ہمارے جدید تعلیمی ادارے ہوں یا روایتی مدارس عربیہ ہوں ،ان اداروں میں مسلم تاریخ کی تدریس عام طور پر مثالیت پسندانہ نکتہ نظر سے کی جاتی ہے اور مسلم فرقوں کے جنم اور ان کے ارتقاء کی تاریخ کے پیچھے سماجی-معاشی اور سماجی -سیاسی بنیادوں کی جانچ کے عمل کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ بعض اوقات تو ایسے لگتا ہے جیسے مسلمانوں میں جو نظریات کا جدال تھا اور اس بنیاد پر جو فرقوں کی تشکیل تھی وہ خلا میں واقع ہورہی تھیں- ہمارے ہاں ابھی تک ابتدائی مسلم معاشروں کی تاریخ کو دیکھنے کے لیے ان معاشروں میں سماجی گروہوں کی مادی سماجی بنیادیں اور اس بنیاد پر جنم لینے والے خیالات کے درمیان جدلیات کو بھی خاص اہمیت نہیں دی جاتی- مسلم معاشروں میں جب بادشاہت کا ادارہ پوری طرح سے جڑ پکڑ چکا تھا تب اس ادارے کے زیر اثر اسلام کا جو سرکاری نظریہ سامنے آیا اسے اس زمانے کے سرکاری مذہبی پیشوائیت نے سنّی اسلام کی مرکزی روایت کے طور پر پیش کرنا شروع کردیا اور سنّی اسلام پر بادشاہانہ سرکاری اسلام  کی مہر لگانا شروع کردی گئی –

عباسی دور میں اگرچہ اموی دور میں اہل بیت مخالف اموی نظریات کو جبراور لالچ کے زریعے سے سنّی اسلام کی مرکزی دھارے کی تعبیر کا حصّہ بننے والے کئی ایک نظریات الگ کردیے گئے تھے لیکن یہ نظریات سلجوقی دور میں پھر ابھرنے لگے اور یہاں تک ہوا کہ کئی ایسے نظریات جو اہل سنت کے ہاں اگرچہ اکثریت کے نہ تھے لیکن جو اقلیت تھی وہ بھی بڑی تعداد میں تھی ان کو زبردستی رافضی نظریات سے منسوب کردیا گیا- جیسے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا صحابہ کرام پر افضلیت کا عقیدہ یا حضرت ابو طالب کے باایمان ہونے کا عقیدہ اور تو اور اہل بیت اطہار سے عقیدت و محبت کا والہانہ اظہار بھی رافضیت میں شمار کیا جانے لگا- اور ایسے قدیم زمانے میں شیعہ اصطلاح کے استعمال اور اس کے اطلاق سے ہٹ کر اسے روافض تک محدود کرنا بھی ایک بدعت تھی جسے سنّی اسلام کا بنیادی جزو کہہ کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی –

