Prabhat Patnaik’s article, “The Abuse of the Concept of ‘Populism’,” critiques how the term “populism” has been co-opted by the neoliberal discourse to delegitimize efforts to address class oppression and economic inequality. Initially used to describe movements acknowledging no class distinctions among “the people,” its meaning has shifted under neoliberalism to pejoratively label both right-wing and left-wing appeals to the masses. Right-wing populism is criticized for its divisive tactics, while left-wing populism, aiming for welfare and economic equality, is dismissed equally, equating both as negative. This conflation serves to maintain a liberal bourgeois status quo, discrediting any policies aimed at reducing inequality or providing economic benefits to the lower classes. The article argues that this misuse of “populism” supports a neoliberal agenda focused on GDP growth over social welfare, obscuring the potential for genuine economic reform and perpetuating class division and economic disparity. (Aamir Hussaini)

https://peoplesdemocracy.in/2023/0122_pd/abuse-concept-%E2%80%9Cpopulism%E2%80%9D

 

مترجم کا نوٹ: پربھات پتنائک ہندوستانی مارکس وادی معاشیات دان ہیں اور وہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی دلّی سے 2010ء میں ریٹائرڈ ہوئے- انھوں نے اپنے مضمون میں یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ پاپولزم/ عوام پرستی کی اصطلاح جو اپنے پرانے معنوں میں عوام کے درمیان طبقاتی امتیاز کو واضح کے بغیر عوامی تحریکوں کو بیان کرنے کف لیے استعمال ہوتا تھی کیسے نیو لبرل ازم کے حامیوں نے چرا لی ہے اور اب اس کے معنوں میں کتنی بڑی تبدیلی آگئی ہے اور اب عوام میں دایاں بازو اور بایاں بازو دونوں کی کشش کے مظہر کو حقارت سے بیان کرنے کے لیے اس اصطلاح کا استعمال ہوتا ہے۔ دایاں بازو کی عوام پرستی کو عوام کو تقسیم کرنے والی حکمت عملیوں کے سبب رد کیا جاتا ہے جبکہ بائیں بازو کی عوام پرستی / پاپولزم کو جو معاشی برابری اور سماجی فلاح و بہبود کی بات کرتا ہے برابر رد کردیا جاتا ہے۔ یوں دونوں کی عوام پرستی منفی ٹھہرا دی جاتی ہے۔ اس قسم کی مذمت کا مقصد لبرل سرمایہ داروں کے مقام کا تحفظ ہوا کرتا ہے جس میں معاشی و سماجی فلاح و بہبود کی پالسیوں کو جن سے نچلے طبقات کو فآغدہ پہنچے رد کردیا جاتا ہے۔ مضمون پاپولزم کے غلط استعمال کو نو لبرل ایجنڈا قرار دیتا ہے جس کا مقصد سماجی خدمات کی بجائے مخص جی ڈی پی کی گروتھ پر توجہ مرکوز کرنا ہوتا ہے تاکہ حقیقی معاشی اصلاحات کے پوٹینشل کو دھندلایا جاسکے اور طبقاتی تقسیم و عدم برابری کو جاری رکھا جاسکے- یہ مضمون کا لفظی ترجمہ نہیں ہے بلکہ مختصر سی تشریحات کے ساتھ ہے۔ اصل مضمون پیپلز ڈمیوکریسی ڈاٹ ان ویب سائٹ پر شایع ہوا(عامر حسینی)

