میٹروکارپوریشن ملتان اور ایم ڈی اے ملتان میں انٹرنل مالیاتی، انتظامی و
آڈٹ کنٹرول کا نظام تباہ ہوچکا ہے

اختیارات سے تجاوز، اربوں روپے کی لوٹ مار، نوکر شاہی شتر بے مہار

میٹروکارپوریشن غیر قانونی  ادائیگی کی تفتیش ساہیوال منتقل، میٹروبس سروس افتتاح فائل ریکارڈ سے غائب ، ہاؤسنگ کالونیوں کے نام پہ اربوں روپے کا فراڈ، کورونا بچاؤ سامان کی خریداری میں 26 ملین روپے کی خرد برد

فاطمہ ٹاؤن فیز3 میں زمین کی خریداری میں ایک ارب روپے کی کرپش کا نیا میگا اسیکنڈل ، اینٹی کرپشن ملتان میں اینٹی کرپشن کے مقدمات میں ملوث افسران کی تعیناتی

انوسٹی گیشن سیل رپورٹ

عامر حسینی 

 

سابق کمشنر شان الحق کے دور میں میٹروکارپوریشن ملتان میں میگا کرپشن کیسز سامنے آئے

میٹرو کارپوریشن ملتان اور ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی(ایم ڈی اے) اور ملتان ویسٹ منیجمنٹ کمپنی میں یکے بعد دیگرے میگا کرپشن کے اسیکنڈل سامنے آئے ہیں اور باوثوق زرایع سے پتا چلا ہے کہ اس سے بھی بڑے بدعنوانی کے اسکینڈل سامنے آنے والے ہیں- دو روز پہلے ملتان میٹروکارپوریشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر اینڈ آڈٹ سردار خلیل خان کھوسہ کی میٹروبس سروس افتتاح کے دوران 48 لاکھ کی غیرقانونی ادائیگی کے مقدم میں گرفتاری عمل میں آئی تو پتا چلا کہ اس ادائیگی تفصیل جس سرکاری فائل میں تھی اسے بھی اس ملزم نے غائب کردیا ہے۔

گوہر نفیس بھٹہ ڈی جی اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ پنجاب جنھوں نے ملتان میں میگا کرپشن کے کیسز کو انجام تک پہنچانے میں بے پناہ دباؤ کا سامنا کیا

سردار خلیل خان کھوسہ اینٹی کرپشن کورٹ ملتان میں چل رہے تین اور بڑے میگا کرپشن مقدمات میں نامزد ملزم ہے۔ پی ایس ایل کے ٹھیکوں میں کروڑوں روپے کی بوگس ادائيگیوں کی انکوائری جو آخری مراحل میں تھی کے مرکزی ملزمان سابق کمشنر شان الحق، ایکسئن سرور عباس نقوی سمیت دیگر اہم ملزمان اسے اینٹی کرپشن ملتان ریجن سے ساہیوال ریجن لیجانے میں کامیاب ہوگئے ہیں- اینٹی کرپشن ملتان ریجن میں چل رہی اس انکوائری میں تفشیشی ٹیم 6 کروڑ روپے سے زائد کی بوگس ادائیگی نکال چکی تھی اور فائلوں پہ دستخطوں کے اصلی ہونے سے انکاری افسران کے خلاف فرانزک رپورٹ بھی آچکی تھی ۔ دوسری طرف میٹروکارپوریشن ملتان میں کورونا بچاؤ کے لیے سامان کی خریداری میں ہونے والے گھپلے کی اینٹی کرپشن انکوائری میں 26 ملین روپے سرکاری خزانے سے غبن کیا جانا بھی ثابت ہوا ہے اور اس میں بھی وہی افسران ملوث ہیں جو پی ایس ایل میگا کرپشن کیس میں ملوث ہیں۔ دوسری طرف ویسٹ منیجمنٹ کمپنی ملتان میں بوگس بھرتیوں، بوگس ادائيگیوں کا مقدمہ بھی اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے۔ ایم ڈی ملتان کے باوثوق زرایع کا کہنا ہے کہ اس کے کرپٹ افسران اور اہلکار پرائیویٹ ہاؤسنگ کالونیوں میں زمین کی خریداری سے لیکر پلاٹوں کی الاٹمنٹ تک کھربوں کی کرپشن کو چھپانے میں سرگرم ہیں اور اس حوالے سے فاطمہ ٹاؤن فیز 3 میں ہی اراضی کی خریداری میں پرائیویٹ افراد کو ایک ارب سے زائد کا غیر قانونی فائدہ پہنچانے کا انکشاف ہوا ہے۔ آڈٹیٹر جنرل آف پاکستان آفس کے زرایع کا کہنا ہے کہ میٹروکارپوریشن ملتان، ایم ڈی اے ملتان، ملتان پارکس اینڈ ہارٹی کلچرز اتھارٹی ، ملتان ویسٹ منیجمنٹ کمپنی، واسا ملتان کی آڈٹ رپورٹوں سے پتا چلتا ہے کہ ان اداروں کا انٹرنل مالیاتی کنٹرول، انٹرنل آڈٹ میکنزم اور انٹرنل انتظامی کنٹرول انتہائی کمزور ہے جس کے سبب نہ صرف بڑے پیمانے پہ کرپشن، لوٹ مار، اختیارات سے تجاوز ہوا ہے اور سرکاری خزانے سے اربوں روپے لوٹ لیے گئے ہیں۔ محکمہ اینٹی کرپشن ملتان کے زرایع کا کہنا ہے کہ ان کی طرف سے درج بالا اداروں کے درجنوں بڑے افسران سے لیکر نچلے اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کاروائی کیے جانے کا لکھ کر بھیجا گیا لیکن ان پہ عمل درآمد تاحال نہیں ہوسکا ہے۔ آئیندہ آنے والے دنوں میں اس اخبار کا انوسٹی گیشن سیل اینٹی کرپشن ملتان ریجن ، بہاولپور ریجن، ڈیرہ غازی خان ریجن میں بیٹھے ایسے افسران اور اہلکاروں کے بارے میں تحقیقاتی رپورٹ شایع کرنے جارہا ہے جن کی ان ریجنز میں تعیناتی اس حقیقت کے باوجود ہوئی کہ ان افسران اور اہلکاروں پہ اینٹی کرپشن میں آنے سے پہلے ان کے پیرنٹ محکموں میں تعنیاتی کے دوران مقدمات درج تھے جو اب بھی چل رہے ہیں اور انھوں نے محکمہ اینٹی کرپشن میں تعنیاتی کے بعد کتنے اثاثے مشکوک زرایع سے بنائے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے ملتان کے انتہائی اہم اداروں میں پڑا یہ گند کیسے اور کیونکر صاف ہوگا جب ان کے خلاف انکوائری کرنے والوں کا دامن ہی صاف نہیں ہوگا؟

Aamir Hussaini is Editor of www.easterntimes.pk, www.dailysultan.com, Chief Reporter South Punjab for www.khabarwalay.com

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here