ابراج کیپٹل کمپنی کے مالک نے پاکستان کے الیکٹرک کی خریداری میں کک بیکس اور کمیشن نواز شریف خاندان کو دینے کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے ابراج فنڈز کے غیر قانونی استعمال یا خردبرد کی تردید کی ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل میں اس ہفتے کے آغاز میں ایک رپورٹ شایع ہوئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ نقوی نے ایک پاکستانی بزنس مین کو اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کا کے الیکٹرک میں ابراج کے حصص کی فروخت میں تعاون حاصل کرنے کے لیے 2 ارب روپے/20ملین ڈالر کی رشوت کی پیشکش کی تھی۔ کے الیکٹرک کراچی کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنی ہے جس کے جزوی حصص پاکستانی حکومت کی ملکیت ہیں۔

ایسٹرن ٹائمز کو ملنے والی ای میل میں عارف نقوی نے کہا،’الزامات بے بنیاد ہیں۔’

‘ یہ الزامات سیاق و سابق سے ہٹ کر غیر قانونی طور پہ حاصل کی گئی دستاویزات سے لیے گئے ہیں۔’،انھوں نے کہا۔

“ایسا لگتا ہے کہ نامعلوم افراد جو مجھ سے اور ابراج سے عناد رکھتے ہیں وہ کے الیکٹرک کے سودے کو مشکوک بناکر میری اور ابراج کی شہرت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اور اس طرح سے ابراج گروپ کو قرض دینے والوں کا اعتماد خراب کرنا چاہتے ہیں۔’

نقوی کا کہنا تھا

‘انہوں نے کے الکٹرک کے سودے کے  پروسس کے دوران نہ تو کسی رشوت دینے کا منصوبہ بنایا،نہ ہی کسی کو ہدائت کی اور نہ کی کسی کو مقرر کیا اور نہ ہی کسی کو ادائیگی کی”۔ ان کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک کی فروخت بہت صاف شفاف طریقے سے ہوئی تھی۔  

ان کا کہنا تھا

‘ میری یا میرے خاندان کے کسی شخص یا میری کسی ذاتی سرمایہ کاری یا ادائیگی کے لیے سرمایہ کی ادائیگی یا ابراج گروپ کے فنڈز کی منتقلی کی کسی بھی درخواست میں بدعنوانی یا ملی بھگت کا کوئی عنصر شامل نہیں رہا۔’

‘ ابراج گروپ سے فنڈز لیتے ہوئے ہمیشہ قواعد و ضوابط کی پابندی کی گئی۔ کسی بھی نکالے  گ‏ئے فنڈز کا ٹھیک سے ریکارڈ اور اکاؤنٹ موجود ہے’

آخر میں نقوی نے لکھا کہ ابراج کے ہیلتھ کئیر فنڈ سے رقوم کا استعمال عام کارپوریٹ مقاصد کے لیے ہمیشہ قانونی مشاورت لینے کے بعد کیا جاتا ہے کہ آیا یہ قانونی ہوگا کہ نہیں۔

فنڈز سے کی گئی تمام سرمایہ کاری کا ریکارڈ موجود ہے اور اسے 31 دسمبر،2017ء کو ہیلتھ کئیر فنڈ میں سرمایہ کاری کرنے والوں میں بمعہ سود کے لوٹایا جاچکا ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here