اداریہ:پٹرولیم مصنوعات کی سمری موخر کرنے سے کام نہیں چلے گا

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے وزرات توانائی کی طرف سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری پہ عمل نہ کرنے کا اعلان کیا ہے اور سرکاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ عوام پہ بوجھ نہ ڈالنے کے لیے فیصلہ موخر کردیا گیا ہے۔ جبکہ دوسری طرف ایل پی جی دس روپے فی کلو مہنگی ہونے سے نئی قیمت 206 روپے فی کلو ہوگئی ہے اور گھریلو گیس سلنڈر کی قیمت میں 119 روپے اضافہ ہوگیا ہے۔ جبکہ درجہ اول کے کوکنگ آئل اور گھی میں 10 روپے اضافے سے خوردنی تیل فی کلو 415 روپے اور گھی کی قیمت فی کلو 420 روپے ہوگئی ہے۔ جبکہ سنٹرل پاور پرچیزنگ کمپنی نے حکومت کو فی یونٹ بجلی کی قیمت میں تین روپے پندرہ پیسے اضافہ کرنے کی سمری ارسال کردی ہے۔ یہ تفصیلات بتارہی ہیں کہ حکومت کی جانب سے مہنگائی کی لہر کو کنٹرول کرنے کے جتنے دعوے اب تک کیے جارہے ہیں وہ محض دعوے ہیں جبکہ عوام کو ہر ماہ اپنے اخراجات میں اضافے کا سامنا ہے اور وہ ہر مرتبہ اپنے سابقہ گھریلو بجٹ کے مقابلے میں تازہ گھریلو بجٹ میں کٹوتی کرنے پہ مجبور نظر آتے ہیں ۔ حکومت خود تسلیم کرتی ہے کہ گزشتہ تین سالوں میں تنخواہ دار اور محنت مزدوری کرنے والے طبقات کی زندگی مشکل ہوئی ہے لیکن اس مشکل سے ان طبقات کو نکالنے کا کوئی حل اب تک اس کے پاس نظر نہیں آیا ہے۔ عام آدمی کے آئی ایم ایف کے مطالبات کی روشنی میں حکومت نے تیل، گیس، بجلی اور دیگر اشیائے ضرورت پہ جو ٹیکسز لگائے ہیں اور ان کی قیمتوں میں جو اضافے کیے ہیں ان کے مقابلے میں اس نے کے الیکٹرک کو 290 ارب روپے کی سبسڈی دینے کا اعتراف کیا ہے۔ ایسے ہی شوگر انڈسٹری، سیمنٹ انڈسٹری، آئرن انڈسٹری ، فارماسیوٹیکل انڈسٹری کو بھی بے تحاشا سبسڈیز اور ایس آر اوز دیے ہیں جو کھربوں روپے میں شمار ہوتے ہیں۔ فرٹیلائرز سیکٹر کو اس نے سستی گیس دی اور کھاد پہ الگ سے سبسڈیز دی لیکن اس سیکٹر نے کسانوں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کوئی خاص کردار ادا نہیں کیا۔ عام آدمی کی آمدن کے مقابلے میں اس کے اخراجات میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے اور اخراجات میں کمی کا کوئی ٹھوس حل حکومت نہیں نکال سکی ہے۔ یہ حکومت کی ایک ایسی ناکامی ہے جس سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے پاس اب وقت بہت کم رہ گیا ہے جبکہ اس نے عوام سے جن تبدیلیوں کا وعدہ کیا تھا ان کا عشر عشیر بھی وہ پورا نہیں کرپائی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کی سمری ہو یا بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی سمری ہو، ان کو موخرکرنے سے کام نہیں چلے گا بلکہ قیمتوں کو کم کرنے کے فیصلے کرنے سے عوام کی مشکل حل ہوگی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here