ابتدائی عرب روایت میں علی ابن ابی طالب اور معاویہ ابن ابی سفیان

اسلامی عرب تاریخ نویسی کی ابتدائی روایت اور نویں صدی عیسوی تک
ارتقا کی روشنی میں

(یہ مضمون ایرلنگ پیٹرسن کی تحقیق سے ماخوذ ہے)

مغربی مستشرقین 19ویں صدی میں پہلی بار تاریخ طبری سے واقف ہوئے اور پھر اسی صدی کے آخر میں وہ بلازری کی “تاریخ الانساب” اور “فتوحات” سے واقف ہوئے۔ اس زمانے میں ولہاؤزن نے سب سے پہلے طبری کی امام علی کی خلافت کے دور میں ان سے متعلق روایات کا جائزہ مرتب کرتے ہوئے یہ کیا کہ اس باب میں جو عراقی عرب مورخ تھے ان کی روایات کو درجہ اعتبار سے گرایا اور طبری میں امام علی کے مخالف کیمپ میں کھڑے ہونے والوں کی روایت کو پیش کرنے والے تھے ان کو اعتبار بخشا اور اس طرح اس نے امیہ حکومت کی تعریف کی ۔ اس رجحان کو بعد ازاں کئی ایک مغربی مستشرقین نے اپنایا اور اس پہ ایک پورا مکتب فکر کھڑا کردیا۔ ایسے مستشرقین برصغیر پاک و ہند میں ان لوگوں کی طرف سے بہت پذیرائی ملی جن کا رجحان ہمیں یا تو ناصبیت کی طرف نظر آتا ہے یا پھر ان کا رجحان اموی بادشاہت کو اسلامی حکومت کے تصور کے عین مطابق کہنے کی طرف نظر آتا ہے۔ ان میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو حضرت علی کی خلافت کے انعقاد کو حیلے بہانوں سے مشکوک ٹھہرانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ان میں سے کچھ وہ بھی ہیں جو حضرت عثمان ابن عفان کی شہادت کا الزام حضرت علی ابن ابی طالب کے انتہائی قریبی ساتھیوں پہ عائد کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک گروہ اگرچہ براہ راست حضرت علی پہ زبان طعن دراز نہیں کرتا لیکن وہ حضرت علی کو ان کے انتہائی جانثار ساتھیوں کے آئے بے بس اور یہاں تک کہ یرغمال دکھانے کی کوشش کرتا ہے۔ کئی ایک حضرت ‏عثمان ابن عفان کی شادت کے بعد عرب مسلمانوں کے درمیان ہونے والی جنگوں کا الزام بھی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم پہ لگادیتے ہیں اور ایسے تمام لوگ اس بات سے بھی انکاری ہوجاتے ہیں کہ ابتدائی عرب روایت میں “شیعان علی” ایک ایسی سیاسی مذہبی اصلاح تھی جس سے وہ تمام لوگ مراد ہوتے تھے جو حضرت علی کے ساتھ تھے۔ پاکستان میں وقت گزرنے کے ساتھ اہلسنت کے تمام مسالک کے اندر ایک ایسا رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے جو امام علی کی شخصیت کے لیجنڈ ہونے سے جڑی روایت کو ہی جھٹلانے کی کوشش کرتا ہے اور اس کا یہ خیال ہے کہ امام علی کی شخصیت کے گرد تقدیس کا ہالہ ابتدائی ثقہ عرب تاریخی روایت کا حصّہ نہیں ہے بلکہ اس کو عباسی دور میں گھڑا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا نظریاتی رجحان ہے جو ابتدائی عرب مسلم ملوکیت کو اسلامی حکومت کی روایت سے انحراف ماننے سے یا تو انکار کرتا ہے یا اسے بہت معمولی انحراف قرار دیتا ہے۔ اس نظریاتی رجحان کا علمی محاکمہ کیا جانا بنتا ہے ناکہ امام علی کے متب فکر سے خود کو جوڑنے والے منحرف رجحان کے ماننے والوں کی طر “گستاخی اور توہیں” کا شور مچاتے رہیں اور معاشرے میں عدالت کا کام بھی اپنے ہاتھ میں لے لیں ۔

منحرفین کا نظریاتی محاکمہ کرنے کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ ابتدائی تاریخ عرب کی زبانی اور تحریری روایت میں امام علی اور معاویہ ابن ابی سفیان دونوں کو دیکھا جائے۔ اس کے لیے اسلامی تاریخ نویسی اور نویں صدی عیسوی تک اس کے ارتقا کا جائزہ بھی لیا جائے۔ اس شروعات میں ہم یہی دیکھنے کی کوشش کریں گے۔

میں نے اپنی کتاب “کوفہ: فوجی چھاؤنی سے اسلامی تحریکوں کا مرکز بننے تک” کے پہلے ایڈیشن میں اجمالی طور پر اور دوسرے ایڈیشن میں بہت تفصیل کے ساتھ اس بات کی وضاحت کی تھی کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے آخری دور میں مہاجر و انصار صحابہ اور امویوں کی قیادت میں مکّہ کے پرانے سرپرست/مکّی اشرافیہ اور عرب بدؤں کے درمیان سماجی تناؤ پیدا کردیا تھا اور یہ تناؤ بعد ازاں حضرت عثمان ابن عفان کے دور خلافت کے آخری سالوں میں باقاعدہ محاذ آرائی اور سیاسی-مذہبی گروہ بندی کی صورت نمودار ہوگیا تھا۔ اس کا باقاعدہ اظہار خود مدینہ، مکّہ ، کوفہ، بصرہ میں بہت شدت کے ساتھ ہونے لگا تھا جس نے وقت گزرنے کے ساتھ تحریکوں کی شکل اختیار کرلی تھی ۔ کوفہ میں ہمیں ایک طرف ولید بن عقبہ کے دور میں قراء کی تحریک نظر آتی ہے۔ دوسری طرف اہل سواد(کوفہ کی سوادی زمینوں کے مکینوں کی نئے مالکان سے لڑائی جن کی اکثریت اموی اشراف کی تھی)۔ ابتدائی دسیتاب تاریخی ریکارڈ ہمیں ایک ایسی حقیقت بارے بتاتا ہے جس کی طرف عام طور پہ بہت کم توجہ دی جاتی ہے۔ وہ ہے امام علی کا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور سے لیکر دور حضرت عثمان ابن عفان کے آخر میں اٹھ کھڑی ہونے والی بغاوت کی طرف رویہ ۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے اس موقعہ پہ اپنے آپ کو کسی بھی مزاحتمی اور باغیانہ کیمپ سے منسلک کرنے یا ان کی قیادت کرنے کے خود کو گھر تک محدود رکھا۔ یہاں تک کہ جب مدینہ میں کئی ایک بڑے جید مہاجر اور انصار صحابہ کرام بھی حضرت عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ کے سیکرٹری مروان کے خلاف احتجاج کرنے والوں کی پشت پناہی کررہے تھے تب بھی آپ نے خاموش رہنے کو ترجیح دی ۔ آپ نے ابو زرعفاری کو حضرت عثمان ابن عفان کے حکم کی تعمیل کرنے کو کہا اور انہیں ربذہ جانے پہ رضامند کرلیا۔ ایسے ہی شروع دن سے آپ کا یہ موقف رہا کہ خلیفہ وقت کو معزول کرنے کا اختیار مہاجر اور انصار صحابہ کرام کے علاوہ کسی کو نہیں ہے چہ جائیکہ کہ کوئی اس کے قتل پہ آمادہ ہوجائے۔ آپ مدینہ میں وہ واحد ہستی تھے جنھوں نے حضرت عثمان اب عفان کو محاصرے کے دنوں میں پانی اور خوراک پہنچائی ۔ اور آپ نے اپنے صاحبزادوں کو ان کے گھر کی حفاظت پہ مامور کیا۔ یہ اقدامات آپ کے رجحان کا صاف پتا دیتے ہیں ۔ اپنی خلافت کے زمانے میں جب بنوامیہ، مکّی شراف اور یہاں تک کہ کئی ایک جید صحابہ کرام بھی آپ کے خلاف تلواریں سونت کر کھڑے ہوئے آپ نے ردعمل میں بھی حضرت عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ کے قتل کے جواز سے زرا بھی اتفاق نہیں کیا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا جو سلوک حجر بن عدی ، محمد بن ابی بکر، مالک الاشتر، عدی بن حاتم، خلیفیہ الطائی ، ابن حمق سے تھا وہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ان اصحاب کو حضرت عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ کے قتل کا ذمہ دار نہیں سمجھتے اس لیے نہ تو انہوں نے ان پہ مقدمہ چلایا اور نہ ہی ان کو حضرت عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ کا خود کو ولی بتانے والوں کے حوالے کیا۔ ان باتوں کو منحرفین کے نظریہ ساز نہ تو بیان کرتے ہیں اور نہ ہی ان پہ سوچنے کی زحمت گوارا کرتے ہیں۔

