آئی ایم ایف رپورٹ: حکومت کس بات کا جشن منارہی ہے؟

عالمی مالیاتی فنڈ – آئی ایم ایف نے اپنے پروگرام کی روشنی میں پاکستانی معشیت کی چھٹی جائزہ رپورٹ 6 فروری 2022ء کو جاری کردی ہے۔ اس رپورٹ میں آئی ایم ایف نے حکومت کی معاشی ٹیم کے سربراہ وزیر خزانہ شوکت ترین بارے مزاحیہ انداز میں لکھا ہے کہ ان کا سافٹ وئیر اپ ڈیٹ ہوگیا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیر خزانہ شوکت ترین نے وزیر خزانہ بننے کے بعد اپریل 2021ء میں آئی ایم ایف فنڈ کی اصلاحات کو منجمد کردیا تھا جس سے پاکستان کی میکرو معشیت پہ بدترین اثرات مرتب ہوئے اور ان بدترین اثرات کے سبب ہی حکومت کو بعد ازاں منی بجٹ لانا پڑا۔ آئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق شوکت ترین سے لیکر عمران خان نے آئی ایم ایف پروگرام کی منظوری کے وقت جن شرائط کو قبول کیا تھا ان کو گزشتہ سال اپریل کے مہینے میں روک دیا گیا- حکومت نے اپنے تئیں کرنٹ اکاؤنٹ کو سرپلس کرنے کرکے گروتھ بڑھانے کی کوشش کی تاکہ مہنگائی کو کم کیا جاسکے لیکن یہ پالیسی حکومت کے گلے پڑ گئی ۔ کئی مقامی شعبوں میں زیرو جی ایس ٹی کو بحال کیا گیا جو پروگرام منظور کرتے ہوئے ختم کردیا گیا تھا جبکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے حکومت نے پٹرولیم لیوی اور جی ایس ٹی کو کم کیا جس سے حکومت کی اپنی آمدنی جی ڈی پی کے ایک فیصد کم ہوگئی جو آئی ایم ایف کی شرائط کے خلاف تھی ۔ ایسے ہی حکومتی قرضے جی ڈی پی کے 15 اعشاریہ 5 فیصد ہوگئے جو آئی ایم پروگرام کی شرائط کی ایک اور خلاف ورزی تھی۔ حکومت نے اپریل 2021ء میں ٹیکسز کے شعبے میں باقی ماندہ اصلاحات کو روک دیا۔ جبکہ توانائی کے سیکٹر میں بھی کئی بنیادی اصلاحی اقدامات پہ عمل درآمد بند کردیا۔ اس کی وجہ سے میکرواکنامک استحکام بری طرح سے زوال پذیر ہوا۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر حکومت اپریل 2021ء میں آئی ایم ایف پروگرام کے تحت دو سالوں میں کی گئی اصلاحات کو روک نہ دیتی تو اسے منی بجٹ میں اتنے سخت ترین ٹیکسز نہ لگانے پڑتے جتنے لگائے گئے۔ اس مختصر خلاصے کے بعد اگر ہم وزیراعظم عمران خان اور وزیر خزانہ شوکت ترین کی جانب سے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت جون 2021ء کو جاری نہ ہونے والی چھٹی قسط کے 2 فروری کو منظوری دینے کو حکومت کی فتح کے دعوؤں کو دیکھیں تو وہ مشکوک نظر آتے ہیں۔ اصل میں حکومت اور اس کی معاشی ٹیم اپریل 2021ء کو شروع کی جانے والی مالیاتی پالیسی سے دست بردار ہوئی ہیں اور حفیظ شیخ کی سربراہی میں آئی ایم ایف کی شرائط کی روشنی میں جو اصلاحات نافذ کی تھیں ان کو اور زیادہ شدت سے نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شوکت ترین کی پالیسی کی ناکامی کے سبب حکومت کو 343 ارب روپے کا اضافی مالیاتی بل پارلیمنٹ سے منظور کرانا پڑا۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان ترمیمی ایکٹ نافذ کرنا پڑا۔ ان دونوں اقدامات سے جہاں پاکستان تحریک انصاف کے اندر اختلاف رونما ہوا وہیں اس کی اتحادی جماعتوں کا فاصلہ بھی حکومت سے بڑھا ۔ ان دو اقدامات کے عوام پر جو اثرات مرتب ہورہے ہیں اور اس سے عوام کے اندر جو غضّہ جنم لے رہا ہے اس سے بچنے کے لیے کئی ایک حکومتی کیمپ کے سیاست دان اپنے آپ کو فاصلے پہ رکھنے کی کوشش کررہے ہیں ۔