ماوراء النھر سے یہ اثر ماقبل نوآبادیاتی دور میں مغلیہ دور کے آخر میں ہندوستان میں بھی داخل ہوا اور اس نے صرف سخت گیر علماء کے ایک سیکشن پر اثر ڈالا- مغلیہ بادشاہ اورنگ زیب نے دارشکوہ سے لڑائی اور بعد ازاں دارشکوہ کے قتل کے جواز کے لیے بہت سارے ایسے خیالات اور نظریات جن کی جڑیں سنّی اسلام کی روایت میں تھیں انہیں بھی غیر اسلامی اور غیر سنّی اسلام سے بھی آگے ارتداد اور کفر سے منسوب کردیا گیا- سنّی اسلام میں ناصبیت، خارجیت جیسے عناصر کو ملانے اور ان عناصر کو سنّی اسلام کا امتیاز بتلانے والے رجحانات اسی زمانے میں آگے آنا شروع ہوئے۔ مغلیہ دور کے زوال کے زمانے میں شاہ ولی اللہ اور ان کے زیر اثر ایک سیکشن میں یہ رجحانات برصغیر ہندوستان میں کافی ترقی کرگئے اور دارالعلوم دیوبند سے چلنے والی سنّی حنفی روایت ہو یا پھر دارالعلوم بریلی سے چلنے والی سنّی حنفی روایت ہو ان دونوں روایات نے اہل سنت کی روایت میں شامل کچھ فکری و نظری رجحانات کو زبردستی اہل سنت کی روایت سے باہر کرنے کی کوشش کی – مثال کے طور پر دارالعلوم دیوبند سے اٹھنے والی روایت ہو یا دارالعلوم بریلی سے اٹھنے والی روایت ہو ان دونوں نے مسئلہ تفضیل میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی افضلیت کے عقیدے کو بدعت سے تعبیر کیا- اور انھوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے انعقاد کو بربنائے “افضلیت  مطلقہ” (دیکھیے امام احمد رضا خاں فاضل بریلی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ‘مطلع القمرین ص 73) قرار دے ڈالا- فاضل بریلی ہوں یا ان سے پہلے خود شاہ ولی اللہ ہوں جن کی اس مسئلے میں کتاب ازالۃ الخفاء عن خلفاء موجود ہے یا علمائے دیوبند کی اکثریت ہو ان سب نے مسئلہ تفضیل میں ایسے ظاہر کیا جیسے اہل سنت میں خلیفہ کا انتخاب بر بنائے افضلیت مطلقہ ہونے کا عقیدہ ہی واحد اور مسلمہ عقیدہ ہے اور ترتیب خلافت راشدہ سے ہی خلفائے راشدین کی افضلیت کا تعین ہوتا ہے۔(اس معاملے پر علامہ ظہور احمد فیضی کی کتاب ‘حقیقۃ التفضیل ” پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ جبکہ شيخ محمود سعید مصری کی کتاب ‘غایۃ التبجیل و ترک قطع فی التفضیل ‘ بھی پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے اور ہمیں یہ بتاتی ہے کہ سنّی اسلام کے ماننے والوں میں کیسے اس بات کو مسلط کیا گیا کہ خلافت کی بنیاد فضلت مطلقہ پر ہے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی مطلق ا‌فضلیت کا عقیدہ قطعی ہے اس سے ہٹ کر جو ہے وہ بدعت ہے اور رفض کی نشانی ہے۔ ایسے سنّی اسلام کی نظری تاریخ مسخ کرنے کی ایک دوسری روش مسئلہ ایمان ابو طالب(علیہ السلام) ہے۔ اس مسئلہ پر بھی بریلی ، دیوبند اور اہل حدیث کی سنّی اسلام کی روایات کے اندر یہ بات راسخ کی گئی کہ سنّی اسلام کا یہ خاصہ ہے کہ وہ حضور علیہ الصلوات والتسلیم کے محبوب ترین چچا اور جناب بوتراب علیہ السلام  کے والد گرامی حضرت ابوطالب کو مشرک سمجھتے ہیں اور اس سے ہٹ کر ان کے متعلق کوئی اور رائے رکھنا سنّی اسلام سے انحراف اور ان کے مومن برحق ہونے کا عقیدہ رکھنا تو یہ مائل بر رفض ہونا ہے۔

رفض کا الزام دینے کی روش فی زمانہ یہاں تک آگئی ہے کہ اب تو ایسا رجحان بھی ترقی پذیر ہے کہ مناقب و فضائل اہل بیت اطہار کا بیان اور اسے ذوق و شوق سے پیش کرنے کے عمل کو ‘شعار روافض’ کہنے سے گریز نہیں کیا جاتا۔ دیکھا جائے تو ہمارے زمانے میں ناصبیت نے اپنی جڑیں سنّی اسلام کے ہندوستانی تناظر میں تین بڑی روایات کے اندر اپنی جڑیں بنالی ہیں اور وہ ناصبیت کو سنّی اسلام بناکر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں –

 سنّی اسلام کی یہ تین بڑی روایات دارالعلوم دیوبند ، دارالعلوم بریلی اور اہل حدیث اسکول پر مشتمل ہے۔ ناصبیت کا سب سے کم اثربریلوی روایت پر نظر آتا تھا لیکن گزشتہ 20 سالوں میں یہ اثر بتدریج بڑھا ہے اور اس کی مریزی روایت پر بھی اپنی پرچھائیاں ڈالنے لگا ہے۔