جون 656 میں عثمان(رض) کا قتل اسلام کی تاریخ میں ایک عہد ساز اہمیت کا واقعہ ثابت ہوا۔ عرب مورخین کے الفاظ میں ایک ایسا واقعہ جس نے مذہبی-سیاسی کشمکش / فتنہ1 کی تشکیل دی جس نے آنے والے سالوں میں نہ صرف شدید تنازعوں کو جنم دیا بلکہ مسلمان برادری کی تقسیم کو ناقابل مفاہمت گروہوں میں بانٹ دیا- اسی وقت قتل نے بذات خود تناؤ کے بالقوہ عناصر کو بھی ہوا دے دی جو عرب برادری کے اندر میں پہلے سے ہی موجود تھے: نئی تخلیق شدہ اسلامی تھیاکریسی ، محمد کے مکّی و مدنی اصحاب(مہاجر و انصار صحابہ)، امویوں کی قیادت میں مکّہ کی پرانے سرپرست/مکّی اشرافیہ اور عرب بدو قبائل کے درمیان تنازعوں کو بھڑکا دیا۔ کچھ عرصے بعد ایک مرحلے پہ تناؤ کی یہ حالت ایک نئے گروہ کی وجہ سے اور شدید ہوتی نظر آتی ہے اور وہ گروہ تھا قانونی جواز کے اصول کے ابتدائی رجحان کا حامل علی ابن ابی طالب کا طرفدار جو نبی کریم کے چچا زاد اور مرکزی حثیت کی حامل شخصیت تھے۔ ابوبکر(رض) اور عمر(رض) اب تک جنگی جبلت رکھنے والے عرب قبائل کے ساتھ اسلام کے مذہبی پروگرام کو تسلییم کراتے ہوئے ایک معاہدہ /انتظام کرنے میں کامیاب رہے تھے جو ایک ایسی پالیسی تھی جس کا نتیجہ 630ء کی دہائیوں میں توسیع کی عظیم لہر کی صورت میں نکلا تھا۔ پہلے پانچ خلفاء نے بنوامیہ کا لحاظ رکھا تھا جن کے شام میں تجارتی مفادات نے اس صوبے کی فتح، تنظیم اور قیادت کو قدرتی طور پہ ان کے ہاتھ میں رکھا تھا۔

پھر بھی حضرت عمر فاروق(634-44ء) اور خاص طور حضرت عثمان کے دور میں ان عرب قبائل میں ابھرتی ہوئی بے چینی کا ثبوت ملتا ہے جنھوں نے اس توسیع کے عمل میں حصّہ لیا تھا، حضرت عثمان کے دور میں شدید فوجی تنظیم کاری اور معاشی فوائد جہاں حجاز کی اسلامی اشرافیہ کو فائدہ پہنچایا وہیں فتوحات سے امویوں نے بھی فائدہ اٹھایا تھا۔ اس صورت حال میں علی (ع) کا خلیفہ کے طور پہ انتخاب مشکل سے عرب بدو خاص طر پہ عراقی قبائل کی قانونی جواز کے اصول کی خواہش اور مدنی انصار کا فوری حالات کے امکانات کو استعمال کرنے کی کوشش تاکہ اس پیش رفت کو پرانے اور زیادہ پرہیزگاری راستوں پہ لے جانے کے استعمال ہوسکتا تھا۔2 معاملہ کچھ بھی ہو علی(ع) کی بطور خلیفہ حکومت ان حلقوں کے گہرے تعاون سے ہی برقرار رکھی جاسکتی تھی جن پہ عٹمان (رض) کے قتل کا الزام تھا(اب یہ الزام حقیقی تھا یا نہیں لیکن یہ حقیقت ہے) اور اسی لیے وہ مکّی اصحاب (مہاجرین) کے اندر پائی جانے والی مزاحمت کے سدباب پہ مجبور ہوئے جنھیں اس توسیع سے فائدہ ہوا تھا۔ اسی وجہ سے انھیں 656ء کے موسم خزاں میں طلحہ(رض) اور زبیر(رض) کی بغاوت کا سامنا کرنا پڑا۔ اصلاح کے نام پہ انھوں نے جو مہمل اور مبہم مطالبات رکھے تھے ان کا اس پروگرام سے اپنے آپ کا مفاہمت کرنے سے قاصر ہونا تھا جو علی(ع) کے انتخاب سے لازم آرہا تھا اور وہ اس راستے میں مزاحم تھے۔ اس وقت کے جو حالات تھے ان میں ان کے مطالبات کو روبہ عمل لانا مشکل تھا اور اسی لے ان کی بغاوت دسمبر656ء میں بصرہ کے نزدیک بری طرح سے کچل دی گئی ۔3