حکومت دوبارہ سے آئی ایم ایف کے پروگرام کوسختی سے نافذ کرنے کے راستے پر گامزن ہوگئی ہے۔ اس راستے پہ واپسی کا ایک فوری نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ حکومت کا ترقیاتی پروگرام 900 ارب سے نیچے آکر اب 700 ارب رہ گیا ہے۔ اور ماہرین معشیت کا کہنا ہے حکومت نے مالیاتی سال 2022 میں پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت کے آخری سال کے ترقیاتی بجٹ سے آگے بڑھ جانے کا جو دعوی کیا تھا اس کی بھی نفی ہوگئی ہے۔ مسلم لیگ نواز کا میڈیا سیل حکومت کی اس ناکامی کو زیادہ سے زیادہ ہائی لائٹ کرے گا ۔

ایسا لگتا ہے کہ آئی ایم ایف کی چھٹی جائزہ رپورٹ میں وزیر خزانہ شوکت ترین کی جانب سے آئی ایم ایف کے بورڈ کی جانب سے پاکستان سے جن اقدامات کے اٹھانےکے مطالبے کو انتہائی سخت مطالبات قرار دیا گیا تھا کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہا تھا کہ پی پی پی کے دور میں جب وہ آئی ایم ایف سے امداد لینے کو گئے تھے تو اس وقت آئی ایم ایف کی طرف سے ایسی کوئی شرائط نہیں رکھی گئی تھیں ۔ اس کا سبب ان کی نظر میں اس وقت کے جیو پالٹیکل حالات تھے ۔ وزیر خزانہ نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ چونکہ س وقت امریکہ اور ناٹو فورسز افغانستان سے چلی گئی ہیں اور پاکستان امریکہ کی نسبت آج کے کے علاقائی حالات میں چین اور روس کے قریب ہے تو آئی ایم ایف کی غیر لچک دار پوزیشن کے پیچھے امریکی اور یورپی دباؤ ہے۔ لیکن آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ حکومت کو میکرو اکنامک استحکام لانے کے لیے حال ہی میں جتنے سخت مالیاتی اقدامات اٹھانے پڑے ہیں اپنے شدید اقدامات اٹھانے نہ پڑتے اگر حکومت اپریل 2021ء میں بھی اپنی سابقہ معاشی ٹیم کی نافذ کردہ پالیسیوں کو جاری رکھتی اور آئی ایم ایف پروگرام کو منجمد نہ کرتی ۔ آئی ایم ایف کی چھٹی جائزہ رپورٹ میں لطیف انداز میں کہا گیا ہے کہ “شوکت ترین کا سافٹ وئیر اپ ڈیٹ ہوگیا ہے”