ایسی حکومتیں جن کی بنیاد طبقاتی مخاصمت ہوتی ہے انہیں طبقاتی جبر کو جواز فراہم کرنے والے’ڈسکورس’ کی ضرورت ہوا کرتی ہے اور بدلے میں اس ڈسکورس کو اس کی اپنی ایک لغت/ بھاشا کی ضرورت پڑتی ہے۔ نیولبرل طرز حکومت نے بھی اپنا ایک “ڈسکورس” تشکیل دیا ہے اور اس ڈسکورس کی بھاشا میں ایک بنیادی تصور ‘پاپولزم'(عوام پرستی) کا ہے۔  اس تصور کے بارے میں میڈیا بہت باتیں کرتا ہے۔ اسے بڑی قابل قدر شئے بناکر پیش کرتا ہے۔ میڈیا اکثر ایسے لوگوں سے مل کر بنا ہے جن کا تعلق بالائی درمیانے طبقے سے ہے۔ اور سماج کا ڈھانچہ نیو لبرل ازم کے تحت جس طرح سے تشکیل پایا ہے اس کے اندر ان لوگوں نے اس سے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔(نیو لبرل ازم کا مطلب ہے ایسا نطام جو آزاد منڈیوں کی حمایت کرتا ہو، معشیت میں حکومت کی مداخلت کو کم سے کم رکھا ہواور فرد کی ذاتی ازادی کی حمایت کرتا ہو)(کیونکہ وہ اس نظام سے بہت بڑے فائدے لیتے ہیں) تو اس نظام کے جاری رہنے میں ہی ان کے مفادات چھپے ہیں-

پاپولزم/ عوام پرستی  کا تصور اتنا وسیع اور اثر انگیز ہے کہ وہ ادیب اور دانشور تک بھی اس سے منفی طور پر متاثر ہوئے ہیں جن کے رویے اور سوچ معاشرے کی طرف ترقی پسندانہ ہے۔ وہ اس اصطلاح کو منفی معنوں میں استعمال کرتے ہیں ایسے ہی جیسے بہت سارے بڑے کاروباری جن کے پاس میڈیا کی ملکیت بھی ہے اسے استعمل کرتے ہیں- (اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خیال اب اتنا عام ہوگیا ہے کہ جو لوگ اس کی محالفت کرسکتے ہیں یا اس پر سوال اٹھا سکتے ہیں وہ بھی اسے اسی طرح سے استعمال کررہے ہیں جسے نیولبرل ازم کے حامی استعمال کرتے ہیں)  

پاپولزم/ عوام پرستی کی اصطلاح نیو لبرل اہل دانش کی ایجاد نہیں ہے۔ یہ بہت پہلے سے متعمل ہے لیکن اب اس سے جو معانی مراد لیے جارہے ہیں پہلے وہ نہیں لیے جاتے تھے۔ مثال کے طور پر لینن سمیت مارکس وادی دانشوروں نے روسی ‘نردونکوں’ کو پاپولسٹ/ عوام پرست قرار دیا لیکن یہ اصطلاح اس بات کی حامل تھی کہ نردونک لوگوں کے درمیان طبقاتی بنیاد پر کوئی تمیز روا نہیں رکھتے تھے اور سب کو ہی ‘عوام’ قرار دیتے تھے۔ لیکن لینن کے نزدیک نردونک کو پاپلوسٹ/ عوام پرست قرار دینے سے مطلب ‘عوام’ جیسی اصطلاح کو کمتر بناکر دکھانا نہیں تھا- کیونکہ اس نے خود مزدوروں اور کسانوں کے لیے ایک مشترکہ اصطلاح ‘ورکنگ کلاس/محنت کش طبقہ’ استعمال کی تھی- پاپولسٹ اور پاپولزم کی اصطلحوں کا استعمال نردونک اور دوسروں کے درمیان امتیاز کو ختم ہونے سے بچانا تھا اور یہ امتیاز نظریاتی طور پر ابہام سے بچانے کے لیے ضروری تھا- لیکن ‘نیو لبرل ازم’ کے تحت اس سے مراد ہر وہ اپیل ہے جو معاشرے کے کسی بھی گروہ یا طبقے کی طرف سے محنت کش طبقے کے لوگوں سے کی جاتی ہے چاہے ان کو مذہبی تعصب کی بنیاد پر متحرک کیا جائے یا کوئی مالی مفاد کی ترغیب دے کر کیا جائے۔(مختصر طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ پاپولزم / عوامیت پرستی کی اصطلاح جو عوام کے اجتماعی مفادات کے مثبت معنوں میں استعمال ہوتی تھی نیولبرل ازم کے دور میں منفی معنوں میں استعمال ہورہی ہے۔جہاں اسے عوام میں تفریق پیدا کرنے والے نعروں یا سادہ لوح اپیلوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے)

