اس نے سلطانیٔ جمہور کے نغمے لکھے
روح شاہوں کی رہی اس سے پریشاں یارو

آج چار اپریل ہے اور قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کی 44ویں برسی منائی جارہی ہے۔ یہ برسی ایک ایسے موقعہ پر آئی ہے جب پاکستان کے سیاسی افق پر سنٹر رائٹ سے تعلق رکھنے والے دو سیاسی کیمپ باہم دست و گریباں ہیں اور کیا عجیب اتفاق ہے کہ دونوں کیمپ اپنے آپ کو آئین و جمہوریت کی “ستّی ساوتری” ثابت کرنے کے لیے قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو اور اس کی پارٹی سے ہونے والے جبر،ظلم و ستم کی مثالیں نکال کر لارہے ہیں- ایک فریق ذزالفقار علی بھٹو کی جمہوریت پسندی اور آئین پسندی کی مثالیں نکال کر لاتا ہے تو دوسرا فریق عدالتوں میں بیٹھے انتہائی متعصب،جانبدار اور فوجی اسٹبلشمنٹ کے ہاتھوں بکے ہوئے ججز کے سامنے ایک جھوٹے اور جعلی مقدمہ قتل میں ذوالفقار علی بھٹو کے پیش ہونے کی دلیل سے اپنے موقف کو تقویت دینے کی کوشش کرتا ہے۔ جو آج عدلیہ کے چیف جسٹس کو لیکر عدلیہ کی آزادی اور آئین کے تحفظ کے زبردست علمبردار بنے دکھائی دیتے ہیں وہ جب اسٹبلشمنٹ کی سابقہ فوجی قیادت سے شیروشکر تھے تو وہ پاکستان کی معشیت اور پاکستان کے سول بیوروکریٹک ڈھانچے کی تباہی سے لیکر ملک کو توڑنے تک کا ذمہ دار قرار دیتے نہیں تھکتے تھے اور وہ ذوالفقار علی بھٹو کی ایوب آمریت کے خلاف بغاوت سے پہلے ایوب شاہی کے ایک حصّہ رہنے والے بھٹو کو پیش کیا کرتے اور اسے لیکر ذوالفقار علی بھٹو اور پیپلزپارٹی کو بھی آمریت کی پیداوار قرار دیا کرتے نہیں تھکتے تھے۔ دوسرا سنٹر رائٹ کیمپ وہ ہے جو بظاہر پارلیمنٹ کی بالادستی اور عدلیہ کی حقیقی آزادی کا علمبردار نظر آتا ہے لیکن گہرائی میں جاکر دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ اس کیمپ کا مقصد و مدعا بھی پارلیمنٹ کی بالادستی اور عدلیہ کی حقیقی آزادی سے کہیں زیادہ اپنی ذات کے وفادار اراکین پارلیمنٹ اور ججز کی خواہش ہے۔
پیپلزپارٹی کا اگرچہ پارلیمنٹ کی بالادستی والے کیمپ کے ساتھ حکومتی اتحاد ہے لیکن وہ ان دونوں کیمپوں سے تھوڑے فاصلے پر کھڑی ہے اگرچہ وہ بہت واضح الفاظ میں کہہ چکی ہے کہ وہ پارلیمنٹ کو بالادست ادارہ مانتی ہے اور 1973ء کے آئین میں آمروں اور ان کے ساتھ مل کر سنٹر رائٹ کی سیاسی جماعتوں نے پارلیمنٹ کی بالادستی کو کمزور کرنے اور غیرمنتخب ہئیت حاکمہ (اسٹبلشمنٹ) کو طاقتور بنانے والی ترامیم کی ہیں ان کی واپسی چاہتی ہے۔
سنٹر رائٹ کے دونوں سیاسی کیمپ جن میں مشترک دو باتیں ہیں، ایک یہ کہ ان دونوں کیمپوں کے خیال میں ایوب خان کی معاشی اور ریاستی ادارہ جاتی اصلاحات سب سے بہترین تھیں(کیونکہ اس نے ایک طرف تو پاکستان کی معشیت کا مالک 22 خاندانوں کو بنایا ہوا تھا تو دوسری طرف یہ جابر بیوروکریٹک مشینری کے زریعے پاکستان میں طلباء سیاست، ٹریڈ یونین سیاست، آزادی صحافت اور حقیقی عوامی سیاسی جماعتوں کی بیخ کنی میں لگی ہوئی تھی) اور دوسرا یہ سارے کا سارا نیو سنٹر رائٹ سارے کا سارا ضیاء الحق سے لیکر باجوہ کمپنی تک اسٹبلشمنٹ کی بیساکھیوں کے زریعے سے اقتدار میں آتا رہا ہے اور پنجاب میں انہی کو فری ہینڈ ملتا رہا ہے۔ ان میں سے جو کیمپ بھی غالب اور مقتدر پوزیشن میں ہوتا ہے وہ پاکستان کی عوامی سیاست کی سب سے بڑی طاقتور علامت ذوالفقار علی بھٹو اور پیپلزپارٹی کو کوسنے دیے بغیر نہیں رہتا- یہ کبھی تو مولوی مشتاق کو اپنا ہیرو بناتا رہا تو کبھی ان میں سے ایک نے جسٹس سجاد علی شاہ کو ہیرو بنایا تو دوسرے نے تارڑ،رامے، سعید الزماں صدیقی سے وہ کام کرایا جو آج کل یہ جسٹس فائز عیسی ، مندوخیل سے کرانا چاہتے ہیں – اور کبھی ان میں سب کا ہیرو افتخار چودھری تھا اور اس زمانے میں یہ پورا سنٹر رائٹ کیمپ پارلیمنٹ کی آزادی اور عوامی سیاست کے خلاف افتخار چودھری کے سوموٹو پر بنیاد رکھنے والے اور انتظامی اور میں عدلیہ کی کھلی مداخلت پر بنیاد رکھنے والے نام نہاد جوڈیشل ایکٹوازم کو عدلیہ کی آزادی قرار دے رہا تھا جیسے آج تحریک انصاف اور ان کے اتحادی بندیال کو عدیلیہ کی آزادی کا چمپئن بتلا رہے ہیں اور نواز لیگ سمیت پی ڈی ایم والے جسٹس قاضی فائز عیسی کو عدلیہ کی آزادی کا علمبردار بناکر پیش کررہے ہیں-
جب یہ کیمپ بحران کا شکار ہوکر دو گروہوں میں تقسیم ہوتے ہیں اور ان میں جوتیوں میں دال بٹتی ہے تب یہ ذوالفقار علی بھٹو ، بیگم نصرت بھٹو، محترمہ بے نظیر بھٹو کے نوحے پڑھنے لگتے ہیں- سنٹر رائٹ کے دونوں کیمپوں نے نام نہاد مین سٹریم میڈیا (پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل) اور سوشل میڈیا میں بڑے بڑے ناموں اور دکانوں کو ہائر کیا ہوا ہے جو ان دونوں کیمپوں کے لیے جس سیاسی واقعے، شخصیت، اور ماضی کی جس بھی روایت سے ان کا الو سیدھا ہو استعمال کرنے سے نہیں گھبراتے۔ آج کل عمرانی کیمپ پر بخار جڑھا ہوا ہے کہ پی پی پی اور اس سے جڑے کارکن، ہمدرد، دانشور، ادیب ، لکھاری اور ایسی دانش جو پی پی پی کی سخت ناقد بھی ہے لیکن وہ پی پی پی کو باقی سب سیاسی جماعتوں سے بہتر پاتی ہے کو ان کی حمایت نہ کرنے پر انہیں طعنے دے اور ان کے سامنے سیاق و سباق سے ہٹ کر کبھی ذوالفقار علی بھٹو کی تقریر کا کوئی آڈیو،وڈیو کلپ یا تحریری اقتباس پیش کرے یا بے نظیر بھٹو کی تقریر یا انٹرویو کا کوئی کلپ پیش کرے اور پھر ان سے یہ مطالبہ ہو کہ وہ عمران خان کو بھٹو ثانی مان لیں اور انہیں حقیقی نجات دہندہ مان لیں اور ایسا نہ کرنے پر ان کی فرسٹریشن عروج پر پہنچ جاتی ہے اور یہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ سب “زرداری ” کے غلام اور بھٹو سے منحرف ہوچکے ہیں۔
ذوالفقار علی بھٹو کے چاہنے والوں کی کمزوری اور طاقت دونوں ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے بعد آنے والے بھٹوز ہیں جن میں اپنے کردار کے لحاظ سے سب سے زیادہ اہم اور بڑی طویل اننگز کھیلنے والی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو ہیں- لیکن سنٹر رائٹ کے جغادری اور پروپیگنڈا باز یہ بھول جاتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو سے سیاسی شعور کی آگ مستعار لینے والے سیاسی طور پر اتنے باشعور ضرور ہیں کہ وہ جلد یا بدیر سمجھ جاتے ہیں کہ کون “حب” میں بول رہا ہے تو کون “بغض” میں بول رہا ہے۔ اسی لیے جمہوری شعور سے مالا مال سیاسی دانش کے حامل لوگ اچھے سے جانتے ہیں کہ سنٹر رائٹ کےدونوں کیمپوں کو شدت سے بھٹو یاد کیوں آرہا ہے؟ دونوں کیمپ بالکل ویسے ہی سڑکوں، گلیوں، محلوں ، بازاروں اور جلسہ گاہوں میں عوام کا اجتماع ویسے ہی دیکھنے کے خواہش مند ہیں جیسے ذوالفقار علی بھٹو کے لیے وہ جمع ہوتے تھے- دونوں کیمپ قا‏ئد عوام سا کنٹرول عوام پر دیکھنے کی ہوس میں مرے جاتے ہیں- لیکن وہ ایسی خواہش کی آک سینوں میں پالے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ عوام کو اپنے سحر میں گرفتار کرنا اور انہیں یہ محسوس کرانا”ایک بھٹو میں ہوں اور دوسرا بھٹو تم (عوام) ہو” اس کے لیے سیاسی پوزیشن اور اس کے مطابق اقدامات بھی وہ اٹھانے پڑتے ہیں جس سے عوام کو یہ لگنے لگتا ہے کہ “وہ سب بھٹو ہیں”- لیکن جن کو ضیاء الحق،اختر عبدالرحمان، حمید گل، اسلم بیگ، آصف جنجوعہ، وحید کاکڑ، جہانگیر کرامت، پرویز مشرف، راحیل شریف ، قمر پرویز باجوہ ، فیض حمید، وفاض انجم اور عاصم منیر جیسوں کا سایہ عاطفت درکار رہے اور وہ “باغیوں” کا سانگ جڑھائے باغی ہونے کا ڈرامہ کرتے پھریں اور اندر سے منت ترلے جاری رکھیں اور یہاں تک کہ ایک کبھی ڈیل کرکے جدہ بھاگ جائے یا بیماری کا بہانہ کرکے لندن جابیٹھے اور جیل اور قید خانوں سے دور رہنے کو ترجیح دے جبکہ دوسرا سرے سے گرفتار ہونے سے ڈرا ہوا رہے اور پوری جان لڑادے کہ اسے گرفتار نہ کیا جائے اور اس پر طرفہ تماشا دیکھیے کہ دونوں خود کو ذوالفقار علی بھٹو کی طرح کا بہادر سیاسی قائد بناکر پیش کرنے کی کوشش میں لگیں رہیں جس نے چار اپریل 1979ء کو پھانسی کا پھندا چوما اور اپنے آپ کو امر کرلیا-
ان میں سے ایک جو خود کو اللہ تعالی کا نائب سمجھتا ہے جسے ریاست کو ریاست مدینہ بنانے کا دعوا ہے اور وہ خود کو اس سماج میں امید کی سب سے اخری امید قرار دیتا ہے وہ 2018ء سے پہلے پاکستان کو دنیا کی سب سے ترقی یافتہ ریاست اور پاکستانی قوم کو سب سے زیادہ باوقار اور مہذب قوم کا درجہ دلانے کے دعوے کرتا تھا اور اس نے تین سالوں میں جو پاکستان کا حشر کیا اب وہ کہتا ہے یہ سب کیا دھرا اسٹبلشمنٹ کے سابق سربراہ کا ہے۔ دوسرا جو لندن میں بیٹھا ہے وہ 90ء کی دہائی میں خود کو قائداعظم ثانی کہتا تھا اور اس نے 2008ء سے لیکر 2012ء تک یہ پروپیگنڈا کیا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی کو گورننس کرنا نہیں آتی ، نہ اس کے پاس معشیت کو سنبھالنے کا ہنر ہے اور نہ ہی ملکی سالمیت کو برقرار رکھنے کا- لیکن اس نے 2013 تا 2018ء نہ صرف آمریت سے جمہوریت کی طرف سفر کے پانچ سال کے ثمرات ضایع کیے بلکہ اس نے اپنے ارسطو اسحاق ڈار کے زریعے سے ترقی کرتی معشیت کو ایک جگہ کھڑا کیا اور پھر 2021 میں جب اس کی جماعت کو دوبارہ ڈرائیونگ سیٹ ملی تو اس نے دوبارہ اپنے فلاپ ارسطو اسحاق ڈار کو جادوگر وزیر حزانہ کے طور پر مسلط کردیا اور اب سب دیکھ رہے ہیں کہ پرانے رجیم کی حماقتوں مین اس ارسطو بلکہ افلاطون کی حماقتیں شامل ہوکر اس ملک کے عوام پر کیا قیامت ڈھارہی ہیں- اور خود کو پنجاب میں “بے نظیر ثانی” کے طور پر پیش کرنے والی کہتی ہےپھرتی ہے کہ “نواز شریف کا انتخاب اسحاق ڈار” ہی عوام کو مشکل سے نکالے گا”۔