زیادہ قدرتی اور اہمیت امویوں کا ردعمل تھا جس کی قیادت شام کے گورنر جو بادشاہانہ طرز کے حامل تھے معاویہ بن ابی سفیان کررہے تھے – مقتول خلیفہ کے رشتے دار کے طور پر اپنے آپ کو مقتول کا ولی بناکر اور قرآن کی آیت کو جواز بناکر جنوری657ء میں معاویہ ابن ابی سفیان نے خلیفہ کے قاتلوں سے ان کے قتل کا انتقام لینے کا اعلان کیا-اور اس نے اس عممل کے جواز کے لیے کسی مذہبی عذر کو قبول نہ کیا-تمام تاريخی نقول کے مطابق انھوں نے علی ابن ابی طالب(ع) کو اس قتل میں مددگار خیال کیا اور الزام لگایا کہ علی ابن ابی طالب(ع) نے مبینہ قاتلوں کے حلقے کی طرف نرمی دکھائی اور اس طرح سے مذہبی طور پہ جو کرنا بنتا تھا نہ کیا اور مصلحت کا شکار ہوگئے۔4 دوسری طرف علی (ع) اور ان کے پیروکاروں نے اس بات سے انکار کیا اور کہا قرآن کی آیت قصاص کا اطلاق نہیں ہوتا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ عثمان(رض) کی حکومت کے عمال نے خود اس قتل کی راہ ہموار کی تھی۔ اور وہ اسی لیے معاویہ ابن ابی سفیان کو قانونی مذہبی حکومت کے منحرف کے طور پہ دیکھتے تھے جن قرآن کے حکم کے مطابق واپس دائرہ اطاعت میں لایا جانا فرض بنتا تھا۔5

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس فتنہ(آزمائش) نے اسلامی برادری کی بنیاد کو ہی ہلا دیا تھا۔ اور اس آزمائش کا سامنا علی(ع) اور معاویہ ابن ابی سفیان دونوں کے کیمپوں کو ہوا جب وہ دونوں فرات کے کنارے صفین کے مقام پر 657ء کے موسم گرما میں آمنے سامنے ہوئے۔ امام علی خلیفہ کے قتل کے جواز کو نہں مانتے تھے اگرچہ انھی اس دور میں اٹھائے گئے بہت سے اقدامات پہ اعتراض تھا۔ وہ یہ بھی نہیں مانتے تھے کہ خلیفہ عثمان(رض) کے عمال کے خلاف تحریک چلانے والے نمایاں نام جو ان کے کیمپ میں تھے خلیفہ کے قاتل بھی تھے۔ ان کا اس حوالے سے جو ردعمل تھا اس نے ان کے کیمپ کے اندر ہی سے اس مسئلے پہ قرآن کے مطابق ثالثی/حکم کا مطالبہ کھڑا کردیا۔6 ہر ایک کیمپ نے اپنے حکم/ثالث مقرر کیے۔

شامی کیمپ نے عمرو بن العاص اور علوی کیمپ نے ابو موسی اشعری کو ثالث چنا- ابو موسی اشعری وہ صحابی تھے جو اس آزمائش اس فتنے سے مماثل سمجھتے تھے جس کے برپا ہونے پہ رسول کریم نے گوشہ تنہائی اختیار کرنے کا حکم دیا تھا- تاہ علوی کیمپ میں اس فیصلے پہ اتفاق نہ تھا۔ پہلا گروپ جس میں سب سے زیادہ عرب بدو تھے جنھیں بعد میں خوارج کہا گیا الگ ہوگیا کیونکہ ان کے ںزدیک ثالثی خلیفہ جیسے مذہبی مقدس عہدے کے شایان شان نہ تھی ۔ انھوں نے معاویہ ابن ابی سفان کی غیر قانونی بغاوت کے خلاف جنگ میں قربانیاں دی تھیں اور ان کے نزدیک مسئلے کا حل صرف فوجی تھا اور وہی اللہ کا حکم تھا بغاوت کرنے والے گروہ کے خلاف-7 ان کے نزدیک اسلام میں شورائیت اہم اصول تھا اور وہ اپنے تئیں سمجھتے تھے کہ عثمان(رض) کی مخالفت کا سبب بھی شورائیت سے انحراف تھا اور علی (ع) کی خلافت کی حمایت بھی انہی خیالات کے تحت کی گئی تھی۔

خوارج کی مخالفت لگتا ہے کہ اس ثالثی کے جنوری 659ء تک تعطل کا سبب بنی جب عمرو بن عاص اور موسی اشعری معان اور پیترا کے درمیان ایک نخلستان میں ملے تھے۔ اس ثالثی کے دوران عمرو بن عاص نے دھوکے سے اپنا فیصلہ نافذ کرنے کی کوشش کی اور علی ابن ابی طالب کو معزول کرنا چاہا جسے علی ابن ابی طالب کے کیمپ نے تسلیم نہ کیا- علی (ع) نے اس دورا خوارج کے انکار کو گمراہی سے تعبیر کیا اور انھیں جولائی 658ء کو نھروان کے مقام پر خوارج کو کچلنا پڑا۔ ثالثی کے بعد علی (ع) کے کیمپ سے بڑے پیمانے پہ لوگ الگ ہوگئے۔ ثالثی کے دو سالوں کے بعد علی(ع) خود بھی خوارج کے قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہوگئے۔ ار یہ 661ء تھا اور مہینہ جنوری کا۔ اس سے پہلے موسم گرما میں 661ء میں عاویہ ابن ابی سفیان نے اپنے زیر کنٹرول علاقے میں اپنے بطور خلیفہ ہونے کی بیعت لوگوں سے یروشلم میں لینا شروع کردی تھی۔ 9

اس خانہ جنگی میں اسلام کے بنیادی عناصر ناقابل مفاہمت تنازعے میں مشغول ہوگئے تھے۔ ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی ہے کہ علی(ع) کی دفاعی جنگ کا مقصد عقیدے کا دفاع اور فتح تک لیجانے والی درست رہنمائی (جو وہ اپنا فرض سمجھتے تھے) کرنا تھا۔10 یہ فرض ان کے کندھوں پہ خود بخود آن پڑا تھا کیونکہ وہ حامل دین تھے اور یہ مذہبی فریضہ جو خدا نے
ان کے سپرد کیا تھا ان کے امام ہونے کے طور پہ تھا۔11