‘پاپولزم'(عوام پرستی) کی اصطلاح کا حال میں استعمال  سلگتے مسائل پر لوگوں سے کی جانے والی فسطائی اور نیم فسطائی مطالبات/ اپیلوں کا احاطہ کرنے کے لیے ہوتا ہے جو چالاکی سے ان کے جبر کو کیموفلاج کرنے کا زریعہ بنتی ہیں اوروہ ان کے جبر کو کم کرنے کے لیے ان (عوام) کے لیے کچھ فوآغد حاصل کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں- جبر کو کمیوفلاج کرنے والی عوام سے فسطائی نیم فسطائی اپیلوں کے رجحان کو دایاں بازو کی عوام پرستی کہتے ہیں اور جو جبر کو کم کرکے دکھانے کے لیے کچھ فوائد حاصل کرنے کی کوشش والا رجحان ہے اسے ‘بایاں بازو کی عوام پرستی ‘ کہتے ہیں- نطریاتی ابہام یہاں پر بہت واضح ہے۔  اس اصطلاح کے حالیہ استعمال کے پیچھے نہ صرف  طبقاتی تناظر/ کلاس پرسپیکٹو نہیں ہے بلکہ آج کی  ‘دایاں بازو کی عوام پرستی’ ہو یا ‘بایاں بازو کی عوام پرستی’ دونوں ہی صرف اور صرف درمیان کے راستے کو ترجیح دیتے ہیں اور یہ عام طور پر ‘لبرل بورژوازی’ کا موقف ہوتا ہے۔ اور یہ اسے ہی معقول اور باشعور موقف قرار دیتی ہے- عوام پرستی کا تصور پہلے عوام کے ایک بڑے حصّے کی سوچ اور عمل کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتا تھا جیسے روسی مارکس وادیوں کے مبحث میں استعمال ہوئی- لیکن وقت کزرنے کے ساتھ اس میں تبدیلی رونما ہوئی اب یہ موجود سماجی ڈھانچوں کا گہرا تجزیہ کرنے یا انہیں چیلنج کرنے والے رجحان کو بیان کرنے کے لیے استعمال نہیں ہوتی بلکہ لبرل مڈل کلاس/ لبرل بورژوازی کے موقف، خیالات اور اقدار کی تعریف کرنے یا ان کو ترقی دینے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔   

یہ نکتہ نظر ایک سنٹرسٹ یا ماڈریٹ نکتہ نظر کی حمایت کرتا ہے جو اکٹر درمیانے طبقے کے مفادات سے جڑا ہوتا ہے اور معاشی طور پر قدرے آرام دہ حالت میں ہوتا ہے۔ وہ اس ماڈریٹ اور درمیانے موقف کو  سیاست میں واحد معقول یا بہترین راستا قرار دیتی ہے۔ سادہ الفاظ میں بیان کریں تو یہ دونوں اطراف یعنی دیاں سمت یا بایاں سمت کو برا قرار دیتی ہے اور ہمیشہ درمیانے راستے کو بہترین راستا بتلاتی ہے۔ درمیانے راستے کو بہترین قرار دیتے ہوئے اسے اس بات سے کوئی سروکار نہں ہوتا کہ ہر دو راستے کیا تجویز کرتے ہیں اور نہ ہی اس بات کو ویر غور لاتی ہے کہ کچھ بڑے مسآغل کو حل کرنے کے لیے انتہائی راستے اختیار کرنا پڑتے ہیں-