سنّی اسلام پر ناصبیت کے اس حملے کے تناظر میں ویسے تو سنّی اسلام کی ان تینوں روایات کے علمبردار علماء و مشائخ کی ایک معتدبہ تعداد نے ایسی کتب تصنیف کی ہیں جو اس حملے سے عام سنّی ذہن کو ہی نہیں بچاتی ہیں بلکہ وہ سنّی اسلام کے سنجیدہ طالب علموں کا ذہن بھی کافی کشادہ کرتی ہیں-

حال ہی میں ہمارے نہایت ہی قابل اور انتہائی عالم فاضل سنّی عالم مفتی محمد ہاشم سندھی نے مناقب و فضئل اہل بیت اطہار علیھم السلام پر ایک جامع کتاب تحریر کی ہے جسے اکیڈیمی آف انٹرنیشنل صوفی سکالرز ،برطانیہ نے شایع کیا ہے۔

مناقب و فضائل اہل بیت اطہار پر جب بھی کوئی سنّی اسکالر قلم اٹھاتا ہے اور وہ ناصبیت کے زیر اثر اہل سنت کی فکری روایت میں شامل ناصبی نظریات کا رد کرتا ہے اور یہ بتانے کی کوشش کرتا ہے کہ سنّی اسلام میں خلافت ، تفضیل اور دیگر کئی معاملات میں  ایک رائے کی قطعیت کی بجائے آراء کا تنوع موجود ہے اور تکثیری رجحانات پائے جاتے ہیں تو ایسے اس سنّی عالم فاضل کو میں نے اکثر و بیشتر دیکھا ہے کہ اسے تفصیل سے ابتداء میں اپنی تعلیم اور اپنی اسناد کی نقول لف کرنا پڑتی ہیں تاکہ کوئی اس پر رافضی کی تہمت نہ لگاسکے۔ ہمارے دوست مفتی ہاشم سندھی نے اگر اس کتاب کے شروع میں ‘سماع بخاری ،سماع احیاءالعلوم الدین،سند سماع الدلائل الخیرات ،سند الحدیث النبوی ، سند الحدیث و التفسیر ، الاجازۃ العلمیہ العامـۃ، سند خلافۃ الطریقۃ الرفاعیۃ العلیہ المبارکۃ، سند خلافت سلسلہ عالی طبقاتیہ  مدریہ زاد اللہ و شرفا تعظیما’ وغیرھم لگائی ہیں تو کوئی حیرت نہیں ہوتی – جب جب کسی سنّی عالم نے ناصبیت کے اہل سنت کی نظری و فکری روایت میں دخول کے خلاف قلم اٹھایا یا تقریر کی تو اس دخول اور رسان کے ذمہ داروں نے اس عالم کی سنّیت اور اس کے پایہ اعتبار و ثقاہت کو چیلنج کیااس پر تشیع بمعنی رفض کی تہمت ضرور لگائی – مفتی ہاشم سندھی نے کتاب کے مقدمے میں بالکل درست نشاندہی کی ہے کہ اہل سنت کے بھیس میں ناصبیوں نے مناقب و فضائل اہل بیت اطہار کے اظہار پر یہ اعتراض وارد کرنا شروع کیا ہوا ہے ‘کیا تم شیعہ ہو جو ہر وقت علی علی علی کرتے رہتے ہو’؟ اب تو ایسے لوگ بھی پیدا ہوگئے ہیں جو محبت اہل بیت و مودت حسنین کریمین علیھم السلام کو شیعہ مکتب فکر کا شعار قرار دیتے ہیں اور ایسا کرنے والے ہر سنّی پر تہمت رفض لگاتے ہیں – اس الزام سے اہل سنت کے فقہی مذاہب کے آئمہ بھی نہ بچ سکے ان پر بھی یہ اتہام لگے لیکن انھوں نے ایسی تہمتوں کو اپنے لے اعزاز سمجھا- مفتی ہاشم سندھی ایک وسیع النظر اور وسیغ القلب سنّی صوفی سکالر ہیں جواس کتاب کے مقدمے میں یہ سوال بھی اپنے پڑھنے والوں کے سامنے رکھتے ہیں ‘کیا ديکر مسالککی ہر بات غلط ہے؟’ اور پھر تفصیل سے وہ اس کا جواب نفی میں دیتے ہیں- انھوں نے مقدمے میں تشیع اور رافضی غالی ہر دو اصطلاحوں کی الگ الگ تعریف اور الگ الگ اطلاقات کو بھی دلائل اور حوالوں سے واضح کیا ہے۔ 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here