پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو اپنے بھارتی ہم منصب سبرامنیم جے شنگر کے ہمراہ ایس سی او سمٹ میں

ملتان (تجزیہ: عامر حسینی) شنگھائی تعاون تنظیم -ایس سی او کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو ورداری نے اپنی تقریر کے دوران نہ تو سرحد کے دونوں اطراف میں موجود عقابوں کی چلائی ہوئی منافرت پر مبنی مہم کا اثر لیا اور نہ ہی وہ اپنے بھارتی ہم منصب ڈاکٹر جے اے شنکر کی اشتعال دلانے والی تقریر سے غصّے میں آئے۔ اس طرح سے انھوں نے اپنے سے بہت زیادہ تجربہ کار اور عمر میں کافی بڑے بھارتی وزیر خارجہ کی سفارتی چال کو مات کرادی-

بلاول بھٹو زرداری کی گوا جاتے ہوئے کار میں بیٹھ کر ویڈیو پیغام نوٹ کرانے سے لیکر ان کے آغرپورٹ پر اترنے اور پھر اپنے ہم منصب کی جانب سے ان کے ساتھ ہاتھ ملانے سے گریز کرنے کی ادا تک اور ڈنر کے موقعہ پر جے اے شنکر کی مصنوعی بے نیازی تک بھارتی مین سٹریم میڈیا کا رویہ بھی خاصا معاندانہ تھا- حقائق اور معروضیت کو سامنے رکھنے کی بجائے بھارتی تجزیہ نکار بلاول بھٹو کی حرکات و سکنات اور بدن بولی سے گھبراہٹ، ناتجربہ کاری اور نروس ہونے جیسے مفروضے گھڑ رہے تھے، ایسا لگ رہا تھا کہ بھارتی انیکر سے لیکر گوا میں سمٹ کی کوریج کرنے والا رپورٹر تک سارے کے سارے ماہر نفسیات اور شناخت پریڈ کے مہا شناسا بن  گئےہوں- لیکن پاکستان کے نسبتا کم عمر اور تجربے ميں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اس دوران اپنے آپ کو جیسے کمپوز رکھا، چہرے پر مسکراہٹ کو غائب نہ ہونے دیا اور بھارتی میڈیا کے جارحانہ سلوک کے بدلے مں بھی ایجنڈے پر دھیان جمائے رکھا، اس نے ایک اور تاریخ رقم کردی ہے۔

بھارتی وزیر خارجہ ڈاکٹر جے اے شنکر نے پاکستان کی جانب سے ایس سی او سمٹ میں شرکت کا اعلان ہونے اور دفتر خارجہ کے ترجمان آفس سے ٹوئٹ جاری ہونے کے بعد سے ہی اپنے ٹوئٹر ہینڈل اور پریس کو جاری بیانات میں اشتعال پھیلانے کی پوری کوشش کی- ان کی جانب سے یہ کوئی جذباتی موو نہیں تھی بلکہ ایک سوچی سمجھی سفارتی چال تھی جو لگتا ہے کہ بہت ہی باریک بینی سے تیار کی گئی تھی- اس کا براہ راست تعلق بی جے پی ، آر ایس ایس، وی ایچ پی اور بی جے پی نواز حلقوں کی جانب سے پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے خلاف چلائی جانے والی منافرت انگیز مہم سے بھی بنتا ہے۔ جگہ جگہ احتجاج اور اس میں بلاول بھٹو زرداری کی تصاویر کو نذر آتش کرنا، پاکستانی پرچم کی توہین کرنا یہ سب کچھ اس لیے کیا جارہا تھا کہ پاکستان اس اجلاس میں ہی شریک ہونے کے اعلان کو واپس لے لے۔