یہ صرف ابہام کا معاملہ نہیں ہے بلکہ مثبت طور پر یہ گمراہ کردینے والا بھی ہے۔ فسطائی، نو فسطائی اور نیم مسطائی موقف جن پر ‘دیاں بازو کی عوام پرستی’ کا لیبل چپکا ہوتا ہے ان سب کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ ان کے پاس عوام کو دینے کے لیے کسی قسم کے معاشی فوائد نہیں ہوتے۔ جبکہ اس کے برعکس جسے ‘بایاں بازو کی عوام پرستی’ کا لیبل چپکا ہوتا ہے وہ فلاحی ریاستی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے اور کم از کم سطح پر معاشی فوائد لوگوں کو منتقل کرتا۔ ان دونوں کو اکٹھا کرکے  ان کی معاشی خاصیتوں کو نظر انداز کرکے جب یہ دونوں کی نفی کرتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ لزکوں کو جو معاشی رعایتیں دی جا رہی ہیں انہیں گولی ماریں اور سارکی توجہ جی ڈی پی کی گروتھ پر رکھیں۔ اس کے مطابق لوگوں کو معاشی فوآغد کی منتقلی وسائل کو کھاجاتی ہے جنھیں سرمایہ کاری میں صرف کیا جاسکتا تھا جو جی ڈی پی کی شرح کو بڑھا سکتی تھی- اور عام آدمی کو معاشی فوآغد کی منتقلی محض بے کار اور وسائل کا ضیاع ہیں اور انہیں انتخابی مجبوریوں کے تحت کیا جاتا ہے وگرنہ تو ایسے استعمال کے بیوقوفانہ ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ اس منطق کے دائرے کی توسع میں سے ایک یہ ہے حکومت کی طرف سے سماج میں معاشی فرق اور عدم مساوات کو کم کرنے کی کوشش غیر دانشمندانہ بلکہ حماقت انگیز قدم ہے۔  

یہ نظریہ بالکل نیو لبرل طرز حکومت کی مطابقت میں ہے۔ نیو لبرل ازم کے متعارف ہونے سے پہلے کسی کو بھی عدم مساوات میں کمی کرنے اور غربت کے خاتمے کے اییجنڈے پر تنقید کیا کرتا تھا- یہاں تک کہ اندرا گاندھی نے ایک الیکشن ‘گریبی ہٹاؤ’ کے نعرے پر جیتا تھا-(جیسے پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے 70ء کا انتخاب ‘روٹی کپڑا اور مکان’ کے نعرے پر جیتا تھا-)- ظاہر ہے کہ وہ غربت ہٹا نہیں سکی تھی لیکن اس کے خلاف تنقید اس نعرے کے لگانے پر نہیں ہوئی تھی بلکہ اس نعرے کو حقیقت نہ بنانے پر ہوئی؛ تھی- امرتا سین نے بہت پہلے کہا تھا کہ آکر ہندوستان کی جیڈی پی کا محض 5 فیصد بھی غریبی ہٹانے پر لگایا جاتا تو غریبی مٹ چکی ہوتی- اور ہندوستان ایسا صرف اپنے ایک سال کی جی ڈی پی کی شرح جو کہ 5 فیصد تھی کے برابر رقم خرچ کرنے سے کرسکتا تھا- جب معشیت پر حکومت کا کنٹرول زیادہ ہوتا تھا تب عدم مساوات میں کمی اور غربت کا خاتمہ اولین ترجیح سمجھے جاتے تھے لیکن اب ایسا نہیں رہا اگرچہ نیو لبرل ازم پر مبنی حکومتوں کے اندر آمدنی اور دولت میں عدم تفاوت اور نابرابری  میں بہت اضافہ ہوچکا ہے۔ اب ‘عوام پرستی’ کی اصطلاح کو منفی لیبل کے ساتھ زیادہ برابری اور غربت میں کمی کے مطالبات کو رد کرنے اور ان پر تنقید کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور اس طرح کے مطالبات کو حقارت سے پاپولسٹ/ عوام پرست مطالبات کہہ دیا جاتا ہے۔عظیم تر برابری اور عوامی راج کے خلاف ‘پاپولزم’ کی اصطلاح کا حقارت کے ساتھ استعمال کارپوریٹ سرمایہ داروں اور بورژوازی اپڑ مڈل کلاس کے ہاتھ میں ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جس کا مقصد غریبوں ، محنت کشوں کو معاشی فآغدہ پہنچانے والی کسی بھی تجویز یا تجاویز کے مجموعے کو رد کیا جاسکے۔

