لتا منگیشکر کی آواز ان کی پہچان تھی

مجھے ایسا لگتا ہے کہ جسے مسلمان اللہ کہتے ہیں اور ہندؤ ایشور/بھگوان اس نے اپنے سنگیت کے لیے برصغیر کے کالونیل راج میں دو خواتین کو منتخب کیا۔ ایک سیالکوٹ میں پیدا ہونے والی اللہ رکھی تھی جو بعد میں نور جہاں کہلائی اور دوسری مراٹھی گھرانے میں پیدا ہونے والی ہیما تھی جو بعد میں لتا منگیشکر کہلائی ۔ دونوں کے گلے اللہ/ بھگوان کے ترنم میں ڈوبے ہوئے تھے۔

ہمارے گھر میں ایک بڑا سا ریڈیو تھا جو مرادانہ حصّے میں بنے دیوان خانے میں درمیان میں پڑی میز پہ رکھا ہوتا تھا ۔ میرے دادا تہجد کے وقت اٹھ جایا کرتے تھے۔ وہ پہلے تہجد کے نوافل پڑھتے۔ پھر نماز فجر ادا کرنے مسجد جاتے اور وہاں سے واپس آکر وہ ریڈیو آن کردیتے۔ پہلے وہ بی بی سی اردو کا تازہ بلیٹن سنتے اور اس کے بعد وہ ریڈیو سیلون پہ ٹیون سیٹ کرتے اور وہاں سے ہندوستانی گانے چلائے جارہے ہوتے تھے۔ صبح سویرے اکثر لتا منگیشکر کے گانے کی آواز پورے مکان میں گونجنے لگتی تھی ۔ میرے کان اسی ریڈیو سے لتا کی آواز سے آشنا ہوئے تھے۔ مجھے ان کی آواز کا ردھم بہت پسند تھا۔ ان دنوں مجھے موسیقی کے فن کی کوئي حاص شد بد نہیں تھی اور وہ اب بھی نہیں ہے بس یہاں وہاں سے موسیقی کے بارے میں جو سنا وہی آگے بیان کرتا رہتا ہوں۔ ان کی آواز کا لوچ، نرمی ، کوئل کی سی کوک اور ردھم مجھ پہ جادو کردیا کرتے تھے۔ میری آنکھ اکثر ريڈیو پہ لتا کی آواز سنکر ہی کھلتی تھی ۔ ایک مرتبہ دادا مجھے کہنے لگے، “بیٹا! اللہ پاک جسے رمز داؤدی سے نوازنا چاہیں تو اس کے گلے میں اپنے سر گھول دیتے ہیں۔ اور یہ سر ردھم بنکر ہمارے کانوں میں ایسے سنائی دیتے ہیں جیسے ہموار روانی سے کوئی دریا بہہ رہا ہو۔” میں اسی اثر کے تحت بڑا ہوا اور کالج کے زمانے میں مجھے راؤ کامران کی صحبت میسر آگئی جو علم موسیقی کا بہت بڑا شناور تھا۔ میں ان دنوں گورنمنٹ کالج لاہور پڑھ رہا تھا اور راؤ کامران ہیلے کالج سے معاشیات میں ایم اے کررہا تھا۔ شام کو وہ مجھے کبھی تو بابا اختر حسین اکھیاں کے پاس لیجاتا تو کبھی وجاہت عصرے کے پاس تو کبھی ذوالفقار گیلانی کے پاس اور کبھی طافو کے پاس۔ اس دوران میرا ذوق موسیقی نکھرنے لگا تھا۔ اس زمانے میں مجھے میڈیم نور جہاں،مہدی حسن اورلتا منگیشکر کی آوازیں مسحور کردیا کرتی تھیں۔ میڈیم نور جہاں کی آواز میں جہاں بھاری گونج تھی ، مہدی حسن وہیں مجھے ناف سے سینے اور سینے سے زبان پہ بہت آہسۃکی کے ساتھ کلاسیکی غزل اور گانے گانے کے سلطان محسوس ہوتے تھے وہیں مجھے لتا رومانوی گیت گاتی آزاد روح رکھنے والی کالج کی کوئی لڑکی لگتی تھی اور کبھی کبھی وہ مجھے بنجارن لگتی تھی تھی جو مالخولیائی اداسی کے ساتھ اپنے ہجر اور فراق کی داستان غم سنارہی ہو۔

