لندن میں پاکستان کے سابق ترقی پسند طالب علم رہنماؤں کی طرف سے آرگنائز کیا جانے والا ‘فیض امن میلہ’ اس مرتبہ تنازعات میں گھرا رہا۔ پہلے امن میلے کے اختتام کے وقت پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک اہلکار اور عوامی ورکرز پارٹی کے ایک نوجوان کارکن کے درمیان ‘زبانی جنگ’ گالم گلوچ تک پہنچ گئی۔ اس حوالے سے ایک وڈیو وائرل ہوئی جس میں پاکستانی ہائی کمیشن کے مبینہ اہلکار کو ہال سے باہر نکلتے ہوئے نوجوان کارکن کو ‘باسٹرڈ’ اور دیگر گالیاں دیتے دیکھا جاسکتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف نیچے ہال میں موجود نوجوان کو غلیظ گالیاں بکتے دیکھا جاسکتا ہے۔

میلے میں شریک نوجوان پاکستانی ہائی کمیشن کے مبینہ اہلکار کو فحش اشارہ کرتے ہوئے

معلوم ہوا ہے کہ یہ جھگڑا اس وقت شروع ہوا جب سٹیج پہ پاکستانی ہائی کمیشن کے کچھ لوگوں نے ‘پاکستان زندہ باد’ کا نعرہ لگایا تو نیچے ہال میں موجود کچھ نوجوان لڑکے لڑکیوں نے ‘یہ جو دھشت گردی ہے۔۔۔ اس کے پیچھے وردی ہے۔’ اور ‘پی ٹی ایم’ زندہ باد کے نعرے لگانے شروع کردیے۔ ان نوجوان لڑکے لڑکیوں کا تعلق عوامی ورکرز پارٹی، پی ٹی ایم اور ‘موچی،روشنی،نیادور’ سوشل پیج پہ ایکٹوازم کرنے والوں میں سے بتایا جارہا ہے۔

پاکستانی ہائی کمیشن کا مبینہ اہکار

دوسرا تنازعہ فیض امن میلے میں اس وقت دیکھنے کو ملا جب سابق چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے تقریر کرنے کے دوران ہال میں موجود تمام شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا،’ ہم سب مسلمان ہیں۔’  اس پہ ہال میں ہی ایک نوجوان جو بعد میں ہائی کمیشن کے اہلکار سے جھگڑا نے بلند آواز میں کہا،’ میں مسلمان نہیں ہوں۔’ اس پہ رضا ربانی نے اپنے الفاظ  واپس لے لیے۔ ہال میں ‘یہ جو دھشت گردی ہے۔۔۔’ نعرے لگنے کے دوران سینٹر میاں رضا ربانی مسکراتے رہے۔

Image may contain: 2 people, people sitting and indoor
سینٹر رضا ربانی فیض امن میلے سے خطاب کرتے ہوئے-فوٹو عاصم علی شاہ

فیض امن میلے کے شرکاء میں عاصم سعید بھی شامل تھے۔وہ ان پانچ بلاگرز میں سے ایک ہیں جن کے بارے میں کہا گیا تھا کہ ان کو پاکستانی عسکری انٹیلی جنس ایجنسی نے فوج پہ تنقید کے حوالے سے معروف سوشل میڈیا پیج ‘موچی’ کے ایڈمن ہونے کے الزام میں اٹھایا تھا۔

 

پانچ بلاگرز بعد ازاں واپس آگئے تھے۔ اور پانچ میں سے تین بلاگر عاصم سعید، احمد وقاص گورایا اور سلمان حیدر جو بیرون ملک مقیم ہیں ٹوئٹر اور فیس بک پہ مسلم لیگ نواز، نواز شریف کے سخت حامی اور پاکستان کی ملٹری پہ سخت ترین ناقد کے طور پہ اپنے آپ کو پیش کرتے رہے ہیں۔ احمد وقاص گورایا پہ تو تنقید سے آگے بڑھ کر ‘ننگی گالیاں’ دینے تک کے الزام ہیں۔ ان پہ یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ یہ اپنے مخالف پہ فوری ‘موچی ‘ اور بوٹ پالش کا الزام عائد کردیتے ہیں۔