دوسری طرف یہ بھی بہت ظاہر تھا کہ انھوں نے فتنہ ک طرف جو رویہ اختیار کیا اسے لیکر دوسرے کیمپ نے ان کا جو مذہبی مقام و مرتبہ اور شان تھی اسے نشانہ بنانے کی کوشش کی- ان پر خلیفہ عثمان کے قتل میں ملوث ہونے کے شبے کو بدنام کرنے کی ایک باقاعدہ مہم میں تبدیل کردیا گیا اور اس جیسے دوسرے شبہات اس طاقت سے پھیلایا گیا کہ بعض غیر اموی مہاجر صحابہ جن میں مدینہ سے عبداللہ بن عمر اور سعد بن ابی وقاص نمایاں تھے نے نہ ان کی بیعت کی اور نہ ہی ان کے ساتھ دوسرے کیمپ سے لڑنے گئے۔ لیکن انہوں نے دوسرے کیمپ میں بھی شرکت نہ کی اور غیر جانبدار رہنا اختیار کرلیا۔ ایسے ہی جنگ جمل میں ان کا مدمقابل مہاجر صحابہ کی ایک بڑی تعداد سے قتال ،صفین میں ثالثی کو تسلیم کرنے اور نھروان کی جنگ نے ان کے خلاف خوارج کا کیمپ کھڑا کردیا۔ دیکھا جائے تو ایک طرف خوارج نے علی(ع) کو دین اسلام سے منحرف ہوجانے کا الزام لگایا تو دوسری طرف بنوامیہ کا کیمپ جو معاویہ ابن ابی سفیان کی قیادت میں کھڑا تھا اس نے بھی علی (ع) کی دینی حثیت پہ زور دار حملے کیے اور ایک بہت بڑی تعداد شامی کیمپ کی ان کی دینی حثیت بارے مشکوک ہوگئی اور اسے اموی کیمپ کی فتح کا ایک بڑا اہم پہلو گردانا گيا۔

علی(ع) کے دین پہ نظریاتی حملوں کی ایک منظم مہم شروع کی گئی ۔ حیات نبوی کے دور میں ان کی شجاعت، بہادری، حربی صلاحیتوں اور جنگی مہارتوں سے ان کا جو مسلم مقام تھا اسے دھندلانے کی کوشش کی گئی ۔ ان کا جو روحانی اور دینی مقام تھا اور اس حوالے سے جو ارشادات نبوی موجود تھے اس ساری تاریخ کو چھپانے کی کوشش ہوئی ۔ اس کے ساتھ ساتھ شامی کیمپ نے معاویہ ابن ابی سفیان کی امیج بلڈنگ شروع کی گئی ۔ ان کو بہت بڑا حربی دانا، متعمل مزاج اور بہت بڑے حلم والا بناکر پیش کیا گیا۔ موقعہ پرستی کو بھی چالاکی سے خوبی بناکر دکھایا گیا۔

یہ پرانی مکّی اشرافیہ تھی جس کی معاویہ بن ابی سفیان نے قیادت کی اور 660-61ء میں خلافت کو حاصل کرلیا۔ تاہم یہ سوال ابھی تک بحث طلب ہے کہ خانہ جنگی اور امویوں کے اقتدار پہ قبضے نے کس حد تک اسلام کے سیاسی اور سماجی ڈھانچے کو تبدیل کیا۔ معاویہ اور اس کے فوری بعد پیش رو حکمرانوں کی خواہش تھی کہ ان کی رعایا انہیں پہلے دو خلفا کی لائن کا حقیقی پیرو سمجھیں۔ انھوں نے سماجی طور پہ عرب بدوی قبائل کو رام کرنے کے لیے توسیع پسندی کو نئی تحریک دی اور مذہبی پیشوائیت کی دلچسپی کا سامان بھی پیدا کیا۔ معاویہ ابن ابی سفیان نے اپنے دور میں روایتی عرب قبیل داری ادارے تھے اور اشراف قبائلی برادری تھی ان کے درمیان توازن پیدا کیا اوراس طرح سے ایک نیا سیاسی و سماجی ڈھانچہ تشکیل دیا۔ لیکن بہت جلد علوی(شیعی) اور خوارج کی تحریکوں اور بغاوتوں نے یہ ثابت کردیا کہ اس کا پیدا کردہ نام نہاد توازن عارضی تھا۔ یہ بغاوتیں اور مزاحتمی تحریکیں پورے عراق میں پھیل گئیں۔ خاص طور پر جب مشرقی عراقی صوبوں میں باہم انجذاب ہوا اور مقامی آبادی تبدیلی مذہب کے عمل سے کزری تو اس نے مذہبی کشمکش کو تیز کیا اور سماجی مشکلات کو سیاسی مشکلات میں بدل دیا۔ شیعی اپوزیشن عرب (اشرافیہ) اور موالی (عامۃ الناس) کے درمیان بٹ گئی تھی۔ تو تنازعہ علی(ع) کے قتل سے ختم نہیں ہوگیا تھا اس نے اس کی حقیقت کو برقرار رکھا اگرچہ کشمکش نے قدرے مختلف کردار اپنالیا تھا۔ عٹمان(رض) کے قتل سے جو فتنہ پیدا ہوا تھا اسلامی سماج کے مخصوص ڈھانچے اور اس کی مذہب اور سیاست کی زنجیر اسقدر اہمیت کی حامل تھی کہ اس نے نہ صرف اسقرائی استدلال پہ مبنی تعبیر کی دعوت کو جاری رکھا بلکہ ماضی سے وفاداری کو بھی خارج از امکان قرار دے دیا۔ خانہ جنگی کی تاریخ اور تاریخ سازی اسی لیے دونوں مختلف چیزیں ہیں اور دونوں ہی قابل بحث ہیں۔