سلمان پیرزادہ نے بالکل ٹھیک یاد دلایا کہ 80ء کی دہائی میں جو لوگ پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم میں سفر کرتے تھے تو اکثر بسوں میں آتے جاتے وہ ہندوستانی اور پاکستانی لیجنڈ کے گیتوں کو سنا کرتے جو ان بسوں میں سٹیریو ساؤنڈ سسٹم کے زریعے سے ہر مسافر کے کانوں میں رس گھولتے تھے۔ اکثر بسوں میں لتا اور محمد رفیع یا کشور دا اور لتا کے دوگانے بج رہے ہوتے تھے۔

میں فیڈرل بی ایریا نارتھ ناظم آباد سے کراچی یونیورسٹی جانے والی بس پکڑتا تو صبح سویرے تو دھکم پیل اور رش میں بس کے سٹیریو ساؤنڈ پہ دھیان نہ دے پاتا لیکن رات گئے جب میں گھر واپس آنے کے لیے یونیورسٹی سے واپسی کی بس پکڑتا تو طویل روٹ کی بس میں اکثر نشتیں خالی ہوا کرتی تھیں اور بس کے مسافر بھی زیادہ تر خاموش طبع ہوتے۔ ایسے میں بس کا ادھیڑ عمر ڈرائیور مطلوب خان لتا منگیشکر کے کشور کمار، محمد رفیع، مکیش، آشا بھوسلے کے ساتھ گائے بنکا گیت مالا کی کیسٹ میں ریکارڈ کیے فلمی گیت لگاتا۔ ہر گیت کے شروع میں کمنٹیٹر کیت کے بول ، موسیقار کا نام، فلم کا نام اور پروڈیوسر و ہدائتکار کے نام مخصوص انداز میں دوھراتا اور ڈرامائی انداز میں گیت شروع ہوتا تو ایسے لگتا جیسے بس میں بیھٹا ہر ایک مسافر اس گیت کی ٹرانس میں آگیا ہو۔ مسافر گیت کے مکھڑے، استھائی میں کھوجاتے اور کنڈیکٹر کو مسافروں کو جھنجھوڑ کر ان کے اسٹاپ آجانے کا بتانا پڑتا اور کبھی تو خود کنڈیکٹر بھی اسٹاپ کی آواز دینا بھول جاتا اور مسافر کا اسٹاپ چھوٹ جاتا اور اسے دو تین اسٹاپ آگے جاکر ہوش آتا۔ مسافر کنڈیکٹر پہ غصّہ ہونے کے قہقہہ لگاتا اور اگلے اسٹاپ پہ اتر کر واپس اس کے اسٹاپ کے لیے جانے والی بس کا انتظار کرنے لگتا۔ میں واٹر پمپ چورنگی پہ اترا کرتا تھا اور کبھی کبھی ایسا سحر میں گم ہوتا کہ یو پی سوسائٹی اسٹاپ پہنچ جاتا۔ کبھی کبھی میں جان بوجھ کر اس وقت آخری اسٹاپ سرجانی ٹاؤن تک چلا جاتا تھا اور وہاں سے واپس تیار کھڑی اسی روٹ کی دوسری بس میں واپس آتا۔

میں اکثر ان کا گایا گیت ‘میری آواز میری پہچان ہے” میں جب بھی سنتا تو مجھے لگتا کہ یہی لتا منگیشکر کی پوری تعریف ہے۔ کل جب لتا منگیشکر کی آخری رسومات ادا کردی گئیں تو انڈیا ٹوڈے ٹی وی چینل پہ گلزار صاحب نے ان کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ گیت لتا کیا ہے کو بیان کرتا ہے اور میں اپنے خیال کی گلزار کے خیال سے موافقت پہ حیران رہ گیا۔ ویسے لتا نے بھارتی سرکاری ٹیلی ویزن دور درش پہ ایک انٹرویو دیتے ہوئے بتایا تھا کہ انہوں نے اوائل عمری میں تو ایک دو ڈراموں میں چھوٹے موٹے کردار ادا کیے لیکن اس کے بعد وہ کبھی فلم اسکرین پہ بطور کردار کے نمودار نہیں ہوئیں۔ ان کی زندگی میں بہت سے فلم پروڈیوسر ان کی زندگی پہ فلم بنانے کے لیے ان کی اجازت لینے پہنچے لیکن انہوں نے اپنی ذاتی زندگی پہ کبھی فلم بنانے کی اجازت نہ دی۔ انھوں نے ساری عمر پلے بیک سنگر کے طور پہ اپنا مقام بنایا اور اپنی آواز کو ہی اپنی پہچان بنالیا۔