جب یہ بظاہر اسمارٹ موو ناکام ہوئی تو بھارتی ميزبان وزیر خارجہ نے سردمہری سے آگے سفارتی اور میزبان کی حثیت سے لازم آداب کو بالائے طاق رکھ کر بے ادبی کے کنارے پر کھڑے ہوکر بلاول بھٹو زرداری کو نوجوان جان کر اشتعال دلانے کی کوشش کی- اپنے ترکش سے ڈاکٹر جے شنکر نے اپنے خطاب کے زریعے سے چلایا- انھوں نے اپنی تقریر میں نام تو نہ لیا مگر ایسے طاقتور اور صاف سمجھ میں آنے والے اشارے ضرور ڈال دیے جس سے ہر سننے واالے کو صاف پتا چل رہا تھا کہ نشانے پر پھر پاکستان ہے۔

نریندر مودی کی آبائی ریاست احمد آباد کی راج دہانی گجرات سے بھارتیہ راجیہ سبھا/ پارلیمنٹ کے رکن ڈاکٹرسبرامنیم جے شنکر دہلی کے ایک ایسے گھرانے میں جنمے جو برٹش دور سے انڈین سول سروس میں جانے والوں کا گھرانہ ہے۔ اور انہوں نے 1977ء میں انڈین فارن سروس کو جوائن کیا- 35 سال وہ انڈین فارن سروس سے وابستہ رہے اور ہائی کمشنر سنگار پور سے وہ بھارت کی جانب سے چین اور امریکہ جیسے ملکوں کے سفیر رہے- بھارت کے سیکرٹری خارجہ تین سال تک رہے اور پھر وہ 2019ء سے بھارت کے وزیر خارجہ چلے آرہے ہیں، نٹور سنگھ کے بعد وہ بھارت کے دوسرے آدمی ہیں جو سیکرٹری خارجہ رہنے کے بعد وزیر خارجہ رہے۔ کافی جہاں دیدہ ڈپلومیٹ سمجھے جاتے ہیں-

ایس سی او میں ان کی تقریر میں ‘سرحد پار دہشت گردی، دہشت گردی کو مالی اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے والے چشمے/ چینل’ یہ ساری کی ساری گلوسری/لغت بلاول بھٹو زرداری کو نوجوان اور کم تجربہ کار سمجھنے کے کارن استعمال ہوئی’

 

لیکن نوجوان وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنی عمر سے کہیں بڑی عمر کے منجھے ہوئے سیاست دان اور سفارتی آداب کے اندر رہتے ہوئے اپنی باری آنے پر جب یہ کہا

” ساری کی ساری عوام کی حفاظت کی دیکھ بھال کرنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے – آئیں ہم مل کر دہشت گردی کو سفارتی ہتھیار بنانا چھوڑ دیں”

https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/1654370942855036933?s=20

یہ انتہائی لطیف طنز تھا اپنے ہم منصب مگر انتہائی سینئر سیاست دان ڈاکٹر جے ایس شنکر پر- بلاول بھٹو زرداری نے درحقیقت بھارت کو اس جملے کے زریعے بالواسطہ یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ وہ پوسٹ نائن الیون دور کی صورت حال سے باہر آئے – امریکہ سمیت پوری دنیا “وار آن ٹیررازم” دور سے آگے جاچکی ہے۔ پاکستان بھی “ڈیپ سٹیٹ’ اور “تزویراتی گہرائی” جیسے تصورات اور اس کے تحت اٹھائے کئے اقدامات سے آگے جاچکا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے عالمی ڈسکورس پر ہونے والے مباخٹے میں پاکستان کے اہم ترن کردار کو اجاگر کیا-تنظیم کے ممالک کے درمیان مشترکہ تجارت، ثقافتی تعاون پر پاکستان کا نکتہ نظر بیان کیا- مجموعی طور پر پاکستان کے نوجوان، کنوارے اور سفارتی دنییا میں کم تجربے کار وزیر خارجہ کی ایس سی او کے وزرائے خارچہ کونسل میں کارکردگی توقع سے کہیں زیادہ اچھی تھی#

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here