عاصم سعید پاک فوج کے ترجمان کے ساتھ خوئگوار موڈ میں

فیض امن میلے کے بعد عاصم سعید نے ٹوئٹر پہ اپنے اکاؤنٹ پہ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل عبدالغفور کے ساتھ کھنچوائی ایک تصویر اپ لوڈ کی۔ اس تصویر میں وہ جنرل کے ساتھ بہت ریلیکس موڈ میں نظر آئے۔ اس تصویر کے اپ لوڈ ہونے کے کچھ دیر بعد انہوں نے ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ جلیلہ حیدر کے ساتھ اپنی تصویر اپ لوڈ کی۔ اس تصویر کے اپ لوڈ ہونے کے بعد سوشل میڈیا پہ یہ افواہیں پھیلیں کہ جلیلہ حیدر بھی پاک فوج کے ترجمان سے ملاقات کرنے والوں میں شامل تھیں۔ اس معاملے میں احمد وقاص  گورایا نے نہ صرف عاصم سعید کو تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ انہوں نے جلیلہ حیدر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

بلاگر عاصم سعید ہزارہ ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ جلیلہ حیدر کے ساتھ

جلیلہ حیدر نے گزشتہ روز اپنی فیس بک وال پہ ایک سٹیٹس پوسٹ کیا اور اس میں تفصیل سے لکھا

https://web.facebook.com/jalila.haider.3?fref=ufi

مجھے اس بات کی کوئی شرم محسوس نہیں کہ میں لندن میں ہوں اور فیض امن میلہ شرکت کے لئے آئی ہوں جس میں (رضا ربانی، محمد حنیف ضیاء الدین یوسفزئی اور وسعت اللہ خان اور توقیر ناصر بھی موجود تھے )۔ اور 22 کو میں واپس پاکستان جارہی ہوں۔ مجھے بے حد افسوس ہوا کہ عاصم سعید کی تصویر وائرل ہوئی جس میں وہ پی ٹی ایم کے آئینہ کے ساتھ آصف غفور سے ملے۔ میں اسی دوران عاصم سعید لوگ بھی ہمارے ساتھ تھے۔ وہاں پر ڈاکٹر عائشہ عاصم کو بول رہی تھی کہ تصویر نہیں لیتے جب کہ یہ بول رہے تھے کہ ہم ازراہ مذاق گزر رہے تھے تو ہمیں وہ نظر ائے کسی ہوٹل کے پاس ہم نے تصویر لی کیونکہ اسے نہیں معلوم تھا کہ یہ ہم ہے۔
یہ پوسٹ مین دوستوں کے حوالے سے کر رہی ہوں۔ جہاں میں کوئٹہ میں آرمی چیف سرعام مل سکتی ہوں، مجھے میجر جنرل آصف سے ملنا ہو میں پاکستان میں کیوں نہ ملوں کہ لندن انا پڑے۔ نہ میں کسی خود ساختہ جلا وطنی میں ہوں نہ ہی بقول شخصے اپنا دکان چمکانا ہے۔
بس اتنا کے میں جس بھی تتلی پر ہاتھ رکھتی ہوں وہ سانپ بن کر کاٹتے ہیں۔ مجھے اس پوسٹ کی ضرورت بھی نہیں تھی اگر پھر بھی لوگوں کے دلوں میں یہ بات ہے اور مجھ سے نفرت کرتے ہے مجھے انفرینڈ کر دے۔ ٹھیک ہے کل تک جو تھوڑا بہت بولتی تھی اب نہیں بولونگی۔ مجھ سے اب برداشت نہی ہوتا جھوٹی تہمتوں پر پوسٹ لکھوں۔
نوٹ: یہ دونوں تصویر SOAS کے قریب ایک ریسٹورانٹ میں لی گئی ہے رات کو جب میلہ کا بریک تھا تو اس کو غفور صاحب سے ملوانا شاید یا تو زیادتی ہے یا پھر بے وقوفیعاصم اور آئینی سے بھی اسی دن فیض امن میلہ میں ملی جب میرے سیشن کا بریک ہوا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here