میرے سینئر ساتھی اور معروف ترقی پسند شاعر و ادیب عابد حسین عابد نے لاہور سے فون کیا- کہنے لگے کہ پروفیسر ڈاکٹر حمیرا اشفاق کے ناول “رابعہ خضداری” کی تقریب رونمائی بروز ہفتہ 6 نومبر کو بودلہ ہاؤس کے سامنے غزل میرج ہال میں منعقد ہوگی ۔ مجھے اس پہ اظہار خیال کرنا ہے۔ اس فون کال کے اگلے دن مجھے ڈاک سے ناول موصول ہوگیا- میں “رابعہ خضداری” سے واقف ہی نہیں تھا اور یہ ناول ایک تاریخی سوانحی ناول تھا۔ خیر میں نے ناول کی قرآت شروع کی اور ابھی ناول کے تین حصّے پڑھے تھے کہ تجسس کی آگ نے مجھے رابعہ خضداری کے بارے میں مزید جانکاری حاصل کرنے پہ اکسایا اور اس میں ڈاکٹر حمیرا اشفاق نے ناول کے آخر میں جو فہرست کتابیات دی اس نے بہت مدد فراہم کی- ہفتہ 6 نومبر میں بارہ بجے دوپہر تقریب کی جگہ پہ پہنچ گیا۔ مجھے باہر پروفیسر سجاد نعیم (اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور) گاڑی سے اترتے نظر آئے۔ انہوں نے بھی مجھے دیکھ لیا تھا، ایک دوسرے سے معانقے کے بعد ہال کی طرف چل دیے تقریب ابھی شروع نہیں ہوئی تھی ۔ غزل میرج ہال میں بکنگ آفس میں ڈاکٹر انوار احمد(سابق سربراہ شعبہ اردو زکریا یونیورسٹی ملتان)، معروف ترقی پسند ماہر تاریخ و شعر و ادب احمد سلیم، رانی آکاش اور حنا جمشید وہاں موجود تھیں۔ تھوڑی دیر کے بعد ہم سب لوگ ہال میں چلےگئے۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز ہوا اور سٹیج پہ درمیان میں ڈاکٹر انوار اور احمد سلیم ، ڈاکٹر انوار کے بائیں طرف حنا جمشید، رانی آکاش اور عابد حسین عابد بیٹھے تھے جبکہ احمد سلیم کے بائیں طرف ڈاکٹر حمیرا اشفاق اور پروفیسر اقبال عابد بیٹھے تھے۔ تقریب کے آغاز میں تقریب کے منتظمین میں سے ایک اور میاں چنوں کی معروف ادبی شخصیت فاروق طراز نے شرکائے تقریب کی آمد کا شکریہ ادا کیا- فاروق طراز سے یہ میری پہلی ملاقات تھی لیکن غائبانہ ان کا تذکرہ میں عابد بھائی سے کئی بار سن چکا تھا۔ ایک زمانے میں وہ برکلے یونیورسٹی کے قریب وینڈر تھے اور وہاں انہوں نے برصغیر کی ترقی پسند تحریک کے بہت ساری تاریخی شخصیات سے ملاقاتیں کیں جن میں سجاد ظہیر، فیض احمد فیض بھی شامل ہیں۔ فاروق طراز کے بعد حنا جمشید نے اپنا مضمون پڑھا۔ انہوں نے دعوا کیا کہ حمیرا اشفاق نے اپنے ناول میں جس تکنیک سے کام لیا وہ اردو میں اب تک کسی اور ناول میں نہیں برتی گئی ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تکنیک ترکی کے ناول نگار اورحان پامک نے “مائی نیم از ریڈ” میں برتی ہے۔ انہوں نے ناول کے مرکزی خیال، پلاٹ، کرداروں پہ تفصیلی اظہار خیال کیا۔ ان کے بعد رانی آکاش صاحبہ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا- انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ حیمرا اشفاق کی کالج فیلو اور ہم جماعت رہی ہیں گورنمنٹ گرلز کالج میاں چنوں میں اور ان دنوں حیمرا اشفاق خاموش طبع تھیں اور انھیں بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ ان کے اندر ایک شاعرہ، محقق، نقاد اور فکشن نگار بھی چھپا ہوا ہے۔ انھوں نے پہلے “افسانے ” لکھ کر حیران کیا اور پھر ناول لکھ کرر پریشان کردیا۔ انھوں نے ناول کی تکنیک پہ حنا جمشید کی کہی بات کی تائید کی۔ پھر مجھے اظہار خیال کی دعوت دی گئی اور میں نے حمیرا اشفاق کے ناول پہ لکھا مضمون پڑھ کر سنایا- میرے خیال میں رابعہ خضداری جیسی شحضیت پہ حمیرا اشفاق نے ناول لکھتے ہوئے جتنی عرق ریزی کی اس نے اس ناول کو ایک بہتر تاریخی سوانحی ناول بنادیا ہے۔

