میں زمانہ طالب علمی میں جب پہلی بار بلوچستان کے شہر گوادر پہنچا تو مجھے وہاں بی ایس او کے ڈاکٹر محمد حنیف کے ساتھ کچھ دن گزارنے کا موقعہ ملا اور میں نے ان تین دنوں میں ان سے ٹھیک طرح سے بلوچستان کی مزاحمتی قومی تحریک کا تاریخی پس منظر معلوم کیا۔

خدا جانے اب یہ ڈاکٹر محمد حنیف کہاں ہوں گے؟ کہیں وہ بھی اغوا ہوکر مسخ شدہ لاش میں نہ بدل دیے گئے ہوں ؟ یا جبری کمشدہ ہوگئے ہوں؟ یا جلاوطنی کی زندگی نہ گزار رہے ہوں۔ یا طبعی موت ان کو آگئی نہ ہو؟ خدا کرے زندہ ہوں اور ریاستی تشدد سے محفوظ رہے ہوں۔

میں یہاں بس اشارے کروں گا بلوچ کی قومی حقوق کی تحریک کا آغاز تو انگریز سامراج کے دور سے ہی ہوگیا تھا اور جب پاکستان بنا تو ریاست قلات کی نیشنل اسمبلی نے پاکستان اور بھارت دونوں سے آزاد رہنے کی قراداد متفقہ طور پہ  فیصلہ کیا۔ اور پاکستان کی افواج نے 1948ء میں فوجی طاقت کے زریعے قلات کو بزور بازو پاکستان کا حصّہ بنالیا گیا۔ اس ساری تفصیل کو میر غوث بخش بزنجو نے اپنی یاد داشتوں میں لکھا ہے جسے بی ایم کٹی نے ترتیب دیا اور پاکستان اسٹڈی سنٹر کراچی نے اسے شایع کیا۔

اس بارے میں ڈاکٹر شاہ محمد مری نے بھی اپنی تاریخ بلوچستان میں تفصیل سے لکھا ہے۔

میرغوث بخش بزنجو نے اپنی یادداشتوں میں “ان سرچ آف سالویشن” کے عنوان سے ایک جگہ پہ واضح طور پہ لکھا کہ قلات ریاست کے دونوں ایوانوں نے پاکستان سے قلات کے الحاق کے خلاف فیصلہ دیا لیکن خان آف قلات نے جناح کو قلات کو پاکستان میں ضم کرنے کا لکھ دیا- لیکن پاکستان نے بجائے قلات ریاست کو پاکستان میں ضم کرنے کے پہلے قلات کے ماتحت خاران اور لسبیلہ کو زبردستی اپنا حصّہ بنلیا اور جبکہ مکران جو 300 سال سے قلات کا حصّہ چلا آرہا تھا اسے سترہ مارچ 1947ء کو قلات سے الگ کرکے الگ ریاست بنایا اور مکران کے تین سرداروں میں سے ایک سردار گچکی کو اس کا سربراہ مقرر کردیا۔جبکہ 27 مارچ 1948ء کو خان آف قلات نے پاکستان کے زبردست دباؤ اوراپنے فیصلہ نہ کرنے حالت میں قلات کے پاکستان سے الحاق کی دستاویز پہ دستخط کردیے۔ یہ دستخط قلات-بلوچستان کے عوام کی متفقہ مرضی جس کی نمائندگی قلات کی نیشنل اسمبلی نے کی تھی کی نری خلاف ورزی تھی۔

میر غوث بخش بزنجو یہ سب لکھ کر یہ عبارت لکھتے ہیں

“ایک طرف پاکستان آرمی کی طاقت اور اس کے پیچھے ایک کروڑ پاکستانیوں کی حمایت تھی اور اس کے ساتھ نئی نئی آزادی حاصل کرنے کا زبردست جذبہ کھڑا تھا جبکہ دوسری طرف چند لاکھ غیر مسلح اور ہمت ہارے بیچارے بلوچ کھڑے تھے جن کے اتحاد اور طاقت کی علامت خان آف قلات ان کو چھوڑ چکا تھا- اجانگ بلوچ قوم نے محسوس کیا کہ ان سے غداری ہوئی ہے اور ان کا بہت کچھ چھن چکا  ہے۔ کسی بیرونی زریعے کی مدد کی غیرموجودگی میں ان کی طرف سے کسی مزاحمت کی کوشش پاگل پن ہی ہوسکتا تھا”

“اس لیے قلات بلوچستان کا ثبت شدہ غیر اخلاقی اور غیرقانونی الحاق تاریخ میں “پاکستان سے رضاکارانہ الحاق” لکھا گیا۔