ہر تاریخی واقعہ کا تجزیہ اور درجہ بندی دومختلف نکتہ ہائے نظر سے کیا جاسکتا ہے۔ اس کی بنیاد اس پہ ہوتی ہے کہ آیا یہ بیان کیے گئے موضوع کے علم کا زریعہ ہے یا ایک تاریخ نویسی کی یادگار۔ ظاہر ہے یہ یہ دونوں درجہ بندی کے اصول باہمی ایک دوسرے سے غیرمتعلق نہیں ہیں اور یہ ایک دوسرے کی طرف آتے جاتے رہتے ہیں- لیکن بنیادی دلچسپی کا امتیاز برقرار رہتا ہے۔ تاریخ نویسی کے اعتبار سے ہس کے ماخذ پہ تشریح/تعبیر کا انحصار اور مصنف کی طبعی شناخت کام کے مقام کے تعین میں مختلف طور پہ اپنا فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں، جبہ قدر کا بطورتشریخ کے ماخذ کے جدید تحقیق میں تاریخی نویسی کے لحاظ سے کوئی مناسبت نہیں ہے۔ جہاں تشریح کو تاریخی نویسانہ یادگار سمجھا جاتا ہے تو وہآن ہماری توجہ معاصر مورخین کے معیار کے ثبوت کے لحاظ سے رکھنے پہ فوکس ہوتی ہے – ان کے طریقہ کھوج اور ان کے نظریے پہ – اس نوعیت کی کوئی بھی کھوج محض کتابیات کی تدوین یا مورخ کے مواد پہ نظر ثانی سے مکمل نہیں ہوسکتی۔ تشخیص کو یہ ملحوظ رکھنا چاہئیے کہ تاریخی مندرجات کو اس سماج کا ثمر سمجھا جاتا ہے جس سے وہ برآمد ہوتے ہیں اور جس میں ہ محرک بہ عمل ہوتے ہیں۔14
تاریخ نویسی کا سماجی اور علمی فعل قرون وسطا کے یورپ میں جانا پہچانا مظہر رہا ہے جہاں اس کی کرداری خصوصیت کی پیشکش چوتھی صدی میں ابتدائی طور پہ مسیحیت کی فتح کا ثمر رہی اور جہاں الہیاتی رنگ میں رنگے پہلوؤں کی آج بھی اہمیت برقرار ہے۔15قرون وسطاکے ماہرین تاریخ کے کام کے تحت موجود فلسفہ سینٹ آگسٹن کے دو شاخہ سسٹم سے اخذ کیا جاتا رہا جس کا پہلا اطلاق غیر مذہبی تاریخی موااد اور مناظرانہ مقصد کے لیے اس کے شاگرد پولس اوروسس نے کیا جبکہ ان کی تاریخی ترتیب بھی اورسس نے آزمائی تھی اور اس کی بنیاد یوسےبیوس کی طرف سے کہاسیکل اور انجیلی روایت کے میلاپ پہ تھی۔ ان عناصر کا ائتلاف سیوائل کے ایزڈور کے زریعے ساتویں صدی کے ابتداء میں ہوا۔ نظریہ کائنات کے اس افادی نکتہ نظر سے حد بندی نے مورخ کی اپنی ذاتی شرکت پر کوئی قید کسی صورت میں نہیں لگائی تھی۔ قرون وسطی کے قصص واقعی یہ تاثر چھوڑتے ہیں کہ امتزاج اور ہم آہنگی کے ذریعہ یا اپنے اختیار میں موجود ماخذ اورمواد کی تشکیل کے ذریعہ مورخ نے ماضی کی وہ خاص تشریح وضع کی جس نے اس کے مقصد اور اس کے سیاسی نقطہ نظر کو پورا کیا۔
اصطلاحات اور مذہب کے اندر تاریخ نویسی اور حقیقی سیاسی نظریات کا یہ انتہائی گہرا ربط کوئی محض یورپی مظہر نہیں ہے۔ یہ پہلو کلاسیکل اسلامی تاریخ نویسی میں بھی متوازی طور پہ پائے جاتے ہیں۔ اگرچہ فصل بندیاں/ حد بندیاں مشرق میں قدرے مختلف سانچے میں ڈھالی گئی ہیں۔ جہاں پر ہر سیاسی سوچ یا عمل میں ہر مذہبی ترغیب اسلام کے ریاست اور مذہب سے ربط کے ساتھ بندھی ہوئی ہے، روایت میں کرداری خصوصیت کو دوہرے طور پہ بیان کیا جاتا ہے جو ریاست اور دین ہیں۔ اس ترتیب کو شاید ہی کسی ابتدائی کلاسیکل یا مسیحی اثر کے طور پہ بیان کیا جاسکے۔ ابتدائی اعتبار سے اس کی وجہ وہ حقائق ہیں کہ محمد (ص) کی تبلیغ کا آغاز مسیحیت سے ملتی جلتی تبلیغ سے ہوا اور ان کے خیالات نے عرب تصور تاریخ کی مذہبی بنیادوں کی تشکیل کی۔ تاریخ کا تصور جس کے ساتھ قرون وسطا کے عرب ماہرین تاریخ نے کام شروع کیا وہ خاص طور پہ اسلامی سانچہ ہے بالکل ویسے ہی جیسے یورپی تصور تاریخ بنیادی طور پہ مسیحی ہے اور دونوں کا قرون وسطا کے نظریہ کائنات کے نظاموں میں اپنا اپنا مقام ہے۔(اس وضاحت سے کم از کم یہ بات تو ثابت ہوجاتی ہے کہ مسلمانوں میں وہ گروہ جو اسلامی تاريخ کی تدوین یہود و نصاری کی تاریخ نویسی سے مماثل گردان کر اسے رد کرتے ہیں وہ کتنے غلط ہیں)

ماقبل اسلامی عرب برادریوں کے پاس درحقیقت کوئی قابل ذکر تاریخی روایت نہیں تھی اور جو تھی وہ زیادہ تر قبائلی حسب نسب/ شجروں اور قبائل کے جنگی ایام (جن کو ایام العرب کہا جاتا ہے) کی تاریخ کی روایت تھی۔17 اس روایت نے کوئی شبہ نہیں جہاں تک قبائل کے عملی مسائل یا مقام و مرتبے جیسے معاملات تک دلچسپی تھی ان کو ترتیب دینے میں تو مدد کی۔ لیکن اس نے کبھی بھی ایسے تصورات کی نمو نہیں کی جو مضبوطی سے ماضی کے خیالات کی تشکیل کا اظہار بن پاتے۔ اور اسی وجہ سے اس طرح کے تاثرات کا دائرہ محدود پایا گیا اور شاید بعد ازاں اسلامی ماہرین تاریخ نے اس بات کو پالیا تھا۔

یہ بات سچ ہے کہ بنوامیہ کے دربار نے ماقبل اسلام ماضی (ایام جاہلیہ) میں اپنی دلچسپی برقرار رکھی اور ان کی یہ دلچسپی اور غالب رجحان پیغمبر اسلام کی عسکری مہمات (مغازی ادب)، اسلامی توسیع پسندی اور ابتدائی تصادم کی روایت کی تشکیل پہ بھی اثر انداز ہوا اور انہوں نے ایام العرب کی تکنیک کو اس روایت کے بیان میں کام لیا۔18لیکن بدو عربوں کی قبائلی خوشحالی میں دلچسپی اس متحدہ مذہبی جوش و خروش سے مکمل طور پہ خالی ہے جو محمد(ص) کی تعلیمات کے اندر اور اسلامی سرپرستی میں عرب سلطنت کی پہلی تنظیم موجود ملتا ہے۔ یہ محمد (ص) کی بعثت میں آنے سے پہلے نہیں ہوا کہ تاریخی تصورات نئے معاشرے پہ حکمرانی کرنے والے عملی اصولوں میں اس طریقے سے شامل ہوں گئے ہوں کہ وہ اس نسل پہ ایک فیصلہ کن اثر ڈالنے لگ جائیں۔ نظریاتی اعتبار سے حقائق کی معروضی سطح پہ جانچ کی ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہ تھی- لیکن یہ جانچ بہرحال داخل ہوگئی باوجود اس کی دلیل میں ترمیم کے جہاں پہ اس کی تبلیغ میں بیرونی حالات ایک نامیاتی عنصر کے طور پہ اثر انداز ہوئے۔