اس رپورٹ سے ایک بار پھر یہ بات سامنے آئی ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے پاکستانی معشیت کو ٹریک پہ چڑھانے کے جتنے بھی خیالات تھے وہ یوٹوپیائی سے بھی کہیں زیادہ سطحی تھے جن کا پاکستان اور دنیا کی معشتی معروضی حالات سے کوئی لینا دینا نہں تھا۔ وہ وزیراعظم بننے سے پہلے آئی ایم ایف میں جانے کے خلاف تھے اور یہاں تک کہہ رہے تھے کہ اگر مجھے آئی ایم ایف جانا پڑا تو میں خودکشی کرلوں گا۔ اسکےبعد انہیں آئی ایم ایف جانا پڑا۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ سے یہ پتا بھی جلتا ہے کہ سب سے پہلے وہ جو معاشی ٹیم اسد عمر کی سربراہی میں لئے تھے اس نے بھی پاکستان کی بکثرتی معاشی صورت حال کو اور خراب کیا اور انہیں آخرکار حفیظ شیخ کو مشیر خزانہ اور رضا باقر کو صدر سٹیٹ بنیک آف پاکستان بنانا پڑا۔ اگلے دو سالوں میں حفیظ شیخ کی قیادت میں حکومتی معاشی ٹیم نے آئی ایم ایف کی اطاعت کی اور میکرواکنامی تو سنبھل گئی لیکن اس دوران عام آدمی جس عذاب سے گزرا اس نے ایک بار پھر عمران خان کو یوٹوپیائی حل کی طرف بھگایا جس نے گزشتہ دو سال کے اٹھائے گئے اصلاحی اقدامات کو برباد کیا۔ عوام کو مزید بدترین مہنگائی سے تھوڑا سا عرصہ بچانے کی کوشش ہوئی اور اس دوران پھر روپیہ گرنے لگا۔ ایکسپورٹ کم ہونے لگی، برآمدات بڑھنے لگیں ، حکومتی آمدنی کا ہدف گرگیا- اس نے حکومت کو واپس پرانے ٹریک پہ چڑھنے پہ مجبور ہونا پڑا لیکن اب شرائط اور سخت تھیں۔ حکومت اس کا الزام آئی ایم ایف کو دیتی ہے اور آئی ایم ایف اس کا الزامحکومت کو دیتا ہے۔ رپورٹ میں درج شواہد اور اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو آئی ایم ایف کے موقف میں سچ دکھائی دیتا ہے۔ اس رپورٹ میں سٹیٹ بنیک آف پاکستان کا بھی اپریل 2021ء کے بعد کا کردار درج ہے جو یہ بتاتا ہے کہ اسٹیٹ بنیک کویڈ کے دوران ڈومیسٹک کاروباری وصنعتی شعبوں کو جو ریلیف فراہم کرتا رہا اس نے کویڈ بریک ختم ہوجانے کے بعد بھی اسے جاری رکھا۔ بھاری منافع کمانے والے ٹیکسٹائل، پاور، سیمنٹ، چینی ، آئرن سیکٹر کو زبردست ریلیف فراہم کیا گیا۔ سیٹھوں کو خوب سبسڈی دی گئی ۔ کے الیکٹرک کو 1290 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ۔ جب کہ اس دوران فیول ایڈجسٹمنٹ پرائس کے نام پہ اربوں روپے عبجلی کے عام صارفین کی جیب سے نکال لیے گئے۔ اب انٹرنیٹ سروسز پہ پندرہ فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس وصول کیا جارہا ہے جو 4 ایم بی کنکشن بھی لیا جارہا ہے جس کا بل جنوری 920 روپے تھا وہ اب ایک ہزار روپے کے اضافے کے ساتھ انیس سو بیس روپے ہوگیا ہے۔ حکومت سے عوام کی ساری توقعات دم توڑ گئی ہیں۔ وہ معشیت کے میدان میں اشراف طبقات کی خدمتگار ہی ثابت ہوئی ہے۔ ان تلخ حقیقتوں کے سامنے عوام جب حکومتی ترجمان اور وزراء کو اضافی فنانس بل اور سٹیٹ بنیک ترمیمی بل کی منظوری پہ جشن مناتے دیکھتی ہے تو س کے ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس بات کا جشن منایا جارہا ہے؟ اپنی نااہلی کا یا عوام پہ معاشی تنگ دستی کا عذاب مسلط کرنے کا؟

(رئیس احمد صدیقی کراچی میں مقیم تجربہ کار اکنامک رپورٹر اور تجزیہ نگار ہیں)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here