سلمان پیرزادہ نے بروقت ہمیں یاد دلایا ہے کہ کراچی کی اکثر بسوں میں سٹریو ساؤنڈ پہ اکثر ان کےگانے “زحال مسکین” جو انھوں نے شبیر کمار کے ساتھ گایا اور “اک پیار کا نغمہ ہے” جسے لکشمی کانت پیارے لال نے کمپوز کیا تھے بہت چلائے جاتے تھے۔

لتا کی آواز جسے بعد ازاں کوئل کی کوک کہا گیا ابتداء میں موسیقاروں کو فلمی دنیا می چلنے والا سودا نہیں لگتی تھی ۔ لیکن ماسٹر غلام حیدر نے اسے ایک چيلنج کے طور پہ قبول کیا اور بقول لتا انھوں نے لتا کو اپنی شاگردی میں لیا اور کہا کہ ایک دن آئے گا جب لتا فلمی گائيگی کی دنیا پہ راج کرے گی اور یہ آواز ایک مثال قائم کردے گی س وقت تم سب مجھے یاد کروگے۔ کل جب لتا جی کو سپر اسٹار کی جھرمٹ ان کا ذکر کررہی تھی تو بار بار ماسٹر غلام حیدر کو بھی یاد کیا جارہا تھا۔ ان کی کہی بات کتنی سچ ثابت ہوئی ۔

لتا منگیشکر کی آواز کو ان کے سینئرز، ان کے معاصر اور ان کو بعد آنے والوں میں موسیقی کے بے تاج بادشاہ اور ملکہ دونوں نے سراہا۔ لتا کو بھی دوسروں کے ٹییلنٹ کو سرانے میں کبھی عار محسوس نہ ہوا۔ وہ ٹیلنٹ انھوں نے جس میں دیکھا اسے عزت اور احترام دیا اور اس کا اعتراف بھی کیا- رونا لیلی بتاتی ہیں کہ نومبر 1974ء میں وہ ہندوستان گئیں اور ان کے میزبانوں نے ان سے پوچھا کہ یہاں کس سے ملنا پسند کریں گی؟ تو انہوں نے کہا کہ وہ لتا منگیشکر کو ملنا چاہتی ہیں۔ میزبانوں نے کہا کہ وہ پیغام پہنچادیں گے لیکن یقین سے کہہ نہیں سکتے کہ وہ تشریف لائیں گی بھی کہ نہیں۔ رونا کے اعزاز میں تقریب ابھی شروع ہوئی تھیں کہ پھولوں کا گلدستہ اٹھائے لتا منگیشکر وہاں آئیں اور رونا لیلی کو انہوں نے بہت عزت اور مان دی اور کہا کہ وہ ان کی گائیگی پسند کرتی ہیں۔ رونا لیلی آج تک اس بات کو نہیں بھولیں۔

سن 2016ء میں فیس بک پہ کراچی کے ایک شہری نے کراچی کے ایک گمنام گلوگار استاد اسلم کی آواز میں گائی ٹھمری “یاد پیا کی آئے” کا کلپ اپ لوڈ کیا تو لتا نے اسے اپنے آفیشل فیس بک پیج پہ اپ لوڈ کردیا اور سوال پوچھا،”یہ گنی گلوگلوکار کون ہے؟” ان کی اس پوسٹ نے کراچی کے گمنام استاد اسلم کی شہرت آسمان پہ پہنچادی۔ لتا نے جو کیا ویسا دیکھنے میں کم ہی آتا ہے۔

جیسا کہ میں نے کالم کے آغاز میں کہا تھا کہ میڈیم نورجہاں اور لتا منگیشکر دونوں کے گلے میں  خدا/ بھگوان کے سر بولتے تھے۔ دونوں اس دنیا سے چلی گئیں اور اب نجانے ہمیں کب تک اس غیبت کا سامنا کرنا پڑے گا اور کب دوبارہ منتخب گلا ا‎ ڈںيآ میں ظہور پذیر ہوگا؟

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here