اس کے بعد پروفیسر اقبال عابد نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ میں پروفیسر اقبال عابد سے کم و بیش پچیس سال بعد مل رہا تھا ۔ ہماری پہلی ملاقات خانیوال میں میجر(ر) خادم حسین کی رہائش گاہ پہ ہوئی تھی ۔ وہ اس بارے سب کچھ بھول گئے تھے۔ انھوں نے مجھے بعد ازاں اپنے ناول “مانگی ہوئی محبت” کا نسخہ پیش کیا جس کا دوسرا ایڈیشن شایع ہوچکا ہے اور دوران تقریر انھوں نے انکشاف کیا کہ وہ 1857ء کی جنگ آزادی کے پس منظر میں ناول لکھ رہے ہیں۔ انھوں نے حیمرا اشفاق کے ناول پہ اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایک صنف کے لیے اپننے کردار کو کہانی میں مرتا ہوا دکھانا بہت تکیلف دہ امر ہوتا ہے۔ پروفیسر اقبال عابد کے بعد معروف ترقی پسند شاعر اور ادیب عابد حسین عابد نے اظہار خیال کیا- انھوں نے پہلے تو یہ بتایا کہ حمیرا کے والد پروفیسر غضنفر سلیم مگسی ان کے دوست تھے اور ان سے میاں چنوں میں خوب نشستیں جما کرتی تھیں اور پھر مگسی صاحب جب اپنی بیٹی اور بیٹے کو گاؤں سے لے آئے تو زرا رات جلدی گھر جانے لگے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ جب حمیرا کی کہانیوں کی کتاب “کتبوں کے درمیان” چھپ کر آئی تو انھوں نے امریکہ مقیم ہورہے ظہور ندیم نے بتایا کہ یہ حمیرا پروفیسر غضنفر سلیم مگسی کی بیٹی ہیں جنھیں ہم نے بہت چھوٹا سا ان کے گھر میں دیکھا تھا جب وہ ہمیں تند و تیز بحث کرتے اور جیسے اب لڑ پڑیں گے کے انداز میں دیکھتی تو رو پڑتی اور ہم اسے آئس کریم کھلاکر منایا کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں پروفیسر تبسم کاشمیری، ملتان میں ڈاکٹر انوار دو ایسے استاد ہیں جو صرف کمرہ جماعت کے استاد نہیں ہیں بلکہ وہ معاشرے میں بھی استاد کا کردار ادا کرتے آرہے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ احمد سلیم ترقی پسند ادب ہو، ترقی پسند سیاست ہو یا ترقی پسند تاریخ ہو ان سب میں ان کا کام بہت بڑا ہے اور چند لفظوں میں ان کی خدمات کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اور حمیرا اشفاق خوش قسمت ہیں کہ انہیں بچپن اور لڑکپن میں پہلا استاد ان کا باپ ملا، یونیورسٹی میں انھیں ڈاکٹر انوار مل گئے اور پھر تدریسی و تحقیقی دنیا میں انھیں احمد سلیم جیسا استاد نگران مل گیا۔ ان کی تقریر میری رائے میں اس تقریب کی سب سے بہترین تقریر تھی اور خاص طور پہ آخر میں انھوں نے جو باتیں کیں وہ اسقدر “سچی” باتیں تھیں کہ اتنا سچ بولنے کے لیے آج کے دور میں بہت جرآت اور بے باکی درکار ہوتی ہے۔ ڈاکٹر انوار احمد اسٹیج پہ آئے اور انہوں نے بتایا کہ پہلے حمیرا کے والد ان کے شاگرد بنے اور پھر جن بنچوں پہ انہوں نے حمیرا کے والد کو پڑھایا تھا انہی بنچوں پہ حمیرا اشفاق کو بھی پڑھایا۔ ڈاکٹر انوار احمد کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے آپ کوطالب علموں کو پڑھانے تک محدود نہیں رکھا بلکہ ان کو دوران طالب علمی جو مسائل پیدا ہوئے ان کے حل میں بھی کوشاں رہے۔ روزگار دلانے میں بھی جتنا کردار ادا کرسکتا تھا کیا- احمد سلیم صاحب جگر کے ٹرانسپلانٹ کے بعد کافی نحیف اور کمزور ہوگئے ہیں۔ بولنے میں بھی دشواری محسوس کرتے ہیں لیکن ان کی یادداشت غضب کی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ حمیرا جیسے جیسے ناول لکھتی جاتی تھیں ان کو پڑھاتی جاتی تھیں اور انھوں نے ضد کرکے اس ناول کو جلد شایع کرایا۔ سب سے آخر میں ناول کی مصنف حمیرا اشفاق نے خطاب کیا- انہوں نے بتایا کہ اس ناول کی تصنیف کے لیے انھوں نے تین سال محنت کی – عربی،فارسی، اردو، براھوی میں جتنا مواد رابعہ خضداری کے کردار بارے موجود تھا اسے دیکھا اور جو زبان انھیں نہیں آتی تھی اس میں موجود تحریر کا ترجمہ کرایا- ان کا کہنا تھا کہ کچھ احباب کی خواہش تھی کہ میں ناول میں تاریخی حقائق سے ہٹ کر رابعہ خضداری اور بیکتاش ترک غلام کو آحر میں ملادیتی لیکن میں ایسا نہیں کرپائی اور جب میں نے ناول کے آخر میں رابعہ خضداری کو کٹی نسوں کے ساتھ حمام کی دیواروں پہ اپنے اشعار لکھتے دکھاکر موت کے منہ میں جاتا دکھایا تو اس کے بعد کئی روز تک میرے اوپر سوگ طاری رہا اور ایک شام اپنے کمرے میں بیٹھ کر میں بہت روئی۔ ان کے خطاب کے ساتھ ہی تقریب اپنے اختتام کو پہنچی ۔ تقریب میں پروفیسر منیر رزمی میرے ساتھ تشریف فرما تھے وہ تھوڑا لیٹ آئے تھے۔ پروفیسر خضر طورو ، عارف حبیب ایڈوکیٹ، سکندر سسرانہ اور دیگر احباب بھی تھے۔ ان سب سے مل کر بہت خوشی ہوئی ۔ یادگار تقریب تھی ۔ میں اس تقریب میں میاں چنوں سے کوالمپور منتقل ہوجانے والے سابق انکم ٹیکس کمشنر بھٹہ صاحب کی وٹس ایپ کال پہ کی گئی تقریر کے چند آخری جملے سن پایا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here