میر غوث بخش بزنجو نے لکھا ہے خان آف قلات احمد یار خان نے پاکستان سے قلات کے الحاق کی دستاویز پہ دستحظ اس لیے کیے کہ تھے کہ ایک طرف تو خاران،مکران اور لسبیلہ کے سرداروں نے اسے چھوڑ دیا تھا اور پاکستان کے ساتھ شامل ہوگئے تھے اور ایسے ہی برٹش بلوچستان نے بھی پاکستان کے حق میں ووٹ دے دیا تھا جبکہ مری، بگٹی اور سنجرانی سردار بھی پاکستان کی حمایت میں شامل ہوگئے تھے۔ بظاہر تو یہ چھے سردار تھے لیکن ان کے پیچھے ان کے قبائل کی بڑی طاقت کھڑی ہوئی تھی۔

میر غوث بخش بزنجو نے برٹش بلوچستان میں شامل مری،بگٹی اور سنجرانی سرداروں اور ایسے ہی ریاست قلات میں تقسیم سے پہلے موجود خاران اور لسبیلہ کے سرداروں کے خان آف قلات سے الگ فیصلہ کرنے کے پیچھے وجوہات کا تفصیل سے تجزیہ کیا ہے اور یہ نتیجہ نکالا ہے کہ سردار اور خان آف قلات دونوں اس وقت تک ایک قوم کا جزو ہونے کا شعور بالغ نہیں ہوا تھا اور وہ قبائلی، علاقائی بندھن پہ مشتمل گروہ بندی کے اسیر تھے اور غلطی سے قبائلی علیحدگی پسندی اور نسل پرست مرکزیت کو آزادی اور حریت کی علامت سمجھے ہوئے تھے اور وہ اپنی الگ شناختوں کو بلوچ قوم کے ایک بڑے فریم ورک میں ضم کرنے کو تیار نہ تھے۔ میر غوث بخش بزنجو نے آگے چل کر خود قلات کی عوام کے بارے میں یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ہندوستان کی آزادی کی قومی تحریک سے جڑے چند پڑھے لکھے نوجوانوں سے ہٹ کر باقی سب بھی قبائلی وفاداریوں کے اسیر تھے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ  ایسے حالات میں بلوچ نہ تو آزادی کے لیے تیار تھے اور نہ ہی وہ اس کے لیے درکار شرط پہ پورا اترتے تھے۔

اس دوران قلات نیشنل پارٹی پہ پابندی لگادی گئی اور پارٹی کے سرگرم رہنماء اور کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا جن میں غوث بخش بزنجو بھی شامل تھے۔ قلات میں ہی خان آف قلات کے بھائی پرنس آغا کریم نے اپنے چند سو ساتھیوں کے ساتھ اپریل کی پانچ تاریخ سن 1948ء کو الحاق کے خلاف مسلح بغاوت کا اعلان کیا لیکن اس بغاوت کو خود قلات سے ہی بڑے پیمانے پہ عوامی حمایت میسر نہ آنے سے بقول میر غوث بخش بزنجو یہ مہم جوئی بن گئی اور بغاوت کے تیسرے مہینے بارہ جولائی 1948ء کو ایک مختصر کی جھڑپ کے بعد آغا کریم اور ان کے ساتھیوں نے اپنے آپ کو پاکستانی فوج کے حوالے کردیا۔ اور اس کے بعد قلات میں قریب قریب ڈیڑھ سال تک ہر طرح کی سیاسی سرگرمیوں پہ پابندی رہی اور ایک سیاسی خلا پیدا ہوا۔ حکمران مسلم لیگ نے اس خلا سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور 1950ء میں کوئٹہ سے قاضی عیسی ، سرحد سے یوسف خٹک اور مشرقی بنگال سے نور الامین قلات میں حکمران سرکاری مسلم لیگ کو بنانے کے لیے قلات بھیجے گئے۔ ان کا خیل یہ تھا کہ قلات اسٹیٹ نیشنل پارٹی پہ پابندی کے سبب یہاں کے ممتاز سیاسی لوگ مسلم لیگ می‍ں شامل ہوجائیں گے۔ قلات نشینل پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں نے کیسے اس کوشش کو ناکام بنایا کہ انہوں نے پہلے مرحلے پہ جہاں جہاں رکنیت سازی ہوئی وہاں کثیر تعداد میں مسلم لیگ کی رکنیت حاصل کرلی – جب ان تین مسلم لیگی زعما نے ساروان میں ممبرشپ کا سلسلہ بند کیا تو ان کو بہ بڑا جھٹکا اس وقت لگا جب وہاں پارٹی الیکشن ہوئے تو وہا‍ں مسلم کے تمام عہدے دار اور کمیٹی ممبر کالعدم قلات اسٹیٹ نیشنل پارٹی کے سرکردہ لوگ منتخب ہوئے- یہ منظر دیکھ کر یہ تینوں رہنما واپس کوئٹہ گئے اور پارٹی کی مرکزی قیادت کو بتایا کہ قلات میں مسلم لیگ کو منظم کرنا سرے سے ممکن نہیں ہے۔