معاشی گروتھ/ نو کو ترجیح دینا بورژوازی/ سرمایہ دارانہ معشیتوں کا سب سے نمایاں پہلو تو رہا ہے لیکن ایک فرق کے ساتھ ۔ ایڈم سمتھ نے جب ریاست کی مداخلت کو ہٹانے کے حق میں دلائل دیے تھے تو اسے یقین تھا کہ یہ مداخلت معاشی نمو کے راستے میں روکاوٹ تھی لیکن اسے یہ بھی معلوم تھا کہ اس طرح کی نمو کے فوائد ورکنگ کلاس / محنت کش طبقے تک نہیں پہنچے کے۔ اس کے خیال میں قوم کی دولت میں اضافہ ایک اہم مقصد تھا لیکن اس نے اپنے پیش روؤں سے اختلاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ دولت سونے یا چاندی کے حصول کے زریعے نہیں ہونی چاہئیے بلکہ کیپٹل اسٹاک کے ارتکاز کے زریعے ہونی چاہئیے تاکہ اسے  کاموڈیٹی پروڈکشن/ اجناس کی پیداوار کے لیے استعمال کیا جاسکے۔ دیوڈ ریکارڈو بھی کیپٹل اسٹاک کے ارتکاز اور پیداوار کی گروتھ کے حق میں تھا اگرچہ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ ایسے ارتکاز کی ایک حد ہوا کرتی ہے۔ (درحقیقت کارل مارکس نے ریکارڈو کی طرف سے ارتکاز کی وکالت کرنے کی تعریف کی تھی اگرچہ ریکارڈو کا خیال تھا کہ ایسا ارتکاز آرکار معشیت کے جمود پر رکے گا، معشیت کی مزید نمو نہیں ہوگی کیونکہ وسائل سارے خرچ ہوچکے ہوں گے اور بلند مسابقت اور کم شرح منافع کے سبب بھی ایسا ہوگا- لیکن کارل مارکس کا خیال تھا کہ ارتکاز سرمایہ کی ایسی حالت سرمایہ دارانہ نظام کے اندر اس کے اپنے مخصوص مسائل کو جنم دے گی جو اسے بتدریج عدم استحکام اور پھر معاشی بحرانوں سے دوچار کرے گی اور اس سے عدم برابری سمیت کئی بدترین سماجی مسائل ابھر کر آئیں گے)- ریکارڈو کو بھی یقین تھا کہ ایسا ارتکاز سرمایہ محنت کش طبقے/ ورکنگ کلاس کو بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا-

یہی وجہ تھی کہ ایڈم سمتھ اور ڈیوڈ ریکاڈو دونوں نے سوچا کہ ایسے ارتکاز سرمایا سے محنت کش طبق کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ محنت کش طبقے کے حالات میں کسی بھی تبدیلی کا مطلب ان کی آبادی میں اضافہ ہوگا- ان کے خیال میں محنت کشوں کو ارتکاز سرمایا سے اسی وقت فآغدہ پہنچ سکتا تھا جب وہ اپنی آبادی کی افزائش روک دیں یا اسے محدود کریں- لیکن یہ ایسا معاملہ تھا جس پر محنت کش طبقہ تنہا خود ہی اثر انداز ہوسکتا تھا- اگرچہ کلاسکیل معاہرین معاشیات ان کی آبادی کی نمو کی شرح میں کمی لانے کی حماکیت کرتے تھے لیکن جو معاشی گروتھ کے کلاسیکل حامی تھے انہیں اس بات کی پرواہ نہیں تھی کہ اس طرح سے محنت کش طبقے کو فائدہ پہنچتا ہے کہ نہیں۔