اس کی اصولی اہمیت ہے کہ محمد (ص) نے خود تاریخی تسلسل کے تصور کا بہت واضح انداز میں اظہار کیا۔اس کی وحی میں یہ بہت ہی راہنما اصول تھا کہ وحی جس کا اس نے تجربہ کیا وہ اپنے جوہر کے اعتبار سے ان سے مختلف نہ تھی جن دوسرے لوگوں کو اس کا تجربہ ہوا تھا بلکہ اس نے خود اس پیغمبرانہ روایت کو پورا کیا جسے عہد نامہ قدیم اور یسوع مسیح نے شروع کیا تھا۔19 تمام وحیوں کی مماثلت پہ یہ اصرار وضاحت کرتا ہے کیسے مرتکز تاریخی تجربہ (پیش روؤں کی تنبیہ،تاریخ کے اسباق -عبرت) اس کی اپنی تبلیغ میں کس قدر وزن کے ساتھ آتے ہیں-20 اس کا ماضی بارے علم اور اس کی اہمیت برابری کی بنیاد پہ خدائی وحی پہ مبنی قانون کے دوسرے جزو کے ساتھ وحی کا ایک نامیاتی عنصر ہے۔21
اپنی شروعات میں محمد کی تبلیغ انفرادیت پسند تھی ، ایک ایسی لائن جو اگر اپنے منطقی نتیجہ پہ پہنچے تو موجودہ اجتماعی پسندانہ قبائلی ڈھانچے کو گرادیتی- یہاں تک کہ ان کی ہجرت سے پہلے مکّی اشرافیہ سے تضادم اور دوری اسلامی اداروں کی ایک بنیاد پیدا کررہی تھی ، جس کا مکمل امکان مدینہ کے تھیاکریٹک/مذہبی سماجی نظم میں ابھرکر سامنے آیا۔
بتدریج ان کی تعلیمات نے اجتماعیت کے غلطی سے پاک عناصر کو اپنے اندر سمولیا؛ وہ عناصر جو ایک طرح سے عربیائے جانے پروسس جیسے تھے اس نے دوبارہ محمد (ص) کو قبائلی اداروں کے قریب کردیا۔ ان کی پیغمبرانہ عالمگیریت برقرار رہی ، اگرچہ چیزوں کی نوعیت، عرب جڑیں اور تاریخ کے ارتکاز اور عبرت وغیرہ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوطی سے ایستادہ رہے۔ ان کے مدنی دور میں تاہم انہیں بت پرستی اورر اسلام کے درمیان، جاہلیت اور حلم کے درمیان اور زیادہ فرق کی تشکیل کرنا پڑی جو ان کی اپنی آمد کے ساتھ ہی دو متضاد رویوں میں مجسم ہوکر سامنے آگئی تھی۔

تاریخ کا تصور جو محمد(ص) کی تعلیمات کا باب تشکیل دیتا ہے ، جیسے آگسٹن کی ڈاکٹرائن کرتی ہے وہ تاریخی پراسس ایک ابدی یا عالمگیر معیارات کی صورت گری، مشیت خداوندی کی تجسیم ہے۔ “یہ خدا کا راستا ہے تمہارے لیے جو پہلے سے متعین ہے اور خدا کا راستا کبھی تبدیل نہیں ہوتا” قوآن میں اس طرح کی آیات موجود ہیں۔ اسلامی برادری اللہ کی امت ہے۔ اور اس کی تخلیقی قوت ان کی تمام سرگرمیوں میں ظاہر ہونے سے اپنے آپ کو نہیں روکتی ۔ ان کے پھلنے پھولنے میں دلچسپی اور خدا کی منشا کی تعبیر میں جو واقعات کے تسلسل میں ظاہر ہوتی ہے اس لیے محض پرہیزگاری کا معاملہ نہیں ہے بلکہ سادہ طور پر ان کے لیے ایک ضرورت ہے جو اپنے آپ کو سپرد خدا کرتے ہیں۔ اس طریقے سے محمدی سماجی نظم کا ریاست اور مذہب سے میلاپ آغاز کار سے ہی تاریخی روایت کو ایک اہم کام سونپتا ہے ، یہ ایک ایسا رجحان ہے جسے قدرتی طور پر مذہبی آزمائش اور سیاسی تفرقے نے پسندیدہ رکھا جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دور سے شروع ہوا تھا۔
“آزمائش/فتنہ کا دور اسلام کی بنیادی تعلیمات کے ساتھ مثالی طور پہ مطابقت نہیں رکھتا تھا لیکن اس کے باوجود کیہ موجود تھا، یہ ایک ابتدائی مرحلے پہ ایک ایسی حقیقت کے طور پہ موجود تھا کہ اس نے سب ایمان والوں کی توجہ اور اور ان کے ضمیر کو اپنی طرف متوجہ کیا اور ان کو اس میں ذاتی طور پہ شریک ہونے کو کہا۔ کوئی بھی سیاسی اور جسمانی تصادم ہوتا چیزوں کی نوعیت کے اعتبار سے وہ قدرتی طور پہ اور بنیادی اعتبار سے مذہبی پہلو ہی رکھنے والا ہوتا۔ کوئی بھی ایسی رائے اسلامی معاشرے کا قانونی جزو ہوتی ہے اور اپنے جوہر کے اعتبار سے مذہبی جواز رکھتی ہے جسے یا تو روایت نبی (ص) سے اخذ کیا جاتا ہو یا پھر ابتدائی نسلوں سے لیا گیا ہو۔ موخر الذکر کے سیاسی امتیازات کو سیاسی متنازعہ مسائل پہ بحث کے دوران دلائل میں لایا جاا ہے اور تنازعے عمومی طور پہ اتنے متبادل ہوتے ہیں ان کی بنیادی فطرت ہی ماضی سے وفاداری کو روکتی ہے۔ رب تاریخ نویسی کی اسلامی سماج میں یہ خاص حالت اس کے خارجی پہلوؤں کی وضاحت کرتی ہے۔ عربوں خود اپنی طرف سے پہل کرکے ذاتی رائے کے زریعے روایتی اعتبار سے قائم اتھارٹی سے انحراف سے نفرت ییا کسی بدعت کے زریعے سے انحراف کرنے سے گریز ان کے علم کے تصور بارے بنیادی نکتہ نظر سے جڑا ہوا ہے- علم میں خاص طور پہ مذہبی معاملات سے تعلق میں عربوں کے نزدیک مفہوم و معنی عام طور پہ آزاد سوچ کا نتیجہ نہیں ہوتا تھا بکہ اس سے ان کی مراد کسی اہل اتھارٹی کی رائے دیکھنے کا نتیجہ ہوتا اور اہل اتھارٹی سے مراد قرآن کے احکام ہوا کرتے یا اسانید نبوی ہوا کرتیں یا پھر صحابہ کا تعامل /عمل ہوا کرتا۔ تمام ناگزیر قاعدوں کو پورا کرتے ہوئے جس میں اسانید کی ایک قابل اعتماد زنجیر جو درمیانی تمام روابط سے گزرتے ہوئے روایت کو خبر دینے والےتک پہنچاتی ہے۔ محمد بن عبدالرحمان السخاوی لکھتا ہے،”آدم کی تخلیق سے تک عربوں کے سوا کوئی بھی لوگ قابل اعتماد(ثقہ) افراد رکھتے تھے جو پیغمبر کے کہے اقوال کو محفوظ رکھ سکتے” اور وہ مزید لکھتے ہیں،”اگر اسانید نہ ہوتیں ہر شخص وہ کہتا جو اسے اپنے مفاد میں لگتا۔ وہ شخص جو اسانید کا اطلاق کیے بغیر حقائق کا مطالعہ کرتا ہے وہ ایسے شخص کی طرح ہے بو بغیر سیڑھیوں کے چھت پہ چڑھنا شروع کردے۔”22