اس تفصیل سے ہمارے سامنے ایک چیز تو واضح ہوجاتی ہے کہ تقسیم ہند کے وقت ریاست قلات کے زیریں اور بالائی ایوان نے قلات کو آزاد ریاست کے طور پہ رہنے کی منظوری دی اور یہ قلات سٹیٹ نیشنل پارٹی کا موقف تھا جس سے نواب میر احمد یار خان آف قلات نے اتقاق نہ کیا اور ریاست کا الحاق پاکستان سے کردیا۔ دوسری طرف برٹش بلوچستان اور قلات میں شامل خاران و لسبیلہ کے سرداروں اور ایسے ہی برٹش بلوچستان میں طاقتور سردار مری،بگٹی اور سنجرانی نے بھی پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا۔ قلات کو آزاد ریاست برقرار رکھنے کے لیے پرنس کریم خان نے جو بغاوت کی اسے ریاست قلات کی مقبول جماعت جسے کالعدم قرار دیا جاچکا تھا وہ بھی شش و پنج کا شکار رہی اور پرنس کریم آغا خان کی بغاوت کو بہت تھوڑی حمایت ملی اور یوں یہ بغاوت پوری قوت کے ساتھ کچل دی گئی ۔ قلات کی آزادی کی دعوے دار سیاسی تنظیم نے براہ راست قلات- بلوچستان کی آزادی کے لیے کام کرنے کے انھوں نے قلات میں مسلم لیگ کی تنظیم پہ قبضہ کرنے کا پروگرام بنایا جو اس لیے ناکام رہا کہ خود مسلم لیگ اس عمل سے دست بردار ہوگئی جبکہ باقی ماندہ بلوچستان میں کوئی سیاسی لیڈر براہ راست “بلوچستان کی آزادی” کے مطالبے پہ سیاسی جدوجہد کرنے کو تیار نہ تھا۔

جناح پاکستان بننے سے پہلے جب تک ہندوستان کی تقسیم کا اصولی فیصلہ نہیں ہوگیا تب تک ایک ایسے وفاق کی تشکیل کے قائل تھے جس میں مسلم اکثریتی صوبوں کے پاس زیادہ سے زیادہ اختیارات ہوں اور مسلم اقلیتی صوبوں میں وہ زیادہ سے زیادہ پروٹیکشن اورریزوریشن کے قائل تھے اور اس کا اظہار ان کے معروف چودہ نکات میں نظر آتا ہے۔ لیکن تقسیم سے پہلے بھی جناح نے مسلم اکثریتی صوبے ہوں یا مسلم اقلیتی صوبے ان میں مسلمانوں کی نسلی-لسانیاتی ثقافت کی بنیاد پہ قومیتی شناختوں کو تسلیم نہیں کیا تھا(ویسے کانگریس نے بھی کمیونل سیاست کے مقابلے میں ہندوستانی سیکولر قومیت کا ہی تصور پیش نظر رکھا اور کبھی ہندوستان کی صوبائی وحدتوں کو قومیتی وحدت نہیں مانا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم اکثریتی صوبوں میں بنگال کو چھوڑ کر سیکولر نیشنلسٹ سیاست دانوں نے کبھی پنجابی، سندھی، پشتون اور بلوچ کے الگ الگ قومیت ہونے کا تصور پیش نہیں کیا تھا اور نہ ہی ان صوبائی وحدتوں کو الگ قومیتی اکائیوں کے طو پہ پیش کیا تھا)-

پاکستان بنا تو جناح نے 1948ء کو دستور ساز اسمبلی کے اجلاس میں بطور گورنر جنرل جو تقریر کی اس تقریر میں انھوں نے جہاں ایک طرف پاکستان کی ریاست کے تمام شہریوں کی سیاسی حثیت میں “مذہبی شناخت” کی نفی کی وہیں سیاسی حثیت میں ان کی لسانی-نسلی شناخت کی بھی نفی کردی- ہمارے ہاں جناح کی پاکستان میں رہنے والوں کی سیاسی معانی میں “مذہبی شناخت” کی نفی کا ذکر تو کرتے ہیں لیکن وہ دوسرے فیکٹر کی نفی بارے زرا ذکر نہیں کرتے۔