اچ جو معاشی گروتھ کی وکالت اور تبلیغ ہے وہ قدرے مختلف ہے۔ آج کسی کو بھی یہ یقین نہیں ہے کہ محنت کش طبقے کے حالات زندگی اس لیے بدتر ہیں کیونکہ وہ بچے ژزیادہ پیدا کرتے ہیں- اور کوئی بھی یہ یقین نہکں کرتا کہ ان کے حالات ریاست کی کوششوں سے ایسے بہتر کیے جاسکتے ہیں ایسے کہ ان کے حق میں آمدنی کو منتقل کرنے والی پالیسیوں کو متعارف کرایا جائے۔ اور ایسی منتقلی سے نیو لبرل بورژوازی اس بنیاد پر گریز کرتے ہیں کہ ان کے خیال میں اس سے معاشی نمو کا بیڑا غرق ہوجائے گا۔ معاشی گروتھ کی کلاسیکی وکالت کو جدید نیو لبرل نے اپنا لیا مگر کلاسکی ماہرین معشیت کی محنت کش طبقے سے ہمدردی کو انھوں نے نظر انداز کردیا- اس لیے سرمایہ دار طبقے کا محنت کش طبقے کی طرف معاندانہ رویہ ہے اس کی عکاسی معشیت دانوں کے رویے میں بھی ہورہی ہے۔

غریبوں کو معاشی فوائد پہنچائے بغیر معاشی نمو پر زور جنھیں طنزیہ انداز میں ‘ عوام پرستانہ اقدامات/ پاپولسٹ اقدامات کہا جاتا ہے غریبوں کی طرف دوہرے انداز میں جارحانہ اقدام ہے۔ ایک طرف تو یہ محنت کش طبقے کے معیار زندگی کو بہتری لانے کے عمل کو روکتا ہے جو بہتری ان کو معاشی فوائد پہنچا کر کی جاسکتی ہے۔ دوسری طرف گروتھ کو بڑھانے کے لیے ایسے منصوبوں کی تلاش کرتی ہے جو کسانوں اور کھیت مزدوروں کو اس زمین سے بے ڈحل کرتے ہیں جو وہ کاشت کرتے ہیں اور بہت بڑی آبادی کو ان کے رہائشی علاقوں سے نکال باہر کرتی ہے اور وہ پہلے جس برے حال میں ہوتے ہیں اس سے بھی زیادہ بدترین حالات سے انہیں اپنی زندگی کی از سر نو شروعات کرنا پڑتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ ایسے منصوبے روگار پیدا کرتے ہیں  اور نچلی سطح پر معاشی سرگرمیاں بھی پیدا ہوتی ہیں  لیکن جو بے دخل ہوتے ہیں وہ بہت کم ہی اس طرح کے روزگار حاصل کرنے والی نسل سے ہوتے ہیں- اور اس طرح کے منصوبوں سے جتنا روگار پیدا ہوتا ہے وہ اس منصوبے سے تباہ ہونے والے روزگار سے کہیں کم ہوتا ہے۔ ایسے منصوبوں کی شروعات کے وقت بے دخل ہونے والوں کے لیے تلافی نقصان کے لیے جو وعدے کیے جاتے ہیں وہ مشکل سے پورے ہوتے ہیں- اگر ترقی خود عوام اجتماعی شراکت داری کے تحت ہورہی ہو جیسے کسان اجتماعی طور پر خود صلعتی منصوبے شروع کیے ہوئے ہوں تب معاملہ شاید مختلف ہوتا- لیکن سرمایہ داری میں معاشی گروتھ اس طرح سے تو ہوتی نہیں ہے۔

فلاحی ریاستی اقدامات کو طنز یا حقارت کے ساتھ ‘عوام پرست’ (پاپولسٹ) قرار دینا اور محض جی ڈی پی کی گروتھ کو ہی ریاست کی پالیسی ہونے پر زور دینا ‘عوام دشمنی’ کی گھٹیا ترین شکل ہے لیکن آج کے نیو لبرل ازم کا یہی امتیازی وصف ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here