اس میں اور اس جیسے تناظرات میں تفیسر اور فقہ پہ جو بات لاگو ہوتی ہے وہی تاریخیاصول میں تاریخی اسانید پہ لاگو ہوتی ہے۔ تاریخ کا راستا اصل میں خدا کی منشا/مرضی کی تجسیم ہے اور معروضی اعتبار سے آزاد واقع ہوتی ہے۔ علمی روایت کے کلاسیکی معنی کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس علم کو آگے پہنچاتا ہے جو اس کے قبضے میں ہوتا ہے۔ حدیث کے دوسرے شعبوں میں یہ بنیادی تصورات ایسے مظاہر ہیں جو بتدریج روایت میں جڑپکڑ رہے ہیں- یہ ایک تکنیک ہے جس پہ تاریخ ریکارڈ کرنے والے بھی کسی شرح پہ آٹھویں صدی کے آخر تک کام کررہے تھے۔ اسی طرح علم الاخبار قابل زکر واقعات کا علم عام طور پہ ماخذ کی تحقیق کے نتائج یا تجربی تحقیق کے نتائج کو ظاہر نہیں کرے گا بلکہ محض راوی کے مستند حوالہ دینے کی صلاحیت کو ظاہر کرے گا۔ یہ اسانید کا حوالہ دے گا جو کہ ایسے رسمی مطالبوں کی تشفی کرائے گا جو اس بارے کیے جاسکتے ہوں۔

عربوں کے ہاں تاریخ کے اندراج میں یہ بات قدرتی ہے کہ اس کا ماخذ سے تعلق محقق سے تعلق جیسا نہیں ہے۔ نہ دستاویزات اور نہ ہی یادگاری آثار اس اصول پہ ہیں جیسے ابتدائی عرب تاریخ نگاروں نے اسے دیکھا تھا۔24 اس قسم کے مواد کو کسی طریقہ کار کی ترجیح پہ بھی نہیں دیکھا گیا، یہ ایسی حقیقت ہے جسے ڈرامائی خصوصیت کی کمی کی وجہ سے شاید ہی بیان کیا جاسکتا ہو۔ فوری طور پہ ایسے فنکشن میں فوری طور پوری کرنے میں ناکمی ہے یا جو ایسے جوہر میں مورخ کو مطلوب ہوتی ہے۔ ایسے خطوط یا تقریریں جن کو مورخ نقل کرتا ہے کوئی شبہ نہیں اگٹر معاملات میں فکشن پہ منحصر ہوگی جو مورخ کے ماضی کے کرداروں کے بارے میں خود اپنے تصور کا اظہار ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے۔25 عرب مورخوں کے لیے مزید تنقیدی طور پہ روایت کے متعلقہ زمانے اور فطرت کو ممیز کرنا ممکن نہیں تھا۔ اگرچہ روایت فقہ کی طرح ابتدائی ترین عباسی دور میں شواہد/ثبوت کو ترجیح دینے کی طرف مڑجاتی ہے۔ جسے یہاں اسانید کے طور پہ لیا جاتا ہے جن کا سراغ اس کے معاصر یا عینی شاہد کے ہاں لگایا جاسکتا ہو۔ یہ پراسس ثانوی اور مفروضاتی ہی رہتا ہے26۔ ہوسکتا ہے اسے وقوف کے تصور کی مذہبی فطرت کا عکس فرض کرلیا گيا ہو، ایسے علم کے حصول کی ضرورت جیسے مشاہدہ کرنے والا کرسکتا ہے۔ تاریخی اسانید کی خارجی شکل پہ رسمی مطالبات تسلیم کرنے کے انداز میں قائم کیے گئے ہوں لیکن یہ مواد روایت کی ایسی شدید تنقید کا موضوع نہ ہو جیسی نویں صدی میں فقہ اور عقائد کے اصول میں اپنائی گئی تھی۔ یہاں تک سفیان الثوری (متوفی 777/78) اور احمد بن حنبل (متوفی 855) جیسے انتہائی محتاط آئمہ مذاہب نے بھی ایسا مطلق ثقہ پن اور درستگی وہیں لازم خیال کی جہاں معاملہ حلال و حرام تھا لیکن انہوں نے دوسرے معاملات جن میں تاریخ کا اندراج بھی شامل تھا میں ایسی احتیاط کا مطالبہ نہیں کیا۔27

اگرچہ تشکیک پسندی اور رسمی انتقاد کا اکثر و بیشتر سامنا رہتا ہے لیکن فکری طور پہ سند کی طرف احترام کی روش قائم رہتی تھی۔ عرب مورخ اپنے مواد کے ماخذ میں فقہ اور تفسیر کے مصنفوں کے مفابلے میں کہیں زیادہ آزاد روش اختیار کرتا ۔ روایت پرست جس موضوع سے معاملہ کررہے ہوتے اس پہ کبھی اپنی ذاتی سیاسی اور مذہبی وابستگی رکھنے کے حق سے دستبردار نہیں ہوا کرتے تھے۔ ابتدائی زمانے سے (ساتویں صدی سے آٹھویں صدی کو جاتے ہوئے) ہم ایسے راویوں کو جانتے ہیں جو زبانی طور پہ انساب، اخبار اور ایام کی اسانید بیان کرتے تھے اور کچھ زیادہ دیر بعد نہیں تب ایسے ریکارڈ اور کتب سامنے آنے لگیں جن میں “یک موضوعی” اخبار ہوا کرتی تھیں۔28 ببلوگرافی اشاریے “اخبار الصفین”، “کتاب النھروان”، “کتاب الکربلاء” جیسے عنوانات کا پتا دیتے ہیں اور یہ کتابیں/ رسائل واقعاتی شہادت کو قبول کرتے ہیں جو کہ یک موضوعی یا پمفلٹ/کتابچے کی شکل میں لکھے جاتے تھے جوکہ آٹھویں صدی کے وسط میں معمول بہ اظہار کا طریقہ تھا، اگرچہ اس کی ترسیل اب بھی املا کا اثر لیے ہوتی تھی اور استاد کی اجازت یا سند اجازہ اپنے شاگرد کے لیے سے مشروط ہوا کرتی تھی-29 تاریخی نوعیت کے بچ جانے والے ابتدائی مسودات یا متفرق پارچے ابتدائی عباسی دور سے تعلق رکھتے ہیں۔30 جوکہ اس حقیقت کا اظہار ہیں کہ نويں صدی عیسوی کے مورخین کے ایسے تصنیفی کام اکثر اٹھویں صدی کے مصنفین کے نام سے ہم جانتے ہیں جنھوں نے یہ کام اسانید کے بغیر کیا گیا تھا۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے نویں صدی کے مصنفین ان کاموں سے واقف ہوں گے اور انہوں نے اس سے استفادہ کیا ہوگا۔ عرب اسانید اس کے یک موضوعی شکل کو بہت پہلے وقت سے اپنے اندر موجود پاتی ہے، یہاں تک کہ جب نوين اور دسویں صدی عیسوی میں اس کی جگہ تاریخی ترتیب سے باقاعدہ مربوط نظام میں تاریخ نویسی نے لے لی تب بھی اس نے احادیث کو زبانی یاد کرنے کے کردار کو برا نہیں کہا۔ یہ پیش رفت نویں صدی میں تدوین کے ایک ترقی پسند طریقہ کار کے سبب ہوئی ، کوئی شک نہیں اس کو کاغذ کی صنعت کی ترقی سے بھی مدد ملی جس نے سستا تحریری مواد فراہم کیا اور جلد سازی کی سہولت بھی مہیا کی۔ تاہم یہ طبعی پراسس نے روایت کے مخصوص کردار کو تبدیل نہیں کیا نہ ہی دوبارہ کسی مرحلے پہ عارضی بنیاد پہ روایت کو مطابقت پذیری سے روکا۔