جناح پاکستان کے کثیرالقومیت ہونے کے تصور کو تسلیم نہیں کرتے تھے اور نہ ہی حکمران جماعت مسلم لیگ اس تصور کو مانتی تھی ۔ ہاں جناح کی دستور ساز اسمبلی سے پہلی تقریر اور حکومتی مناصب کے لیے بلاامتیاز مذہب انتخاب ایسا ظاہر کرتا ہے کہ وہ پاکستان بننے کے بعد پاکستانی قومیت کی بنیاد مذہب کے نظریے سے دست بردار ہوگئے تھے اگرچہ یہ موقف خاصی پیچیدگیاں رکھتا تھا اور بعد ازاں پاکستان کے آئین اور ریاست کی نظریاتی ساخت بارے ان کے ایسے بیانات ہمیں بکثرت ملے ہیں جن میں وہ دونوں کی بنیاد اسلامی قوانین پہ قرار دیتے ہیں۔ ان کی طرف سے پاکستانی قوم کی بنیاد سے مذہبی شناخت کی نفی کو حکمران مسلم لیگ کے غالب جاگیردار، بورژوازی اور پیٹی بورژوازی (تنخواہ دار طبقے سمیت) کی اکثریت نے قبول نہیں کیا۔ ہم اچھے سے جانتے ہیں کہ وزیراعظم لیاقت علی خان حکمران جاگیرداروں ، وردی و بے وردی نوکر شاہی ، سرمایہ داروں میں یو پی ، سی پی اور مشرقی پنجاب کے انبالہ ڈویژن سے ہجرت کرنے والے مہاجروں کے مفادات کی نمائندگی کررہے تھے جن کا پنجابی جآگیرداروں، سول و بے وردی نوکر شاہی میں پنجابی سیکشن سے ہوگیا تھا۔ جبکہ بنگالی ، سندھی نواب و جاگیرداروں ،بلوچ سرداروں اور سرحد کے خوانین نے ان کا جونیئر شراکت دار ہونا قبول کرلیا تھا۔

جناح نے ڈاکٹر خان کی حکومت اور سرحد اسمبلی کو 1948ء میں ایک حکمنامے کے زریعے توڑا- اسی طرح انہوں نے مشرقی بنگال اور مغربی پاکستان کے صوبوں اور ریاستوں کی ایک ہی قومی زبان ہونے پہ اصرار کیا اور وہ تھی اردو۔ یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ وہ نسلی-لسانیاتی ثقافت کے نام پہ نظریہ قومیت کو سرے سے مسترد کررہے تھے اور اسے کوئی جگہ دینے کو تیار نہ تھے۔

جناح کی وفات کے بعد جب اخیتار اور قوت لیاقت علی خان کے ہاتھ میں آئی تو انھوں نے ایک طرف تو پاکستان کی ریاست کی نظریاتی بنیاد “مذہبی پیشوائی سٹیٹ” بنانے کے لیے آئینی قدم اٹھایا اور 1949ء میں قرارداد مقاصد منظور کرائی گئی ۔ اور لیاقت علی خان کی سربراہی میں ہی ریاست پاکستان نے بلوچستان میں “علیحدگی پسند رجحان” کی بیخ کنی کرنے کے لیے اور ریاست قلات کے الحاق سے پیدا ہونے والے اثرات سے نمٹنے کے لیے بلوچستان کی وحدت کا ایک منصوبہ بلوچستان سٹیٹس  یونین کے نام سے بنایا- میر غوث بخش بزنجو کا کہنا ہے کہ حکمران مسلم لیگ کے پنجابی جاگیردار سیاست دانوں کی اکثریت اور ریاست کی پنجابی غالب نوکر شاہی کے اندر مشرقی بنگال کی اکثریت کو برابر کرنے اور مغربی پاکستان میں علاقائی ، لسانی ونسلی ثقافتی بنیادوں پہ امبریو شکل میں موجود سیاست کو ابتداء سے ہی ختم کرنے کے لیے ون- یونٹ کا منصوبہ پنپ رہا تھا اور بلوچستان سٹیٹس یونین کا قیام اسی طرف ایک قدم تھا۔ اس زمانے میں خان آف قلات ایک طرف تو خاران، لسبیلہ، مکران کو واپس قلات ریاست میں شامل کرنے کی جدوجہد کررہے تھے تو ان ریاستوں کے سردار خود کو اس طرح کے اقدام سے بچانے کی کوشش کررہے تھے۔ مرکزی حکومت نے خان آف قلات کو بلوچستان سٹیٹس یونین کا سربراہ بنائے جانے کا لالچ دیکر اس منصوبے کا حامی بنالیا اور وہ اس یونین کے سربراہ بنائے گئے لیکن اختیارات جرگہ کونسل کو دیے گئے جس میں بلوچ ریاستوں کے نواب اور سردار رکن بنائے گئے۔ جبکہ باقی کا بلوچستان سابق برٹش بلوجستان تھا جسے چیف کمشنرز بلوچستان کہا گیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here