپ کے ساتھ لشکر میں شریک ہوئے۔ آپ نے اپنے لشکر کو ساتھ ٹکڑیوں میں بانٹ دیا اور ان کو سات علم دیے۔
بنوحمیر و ھمدان قبائل کو ایک جھنڈا دیا اور ان کا سالار سعید بن قین ہمدانی کو بنایا-
مذحج و اشعرین کو دوسرا جھنڈا دیا اور زیاد ابن النظر الحارثی کو ان کا نگران بنایا
تیسرا علم قبیلہ طئے کے لوگوں کو دیا اور ان کا نگران عدی بن حاتم الطائی کو بنایا
چوتھا جھنڈا قیس، عبس اور ذیبان قبائل کے مشترکہ اتحاد کو دیا اور ان کا ولی سعد بن مسعود الثقفی کو مقرر کیا
پاںجواں جھنڈا کندہ و حضرموت،قضاعہ کو دیا اور نگرانی حجر بن عدی کو دی۔
چھٹا علم ازد و بجیلہ ،خثعم و خزاعۃ کو دیا جن کا ولی مخنف بن سلیم کو ٹھہرایا
ساتوآں علم قریش ، انصار اہل حجاز کو دیا اور ان کا ولی عبداللہ بن عباس کو ٹھہرایا۔

دینوری آخر میں یہ لکھ کر شیعان آل محمد کی وفاداری پہ مہر ثبت کرتا ہے

“ان ساتوں جھنڈوں تلے جمع حضرت علی کے ساتھیوں نے ان کے ساتھ ملکر جنگ جمل، جنگ صفین اور جنگ نھروان لڑیں۔”

ان ساتوں جھنڈوں کے حاملین نے جںگ جمل، جنگ الصفین اور نھروان حضرت علی کے ساتھ مل کر لڑیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here