اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان سے میڈیا مالکان نے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران وزیراعظم نے نیوز پرنٹ پہ عائد 5 فیصدی درآمدی ڈیوٹی ختم کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ غیر سیاسی خاندان سے اوپر آئے ہیں۔ ان کو شہرت میڈیا کے سبب ملی۔ سرکاری اشتہارات میڈیا کو دینا بند نہیں کریں گے اور اس حوالے سے پھیلنے والی افواہیں بے بنیاد ہیں۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان کی میڈیا مالکان کی تنظیم اے پی این ایس کے عہدے داران و ممبران سے ملاقات ایک ایسے وقت میں جاری تھی جب میڈیا مالکان نے خودساختہ اور جعلی بحران کے نام پہ مزدور صحافیوں کو برطرف کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان اور ان کی حکومت ایسا لگتا ہے کہ نواز شریف کی حمایت میں واضح طور پہ کھڑے میڈیا گروپوں کی بلیک میلنگ کے سامنے جھک گئی ہے۔ اس کا ایک ثبوت تو نیوز پرنٹ پہ عائد 5 فیصد درآمدی ڈیوٹی پہ چھوٹ دینے کا اعلان ہے۔ ماضی میں اخبارات اور ٹی وی چینلز کی دوھری ملکیت اور اجارہ داری رکھنے والے بڑے میڈیا گروپ ہمیشہ صحافی مزدوروں کو نوکریوں سے برطرفی جیسے ہتھکنڈے اپناتے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ہمیشہ جہاں سے پیسہ اور مراعات ملیں وہیں پہ اپنی توا پرات رکھ کر ڈیرہ لگاتے رہے ہیں۔ آج بھی حالات مختلف نہیں ہیں۔

میڈیا مالکان سے وزیرا‏عظم سے ملاقات کے حوالے سے کراچی یونین آف جرنلسٹس نے ایک پریس ریلیز جاری کی ہے۔ اس پریس ریلیز کو کسی اخبار نے شایع نہیں کیا اور نہ کسی ٹی وی چینل نے اس پریس ریلیز بارے خبر نشر کی۔

کراچی یونین آف جرنلسٹس کی طرف سے کہا گیا

میڈیا ہائوسز کے مالکان کی ایک جانب وزیر اعظم سے ملاقات۔ دوسری جانب ملک بھر سے صحافیوں اور کارکنوں کی برطرفیاں جاری۔ چند دنوں میں سینکڑوں صحافی و کارکنان کو برطرف کیا گیا۔ کراچی  یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

https://twitter.com/aajizjamali2/status/1052791113365553152

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here