اسلامی معاشرے میں تاریخ کو ضبط تحریر میں لانے کے مقام اور اس کے بالقوہ امکانات نے رجحاناتی پیش کاری کے لیے بڑی رعایت رکھی ۔ اس لحاظ سے امام علی(ع س) کی اہم خلافت اور آزمائش کے دور کے آغاز نے اس بات کی پرواہ کیے بغیر کہ ان تنازعوں کا اصل علم تو جلد ہی دھندلا گیا تھا تاریخ نویسی میں یادگار مقامات کی نشاندہی کی- اسلام کے بہت سے فرقے/ گروہ کسی نہ کسی طریقے سے اس میں جڑیں پکڑیں یا دوسرے فرقوں نے ان سالوں کے واقعات سے اپنے الگ ہونے کا نظریاتی نکتہ پیدا کیا اگرچہ ان کی خارجی صورت حال بڑی مختلف تھی – حضرت ‏عثمان کی شہادت سے پیدا ہونے والے متصادم مسائل میں حقیقی عناصر اس فوری صورت حال کا نتیجہ تھے اور وہ مشکل سے تاریخ نویسانہ دلچسپی کا سبب تھے- خاص طور پہ امیہ خلافت گرنے کے بعد تو بالکل بھی نہیں۔ اس کے باوجود بھی یہ کل امام علی کی خلافت پہ تاریخ نویسانہ بحث کی عباسی دور کے پرجوش مرحلے میں پیروی جاری رکھنا ممکن رہا ہو۔ جیساکہ ہم جانتے ہیں کہ ان سالوں کے بارے میں ہمارا علم اور دلچسپی جو اسلامی تاریخ نویسوں نے ان پہ دکھائی کے درمیان عدم برابری موجود ہے31-

مغربی دنیا میں مستشرقین کا ایک گروہ ایسا تھا جس نے طبری کی نویں صدی عیسوی میں دستیابی کے بعد ان میں موجود ناصبی اور اموی روایات کو لیکر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ عرب روایت میں بالعموم اور شیعی روایت میں بالخصوص امام علی کی جو لیجنڈری شخصیت پیش کی جاتی ہے اس کا سراغ ابتدائی عرب اسلامی روایت میں نہیں ملتا۔ اس خیال کو باقاعدہ ایک نظریے کے طور پہ تشکیل ولہاؤزن نے کی اور پھر نولدیک نے اسے آگے بڑھایا۔

“اس وقت مغربی دنیا میں جتنی بھی تحقیق موجود ہے وہ براہ راست یا بالواسطہ 1879-1901 کے درمیان تاریخ طبری کی انگریزی میں اشاعت کا ثمر ہے۔ طبری کی وفات نویں صدی عیسوی میں ہوئی تھی ۔ ولہاؤزن نے اس کے بعد تفصیلی تحقیق کی اور ابتدائی خلاف اور اموی دور بارے تحقیق کے نئے دروازے مغربی دنیا میں کھولے33- پھر نولدیک نے اپنی ایک تحقیق کی جس میں اس نے شیعی اور عباسی نواز سیاسی مذہبی نظریات کے درمیان تصادم کو دکھایا جو حضرت علی کی شخصیت کے گرد روایت کی تعمیر سے پیدا ہوا دکھانے کی کوشش کی ۔34
اس مکتب فکر کے مغربی مستشرقین نے باقاعدہ یہ رائے بنالی کہ عباسی دور کے سیاسی حالات نے تاریخ نویسوں اسلام کی ابتدائی تاریخ بارے رویوں کے بدلنے پہ اثرکیا۔35
بیلجئین مورخین جیسے ہنری لیمنز نے بہت تفصیل سے اپنی رائے پیش کی اور امویوں کو بہت بہتر بناکر پیش کیا۔ لیون سیتانی نے امام علی کے حوالے سے ابتدائی عرب روایت اور ابتدائی شیعی روایت کو غیر ثقہ عراقی روایت کہہ کر رد کرنے کی کوشش کی ۔37

اصل میں پہلے ولہاؤزن نے یہ کیا کہ اس نے کتاب طبری میں امیہ پرست اور ناصبیوں کے بیانات کو اہمیت دی اور اس کے بعد آنے والوں نے بلازری کی کتاب الانساب میں جو شامیوں کی روایات تھی ان کو جمع کیا اور انہیں اس نے عرب کی ابتدائی روایت کا نام دے کر عراقی مکتب فکر کی پیش کردہ روایات کو مسترد کردیا۔
اس یک رخی مطالعہ کو بعد میں آنے والے کئی ممنصف مزاج مشتشرقین نے رد کردیا اور اس کے یک رخے پن کو بے نقاب بھی کیا۔ امام علی کی خلافت پہ موجود روایت اور خاص طور پہ اس کا معاویہ ابن سفیان سے جو تعلق بنتا ہے پر عرب تاریخ نویسی کے آغاز اور اس کی نشوونما پر تحقیق کے لیے وسیع کنجائش اور جواز فراہم کرتا ہے۔

یہ موضوع بنیادی طور پہ اسلام کی اندرونی سیاسی اور مذہبی ترقی سے متعلق اہم دلچسپی کا حامل ہے کیونکہ یہ “فتنہ(دور آزمائش) کے ابتدائی مراحل کے آغاز سے متعلق ہے اور اس سے ہی اس بحث کا جواب مل سکتا ہے کہ خلافت کی اصطلاح کس دور حکومت کے لیے سزاوار ہوسکتی ہے۔

مجموعی طور پہ تمام شواہد اس نتیجہ پہ پہنچاتے ہیں کہ امام علی کے گرد تعمیر ہونے والی روایت کا ارتقا عرب تاریخ نویسی کے ایک اہم پہلو کی کافی بہتر نمائندگی کرسکتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here