یہ دونوں کیمپ پنجاب کی عوام کو جیتنے کا دعوا کرتے ہیں- لیکن حقیقت یہ ہے کہ پنجاب میں عوامی سیاست کا جنازہ نکلنے کے بعد سے اب تک یہ پنجاب میں بڑے اور درمیانے سرمایہ داروں، بڑے اور درمیانے زرعی اشراف اور غلط شعور کے ساتھ خود کو سفید پوش درمیانہ طبقہ سمجھنے والے زیادہ تر سروسز سیکٹر سے جڑے ورکنگ کلاس کی پرتیں/سیکشنز اور اسٹبلشمنٹ کے اندر اپنے حامی دھڑوں کے ساتھ انتخابی نتائج کو مینیج کرنے کی سیاست کررہے ہیں- یہ سیاست ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست سے بالکل متضاد اور حقیقت مں عوام دشمنی پر مبنی ہے۔
عمران خان کے حامی اس کی پنجاب میں مقبولیت کو بار بار بھٹو کی مقبولیت سے تشبیہ دیتے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے وہ تاریخ کا قتل کردیتے ہیں اور بار بار یہ پیشن گوئی کرتے ہیں کہ پنجاب میں ستر میں پی پی پی کی جو کارکردگی تھی، عمران خان کی جماعت انتخابی معرکے میں ویسا ہی مظاہرہ کرے گی- یہ دعوا کرتے ہوئے وہ شاید خود بھی اسقدر جاہل ہیں کہ انھیں خود بھی یہ علم نہیں ہے کہ 1970ء کے انتخابی معرکے میں پی پی پی نے پنجاب میں اپنی اپوزیشن جو روایتی اشرافیہ پر مشتمل تھی جن کے عوام مخالف گروہی مفادات تھے کو کس بنیاد پر شکست دی تھی- میں ان تجزیہ کاروں جو بار بار عمران خان میں بھٹو اور پی ٹی آئی میں پیپلزپارٹی تلاش کرنے یا دکھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کو مشورہ دوں گا کہ وہ ایک بار فلپ ای جونز کی کتاب “پاکستان پیپلزپارٹی کا عروج اقتدار تک” میں پنجاب میں پیپلزپارٹی کی سماجی بنیادوں کا انتہائی تفصیل سے کیا گیا تجزیہ ملاحظہ کریں تاکہ انہیں اپنے تعصب، جانبداری اور محض حب اور بغض سے ملے جلے جذبات میں سفسطہ پر مبنی دلائل کے کھوکھلے پن کا اندازہ ہو اور شاید انہیں شرم ائے اور وہ کہیں “کہاں بھٹو اور کہاں عمران خان” ،’کہاں پیپلزپارٹی اور کہاں تحریک انصاف” – میں سردست یہان فلپ ای جاںز کا اپنی تحقیق کا ص 437پر پیش کردہ خلاصہ نقل کرنے پر اکتفا کروں گا:
“1970ء کے انتخابات مغربی پاکستان میں ایک ایسی جماعت کو ابھار کر پہلے سامنے لائے اور پھر اسے اقتدار دلوایا جو جزوی طور پر ایک بڑی ادارہ جاتی اور مربوط اصلاح لانے کے ساتھ وفادار تھی- پنجاب کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ علاقوں میں پاکستان پیپلزپارٹی نے 34 نشستیں جیتیں جہاں پولنگ اسٹیشنوں کی سطح پر ووٹ ڈالے جانے کے رجحانات (ووٹنگ پیٹرنز) نے انتہائی طاقتور افقی خصوصیات کا اظہار کیا اور اس اظہار کی بنیاد سماجی اور معاشی آرزؤں پر تھیں جس نے ایسے امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کو بچھاڑ دیا جو روایتی اشرافیہ اور ان کے انتہائی محدود،گروہی ،مقامی مفادات کی نمائندگی کرتے تھے۔ جبکہ دوسرے 20 انتخابی حلقے ایسے تھے جہاں عمودی ووٹ ڈالنے کے رجحانات پی پی پی کے دھارے میں جانے کی مزاحمت کرتے پائے کئے لیکن پھر بھی پی پی پی نے ان انتخابی حلقوں میں آسانی سے اور قائل کرلینے کے زریعے سے اس لیے بھی میدان مار لیا کیونکہ اس نے ٹھوس ، حلقے میں پھیلے ہوئے افقی بنیاد رکھنے والے ووٹوں پر انحصار کیا- جبکہ آٹھ انتخابی حلقے ایسے تھے جہاں پی پی پی کی جیت کی وجہ کمزور پارٹی کی طرف افقی ووٹ کئی ایک گروہی مفادات کے زیر اثر بکھرا پڑا تھا جس نے پی پی پی کے مخالف ووٹ کو تقسیم کردیا- پی پی پی نے 20 نشستیں ایسی ہاریں جہاں پر مخالف امیدواروں کی فتح کا انحصار روایتی حمایت کے رجحانات جیسے قبیل داری، روایتی رواجی حاکمیت/اتھارٹی ، پیری مریدی یا فرقہ وارانہ کشش – اس طرح سے پنجاب میں قومی اسمبلی کے 89 انتخابی حلقوں میں سے 54 جو پنجاب کی کل نشستوں کا 65ء9 فیصد بنتے ہیں میں اکثریت نے یا اکثریت کے قریب پہنچنے والی ووٹرز نے تنگ نظر اور محدود گروہی مفادات کو مسترد کرتے ہوئے ایک ایسی جماعت کو ووٹ دیا جس نے ان سے کھلے طور پر اشرافیائی اداروں کو توڑنے اور ان کی بڑے پیمانے پر تعلیم، علاج و معالجے ، کمرشل انٹرپرائز، انڈسٹریل منیجمنٹ، زمین کی ملکیت اور سیاسی فیصلہ سازی میں شرکت تک وسیع پیمانے پر رسائی کا وعدہ کیا تھا- پی پی پی کو پڑنے والا ووٹ موروثی طور پر مخصوص درجہ بندی کے شکار اداروں اور مراعات یافتہ رویوں میں بدلاؤ لانے کے لیے تھا- یہ ووٹ ایک جمود کا شکار کائنات میں محکومیت کے خلاف ووٹ تھا اور یہ ووٹ تحرک کے ساتھ شہریت میں شرکت کے لیے تھا”

جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء اور پھر 4 اپریل 1979ء کو ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی پورے پاکستان میں بالعموم اور پنجاب میں بالخصوص اداروں کو دوبارہ اشرافیائی بنائے جانے ، تعلیم، علاج و معالجے، کمرشل انٹرپرائز، صنعتی اداروں کے انتظام، زمین کی ملکیت اور سیاسی فیصلہ سازی میں عوام کی وسیع پیمانے کی شرکت کے خاتمے ، پارلیمنٹ ، سیاسی جماعتوں کو پھر سے اشرافیائی کلب کے قبضے میں لانے اور شہریوں کو واپس محکوم بنانے کا ایجنڈا تھا جو آج تک چل رہا ہے۔ پنجاب میں جن سماجی طبقات نے پیپلزپارٹی کو ووٹ دیا تھا وہ سماجی طبقات اب بھی اسی سیاسی شعور کا اظہار کرسکتے ہیں جس کا مظاہرہ انہوں نے 1970ء کے انتخابات میں کیا تھا اگر سیاست کے مقاصد وہی ہوں جس کی بنیاد پر پی پی پی نے پنجاب کی 65ء9 فیصد قومی اسمبلی کے انتخابی حلقوں میں میدان مار لیا تھا-
پاکستان کے سیاسی اشراف ایک طرف تو ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست کے عوامی اوصاف سے شدید نفرت رکھتے ہیں کیونکہ وہ عوام کی حاکمیت کو اجاگر کرتے ہیں جبکہ دوسرے سانس میں یہ بھٹو جیسا مقبول لیڈر بھی بننا چاہتے ہیں- یہ دونوں باہم متضاد چیزیں ہیں جو کبھی ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here