اداریہ: قرض یا امداد کے لیے مڈل ایسٹ کی جنگوں میں سعودی جہاز میں سواری پاکستان کے لیے تباہ کن ثابت ہوگی

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت جب سے آئی ہے تب سے یہ ابہام ابتک موجود ہے کہ اس حکومت نے موجودہ معاشی بحران سے نکلنے کے لیے جس قرض کی ضرورت ہے اس کے لیے سب سے زیادہ انحصار کس پہ کیا ہے؟

گزشتہ روز وزیراعظم پاکستان عمران خان کے مشیر برائے اقتصادیات فرخ سلیم نے جیو نیوز ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے معاملے پہ سعودی عرب میں ہونے والی سرمایہ کاری کانفرنس کا پاکستان بائیکاٹ نہیں کرے گا اور وزیراعظم پاکستان اس میں شریک ہوں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہہ ڈالا کہ اس کانفرنس کا بائیکاٹ کرنے والے ممالک سیاسی بنیادوں پہ ایسا کررہے ہیں۔

ایک امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم پاکستان عمران خان بادی النظر میں آئی ایم ایف کے پاس جانے کی بجائے سعودی عرب سے قرض اور رعایت کو بہتر آپشن خیال کررہے ہیں۔ جبکہ خود عمران خان کہہ چکے کہ ان کی کوشش ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس نہ  جائیں۔

دوسری طرف وفاقی وزیراطلاعات فواد چودھری نے آج نیوز ٹی وی سے بات کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ سعودی عرب والے جس شرط پہ امداد دینا چاہتے تھے وہ ہمیں قبول نہ تھیں تو ہم نے سعودی عرب والا آپشن ترک کردیا۔

اس طرح سے بیانات میں آئے روز تبدیلی اور ایک دوسرے سے ٹکرانے والے بیانات نے ملک بھر میں بے یقینی کی فضا کو جنم دے رکھا ہے۔

سعودی عرب اس وقت بلاشبہ حقیقی طور پہ صحافی جمال خاشقجی کے بہیمانہ قتل پہ زبردست تنہائی کا شکار نظر آتا ہے۔ اور وہ ہر قیمت پہ اپنے ساتھ ممالک کو کھڑا رکھنا چاہتا ہے۔ اسے یمن کی جنگ بہت بھاری پڑرہی ہے تو شام میں اس کی مہم جوئی بدترین ناکامی سے دوچار ہوئی ہے۔ایسے میں پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے اگر وہ کوئی امدادی پیکج دیتا ہے تو اس کی شرائط کیا ہوں گی؟ کیا پی ٹی آئی حکومت اس کے بدلے میں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی چھیڑی یمن جنگ میں شریک ہوجائے گا؟ کیا وہ ایران-سعودی پراکسی جنگوں میں سعودی کیمپ جوائن کرلے گا؟

ہم امریکی سی آئی اے فنڈڈ افغان جنگ میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ کھڑے ہونے کی سزا ابتک بھگت رہے ہیں۔ اس فیصلے نے ہماری سیاست کے ذہین ترین دماغ ہم سے چھین لیے۔ اور آج سب کو پتا ہے کہ اس جنگ سے فائدے میں کون رہے۔ اس ملک کی جرنیل شاہی، بے وردی بابو شاہی، جہادی ملّا،جہادی صحافی،جہادی سیاست دان اور جہادی جج۔ اور اس ملک میں شدت پسندی کی ایک پوری سلطنت تعمیر ہوگئی جس کو چلانے کے لیے فرقہ وارانہ لڑائیاں،جنگیں،فساد بہت ضروری ہیں۔ ہم 80ء اور نائن الیون کے بعد امریکی سامراج کی جنگوں کا خراج ابتک دے رہے ہیں اور اس دوران جو بھی ڈالر،پاؤنڈ،ریال وغیرہ آئے وہ سب کے سب عوام کی بجائے اس ملک کی اشرافیہ کی جیبوں میں چلے گئے اور عوام کے حصّے میں خودکش بمبار، مذہبی جنونی ملّا اور فوجی آپریشنوں سے ہونے والی داخلی ہجرتیں، تباہی اور جبری گمشدگیاں اور ماورائے عدالت قتل آئے ہیں۔

اگر پی ٹی آئی کی حکومت اور پاکستانی کی فوجی مقتدرہ مل کر موجودہ معاشی بحران کا حل یہ نکالتے ہیں کہ مڈل ایسٹ میں چل رہے سعودی عرب کے دیگر ممالک کے ساتھ تنازعوں میں فریق بنکر قرضہ،امداد اور مراعات لی جائیں تو یہ بہت ہی خطرناک فیصلہ ہوگا۔ یہ خود وزیراعظم عمران خان کی اپنی کہی باتوں کی خلاف ورزی بھی ہوگا جس میں انہوں نے ‘پرائی جنگوں’ میں نہ پڑنے کو اپنا نصب العین بتایا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here